وجود

... loading ...

وجود

بھارت کی بدترین خارجہ پالیسی

اتوار 28 جون 2026 بھارت کی بدترین خارجہ پالیسی

ریاض احمدچودھری

کانگریس رہنما پون کھیڑا نے بھی مودی کی خارجہ پالیسی کو ملکی مفاد کے بجائے صرف ذاتی دکھاوے کا ذریعہ قرار دیا۔مودی کی ناقص پالیسیوں کے باعث غیر ملکی سرمایہ کار بھارت کا بائیکاٹ کر رہے ہیں۔ مغربی ایشیا بحران اور ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت پر مودی حکومت کا خوف کھل کر سامنے آ یا ہے۔ مودی کی ظاہری نمائش کے برعکس عالمی مذاکرات میں بھارت کی کوئی جگہ نہیں دکھائی دی۔دوسری جانب بھارتی دفاعی ماہر پروین ساہنی کے مطابق جنوبی ایشیا میں مودی کی مکمل سفارتی ناکامی عالمی سطح پر بھارت کی بدترین بے وقعتی ثابت ہو گی۔ مودی کے خوف اور دکھاوے کی سیاست نے دنیا بھر میں بھارت کی عزت خاک میں ملا دی ہے۔
بی جے پی کے کٹھ پتلی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی بدترین خارجہ پالیسی کے نتیجے میں سنجیدہ سفارت کاری محض سوشل میڈیاپر تماشا بن کر رہ گئی ہے۔مودی کی عالمی سطح پر موجودگی کے باوجود بھارت کے سفارتی تعلقات کمزور ہونے لگے۔ امریکا ایران جنگ میں پاکستان کی کامیاب ثالثی نے مودی کی نام نہاد سفارت کاری کو خاک میں ملا دیا۔ملکی خارجہ پالیسی میں قیادت کا مفاد بڑھنے سے ریاستی سفارتی شناخت کمزور دکھائی دے رہی ہے۔ پاکستان نے سفارتی میدان میں بھارت کو پیچھے چھوڑ دیا، مودی سرکار کی ناکامی پر سوالات اٹھنے لگے۔ معرکہ حق میں بھارت کیخلاف دفاعی کامیابی اور ایران امریکا کشیدگی میں نتیجہ خیز ثالثی نے دنیا بھر میں پاکستان کو نئی پہچان دلا دی۔بھارت واشنگٹن سے تعلقات بحال کرنے کی کوششوں میں مصروف جبکہ پاکستان پہلے ہی اپنا سفارتی لوہا منوا چکا ہے، جی 7 سمٹ میں امریکی صدر اور بھارتی وزیراعظم کی ملاقات روایتی گرمجوشی کے بجائے صرف مصافحہ تک محدود رہی۔ دونوں رہنماؤں کی ملاقات بظاہر دوستانہ تھی مگر کشیدگی کے آثار بھی نمایا تھے۔
بھارت کئی سال تک پاکستان کو دنیا میں تنہا کرنے کی کوشش کرتا رہا جبکہ پاکستان خطہ اور عالمی سطح پر ایک اہم ترین ملک بن کر ابھرا۔بھارتی صحافی سریند ساگر کے مطابق دنیا اب امن کیلئے بھارت کے بجائے پاکستان کی طرف دیکھ رہی ہے جو مودی کی ناکامی ہے۔ بھارتی تجزیہ کار آنند رنگناتھن نے بھارتی سفارتکاری کی ناکامی کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کوشش کر رہا ہے کہ اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرے، بھارت کو اپنی پالیسی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔بھارتی تجزیہ کاروں کی مایوسی ظاہر کرتی ہے کہ بھارت مودی راج میں اپنی خارجہ پالیسی کے ناکام ترین دورسے گزر رہا ہے۔ نریندر مودی نے 2016 میں پاکستان کو دنیا بھر میں تنہا کرنے کا باقاعدہ اعلان کیا تھا، لیکن آج کی حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ پاکستان نے اپنی بہترین حکمتِ عملی سے نہ صرف اس دباؤ کا مقابلہ کیا بلکہ آج وہ واشنگٹن، بیجنگ، تہران اور ریاض جیسی بڑی عالمی طاقتوں اور دارالحکومتوں کے ساتھ مضبوط رابطے میں ہے۔ مودی حکومت کی یہ حکمتِ عملی الٹا بھارت کے لیے ہی نقصان دہ ثابت ہوئی ہے اور پاکستان آج خطے میں اثر انداز ہونے والا ایک انتہائی اہم فریق بن کر ابھرا ہے۔
2025 میں ہونے والی پاک بھارت کشیدگی کے دوران پاکستان نے بیانیے کی جنگ اپنے نام کی، کیونکہ دنیا نے پہلگام کے واقعے پر بھارتی الزامات کو بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کشیدگی کو ختم کرانے اور جنگ بندی کے معاملے پر بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہوئے، جس نے واشنگٹن اور نئی دہلی کے تعلقات میں دراڑ ڈال دی۔صدر ٹرمپ نے تیس سے زائد مرتبہ پاک بھارت جنگ بندی کا کریڈٹ لیا، جبکہ نئی دہلی مسلسل اس دعوے کی تردید کرتا رہا۔اس کے علاوہ، جنگ بندی کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر بھارت کی جانب سے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر پر مسلسل تنقید کی جاتی رہی، لیکن اس کے برعکس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو ایک غیر معمولی شخصیت قرار دے کر ان کی صلاحیتوں کا اعتراف کیا۔ رپورٹ میں خطے کی نئی جیو پولیٹیکل حقیقتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان اور چین کی ناقابلِ شکست شراکت داری اب خطے میں ایک مضبوط سچائی بن چکی ہے۔اس کے ساتھ ہی، پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں آنے والی نمایاں بہتری کو بھارت کی علاقائی سفارت کاری کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔پاکستان خلیجی ممالک کے لیے ایک ابھرتے ہوئے سکیورٹی پارٹنر کے طور پر سامنے آ رہا ہے، اور سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان بڑھتے ہوئے دفاعی تعاون نے خطے میں نئی صف بندیوں کو جنم دیا ہے۔ان تمام کامیابیوں کے باعث پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں اور اس کی فضائی طاقت میں عالمی برادری کی دلچسپی میں واضح اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔رپورٹ کے آخری حصے میں بھارت کی اندرونی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مودی حکومت کی مسلم مخالف پالیسیوں نے بھارت کی بین الاقوامی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیزی، مساجد کی مسماری اور دیگر امتیازی اقدامات پر عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔اس کے مقابلے میں، پاکستان نے اپنی قیمتی معدنیات، بیرونی سرمایہ کاری کے مواقع اور فعال سفارت کاری کے ذریعے امریکی پالیسی سازوں کی توجہ کامیابی سے اپنی طرف مبذول کروا لی ہے۔ماہرینِ خارجہ امور کے مطابق، پاکستان آج دنیا کے ان گنے چنے ممالک میں شامل ہے جو بیک وقت امریکا، چین، ایران اور سعودی عرب جیسے متضاد مفادات رکھنے والے ممالک کے ساتھ اپنے مؤثر اور متوازن تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہے، جو اس کی سفارتی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
بھارت کی بدترین خارجہ پالیسی وجود اتوار 28 جون 2026
بھارت کی بدترین خارجہ پالیسی

واہ انسان !! تو کب سدھرے گا؟ وجود اتوار 28 جون 2026
واہ انسان !! تو کب سدھرے گا؟

اپنے خوف پر حکومت نہیں کی جاسکتی! وجود اتوار 28 جون 2026
اپنے خوف پر حکومت نہیں کی جاسکتی!

بنگلہ دیش وچین کی شراکت داری وجود اتوار 28 جون 2026
بنگلہ دیش وچین کی شراکت داری

تہران کا جشن اور تل ابیب کا ماتم وجود اتوار 28 جون 2026
تہران کا جشن اور تل ابیب کا ماتم

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر