وجود

... loading ...

وجود

خواتین کا دہشت گردی میں استعمال

منگل 28 اپریل 2026 خواتین کا دہشت گردی میں استعمال

ریاض احمدچودھری

رحیمہ بی بی کیس نے منظم دہشت گردوں کی بھرتی اور سرحد پار معاونت کے نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا۔حکومتِ بلوچستان نے 18 اپریل 2026 کو کوئٹہ میں ایک پریس بریفنگ کے دوران دالبندین، بلوچستان سے تعلق رکھنے والے منظور احمد کی اہلیہ رحیمہ بی بی کا اعترافی بیان پیش کیا۔ اپنے بیان میں انہوں نے تصدیق کی کہ ان کے شوہر نے بی ایل ایف سے وابستہ ایک خاتون خودکش حملہ آور کی سہولت کاری کی، جس نے بعد ازاں نومبر 2025 میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کے کیمپ پر حملہ کیا۔رحیمہ بی بی کے اعترافی بیان سے یہ ثابت ہوا کہ ان کی ازدواجی زندگی کے دوران گھر کے اندر مشتبہ روابط اور دہشت گردی سے جڑی سرگرمیاں جاری تھیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گرد سہولت کاری کے نیٹ ورکس گھریلو ماحول تک سرایت کر چکے ہیں اور خاندانی نظام کو استعمال کر رہے ہیں۔رحیمہ بی بی کے مطابق، خاتون خودکش حملہ آور زرینہ رفیق ان کے گھر میں مقیم رہی، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ رہائشی گھروں کو دانستہ طور پر ان افراد کے لیے عارضی پناہ گاہ کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا جو بعد میں دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث ہوئے۔ رحیمہ بی بی نے انکشاف کیا کہ زرینہ رفیق کو بعد ازاں افغانستان منتقل کیا گیا، جہاں اسے تربیت دی گئی اور پھر پاکستان کے اندر خودکش حملے میں استعمال کیا گیا، جو سرحد پار دہشت گرد معاونت کے حوالے سے دیرینہ خدشات کو مزید تقویت دیتا ہے۔ بیان میں اس بات کی بھی تصدیق ہوئی کہ رحیمہ بی بی کا موبائل نمبر ان کے شوہر نے شدت پسند عناصر سے رابطے اور ہم آہنگی کے لیے استعمال کیا، جو ذاتی شناخت کے دانستہ غلط استعمال کو ظاہر کرتا ہے تاکہ عملی روابط کو چھپایا جا سکے۔
محکمہ انسداد دہشت گردی کے جائزوں کے مطابق بلوچستان میں سرگرم دہشت گرد گروہ خواتین کو نفسیاتی دباؤ، جبر اور منظم بھرتی کے طریقہ کار کے ذریعے استعمال کر رہے ہیں، جو دہشت گرد حکمت عملی میں واضح تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔خواتین کو منظم نیٹ ورکس کے ذریعے باقاعدہ طور پر استحصال کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ شدت پسندی اور بھرتی ایک منظم تقسیمِ کار کے تحت انجام دی جاتی ہے۔ سکیورٹی جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ کمزور نوجوانوں اور خواتین کو نظریاتی بیانیے کے ذریعے متاثر کیا جاتا ہے، جبکہ بھرتی، تربیت اور عملی تعیناتی بی ایل اے اور بی ایل ایف جیسے گروہوں کے ذریعے کی جاتی ہے، جب افراد ذہنی طور پر تیار ہو جاتے ہیں۔
افغانستان میں موجود سرحد پار ڈھانچہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے لیے ایک اہم سہولت کار بنا ہوا ہے۔ افراد کی تربیت کے لیے افغانستان منتقلی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ بی ایل اے، بی ایل ایف اور ٹی ٹی پی جیسے گروہ وہاں تربیت، لاجسٹک سپورٹ اور منصوبہ بندی جاری رکھے ہوئے ہیں۔دہشت گرد حکمت عملی میں تشدد کے ساتھ بیانیاتی جنگ بھی شامل ہے۔ دہشت گرد تنظیمیں اب دوہری حکمت عملی اختیار کر رہی ہیں، جس میں پرتشدد کارروائیوں کے ساتھ منظم بیانیاتی مہمات بھی شامل ہیں تاکہ ابہام پیدا کیا جائے اور عوامی رائے کو متاثر کیا جا سکے۔ دشمن عناصر خواتین اور سماجی کمزوریوں کو استعمال کر کے دہشت گرد مقاصد کو تقویت دیتے ہیں اور معاشرتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتے ہیں۔دہشت گرد نیٹ ورکس پیچیدہ اور سرحدوں سے ماورا ڈھانچوں کے تحت کام کرتے ہیں۔ کوئٹہ میں ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کے مطابق یہ نیٹ ورکس بھرتی کرنے والوں، سہولت کاروں، تربیت دینے والوں اور ہینڈلرز پر مشتمل باہم مربوط پرتوں کے ذریعے کام کرتے ہیں۔ مذہبی اور اخلاقی اصول بھی خواتین کے استحصال کو مسترد کرتے ہیں۔ مذہبی اور اخلاقی نقط نظر سے خواتین کو جبر کے تحت یا غیر قانونی سرگرمیوں میں استعمال کرنا ناقابل قبول ہے اور بنیادی اخلاقی تعلیمات کے منافی ہے۔
حکومتِ بلوچستان اور متعلقہ سکیورٹی اداروں کے مطابق ایسے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، جن میں انٹیلی جنس اکٹھا کرنا، فرانزک تصدیق اور قانونی کارروائیاں شامل ہیں تاکہ ذمہ داروں کا احتساب کیا جا سکے اور مزید استحصال کو روکا جا سکے۔یہ نیٹ ورکس نہایت پیچیدہ اور منظم انداز میں کام کرتے ہیں، جن میں بھرتی کرنے والے، سہولت کار، تربیت دینے والے اور ہینڈلرز شامل ہوتے ہیں۔ مزید یہ کہ ناکام کارروائیوں یا گرفتاریوں کو بعد میں ”لاپتہ افراد” کے بیانیے میں بدل کر عوامی رائے کو متاثر کرنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔
سکیورٹی فورسز نے ضلع بنوں میں دوران آپریشن بھارتی سرپرستی میں سرگرم فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 2 خوارج کو ہلاک کر دیا۔ خوارجی رنگ لیڈر وحید اللہ انتہائی مطلوب دہشت گردوں کی فہرست میں شامل تھا اور متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث تھا، جن میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں اور معصوم شہریوں کی شہادت شامل ہے، وہ 21 فروری 2026 کو بنوں میں ہونے والے خودکش حملے کا بھی مرکزی سہولت کار تھا، جس میں لیفٹیننٹ کرنل گل فراز شہید ہوئے تھے۔ یہ آپریشن اس گھناؤنے جرم کا بدلہ ہے اور مرکزی ملزم کو انجام تک پہنچایا گیا ہے۔ علاقے میں مزید کسی بھی بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے خوارجی عنصر کے خاتمے کیلئے کلیئرنس آپریشن جاری ہے، ‘عزمِ استحکام’ کے تحت دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں بلا تعطل جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
کیا مین اسٹریم میڈیا کے لفافہ صحافی گوئبلز کی بد روحیں ہیں؟ وجود منگل 28 اپریل 2026
کیا مین اسٹریم میڈیا کے لفافہ صحافی گوئبلز کی بد روحیں ہیں؟

خواتین کا دہشت گردی میں استعمال وجود منگل 28 اپریل 2026
خواتین کا دہشت گردی میں استعمال

ایران میں جنگ ختم کرنے کیلئے امریکہ کیا کرے؟ وجود منگل 28 اپریل 2026
ایران میں جنگ ختم کرنے کیلئے امریکہ کیا کرے؟

معنی کی تلاش میں سرگرداں! وجود پیر 27 اپریل 2026
معنی کی تلاش میں سرگرداں!

26اپریل1984 ۔۔امتناع قادیانیت آرڈیننس وجود پیر 27 اپریل 2026
26اپریل1984 ۔۔امتناع قادیانیت آرڈیننس

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر