... loading ...
محمد آصف
یومِ مزدور دنیا بھر میں محنت کش طبقے کی خدمات، قربانیوں اور جدوجہد کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا دن ہے ۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کسی بھی معاشرے کی ترقی، خوشحالی اور استحکام کا حقیقی دارومدار مزدورکے پسینے اور محنت پر ہوتا ہے ۔ عمارتیں ہوں یا سڑکیں، کارخانے ہوں یا کھیت، صنعت ہو یا تجارت ہر شعبہ مزدور کی کاوشوں کا مرہونِ منت ہے ۔ اسلامی تعلیمات نے صدیوں پہلے مزدور کے مقام و مرتبے کو واضح کیا اور اس کے حقوق کو نہ صرف تسلیم کیا بلکہ ان کی حفاظت کا جامع نظام بھی پیش کیا۔ قرآن و سنت کی روشنی میں دیکھا جائے تو مزدور محض ایک اجرت لینے والا فرد نہیں بلکہ عزت و احترام کا مستحق، معاشرے کا معمار اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک اجر کا حق دار ہے ۔
قرآنِ کریم میں محنت اور عمل کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے ۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے : وَأَنْ لَّیْسَ لِلِْنسَانِ ِلَّا مَا سَعَیٰ (النجم: 39) یعنی
انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے ۔ یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اسلام میں محنت کو اصل قدر و قیمت حاصل ہے ۔ جو شخص
جتنی محنت اور کوشش کرتا ہے ، وہ اسی کے مطابق اجر و ثواب اور دنیاوی نتائج پاتا ہے ۔ اس تصور میں مزدور کی محنت کو ایک مقدس جدوجہد کا
درجہ حاصل ہو جاتا ہے ، کیونکہ وہ اپنے اہل و عیال کی کفالت، معاشرے کی خدمت اور حلال رزق کے حصول کے لیے جدوجہد کرتا ہے ۔
اسلام نے حلال روزی کمانے کو عبادت کے مترادف قرار دیا ہے ۔ نبی کریم ۖ نے فرمایا کہ انسان نے کبھی اس سے بہتر کھانا نہیں
کھایا جو اس نے اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھایا ہو۔ یہ تعلیم اس بات کی دلیل ہے کہ مزدور کا پسینہ، اس کی مشقت اور اس کی جدوجہد اللہ کے
نزدیک قابلِ قدر ہے ۔ ایک اور حدیث میں آپ ۖ نے فرمایا:مزدور کی اجرت اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو۔ یہ ہدایت
اسلامی معاشرتی انصاف کی روشن مثال ہے ، جس میں مزدور کے حق کو فوری اور بروقت ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ اس کے ساتھ کسی قسم
کی زیادتی نہ ہو۔
اسلامی تعلیمات میں عدل و انصاف کو بنیادی حیثیت حاصل ہے ۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ِنَّ اللَّہَ یَأْمُرُ بِالْعَدْلِ
وَالِحْسَانِ (النحل: 90) یعنی بے شک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے ۔ اس آیت کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ مزدور کے ساتھ
انصاف کرنا اور اس کے ساتھ حسنِ سلوک اختیار کرنا ایک دینی فریضہ ہے ۔ محض قانونی تقاضوں کی تکمیل کافی نہیں بلکہ اسلامی معاشرہ احسان
اور ہمدردی کا بھی تقاضا کرتا ہے ۔ مزدور کے حالاتِ زندگی کو بہتر بنانا، اسے مناسب اجرت دینا، محفوظ ماحول فراہم کرنا اور اس کی عزتِ
نفس کا خیال رکھنااسلامی اخلاقیات کا حصہ ہیں۔
رسولِ اکرم ۖ کا طرزِ عمل مزدوروں اور کمزور طبقات کے لیے بے مثال تھا۔ آپ ۖ خود بھی تجارت اور محنت سے وابستہ رہے ۔
مدینہ منورہ میں مسجدِ نبوی کی تعمیر کے وقت آپ ۖ نے صحابہ کرام کے ساتھ مل کر اینٹیں اٹھائیں، خندق کی کھدائی میں حصہ لیا اور عملی طور پر
یہ پیغام دیا کہ محنت میں کوئی عار نہیں۔ یہ سیرت ہمیں سکھاتی ہے کہ مزدور کو کمتر سمجھنا یا اسے حقیر جاننا اسلامی مزاج کے خلاف ہے ۔ دراصل، معاشرے کا ہر فرد کسی نہ کسی درجے میں مزدور ہے ، کیونکہ وہ اپنی محنت سے ہی معاشی سرگرمیوں میں حصہ لیتا ہے ۔
اسلام نے آجر (مالک) اور اجیر (مزدور) کے تعلق کو باہمی اعتماد، دیانت اور انصاف پر قائم کیا ہے ۔ اگر مزدور دیانت داری سے کام
کرنے کا پابند ہے تو مالک بھی اس بات کا ذمہ دار ہے کہ وہ اس کی محنت کا صحیح معاوضہ دے اور اس پر ناجائز بوجھ نہ ڈالے ۔ قرآنِ کریم میں
ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے سخت وعید آئی ہے ۔ یہ اصول صرف تجارت تک محدود نہیں بلکہ ہر اس معاملے پر لاگو ہوتا ہے جہاں
کسی کا حق ادا کرنا ہو۔ مزدور کی اجرت میں کمی، تاخیر یا استحصال اسی زمرے میں آتا ہے اور اسلامی تعلیمات کے منافی ہے ۔ یومِ مزدور
ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ معاشرتی ترقی صرف اس وقت ممکن ہے جب محنت کش طبقے کو تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات میسر ہوں۔ اسلام
ایک فلاحی معاشرے کا تصور پیش کرتا ہے جہاں کمزور طبقے کی کفالت اجتماعی ذمہ داری ہو۔ زکوٰة، صدقات اور بیت المال جیسے ادارے اسی
مقصد کے لیے قائم کیے گئے تھے کہ معاشرے میں معاشی توازن برقرار رہے اور کوئی مزدور غربت کی چکی میں پس کر بنیادی ضروریات سے
محروم نہ رہے ۔ خلفائے راشدین کے دور میں مزدوروں اور عام شہریوں کے حقوق کا خاص خیال رکھا جاتا تھا، جو ہمارے لیے قابلِ تقلید
نمونہ ہے ۔
آج کے دور میں جب صنعتی ترقی اور سرمایہ داری نظام نے مزدور کو اکثر مشین کا ایک پرزہ بنا دیا ہے ، اسلامی تعلیمات کی اہمیت اور بھی
بڑھ جاتی ہے ۔ ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ کیا ہم اپنے گھروں میں کام کرنے والے افراد، فیکٹریوں میں محنت کرنے والے کارکنان، تعمیرات میں
مصروف مزدوروں اور کھیتوں میں پسینہ بہانے والوں کے ساتھ وہی سلوک کرتے ہیں جس کا حکم قرآن و سنت نے دیا ہے ؟ کیا ہم انہیں
بروقت اجرت، مناسب آرام اور عزتِ نفس فراہم کرتے ہیں؟ اگر نہیں، تو یومِ مزدور محض رسمی تقاریب تک محدود رہ جائے گا اور اس کا اصل
مقصد فوت ہو جائے گا۔
اسلامی نقطئہ نظر سے مزدور کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم اس کے حقوق کی عملی پاسداری کریں۔ اس کے کام
کے اوقات متعین ہوں، اسے محفوظ اور صحت مند ماحول فراہم کیا جائے ، اس کی محنت کا معاوضہ مہنگائی اور ضروریاتِ زندگی کے مطابق ہو اور
اس کی شکایات کے ازالے کے لیے منصفانہ نظام موجود ہو۔ مزید برآں، معاشرے میں ایسی سوچ پروان چڑھائی جائے جس میں پیشے کی
بنیاد پر کسی کو کمتر نہ سمجھا جائے ۔ نبی کریم ۖ نے فرمایا کہ تمام انسان آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے پیدا کیے گئے ۔ یہ تعلیم
انسانی مساوات کا اعلان ہے ، جس میں کسی کو رنگ، نسل یا پیشے کی بنیاد پر برتر قرار نہیں دیا گیا۔
یومِ مزدور کے موقع پر ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم اپنے رویوں میں تبدیلی لائیں گے ۔ ہم اپنے گھروں، دفاتر اور اداروں میں کام
کرنے والوں کے ساتھ شفقت، احترام اور انصاف کا معاملہ کریں گے ۔ ہم یہ شعور اجاگر کریں گے کہ مزدور کا استحصال دراصل معاشرے
کی بنیادوں کو کمزور کرتا ہے ۔ ایک مضبوط اور خوشحال قوم وہی ہوتی ہے جو اپنے محنت کشوں کی قدر کرے ، ان کی آواز سنے اور ان کے مسائل
حل کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے ۔ اسلام نے مزدور کو جو عزت، تحفظ اور مقام عطا کیا، وہ انسانی حقوق کے جدید تصورات سے
بہت پہلے کا دیا ہوا نظام ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان تعلیمات کو صرف کتابوں اور تقاریر تک محدود نہ رکھیں بلکہ اپنی عملی زندگی میں
نافذ کریں۔ جب مزدور کو اس کا جائز حق، عزت اور تحفظ ملے گا تو معاشرہ حقیقی معنوں میں عدل و انصاف کا گہوارہ بنے گا۔ یومِ مزدور ہمیں
یہی پیغام دیتا ہے کہ محنت کش کو محض ایک کارکن نہیں بلکہ معاشرے کے معمار اور قابلِ احترام انسان کی حیثیت سے دیکھا جائے ، اور اس
کے حقوق کی ادائیگی کو دینی و اخلاقی فریضہ سمجھا جائے ۔ یہی قرآن و سنت کا تقاضا ہے اور یہی ایک عادلانہ اسلامی معاشرے کی بنیاد ہے ۔
٭٭٭