وجود

... loading ...

وجود

ایرانی ایٹم بم

پیر 23 مارچ 2026 ایرانی ایٹم بم

بے لگام
۔۔۔۔۔
ستار چوہدری

طاقت صرف ہتھیار سے نہیں ناپی جاتی، راستے اورمواقع بھی ہتھیار ہیں۔۔۔ جنگیں صرف فائرنگ سے نہیں جیتی جاتیں، بلکہ ذہنوں اور راستوں پر قابو پانے سے جیتی جاتی ہیں۔۔۔۔ جہاں خوف اور حساب کا توازن ہو، وہاں جنگ کمزوروں پر نہیں، سوچ رکھنے والوں پر لڑی جاتی ہے ۔۔۔ اور کبھی کبھی۔۔۔۔ دنیا کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کیلئے ایک بم نہیں، ایک راستہ ہی کافی ہوتا ہے ۔۔۔ یہ بات پرانی ہوچکی ،جب طاقت کو ایٹم بم ،میزائلوں اور جنگی طیاروں سے ناپا جاتا تھا،کچھ ہتھیار ایسے بھی ہیں جو نظر نہیں آتے ، مگر پوری دنیا کی سانس روک سکتے ہیں۔ایران کے پاس بھی ایک نہیں، دو ایسے ” ہتھیار ”موجود ہیں جو روایتی ایٹم بم سے کم خطرناک نہیں۔۔۔۔ میں اس لئے باربار کہہ رہا ہوں ایران جنگ نہیں ہارے گا،امریکا کو مشرق وسطیٰ سے بھاگنا پڑے گا،ایران کے پاس ابھی بڑے ” ہتھیار” باقی ہیں جنہیں ابھی تک ہاتھ تک نہیں لگایا،جس دن ایران حکام نے دیکھا وہ تباہ ہورہے ہیں ،اس دن وہ ” ہتھیار” استعمال ہونگے جو پوری دنیا کی سانسیں روک دیں گے ۔۔۔ وہ ہتھیار کیا ہیں ۔۔۔ ؟ تیل بحران،ڈیٹا بحران ۔۔۔ سمجھیں یہ دو ”ایٹم بم ” ہیں۔۔۔۔
آبنائے ہرمز،یہ ایک تنگ سا سمندری راستہ ، دنیا کی معیشت کی شہ رگ ہے ۔ دنیا کا تقریباً بیس فیصد تیل اسی راستے سے گزرتا ہے ۔ اگرایران اسے مکمل بند کردے تو عالمی منڈیوں میں بھونچال آجائے گا، قیمتیں آسمان سے باتیں کریں گی، دنیا بھر کی معیشتیں لڑکھڑاجائیں گی اور دنیا کے طاقتور ترین ممالک کے چہروں سے اعتماد اتر جائے گا۔۔۔ یہ راستہ نہ صرف تیل بلکہ ایل این جی کی بھی گزرگاہ ہے ،ایشیا کے تمام ممالک کے یہاں سے ہی ایل این جی کے ٹینکرز گزرتے ہیں،نہ صرف تیل بحران پیدا ہوگا گیس کا بھی بڑا بحران پیدا ہوجائے گا، بھارت میں گیس کی لائنیں لگ چکی ہیں۔۔۔یہ ہے ایران کا پہلا ”ایٹم بم ”۔۔۔
مگر کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔
اسی سمندر کی تہہ میں خاموشی سے بچھے ہوئے ہیں وہ فائبر آپٹک کیبلز، جن پر آج کی دنیا کھڑی ہے ۔ یہی کیبلز یورپ، ایشیا اور مشرق وسطیٰ کو جوڑتی ہیں۔ بینکنگ، اسٹاک مارکیٹس، سوشل میڈیا، سرکاری نظام ،سب اسی ” ڈیجیٹل شاہراہ” پردوڑرہے ہیں۔ اگر ایران اس کیبلز کو کاٹ دے تو پھر۔۔۔؟ مشرق وسطیٰ اور ایشیا کا نیٹ بند ہوجائے گا،نیٹ بند ہونے کا مطلب،پورا بینکنگ سسٹم،پورا سوشل میڈیا،اسٹاک ایکسچینجز،ائیرلائنز،سرکاری دفاتر اورمیڈیا انڈسٹری بند ہوجائے گی،یورپ اور دیگر براعظموں کا مشرق وسطیٰ اورایشیا سے رابطہ کٹ جائے گا۔ یہ بھی ذہن میں رہے ،کیبلز اگر کٹ جائے تو ٹھیک کرنے میں کم ازکم پانچ،چھ ماہ کا عرصہ درکار ہے ،اتنے عرصے میں پوری دنیا کی سانسیں بند ہوجائیں گی۔ یہ ہے ایران کا دوسرا ”ایٹم بم ”۔۔۔
اب ذرا سوچیں، اگر کسی ایک لمحے میں اگردونوں دباؤ اکٹھے آجائیں،تیل بھی رُک جائے اور ڈیٹا بھی رک جائے ۔۔۔تو پھرکیا ہوگا۔۔؟ جہاں ایک طرف گاڑیاں رکیں گی، وہیں دوسری طرف سرورز بھی ہچکیاں لینے لگیں گے ،یہ وہ جنگ ہوگی جس میں گولیاں کم، اثرات زیادہ ہوں گے ۔۔۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں ایران کھڑا ہے ،ایک ایسے چوک پر، جہاں سے وہ دنیا کو براہِ راست تباہ نہیں، معیشت کو تباہ کرسکتا ہے ۔ ۔۔ لیکن یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے ، کیا ایران واقعی ایسا قدم اٹھا سکتا ہے ۔۔۔؟ دوسری طرف بھی ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے ،کیا ایران اسرائیل اورامریکا کے ہاتھوں تباہ ہوتا رہے گا۔۔۔ ؟ ۔۔۔ اورکتنے رہنماؤں کے جنازے اٹھاتے رہیں گے ۔ ۔۔ ؟ کیا خود کوغزہ بنالیں گے ۔۔۔؟۔۔۔یہ ناممکن ہے ،ابھی تو ایران بہترپوزیشن میں جارہا،ابھی تو کچھ خطرناک میزائل بھی باقی پڑے ہیں ،جس دن ایرانی قیادت کو احساس ہوا وہ ڈوبنے لگے ہیں ،وہ ان دونوں ” ایٹم بموں ”کا استعمال کرینگے ۔۔۔اگر یہ آخری حربہ استعمال ہوا تو اس سے امریکا ، اسرائیل کم،دنیا کے باقی ممالک زیادہ متاثر ہونگے ، پورا مشرق وسطیٰ ،یورپ، چین، بھارت، جاپان ،پاکستان سمیت پورا ایشیامتاثر ہونگے ، دباؤ کس پر آئے گا۔۔۔ ؟ اسی وجہ سے یورپ نے امریکا کا ساتھ نہیں دیا۔۔۔ماضی کی ایک مثال،جب امریکا نے افغانستان پر دھاوا بولا،یورپ کندھے سے کندھا ملا کر یورپ کے ساتھ کھڑا ہوگیا تھا،پیسہ بھی خرچ کیا،فوجی بھی مروائے ، ایران جنگ میں کیوں نہیں۔۔۔ ؟ افغانستان کمزور تھا،نہ میزائل نہ ائیرفورس،نہ ڈرون،نہ دفاعی نظام ،نہ توپیں،نہ ٹینک، نہ ریگولرآرمی نہ معیشت،دوسری طرف ایران کے پاس سب کچھ ہے ۔۔۔ دنیا انصاف پر نہیں، مفاد پرچلتی ہے ۔۔۔یہ اصول نیا نہیں، صدیوں پرانا ہے ۔جہاں مزاحمت کم ہو، وہاں طاقت کا استعمال زیادہ ہوتا ہے ، جہاں جواب کا خطرہ ہو، وہاں الفاظ اور پابندیاں آگے آجاتی ہیں۔۔۔۔مگر اب دنیا ایک نئے موڑ پر کھڑی ہے ۔۔ جہاں ”طاقت” صرف بم نہیں،راستے ہیں۔۔۔ راستے تیل کے بھی، اور راستے ڈیٹا کے بھی۔۔۔۔۔ اور ایران ان دونوں راستوں کے کنارے کھڑا ہے ۔یہ طاقت شاید ایٹم بم جیسی فوری تباہی نہ پھیلا سکے ، مگر یہ دنیا کو اتنا ضرور ہلا سکتی ہے کہ بڑے بڑے فیصلے چند گھنٹوں میں بدل جائیں۔
یوں دیکھا جائے تو، ایران کے یہ دو ”ایٹم بم” صرف ایک دھمکی نہیں، بلکہ عالمی توازن کا ایک نازک عنصر ہیں ،ایک ایسا عنصر جو ہر لمحے دنیا کی پالیسیوں، معیشت اور ڈیجیٹل نظام پر اثر ڈال سکتا ہے ۔آخر میں بات صرف اتنی سی ہے ، تیل کی رگیں اور ڈیجیٹل تاریں آج کے ایٹم بم ہیں۔۔جنگیں اب صرف میدان میں نہیں جیتی جاتی، کچھ جنگیں سمندر کی تہہ میں بچھے تاروں اور تنگ گزرگاہوں پر بھی لڑی جاتی ہیں۔۔۔ اور کبھی کبھی۔۔۔ دنیا کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کیلئے ایک بم نہیں، ایک راستہ ہی کافی ہوتا ہے ۔۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
لیٹر بکس خاموش، عید کارڈ غائب ۔۔۔۔ ایک روایت کا زوال وجود پیر 23 مارچ 2026
لیٹر بکس خاموش، عید کارڈ غائب ۔۔۔۔ ایک روایت کا زوال

آئی ہے عید ہر سال کی طرح وجود پیر 23 مارچ 2026
آئی ہے عید ہر سال کی طرح

بھارت میں ہندو مسلم کشیدگی وجود پیر 23 مارچ 2026
بھارت میں ہندو مسلم کشیدگی

ایرانی ایٹم بم وجود پیر 23 مارچ 2026
ایرانی ایٹم بم

ہمیں اپنے درد کی بو محسوس نہیںہوتی ! وجود پیر 23 مارچ 2026
ہمیں اپنے درد کی بو محسوس نہیںہوتی !

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر