... loading ...
اونچ نیچ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آفتاب احمد خانزادہ
اقتدار ایک عجیب شے ہے۔ یہ ابتدا میں انسان کے ہاتھ میں ہوتا ہے، مگر آہستہ آہستہ انسان خود اقتدار کے ہاتھ میں چلا جاتا ہے۔ تاریخ
گواہ ہے کہ تاج، تخت، محل اور فوجیں صرف ریاستوں کو نہیں بدلتی رہیں بلکہ حکمرانوں کی نفسیات کو بھی تبدیل کرتی رہی ہیں۔ اقتدار کا سب
سے بڑا فریب یہ ہے کہ یہ انسان کو یہ یقین دلا دیتا ہے کہ وہ عام انسانوں سے مختلف، برتر اور ناقابلِ خطا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب ایک
رہنما آہستہ آہستہ حقیقت سے دور اور اپنے ہی تخیل کی دنیا میں قید ہونا شروع ہو جاتا ہے۔
یونانی فلسفی افلاطون نے خبردار کیا تھا کہ جب طاقت عقل کے تابع نہ رہے تو وہ جنون میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ انسانی تاریخ میں ایسے
بے شمار حکمران گزرے ہیں جو ابتدا میں عوام کے نجات دہندہ بن کر ابھرے مگر اقتدار کے نشے نے انہیں اپنی ہی عظمت کے سحر میں گرفتار کر لیا۔ وہ خود کو قانون سے بالاتر، اخلاق سے بلند اور تنقید سے محفوظ سمجھنے لگے۔ یہی کیفیت نفسیات میں ”ہبرس سنڈروم” (Hubris Syndrome) کہلاتی ہے، جس میں طاقت انسان کے اندر حد سے بڑھی ہوئی خود پسندی، ناقابلِ شکست ہونے کا وہم اور دوسروں کی
رائے سے نفرت پیدا کر دیتی ہے۔اقتدار کا نشہ شراب سے زیادہ خطرناک ہے، کیونکہ شراب کا اثر چند گھنٹوں میں اتر جاتا ہے مگر اقتدار کا
خمار برسوں بلکہ نسلوں تک قائم رہ سکتا ہے۔ ایک حکمران جب ہر طرف تعریف سننے لگتا ہے، جب اس کے اردگرد صرف خوشامدی لوگ رہ
جاتے ہیں، جب ہر اختلاف کو بغاوت اور ہر تنقید کو دشمنی سمجھا جانے لگتا ہے تو اس کی نفسیاتی دنیا سکڑنے لگتی ہے۔ وہ حقیقت نہیں سنتا بلکہ
صرف وہی سنتا ہے جو سننا چاہتا ہے۔ اس کے بعد فیصلے عقل کی بنیاد پر نہیں بلکہ انا کی بنیاد پر ہونے لگتے ہیں۔رومی شہنشاہ نیرو سے لے کر
جدید آمروں تک، تاریخ ایک ہی کہانی دہراتی ہے۔ اقتدار کا مسلسل استعمال اکثر انسان میں احساسِ برتری، شکوک و شبہات، خوف اور
انتقامی ذہنیت کو جنم دیتا ہے۔ وہ اپنے ہی عوام سے خوفزدہ ہونے لگتا ہے۔ اسے ہر سایہ سازش اور ہر سوال بغاوت محسوس ہونے لگتا ہے۔
طاقت جتنی بڑھتی ہے، اس کا خوف بھی اتنا ہی بڑھتا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے بہت سے طاقتور حکمران اپنی زندگی کے آخری حصے
میں محلوں، حفاظتی دیواروں اور محافظوں کے حصار میں قید ہو گئے۔ وہ پوری دنیا پر حکومت کرتے تھے مگر اپنے خوف پر حکومت نہ کر
سکے۔جرمن فلسفی نطشے نے کہا تھا: ”جو شخص بہت دیر تک طاقت کا استعمال کرتا ہے، طاقت بھی اس کے اندر جھانکنا شروع کر دیتی ہے”۔ اقتدار کی یہی تاریکی انسان کی روح کو آہستہ آہستہ کھا جاتی ہے۔ حکمران سمجھتا ہے کہ وہ ریاست کو کنٹرول کر رہا ہے، حالانکہ اکثر اوقات اقتدار اس کی شخصیت کو کنٹرول کر رہا ہوتا ہے۔ وہ عوام کی خدمت کے لیے نہیں بلکہ اپنی تصویر، اپنی میراث اور اپنی عظمت کے لیے فیصلے کرنے لگتا ہے۔
انسانی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ ظالم حکمران پیدا ہوتے ہیں؛ اصل المیہ یہ ہے کہ اقتدار اکثر اچھے انسانوں کو بھی بدل دیتا ہے۔ طاقت انسان کے کردار کا امتحان ہے۔ جو شخص خود احتسابی، تنقید اور قانون کی حدود سے جڑا رہے وہ رہنما بنتا ہے، اور جو خود کو سچائی کا واحد مالک سمجھنے لگے وہ آمر بن جاتا ہے۔عظیم ریاستیں اس لیے عظیم نہیں ہوتیں کہ ان کے حکمران طاقتور ہوتے ہیں، بلکہ اس لیے عظیم ہوتی ہیں کہ وہاں اقتدار محدود ہوتا ہے۔ جہاں قانون تخت سے بلند ہو، جہاں سوال پوچھنے کی آزادی ہو، جہاں حکمران کو بھی جواب دہ ہونا پڑے، وہاں اقتدار بیماری نہیں بنتا بلکہ خدمت کا ذریعہ بن جاتا ہے۔تاریخ کے قبرستانوں میں دفن تاج اور تخت آج بھی ایک ہی سبق دیتے ہیں: اقتدار ہمیشہ عارضی ہے، مگر اس کے نشے میں کیے گئے فیصلوں کے زخم صدیوں تک زندہ رہتے ہیں۔ حکمران جب خود کو خدا کی طرح ناقابلِ سوال سمجھنے لگے تو اس کی ذہنی بیماری صرف اس کی ذات تک محدود نہیں رہتی، بلکہ پوری قوم کی تقدیر کو بیمار کر دیتی ہے۔ اور پھر ریاستیں دشمنوں سے نہیں، اپنے حکمرانوں کے غرور سے شکست کھاتی ہیں۔پاکستان کی تاریخ کو اگر ایک جملے میں بیان کرنا ہو تو شاید یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ صرف اقتدار کے حصول کی تاریخ نہیں بلکہ اقتدار کے نشے کی تاریخ بھی ہے۔ یہاں حکومتیں بدلتی رہیں، چہرے بدلتے رہے، سیاسی لباس بدلتے رہے، مگر اقتدار کے ساتھ پیدا ہونے والی نفسیاتی کیفیت کم و بیش ایک جیسی رہی۔ ہر دور میں اقتدار کو خدمت کے بجائے ملکیت سمجھا گیا، ریاست کو امانت کے بجائے غنیمت تصور کیا گیا اور عوام کو شریکِ اقتدار کے بجائے تابع فرمان رعایا سمجھنے کی روایت پروان چڑھتی رہی۔قیامِ پاکستان کے وقت خواب ایک فلاحی، جمہوری اور عوام دوست ریاست کا تھا، مگر جلد ہی اقتدار کے ایوانوں میں یہ احساس پیدا ہونے لگا کہ ریاست عوام کی نہیں بلکہ چند طاقتور حلقوں کی ملکیت ہے۔ نتیجتاً ادارے مضبوط ہونے کے بجائے شخصیات مضبوط ہوتی گئیں۔ پاکستان کی تاریخ کا شاید سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ یہاں آئین، قانون اور اداروں سے زیادہ افراد کو اہمیت دی گئی۔ جب کسی فرد کو یہ یقین ہو جائے کہ ریاست اس کے بغیر نہیں چل سکتی تو وہ آہستہ آہستہ حقیقت سے دور اور خود پسندی کے قریب ہونے لگتا ہے۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اقتدار کی کشمکش نے جمہوری عمل کو بار بار زخمی کیا۔ کبھی سیاست دانوں نے اقتدار کو دائمی سمجھا، کبھی آمروں
نے خود کو قوم کا نجات دہندہ قرار دیا، اور کبھی طاقتور اشرافیہ نے عوام کے نام پر اپنے مفادات کا تحفظ کیا۔ ہر دور میں ایک ہی دعویٰ سنائی دیا:
”ملک کو صرف ہم بچا سکتے ہیں”۔ تاریخ کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ یہ دعویٰ کرنے والے اکثر خود ہی بحرانوں کا حصہ بن گئے۔نفسیات بتاتی ہے
کہ جب کسی شخص یا طبقے کو طویل عرصے تک جواب دہی کے بغیر طاقت حاصل رہے تو اس میں ”ہبرس سنڈروم” پیدا ہو جاتا ہے؛ یعنی وہ خود
کو عقلِ کل سمجھنے لگتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں بھی یہی کیفیت بار بار دکھائی دیتی ہے۔ اختلافِ رائے کو دشمنی سمجھا گیا، تنقید کو سازش قرار دیا
گیا اور سوال پوچھنے والوں کو غدار، باغی یا غیر محبِ وطن ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔ اقتدار کا نشہ اتنا گہرا تھا کہ اکثر حکمران عوام کی دھڑکنوں
سے کٹ گئے اور صرف اپنے دربار کی آوازیں سننے لگے۔اس دوران سب سے زیادہ قیمت عام پاکستانی نے ادا کی۔ کسان، مزدور، طالب
علم، استاد اور متوسط طبقہ ہمیشہ اقتدار کی اس جنگ کے درمیان پسے۔ قوم کو بار بار بتایا گیا کہ قربانی دو، صبر کرو، مشکل وقت گزر جائے گا؛ مگر
اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگوں کے لیے مشکل وقت شاذونادر ہی آیا۔ عوام کے لیے مہنگائی، بے روزگاری اور محرومی مقدر بنتی گئی جبکہ اقتدار کے مراکز مزید طاقتور ہوتے گئے۔پاکستانی تاریخ کا ایک اور المیہ یہ ہے کہ یہاں ہر آنے والا حکمران اپنے پیش رو کو تمام خرابیوں کا
ذمہ دار قرار دیتا رہا، مگر اقتدار ملنے کے بعد اکثر انہی راستوں پر چل پڑا جن پر تنقید کرتا تھا۔ گویا مسئلہ افراد کا نہیں بلکہ اقتدار کے اس تصور کا
تھا جس میں طاقت کو خدمت نہیں بلکہ برتری سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چہرے بدلنے کے باوجود مسائل کی نوعیت کم و بیش وہی رہی۔
تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ کوئی بھی قوم صرف طاقتور حکمرانوں سے ترقی نہیں کرتی بلکہ مضبوط اداروں، آزاد عدلیہ، بااختیار
پارلیمان، آزاد صحافت، معیاری تعلیم اور جواب دہ نظام سے ترقی کرتی ہے۔ دنیا کی کامیاب ریاستوں نے افراد کے بجائے اداروں پر
اعتماد کیا، جبکہ پاکستان میں اکثر اداروں کو افراد کے تابع کرنے کی کوشش کی گئی۔ نتیجتاً ریاست بار بار عدم استحکام کا شکار ہوئی۔آج اگر
پاکستان کو اپنے ماضی سے کوئی سبق سیکھنا ہے تو وہ یہ ہے کہ اقتدار کبھی دائمی نہیں ہوتا۔ تاریخ کے صفحات پر بے شمار طاقتور نام صرف ایک سطر
بن کر رہ گئے، مگر قومیں تبھی آگے بڑھتی ہیں جب اقتدار کو مقدس نہیں بلکہ جواب دہ سمجھا جائے۔ ایک ایسی ریاست جہاں قانون حکمران سے
بڑا ہو، جہاں تنقید جرم نہ ہو، جہاں اختلاف دشمنی نہ ہو اور جہاں عوام اصل طاقت ہوں، وہی ریاست پائیدار ترقی کر سکتی ہے۔پاکستان کا
مسئلہ ہمیشہ وسائل کی کمی نہیں رہا؛ اصل مسئلہ اقتدار کے بارے میں ہماری اجتماعی سوچ رہی ہے۔ جب تک اقتدار کو خدمت کے بجائے غلبے
کا ذریعہ سمجھا جاتا رہے گا، تاریخ خود کو دہراتی رہے گی۔ اور جب اقتدار کو امانت سمجھا جائے گا، تب شاید یہ سرزمین بھی اپنے لوگوں کے لیے
امید، انصاف اور خوشحالی کا استعارہ بن سکے گی۔
٭٭٭