... loading ...
منظر نامہ
۔۔۔۔۔۔۔۔
پروفیسر شاداب احمد صدیقی
اسلام آباد میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی کے لیے ہونے والے مذاکرات ایک ایسے مرحلے
پر ختم ہو گئے جہاں بظاہر امیدیں بہت زیادہ تھیں مگر عملی سطح پر اختلافات اتنے گہرے نکلے کہ کسی حتمی معاہدے تک پہنچنا ممکن نہ ہو سکا۔ ان
مذاکرات کو خطے میں ممکنہ امن کی ایک بڑی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا تھا، تاہم بات چیت کے آخری مراحل میں سامنے آنے والے
بنیادی اختلافات نے پورے عمل کو تعطل کا شکار کر دیا۔مذاکرات کے بعد ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اعتراف کیا کہ
فریقین کے درمیان متعدد نکات پر ابتدائی مفاہمت موجود تھی اور کچھ شعبوں میں پیش رفت بھی ہوئی، لیکن دو سے تین ایسے بنیادی اور حساس
معاملات تھے جن پر اتفاق رائے پیدا نہ ہو سکا۔ ان کے مطابق انہی اختلافات نے بالآخر مذاکرات کو کسی معاہدے تک پہنچنے سے روک
دیا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ گفتگو کے دوران کچھ نئے اور پیچیدہ موضوعات بھی زیر بحث آئے جن میں آبنائے ہرمز کی سلامتی اور خطے
میں توانائی کی ترسیل جیسے حساس مسائل شامل تھے ۔یہ بات واضح ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان اصل تنازع کوئی نیا نہیں بلکہ دہائیوں
پرانا ہے ۔ سب سے بڑا اختلاف ایران کے جوہری پروگرام کے گرد گھومتا ہے ، جو وقت کے ساتھ ساتھ مزید پیچیدہ ہوتا چلا گیا ہے ۔ امریکہ
اور اس کے اتحادی مسلسل یہ مؤقف اپناتے رہے ہیں کہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، جبکہ ایران
اپنے مؤقف میں مسلسل یہ کہتا آیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن اور شہری ضروریات کے لیے ہے ۔
امریکی موقف کی نمائندگی کرتے ہوئے امریکی نائب صدرجے ڈی وینس نے اسلام آباد سے روانگی سے قبل کہا کہ 21گھنٹوں تک
جاری رہنے والے بند کمرہ مذاکرات میں تمام تفصیلات سامنے لانا ممکن نہیں، تاہم بنیادی نکتہ بہت واضح ہے کہ امریکا ایران سے یہ یقین
دہانی چاہتا ہے کہ وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق امریکا کا مقصد صرف یہی ہے کہ ایران کی جوہری صلاحیت
کو اس حد تک محدود رکھا جائے کہ وہ کسی بھی صورت عسکری استعمال کے قابل نہ رہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ کچھ تکنیکی پہلوؤں پر پیش
رفت ہوئی ہے ، لیکن سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ آیا ایران سیاسی اور عملی طور پر اس بات کی ضمانت دینے کے لیے تیار ہے کہ وہ جوہری
ہتھیاروں کی طرف نہیں جائے گا۔ ان کے مطابق یہی وہ نکتہ ہے جہاں اعتماد کا شدید فقدان موجود ہے ، اور یہی فقدان مذاکرات کی ناکامی
کی بنیادی وجہ بنا۔دوسری طرف ایران کا مؤقف ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ وہ جوہری عدم پھیلاؤ کے عالمی معاہدے کا رکن ہے اور اسی حیثیت
میں اسے پرامن مقاصد کے لیے یورینیم افزودہ کرنے کا حق حاصل ہے ۔ ایران یہ دلیل دیتا ہے کہ توانائی، طبی تحقیق اور صنعتی ترقی کے لیے
جوہری ٹیکنالوجی ضروری ہے اور اسے مکمل طور پر روکنے کی کوشش بین الاقوامی قوانین کی روح کے منافی ہے ۔ تہران کے مطابق اصل مسئلہ
اعتماد کا ہے ، اور جب تک مغربی طاقتیں ایران کے ساتھ برابری کی بنیاد پر بات نہیں کرتیں، اس وقت تک کسی بھی معاہدے کی کامیابی
مشکل ہے ۔
مذاکرات کے دوران آبنائے ہرمز کا معاملہ بھی خاصا حساس رہا۔ یہ دنیا کی سب سے اہم سمندری گزرگاہوں میں سے ایک ہے جہاں
سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے ۔ ایران کے نزدیک یہ اس کی اسٹریٹجک سیکیورٹی کا حصہ ہے ، جبکہ امریکا اور اس کے اتحادی اسے
عالمی توانائی کی سلامتی سے جوڑتے ہیں۔ اسی نکتے پر اختلاف نے مذاکرات کو مزید پیچیدہ بنا دیا، کیونکہ یہ صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ
عالمی معیشت سے جڑا ہوا معاملہ ہے ۔ان مذاکرات کی ناکامی کو صرف ایک سفارتی ناکامی قرار دینا شاید صورتحال کی مکمل تصویر نہیں ہو گی،
کیونکہ درحقیقت یہ پورے خطے میں طاقت کے توازن، اعتماد کے بحران اور دیرینہ سیاسی کشمکش کا تسلسل ہے ۔ ایران، امریکا اور اسرائیل
کے درمیان تعلقات کئی دہائیوں سے اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں، اور ہر نئی کوشش اس امید کے ساتھ شروع ہوتی ہے کہ شاید اس بار کوئی
مستقل حل نکل آئے ، لیکن ہر بار بنیادی اختلافات ایک بار پھر راستہ روک لیتے ہیں۔
اسلام آباد میں ہونے والی اس تازہ کوشش کو اس لیے بھی اہم سمجھا جا رہا تھا کہ پاکستان نے ایک غیر جانبدار ثالث کے طور پر فریقین کو
ایک میز پر بٹھانے میں کردار ادا کیا۔ تاہم سفارتی ذرائع کے مطابق مذاکرات کے آغاز ہی سے ماحول میں احتیاط اور عدم اعتماد کی فضا
موجود تھی۔ اگرچہ کچھ تکنیکی امور پر بات چیت مثبت رہی، لیکن سیاسی سطح پر اعتماد سازی کا عمل مکمل نہ ہو سکا۔تجزیہ کاروں کے مطابق مسئلہ
صرف جوہری پروگرام تک محدود نہیں بلکہ اصل بحران خطے میں سیکیورٹی کے نئے ڈھانچے کا ہے ۔ امریکا خطے میں ایران کے بڑھتے ہوئے
اثر و رسوخ کو محدود دیکھنا چاہتا ہے ، جبکہ ایران اسے اپنی خودمختاری کے خلاف سمجھتا ہے ۔ اسرائیل کا مؤقف اس پورے تنازع میں مزید سخت
ہے ، کیونکہ وہ ایران کے جوہری پروگرام کو اپنی قومی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ قرار دیتا ہے ۔
اس پورے منظرنامے میں سب سے اہم سوال یہی ہے کہ کیا مستقبل میں دوبارہ مذاکرات کی کوئی گنجائش موجود ہے ؟ سفارتی حلقے یہ
مانتے ہیں کہ دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے ، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اعتماد کی بحالی کے لیے اب ایک طویل اور پیچیدہ عمل درکار ہوگا۔
جب تک بنیادی سیاسی اختلافات حل نہیں ہوتے ، اس وقت تک کسی بھی تکنیکی معاہدے کی کامیابی مشکل نظر آتی ہے ۔اسلام آباد مذاکرات
ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کر گئے ہیں کہ بین الاقوامی سیاست میں مفاہمت صرف الفاظ سے نہیں بلکہ عملی اعتماد، سیاسی نرمی اور طویل
المدتی حکمت عملی سے ممکن ہوتی ہے ۔ فی الحال صورتحال یہ ہے کہ فریقین ایک بار پھر اپنی اپنی پوزیشنز پر واپس جا چکے ہیں، اور خطہ ایک بار
پھر غیر یقینی صورتحال کے بادلوں میں گھرا ہوا ہے ۔
٭٭٭