... loading ...
حمیداللہ بھٹی
بنگلہ دیش کے وزیرِ اعظم طارق رحمان نے وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعدپہلے غیر ملکی دورے کا آغازملائیشیا اور چین سے کیا ہے، جس سے بنگلہ دیشی ترجیحات کی طرف اِشارہ ہوتا ہے۔ عام انتحابات میں جب اُن کی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی(بی این پی) نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی تو عام قیاس تھاکہ بنگلہ دیش اپنی جغرافیائی مجبوریوں کے پیشِ نظر بھارت کو نظر انداز کرنے کی سوچ ترک کرسکتاہے، جس سے تعلقات اگر گرمجوشی پر مبنی نہیں تو اچھی ہمسائیگی والے ضرورہوجائیں گے ۔مگر نئی حکومت کوشش کے باوجود عبوری حکومت کی زیادہ تر پالیسیاں بدل نہیں سکی اورکوششوں سے محض اِتنا فرق آیا ہے کہ بھارت نے رواں ماہ 28 جون سے سیاحتی ویزوں کااجرا دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن سرحدی اور مہاجرت کے مسائل پرتنائو برقرارہے۔ طارق رحمان کا 24جون سے چین کا تین روزہ سرکاری دورہ ثابت کرتا ہے کہ بنگلہ دیش کا چین پر انحصارکم ہونے کے بجائے بڑھ رہا ہے، حالانکہ اُس کی معیشت امریکی برآمدات پر زیادہ انحصار کرتی ہے مگر چین بھی بنگلہ دیش کاسب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں اہم اور غالب کردارکاحامل ہے۔ اسی لیے بنگلہ دیش اب چین کی طرف مائل ہے ۔یہ جھکائو خطے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کو نمایاں کرتا ہے۔
بنگلہ دیش پرامریکہ ،چین اور بھارت کا دبائو ہے تینوں ہی جنوبی ایشیا کے اِس ملک پرغلبہ چاہتے ہیں عالمی سطح پرجاری چین اور امریکہ کی مسابقت بنگلہ دیش میں بھی نظرآتی ہے نئی حکومت کی کوشش ہے کہ دونوں اہم اقتصادی شراکت داروں میں توازن سے چلے تاکہ مزید پیچیدگیاں جنم نہ لیں ۔بنگلہ دیشی مصنوعات پر محصولات کے ا ضافہ کو دراصل ڈھاکہ کو بیجنگ سے دوررکھنے کی امریکی کوشش تھی لیکن بات نہیں بن سکی۔ بنگلہ دیش اب چین کی طرف جُھک رہا ہے جس کی کئی وجوہات ہیں جو بنگلہ دیش کی نئی قیادت کو چین کی طرف دیکھنے پر مجبور کرتی ہیں۔
امریکہ اتحادیوں کو مارکیٹ تک آسان رسائی دیتا ہے لیکن سرمائے کی منتقلی روکنے کی کوشش بھی کرتا ہے ۔دفاعی تعاون میں کئی طرح کی پابندیاں اور رکاوٹیں بھی لگاتا ہے جو امریکی ضرورت واہمیت کم کرتی ہیں لیکن چین دفاعی سامان کے ساتھ تکنیکی مہارت بھی دیتاہے ۔بنگلہ دیش کااپنے دفاع کے لیے چین سے 24 جدید ترین لڑاکا طیارے خریدنے یہی سہولت کارفرماہے ۔چین بنیادی ڈھانچے کی تعمیر سے لے کر صنعتوں کو رواں رکھنے میں مدددیتاہے ۔مزید یہ کہ اِس تعاون میں ڈالر کا عمل دخل نہیں ہوتا ۔یہ طریقہ کار زرِ مبادلہ کے ذخائر پر دبائو میں کمی لاتاہے۔ علاوہ ازیں امریکی احکامات جاری کرنا پسند کرتے ہیں جبکہ چین کا طرزِعمل دوستانہ اوربرابری کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ اسی لیے چین اکثر ممالک کی ترجیح ہے ۔حالانکہ چین کا ترقی پزیر ممالک کوبے تحاشہ قرضے جاری کرنا اور اُن کی معیشت کے لیے ضروری عنصر بننا آزادانہ معیشت کی سوچ کو کمزور کرتا ہے۔ لیکن اکثر ترقی پذیر ممالک کی قیادت قرضوں سے معیشت چلانے کو آسان سمجھ کرچینی قرضوں میں پھنس رہی ہے، جس سے خود انحصاری کی راہ میں رخنہ آتا ہے۔ مگر ڈالر کا متبادل اور قرضوں کا سہل اجراچین کواہم کرتا ہے۔ یہی کچھ بنگلہ دیش کررہا ہے ۔
چینی وزیرِ اعظم لی کیانگ کی دعوت پر بنگلہ دیشی وزیرِ اعظم طارق رحمان کاتین روزہ سرکاری دورے پر بیجنگ جانا دونوں ممالک میں بڑھتی قربت کامظہر ہے ۔دورے میں چینی صدرشی اور وزیرِ اعظم لی کیانگ اور دیگر سے ملاقاتوں میں کئی معاہدے ہوئے۔ تین اطراف سے بھارت میں گھرے ملک کی یہ آزاد خارجہ پالیسی کیا نئی دہلی کو پسند آئے گی؟ اِس کا جواب ہاں میں نہیں کیونکہ چین سے مقابلے کا دعویدار بھارت ہرگزنہیں چاہے گاکہ ایسا ملک جوعشروں سے اُس کا محتاج رہا، اب اچانک برابری کی بنیاد پر تعلقات قائم کرنے کی بات کرے اور بھارت مخالف کیمپ میں جائے۔ اسی بناپر بنگلہ دیش اور بھارت کے تعلقات میں مزید سرد مہری یا کشیدگی کے امکان کو رَد نہیں کیا جاسکتا ۔ 2024میں عوامی بغاوت کے بعد بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات میںکشیدگی بڑھی تاہم رواں برس فروری میں طارق رحمان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد کسی حد تک بہتری آئی۔ اگرچہ بعض معاملات میں اختلافات موجود ہیںعلاقائی کشمکش کے تناظر میں یہ دورہ خصوصی اہمیت اختیار کر گیا ہے اور تجزیہ کاروں کے مطابق طارق رحمان کے اولیں غیر ملکی دورے سے واضح ہوگیا کہ بنگلہ دیش کے لیے دفاعی اور اقتصادی حوالے سے بھارت سے چین زیادہ اہم ہے۔
بھارت نے بنگلہ دیشی وزیرِ اعظم کے پہلے غیر ملکی دورے کو پسند نہیں کیا۔ شاید اُس کا خیال تھا کہ نئی حکومت بھارت کو اہمیت دے گی۔ بھارت ،بھوٹان جیسے ممالک نے بنگلہ دیشی وزیر اعظم کو دورے کی باضابطہ دعوت بھی دے رکھی ہے ،مگر ابھی جزیات طے کرنے تک بات ہے۔ بیجنگ کے دورے کی خبروں پربنگلہ دیشی وزیر اعظم کے مشیر زاہدالرحمن کوبھارت نے داخلے سے روک دیا۔ سفارتی سطح پر پیشگی اطلاع کے باوجود بھارت کا یہ اقدام تشویشناک ہے ،بعدازاں اعلیٰ حکام کی مداخلت سے داخلے کی اجازت دیدی گئی لیکن مہمان نے دہلی ائیرپورٹ پراڑھائی گھنٹے کی پوچھ تاچھ سے دل گرفتہ ہو کر رِم ایسوسی ایشن کے اجلاس میں شرکت ہی نہ کی اور اجازت کے باوجود کو لمبوکے راستے واپس ڈھاکہ چلے گئے ،جہاں بھارتی رویے کے خلاف خوب غم وغصہ ظاہر کیا ۔یہ واقعہ مزید تنائوکاباعث بن سکتا ہے ۔بھارتی وزیر اعظم مودی اور بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس میں ملاقات ہوئی تھی جس میں اختلافی امور حل کرنے کے حوالہ سے تبادلہ خیال ہوالیکن زیادہ بہتری نہ آسکی۔ بھارت کو خدشہ ہے کہ چین کے زیر اثر آکر بنگلہ دیش مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ خاص طورپر سلی گوڑی کوریڈور جسے چکن نِک(مرغ کی گردن)کہا جاتا ہے جو مرکزی بھارت کو سات شمال مشرقی ریاستوں سے ملاتا ہے ۔یہ مغربی بنگال کی اہم زمینی پٹی ہے جس کاتحفظ بھارت کے لیے اہم ہے۔ وگرنہ شمال مشرقی ساتوں ریاستیں ملک سے کٹ سکتی ہیں ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ بنگلہ دیش کی نئی حکومت کو اہم اقتصادی شراکت داروں میں جس پیچیدہ توازن کا سامنا ہے کیا وہ توازن لاتی ہے یا کسی ایک کو ترجیح دیتی ہے؟اِس کا درست جواب حاصل کرنے کے لیے کچھ عرصہ انتظار مناسب ہوگا۔
٭٭٭