وجود

... loading ...

وجود

قطر کی ایل این جی فراہمی رک جانے کے پاکستان پر اثرات

هفته 28 مارچ 2026 قطر کی ایل این جی فراہمی رک جانے کے پاکستان پر اثرات

حاصل مطالعہ
۔۔۔۔۔۔۔
عبدالرحیم

مشرق وسطیٰ میں جنگ ،پاکستان کوجو ایل این جی( مائع قدرتی گیس) پر انحصار کرتاہے،مجبور کر رہی ہے کہ وہ بجلی پیدا کرنے میں ایندھن کے طور پر استعمال ہونے والی ایل این جی کو مہنگے داموں اسپاٹ مارکیٹ سے خریدے۔پاکستان اپنی بجلی کا ایک تہائی یا اس سے زائد قدرتی گیس سے پیدا کرتا ہے۔ممکنہ قلت کودور کرنے کیلئے پاکستان ریکارڈ قیمت پر خریدنے پر مجبور ہے اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ اسے مجبور کر رہا ہے کہ وہ کوئلہ سے چلنے والے بجلی گھروں کے طرف رجوع کرے۔ ریسرچ گروپ زیرو کاربن اینیلسٹکس کی تجزیہ نگار ایمی کانگ کا کہنا ہے کہ پاکستان جنگ کی مدت کے دوران مہنگی گیس کی جگہ عارضی طور پر کوئلہ کا استعمال کرے۔اس کا کہنا ہے کہ روس یوکرین جنگ کے نتیجہ میں2021 اور2024 کے درمیان پاکستان نے شمسی توانائی کی اپنی استعداد کو تین گنا کر دیا۔چین کے کم لاگت کے سولر پینلز نے پاکستان کو ایل این جی درآمدات پر اپنے انحصار کم کرنے میں مدد دی۔ جبکہ ملک کو توانائی میں اہم رکاوٹ سے نمٹنا پڑ رہا ہے مثلاً گیس کے منقطع ہونے سے کھاد تیار کرنے والے پلانٹ ۔ پاکستان کی تجدید نوrenewables) (کی طرف منتقلی بڑے عدم استحکام سے اس کا بچائو کررہی ہے۔
ہم نے تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا
ایک اسرائیلی تجزیہ نگار اور سابق انٹیلی جنس آفیسر مائیکل ملسٹین نے ییدی یوتھ اہرونوٹ میں لکھا ہے کہ عوام کے سامنے ایک مبالغہ آمیز تصویر پیش کی گئی ہے جس کے مطابق حزب اللہ کا تقریباً خاتمہ کر دیا گیا ہے۔حماس کو مٹا دیا گیا ہے اور عرب دنیا اسرائیل کے ساتھ اسٹریٹیجک اتحاد قائم کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔مائیکل ملسٹین نے ایک انٹر ویو میں کہا کہ حقیقت بتانے کی بجائے اسرائیل نے تصوراتی دنیا پیش کی ،خاص طور پر7 اکتوبر2023 کو حملوں کے بعد سے۔ اس کا نتیجہ سرکاری انکوائری میں نہیں نکلا کہ کن غلطیوں کی بناء پر حماس غزہ کے نزدیک 1200 سے زائد اسرائیلیوں کوہلاک کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ اس کے نتیجہ میں جنگ کے دوران70000 سے زائدغزہ کے باشندے ہلاک ہو گئے اور پورا علاقہ کنکروں کا ڈھیر بن گیا۔مائیکل ملسٹین کا کہنا ہے کہ حماس کو اپنی جگہ سے ہٹایا نہیں جاسکا ہے۔ میں در حقیقت ان من گھڑت خیالات کو پسند نہیں کرتا کہ ہم مشرق وسطیٰ کا نقشہ دوبارہ ترتیب دیں گے اور ہم لوگوں کے ذہن اور قلوب کو تبدیل کردیں گے۔اس کا کہنا ہے کہ ہم نے تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا۔
ٹیکنالوجی اور نظریہ کے دمیان جنگ
عراق کے سابق وزیر خارجہ اور سابق نائب وزیر اعظم ہوشیار زبیری کا کہنا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل سے خطے میں ایک دور کا خاتمہ ہو گیا ہے لیکن اس کا مطلب ایران کی مذہبی اسلامی جمہوریہ کا خاتمہ نہیں ہے۔وہ مزاحمت کر رہے ہیں۔یہ ٹیکنالوجی اور نظریہ کے دمیان جنگ ہے۔ان میں جلد بحال ہونے کی اہلیت ہے۔ایرانیوں کو نچوڑ دیا گیا ہے اور صورتحال ان کیلئے مشکل ہے لیکن ان کیلئے یہ ہونے یا نہ ہونے کے برابر ہے۔
امریکہ آبنائے ہرمز فوری طور پر کیوں نہیں کھول سکا
گزشتہ ہفتہ اوول آفس میں ایک اجلاس میں مایوس ٹرمپ نے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئر مین جنرل ڈان کین سے پوچھا کہ امریکہ فوری طور پر آبنائے ہرمز کیوں نہیں کھول سکا ۔ جواب سیدھا سادہ تھا۔ ایک ایرانی سپاہی یا ملیشیا کا کوئی رکن آبنائے ہرمز کے سرے پرایک اسپیڈ بوٹ میںتیزی کے ساتھ حرکت کرکے ایک متحرک میزائل آہستہ سے حرکت کرنے والے ایک سپر ٹینکر کے اندر فائر کر سکتا ہے اور اس کے ڈھانچہ میں چپک جانے والی ایک بارودی سرنگ بچھا سکتا ہے۔
توانائی کے ذرائع میں تنوع ضروری
بنگلہ دیش کی فیکٹریوں کی جلد بحال ہونے کی اہلیت کو ایک اور امتحان کا سامناہے۔بنگلہ دیش گارمنٹ مینو فیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے ایک سابق ڈائریکٹرمحی الدین روبل جس کی اپنی کئی فیکٹریاں ہیں، نے ملک پرالزام لگایا کہ اس کاایک ہی چیز میںیکسوئی کا رجحان ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیشی کسی ایک چیز کے کرنے میں بہت اچھے ہیں۔ ہم متنوع نہیں ہیں۔ ہم کئی متبادل راہیں اختیارنہیں کرتے۔ یہی بات اس کے پاور گرڈ پر صادق آتی ہے جوتجدید نو توانائی کا بہت کم استعمال کرتا ہے۔
ڈھاکہ میںانسٹی ٹیوٹ برائے انرجی اکانومکس اینڈ فنانشل انیلسز کے ایک تجزیہ کار شفیق العالم کا کہنا ہے کہ وہ فیکٹریوں چلانے کیلئے گیس کی کمی کے بارے میں بہت پریشان ہے۔ بنگلہ دیش کئی کئی گھنٹے لوڈ شیڈنگ اور بلیک آئوٹس کا استعمال کرتا ہے تاکہ بجلی گھروں پر بوجھ کم ہو سکے۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
ہندوستان: جنگ پر خاموشی کب تک اور پاکستان سے سبق وجود هفته 28 مارچ 2026
ہندوستان: جنگ پر خاموشی کب تک اور پاکستان سے سبق

کشمیری خواتین رہنماؤں کو سزائیں،سیاسی انتقام وجود هفته 28 مارچ 2026
کشمیری خواتین رہنماؤں کو سزائیں،سیاسی انتقام

جیو۔۔۔ سچ کے ساتھ وجود هفته 28 مارچ 2026
جیو۔۔۔ سچ کے ساتھ

قطر کی ایل این جی فراہمی رک جانے کے پاکستان پر اثرات وجود هفته 28 مارچ 2026
قطر کی ایل این جی فراہمی رک جانے کے پاکستان پر اثرات

بھارت میں توانائی کابحران وجود جمعه 27 مارچ 2026
بھارت میں توانائی کابحران

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر