وجود

... loading ...

وجود

گراوٹ ہی گراوٹ

جمعه 27 فروری 2026 گراوٹ ہی گراوٹ

ماجرا/ محمد طاہر

پاکستان ہمہ نوعی گراوٹ کا شکار ہے۔ یہ پستی علمی اور تجزیاتی سطح پر مزید گہری ہوتی جاتی ہے۔ ہمارا نظریاتی تناظر بھی بہت تیزی سے دھندلا رہا ہے۔ فتح وشکست، کامیابی و ناکامی، حق و باطل، صحیح و غلط ، نفع و نقصان اور عروج وزوال کا کوئی حقیقی ادراک بھی کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ یہاں تک کہ خودحقیقت و مصنوعیت میں فرق سمجھنے کی اہلیت بھی معدوم ہو رہی ہے۔الغرض ہماری زبانیں ذائقوں سے محروم ہورہی ہیں۔
دوست ، دشمن کا تناظر ہی لے لیں۔ یہ ملّی اور مذہبی سطح سے پست ہو کر قومی سطح پر بھی قرار نہیں پاسکا۔ اب یہ بتدریج مخصوص مفادات کی اوچھی سطح پر ہے۔ملکی اور عالمی سطح پر چند بونے سطحی طور پر دوست دشمن کے خانے بنا رہے ہیں۔ جس کے لیے بیکار خیالات پر انحصار ہے۔ یہ بیکار خیالات بھی پست سطح کے بیانات پر موقوف ہیں۔ امریکی صدر کی تعریفیں اس کی ایک گھٹیا مثال ہے۔ کبھی ہم دوست دشمن کی سماجی اور سیاسی سطح پر تعبیر میں ملّی اور مذہبی نقطہ نظر کو اہمیت دیتے تھے۔ ہماری قومی تعبیرات بھی اسی سے مملو تھیں۔ زیادہ وقت نہیں گزرا کہ ہم خلیفہ ٔ چہارم حضرت علی کے ایک مشہور قول کا حوالہ بھی رکھتے تھے۔ دوست کا دوست بھی دوست ہوتا ہے اور دوست کا دشمن ، دشمن ہوتا ہے۔ یہ حوالہ بھی ہمارے تضادات کے کھیل میں کہیں متعلق نہیں رہا۔ دوست کا دوست دشمن ہو سکتا ہے اور دشمن کا دوست ، دوست بھی ہو سکتا ہے۔ یہاں تک کہ دوست بھی دشمن ہو سکتا ہے اور دشمن بھی دوست ہو سکتا ہے۔
امریکا ہمارا دشمن ہے یا دوست؟ قومی ریاست کے ‘رکھوالوں’ کی عملی زندگی ایک اور جواب دیتی ہے، جبکہ عوامی شعور کا جواب مختلف ہے۔ ہماری تاریخ متوازی طور پر امریکا دوستی اور دشمنی کی دو سطحیں رکھتی ہیں۔ عملی طور پر پاکستان کی آزادی کا پورا تصور صرف امریکا سے تعلق میں ایک مضحک سطح پر آپہنچا ہے۔ عالمی سیاست کی اہم ترین کتابیںہمیںامریکا کی ایک سیٹلائٹ ریاست کے طور پر پیش کرتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ امریکا ہمارے لیے کیا ہے؟ ہمارے پاس اس کا کوئی حقیقی جواب نہیں۔ یہاں تک کہ ہمارے پاس تو اس کا بھی کوئی ٹھوس جواب نہیں کہ ہم کیا ہیں؟ ان دنوں ہمارا پورا انحصار امریکی صدر کی تعریفوں پر ہیں۔ ہمارے پاس تعریفوں کا بھی، کبھی ایک تصور ہوتا تھا۔ ہمارے مذہبی پس منظر میں دوست یا ساتھی کی مبالغہ آمیز تعریف بھی ایک ہلاکت خیز عمل تصور کی جاتی تھی۔ سرکار دوعالمۖ کی احادیث سے اکتساب ِفیض ہوتا تھا۔صحیح بخاری میں حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی روایت موجود ہے کہ
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دوسرے شخص کی خوب بڑھا چڑھاکر تعریف کرتے ہوئے سنا تو
فرمایا :” تم نے اس شخص کو ہلاک کردیا” یا فرمایا کہ ” تم نے اس کی کمر توڑ دی”۔
رحمت عالم ۖ نے ایک اور موقع پرایک شخص کو دوسرے کی مبالغہ آمیز تعریف پر بہ تکرار فرمایا: ”تمہارا بُرا ہو تم نے اپنے ساتھی کی گردن ماری دی”۔
یہ دوست کی دوست کے لیے مبالغہ آمیز تعریف پر رہنمائی ہے، مگر امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے باب میں تو معاملہ اور بھی نازک ہے یہاں دشمن اپنی ناقابل اعتبار سطح سے مخاطب ہے، جن کے تمام تصورات ِحیات غیر جذباتی اور مفادات سے پھوٹتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی زندگی سامنے ہے۔ وہ ایک مسلم مخالف ذہنیت رکھتے ہیں۔ وہ دسمبر 2015 میںامریکہ کے صدارتی امیدوار کی دوڑ میں شریک تھے، جب اُنہوں نے کہا تھا کہ امریکہ میں مسلمانوں کا داخلہ بند کیا جائے۔ وہ اب 2026ء میں ایسا کرنے کا ارادہ بھی رکھتے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف بھی پنجہ آزمائی پر تُلے ہیں۔ ایک جنگ جو ہماری دہلیز پر دستک دے رہی ہے، دراصل اسرائیل کی ایماء پر امریکا کی جنگ ہے جسے تیسری عالمی جنگ کا پیش خیمہ قرار دیا جارہا ہے۔ فلسطینی مسلمانوں کے قاتل اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہوامریکی صدر کا تعارف سچے یہودی کے طور پر کراتے ہیں۔ ٹرمپ، بورڈ آف پیس کے ذریعے اسرائیل کو مسلم دنیا سے بالواسطہ تسلیم کر ا رہے ہیں اور انتہائی مکاری سے فلسطینی مسلمانوں کی امیدوں کے مراکز مسلم ممالک کواپنے بورڈکے ذریعے اُن کے مقابل لے آئے ہیں۔امریکی صدر پاکستان کے کچھ رہنماؤں کی تعریفیں تو کیے دیتے ہیں مگر اسے پالیسی کی سطح پر پاکستان کے لیے کہیں مفید نہیں بناتے، بلکہ ان تعریفوں کو نہایت چالاکی سے بھارت پر دباؤ ڈال کر اپنے لیے منافع بخش بنا چکے ہیں۔ پاکستان کے بونے رہنماؤں کی طرف سے ان تعریفوں کا اندرون ملک ایک سیاسی استعمال ہی باقی رہ جاتا ہے اور بس!اس دوران میں امریکا نے بھارت کے ساتھ ایک تجارتی معاہدہ کر لیا ہے، دوسری طرف بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اسرائیل سے تزویراتی سطح کی شراکت داری کو مزید توسیع دے رہے ہیں، وہ اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) سے خطاب کر تے ہوئے فلسطینی مسلمانوں کی نسل کشی کے ہنگام ہولو کاسٹ کو مبالغہ آمیز طور پریاد کر رہے ہیں۔مسلمانوں کا قاتل اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو اپنے خطاب میں مودی کو اپنا دوست نہیں بھائی قرار دے رہے ہیں۔غور کریں تو ٹرمپ ، نیتن یاہو اور مودی کی مثلث مشرق وسطیٰ سمیت عالمی سطح پر ایک جیسا ورلڈ ویو رکھتی ہے جو مسلمانوں کاخون بہانے کی نفسیات کے ساتھ پیچیدہ مسلم دشمنی پر مبنی ہے۔
حیرت انگیز طور پر بھارت سے تاریخی قربت رکھنے والے روس میں گہرائی سے جائزہ لیا جارہا ہے کہ بھارت خود کو عالمی سطح پر امریکا کے ساتھ کیسے صف بند کر رہا ہے؟ اس ضمن میں فیوڈور لوکیانوف(Fyodor Lukyanov) نے ایک مضمون میں اس پر تفصیلی بحث کی ہے۔ مضمون نگار روسی صدر پیوٹن سے قربت رکھتے ہیں اور ہر سال ولاڈائی کلب میں پیوٹن کے سوال وجواب کے سیشن کی نظامت کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان اس صف بندی پر جو، نیتن یاہو کی شمولیت سے مزید مہلک ہوتی ہے، مکمل لاتعلق ہے۔ پاکستان یہاں بھی خوش ہے کہ ٹرمپ نے بھارت کے گرائے گئے جہازوں کی گنتی جاری رکھی ہوئی ہے۔ بھارتی وزیراعظم مودی اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے کنیسٹ سے خطابات میں موجود ایک زہریلا نامیاتی تعلق سمجھنے کے بعد پھر یاد کر لیں کہ پاکستان اُس بورڈ آف پیس کا حصہ ہے جس سے برطانیہ ، فرانس ، جرمنی اٹلی اور دیگر یورپی ممالک بھی اپنا دامن چھڑا چکے ہیں۔
افسوس ناک طور پر پاکستان میں مقامی سیاسی دشمنیوں میں اس گہرے اکٹھ کے خطرات کو نظر انداز کیا جارہا ہے ، کیونکہ ہمارے لیے ٹرمپ کی تعریفیں ہی کافی سے زیادہ ہیں۔ عالمی تنازعات کی فہرست میں کسی بھی مسئلے کو اُٹھالیں ہمارے قومی تصورات امریکا، بھارت اور اسرائیل سے قطعی مختلف ہیں، دوسری طرف یہ تینوں ممالک نظری سطح پر ہم آہنگ دکھائی دیتے ہیں۔ مگر پاکستانی رہنما ٹرمپ کے ساتھ کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ تضادفریقین میں کسی گہرے نفاق کے بغیر ممکن نہیں۔ اور یہی نکتہ ٹرمپ کی تعریفوں کی حقیقت کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔ ایسے پست کردار ، متعصب اور مسلم دشمن کی زبان سے تعریف کا ہونا صرف ہلاکت خیز عمل نہیں بلکہ اُن کے ممدوحین کو بھی مشکوک بناتا ہے۔ حضرت علی کا ایک قول منظوم کرتے ہوئے کبھی تابش دہلوی گنگنائے تھے:
وہ تو ہے تیری جان کا دشمن
جو ترا مرتبہ گھٹاتا ہے
پر اس کو بھی جان اپنا عدو
جو ترا مرتبہ بڑھاتا ہے
اس نکتے کا ادراک شرف کے ساتھ ایک تناظر کا تقاضا کرتا ہے، مگر پاکستانی حکمرانوں میں کسی بھی سطح پر یہ دکھائی نہیں دیتا۔ گراوٹ ہی گراوٹ ہے!
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
گراوٹ ہی گراوٹ وجود جمعه 27 فروری 2026
گراوٹ ہی گراوٹ

بھارت ، منشیات کا عالمی سپلائر وجود جمعه 27 فروری 2026
بھارت ، منشیات کا عالمی سپلائر

تشکیلِ کردار کے اصول اور عصرِ حاضر کے سماجی چیلنجز وجود جمعه 27 فروری 2026
تشکیلِ کردار کے اصول اور عصرِ حاضر کے سماجی چیلنجز

بھارت کے بھوکے مہمان وجود جمعرات 26 فروری 2026
بھارت کے بھوکے مہمان

سانحہ کنن پوش پورہ ، 35 برس بیت گئے! وجود جمعرات 26 فروری 2026
سانحہ کنن پوش پورہ ، 35 برس بیت گئے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر