وجود

... loading ...

وجود

ایرانی صدر کے بیٹے کی ڈائری

بدھ 25 مارچ 2026 ایرانی صدر کے بیٹے کی ڈائری

حاصل مطالعہ
عبدالرحیم

جب ایران کے صدر مسعود پیزشکیان اس ماہ بہت مختصر مد ت کیلئے عوام کے سامنے آئے تاکہ اسرائیل مخالف ریلی پر شہریوں کو مبارک باد دیں تو اس کے خاندان کا ایک رکن بھی وہاں موجود تھا۔صدر کا 44 سالہ بیٹا یوسف جو ان کے مشیر بھی ہیں،نے اپنے والد کو نہ تو دیکھا ہے ، نہ ہی بات کی ہے جب سے اسرائیل اور امریکہ نے 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ کا آغاز ہوا جس کے بعد ملک کی قیادت زمین دوز چلی گئی۔وہ ان کی ایک جھلک دیکھنے کی امید کر رہا تھا۔ وہ ایک ٹیلی گرام چینل پر ڈائری لکھ رہا تھا۔اس نے افسوس کا اظہار کیا جس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔بیٹے کے پاس فزکس میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری ہے ۔ وہ ایک کالج میں پروفیسر ہے۔اس نے روزانہ جنگ کی ڈائری کی لکھی ہے جس میں ذاتی اور سیاسی خیالات کا اظہار کیا ہے۔ڈائری میں اس بات کی جھلک نظر آتی ہے کہ جب سے جنگ شروع ہوئی ہے، ایران کی سیاسی شخصیات کیامحسوس کررہی ہیں۔ حالانکہ ایران کے رہنما پبلک بیانات میں جرأت آمیز مدافعت کو اجاگر کرتے ہیں، یوسف پیزشکیان دکھاوے کے پیچھے خوف کے بارے میں لکھتاہے جب کئی رہنمائوں کو اسرائیلی بمباری میںہدف بنایا جارہا اور ہلاک کیا جارہا ہے۔اس نے مارچ کے اوائل میں جنگ کے چھٹے روز لکھا کہ میرے خیال میں بعض سیاسی شخصیتیں خوفزدہ ہیں جبکہ ہمارے مذہبی اور سیاسی رہنما کے مقابلے میں عوام زیادہ مضبوط اور جلد بحال ہونے کی زیادہ اہلیت رکھتے ہیں۔ہمیں اپنے آپ کو برابر یاد دلانا ہوگا کہ شکست صرف اسی وقت ہوگی جب ہم شکست محسوس کریں گے۔وہ اپنے والد کے بارے میں پریشان ہے اور کہا کہ وہ اور اس کے دو بھائی صدارت کے باقی دو سال ختم ہونے کا انتظار نہیں کر سکتے تاکہ ہم سب واپس معمول کی زندگی گزار سکیں۔جیسا کہ ایران جنگ کے چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے،اس کے پے درپے رہنما قتل ہو چکے ہیں۔جو باقی رہ گئے ہیں،وہ اپنی محفوظ پناہ گاہوں میں چلے گئے ہیں۔ اسرائیلی اور امریکی فضائی حملوں نے اب تک سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ہلاک کردیا ہے اور ان کی اعلیٰ فوجی کمان کا صفایا کر دیا ہے۔سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ اور ایران کے اصل حکمران علی لاریجانی اور وزارت انٹیلی جنس کے سربراہ اسمٰعیل کا بھی خاتمہ کردیا۔
یوسف پیزشکیان نے اپنی ڈائری میں لکھا ہے کہ حکام کی زندگیوں کا تحفظ ملک کیلئے نمبر ایک ترجیح بن چکا ہے۔ ٹارگٹڈ کلنگ اب ایک اعزاز ہے۔ اس نے جنگ کے پہلے ہفتے میں سرکاری حکام کے ساتھ ایک اجلاس کا حال بیان کیا ہے جس میں لائحہ عمل کے بارے میں اختلافات سامنے آئے۔سب سے بڑا اختلاف یہ ہے۔ہمیں کب تک لڑنا ہے؟ ہمیشہ کیلئے؟ جب تک اسرائیل تباہ نہیں ہوجاتا اور امریکہ پسپا نہیں ہو جاتا؟ جب تک ایران مکمل طور پرتباہ نہیں ہو جاتا اور ہم ہتھیار نہیں ڈالتے؟ ہمیں مختلف منظر نامے کا بغور جائزہ لینا ہے۔اپنی ڈائریوں میں یوسف پیزشکیان کا کہنا ہے کہ اسے جنگ کے بارے میں پیغامات ملتے رہتے ہیں،نہ صرف دوستوں اور جان پہچان والوں سے بلکہ اجنبیوں سے بھی۔اس کا کہنا ہے کہ کبھی کبھارپیغامات میں ہمیں کہا جاتا ہے کہ ہتھیار ڈال کر اقتدار لوگوں کے حوالے کردیا جائے۔ اس تصور کو اس نے بے خبری اور واہمہ قرار دیا۔اس کا کہنا ہے کہ وہ پریشان ہے کہ امریکہ اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایران کا عرب ممالک پر حملوں کا اثر الٹا ہو سکتا ہے۔یہ بہت افسوسناک ہے کہ ہمیں اپنے دفاع کیلئے دوست ممالک میں امریکی اڈوں پر حملہ کرنا پڑتا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ آیا وہ ہماری صورتحال کو سمجھیں گے یا نہیں۔
یوسف پیزشکیان نے اپنے والد کادفاع کیا جب انہوں نے 7 مارچ کو ایک ویڈیو پیغام میں حملوں کے بارے میں عرب ممالک سے معذرت کی کہ وہ رک جائیں گے۔قدامت پسندوں اور فوجی کمانڈرز نے معذرت کاغصہ سے بھرپور ردعمل ظاہر کیا اور حملے روکنے کا صدر کے وعدہ کو گھنٹوں کے اندر منسوخ کردیا۔یوسف پیزشکیان نے لکھا کہ پڑوسیوں سے معذرت کرنا اخلاقی فرض ہے،قانونی نہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ خلیج فارس میں عرب ممالک میں رہنے والے عوام کا قصور نہیں اور یہ کہ ان کی زندگیاںجنگ سے تہ و بالا ہوگئی ہیں۔تین اعلیٰ ایرانی حکا م کے مطابق اعلیٰ عہدیداروں کو ان کے خفیہ مقامات پر ڈھونڈ نکالنے نے ایران کے رہنمائوں کو حواس باختہ کر دیا ہے اور تشویش پیدا کردی ہے کہ آئندہ کس کی باری ہے اور کس طرح نقصانات کو برداشت کیا جا سکتا ہے۔
ایران سے جنگ۔ جلد فتوحات کا نتیجہ
ٹرمپ جلد فتوحات کے نشے میں ایران سے جنگ میں داخل ہوا۔جون میں ایران کے تین بڑے ایٹمی مقامات پر بمباری ایک شام کی مہم تھی جس نے ملک کے ایٹمی ذخیرہ کو دفن کردیا اور اس کے ہزاروں centrifuges کا صفایا کردیا جو یورینیم کوبہتر بنانے میں استعمال ہوتے ہیں۔اسی طرح وینزویلا کے نکولس ماڈورو کی کاراکس میں اس کے بیڈ سے گرفتاری کیلئے کمانڈو کاحملہ بھی تیز رفتاری کا تھا اور اب تک ٹرمپ نے وہاں جو حکومت چھوڑی ہے ،وہ تابعدار ہے۔شایدان جلد نتائج نے ٹرمپ کی حوصلہ افزائی کی اور وہ یقین کر بیٹھے کہ امریکی فوج بہت ہی طاقتور ہے اور یہ کہ مذہبی رہنما،جرنیل اور ملیشیا جو 9کروڑ20 لاکھ عوام کے ایران کا نظام چلاتے ہیں،ریزہ ریزہ ہو جائے گا۔اس لئے وہ تیزی سے آگے بڑھے۔ یہ امر واضح ہے کہ ایران ایک مختلف قسم کا چیلنج ہے۔ٹرمپ نے لفظ ‘تفریح ‘کا استعمال کرنا شروع کردیا یہ بتانے کیلئے کہ یہ ایک مختصر سفر ہے اور مختصر مدت کادل بہلاوا ہے۔لیکن اس کا حقیقی خاتمہ نظر نہیں آتا۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کا آپریشن وجود بدھ 25 مارچ 2026
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کا آپریشن

ایرانی صدر کے بیٹے کی ڈائری وجود بدھ 25 مارچ 2026
ایرانی صدر کے بیٹے کی ڈائری

کیا امریکہ اور اسرائیل ایران کی شرائط مان لیں گے! وجود بدھ 25 مارچ 2026
کیا امریکہ اور اسرائیل ایران کی شرائط مان لیں گے!

مظلوم کی للکاراور مسلم اُمہ کی ذمہ داری وجود منگل 24 مارچ 2026
مظلوم کی للکاراور مسلم اُمہ کی ذمہ داری

یوم پاکستان، مقبوضہ وادی میں سبز ہلالی پرچم وجود منگل 24 مارچ 2026
یوم پاکستان، مقبوضہ وادی میں سبز ہلالی پرچم

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر