... loading ...
ریاض احمدچودھری
بھارت کا دوسروں کی اشیاء کو اپنی بنا کر پیش کرنے کا ایک مسلسل رجحان نمایاں ہے۔ بھارت نے ایک بار پھر پاکستان کے کھیوڑہ پنک سالٹ (ہمالین پنک سالٹ) کے بارے میں غلط بیانی کرتے ہوئے اسے تیسرے ممالک کے ذریعے خام مال درآمد کر کے ”انڈین ہمالین سالٹ” کے نام سے پیش کیا۔ یہ طرزِ عمل باسمتی چاول کی غلط نمائندگی جیسے معاملات کی عکاسی کرتا ہے اور یہ روش صرف چاول یا نمک تک محدود نہیں بلکہ گانوں، فلموں اور ثقافتی عناصر کی نقل تک پھیل چکی ہے۔
بھارتی درآمد کنندگان پاکستان سے خام نمک کو متحدہ عرب امارات کے راستے کم قیمت (60–80 ڈالر فی ٹن) پر حاصل کرتے ہیں، پھر اسے دوبارہ برانڈ کر کے قائم شدہ تجارتی نیٹ ورکس کے ذریعے زیادہ قیمت پر فروخت کرتے ہیں۔ پاکستان زیادہ تر خام نمک برآمد کرتا ہے اور عالمی منڈی سے سالانہ تقریباً 120 ملین ڈالر کماتا ہے، جبکہ اس مارکیٹ کی مالیت 2024 میں 238 ملین ڈالر ہے اور 2033 تک 327 ملین ڈالر تک پہنچنے کی پیش گوئی ہے۔گزشتہ تین دہائیوں سے وپن کمارپاکستان سے ہمالیائی گلابی نمک درآمدکرکے بھارت میں فروخت کر رہے ہیں۔تاہم، نئی دہلی نے اپریل میں مقبوضہ کشمیر کے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد تمام پاکستانی سامان بشمول تیسرے ممالک کے ذریعے جانے والے سامان کی درآمد پر پابندی عائد کردی۔ ہندو بھی اس نمک کو اپنے مذہبی روزوں کے دوران استعمال کرنے کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ یہ ایک غیر سمندری نمک ہے۔
بھارت میں سکھوں کے روحانی مرکز پنجاب کے امرتسر میں مقیم 50 سالہ تاجر وپن کمار نے بتایا کہ پابندی سے ان کا کاروبار ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔ وہ عام طور پر ہر سہ ماہی میں2ہزار سے ڈھائی ہزار ٹن گلابی نمک فروخت کرتے ہیں،منافع کا مارجن بہت کم ہے، لیکن پھر بھی بڑے پیمانے پر فروخت کی وجہ سے کاروبار ممکن ہے، لیکن پابندی نے گلابی نمک کے کاروبار کو مکمل طور پر روک دیا ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ حالات کب معمول پر آئیں گے۔ہمالیائی گلابی نمک میں لوہے سمیت معدنیات کی وجہ سے اس کی رنگت گلابی ہے اور اسے کھانا پکانے، آرائشی لیمپ اور اسپا ٹریٹمنٹ میں استعمال کیا جاتا ہے۔ہمالیائی گلابی نمک کی کان کنی کھیوڑہ سالٹ مائن میں کی جاتی ہے، جو کینیڈا کے اونٹاریو میں سیفٹو سالٹ مائن کے بعد دنیا کی دوسری سب سے بڑی نمک کی کان ہے۔نمک کی کان میں تقریباً 82 ملین میٹرک ٹن نمک ہوتا ہے اور ہر سال3 لاکھ 60 ہزارمیٹرک ٹن نکالا جاتا ہے، تقریباً 70 فیصد نمک صنعتی مقاصد اور باقی کھانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔نمک خام شکل میں بھارت کو برآمد کیا جاتا ہے، جہاں درآمد کنندگان اسے پروسیس، پیس کر پیک کرکے فروخت کے لیے پیش کرتے ہیں۔بھارت اس گلابی نمک کے لیے زیادہ تر پاکستان پر انحصار کرتا ہے۔ نمک کے تاجروں نے بتایا کہ درآمدات میں موجودہ تعطل نے ان کے کاروبار کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے، قیمتوں میں اضافہ شروع ہوچکا ہے۔امرتسر کے تاجر گوروین سنگھ نے کہا کہ پابندی سے پہلے جو نمک خوردہ بازار میں45 روپے سے 50 روپے فی کلوگرام میں فروخت ہوتا تھا، اب کم از کم 60 روپے فی کلوگرام میں فروخت ہو رہا ہے۔کچھ جگہوں پر قیمت اس سے بھی زیادہ ہے، رواں ہفتے کولکتہ میں گلابی نمک بازاروں میں 70 سے 80 روپے فی کلو کے درمیان فروخت ہو رہا تھا۔ جب اسٹاک ختم ہو جائے گا تو مکمل بحران ہو جائے گا۔
گلابی نمک کا کاروبار کرنے والی ایک نجی فرم کے منیجر سنجے اگروال نے کہا کہ ہمالیائی پتھری نمک کی سال بھر میں بہت زیادہ مانگ رہتی ہے، خاص طور پر تہواروں کے دوران جب لوگ روزہ رکھتے ہیں اور بھارت میں پیدا ہونے والے سمندری نمک پر گلابی نمک کو ترجیح دیتے ہیں۔تاہم پاکستانی برآمد کنندگان نے کہا کہ بھارتی پابندی سے ان کی تجارت پر مثبت اثر پڑے گا۔پاکستان میں پیدا ہونے والا پنک سالٹ یعنی گلابی نمک ایک ایسی پراڈکٹ ہے کہ جسے جیوگرافیکل انڈیکیشنز (جی آئی) قانون کے تحت تحفظ دینے کے لیے پاکستان کی وزارت تجارت نے ایک اعلان کیا ہے۔اس اعلان کے مطابق پاکستان گلابی نمک کو جی آئی قوانین کے تحت رجسٹر کرے گا کہ یہ خالص پاکستان میں پیدا ہونے والی پراڈکٹ ہے اور اسے دنیا میں برآمد اور فروخت کرنے کا حق صرف پاکستان کو حاصل ہے۔
عام نمک اور گلابی نمک کے درمیان فرق یہ ہے کہ گلابی نمک کی سب سے خاص بات اس کا رنگ ہے جو اسے عام نمک سے منفرد کرتا ہے اور اسی وجہ سے یہ پاکستان اور دنیا بھر میں مقبول ہے۔ رنگ کے ساتھ اس میں آئرن یعنی فولاد کی مقدار عام نمک کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔ پاکستان اور دنیا بھر میں لوگ آئرن کی کمی کا شکار ہیں، اس لیے ایسے لوگ بھی اسے زیادہ استعمال کرتے ہیں جو آئرن کی کمی کی وجہ سے بیماریوں کا شکار ہیں۔کھانے میں استعمال ہونے والا گلابی نمک جہاں بہت مقبول ہوا تو اس کے ساتھ اس سے تیار ہونے والی مصنوعات بھی بہت مشہور ہوئی ہیں۔ گلابی نمک سے سجاوٹ کے لیے استعمال ہونے والی مختلف چیزیں بنتی ہیں اور اس سے تیار ہونے والے لیمپ اور ٹائلیں اور دوسری مصنوعات بہت خوبصورت ہوتی ہیں۔ ایک تو اس کی خوشبو سوندھی ہوتی ہے تو اس کے انسانی نفسیات پر بہت اچھے اثرات ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ یہ سانس کی بیماریوں میں مبتلا افراد کے لیے بھی بہت مفید ہوتے ہیں۔ تاہم ان میں سے تمام فوائد تحقیق سے ثابت شدہ نہیں ہیں۔ جب گلابی نمک کو تحفظ مل جائے گا تو اس کی اونر شپ کسی حکومتی ادارے کو دے دی جائے گی جیسے باسمتی چاول کی اونر شپ ٹریڈ ڈویلمپنٹ اتھارٹی آف پاکستان کو دی گئی۔جس ادارے کو یہ اونر شپ ملے گی اسے اختیار حاصل ہو گا کہ وہ اس کی تجارت اور برآمد کی اجازت دے۔ جسے بھی اس کی بین الاقوامی سطح پر تجارت کرنا ہو گی وہ اس ادارے کو درخواست دے گا۔اسی طرح ادارہ کسی بھی ملک کو بتائے گا کہ یہ پراڈکٹ خالص پاکستان میں پیدا ہوتی ہے اور اس کے حقوق پاکستان کے نام پر محفوظ ہونے چاہییں۔ پاکستان یہ درخواست گلابی نمک کی پیداوار کے محل وقوع، اس کے رنگ و دوسری خصوصیات کی بنیاد پر دے گا۔
٭٭٭