... loading ...
ماجرا/ محمد طاہر
پاکستان ہمہ نوعی گراوٹ کا شکار ہے۔ یہ پستی علمی اور تجزیاتی سطح پر مزید گہری ہوتی جاتی ہے۔ ہمارا نظریاتی تناظر بھی بہت تیزی سے دھندلا رہا ہے۔ فتح وشکست، کامیابی و ناکامی، حق و باطل، صحیح و غلط ، نفع و نقصان اور عروج وزوال کا کوئی حقیقی ادراک بھی کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ یہاں تک کہ خودحقیقت و مصنوعیت میں فرق سمجھنے کی اہلیت بھی معدوم ہو رہی ہے۔الغرض ہماری زبانیں ذائقوں سے محروم ہورہی ہیں۔
دوست ، دشمن کا تناظر ہی لے لیں۔ یہ ملّی اور مذہبی سطح سے پست ہو کر قومی سطح پر بھی قرار نہیں پاسکا۔ اب یہ بتدریج مخصوص مفادات کی اوچھی سطح پر ہے۔ملکی اور عالمی سطح پر چند بونے سطحی طور پر دوست دشمن کے خانے بنا رہے ہیں۔ جس کے لیے بیکار خیالات پر انحصار ہے۔ یہ بیکار خیالات بھی پست سطح کے بیانات پر موقوف ہیں۔ امریکی صدر کی تعریفیں اس کی ایک گھٹیا مثال ہے۔ کبھی ہم دوست دشمن کی سماجی اور سیاسی سطح پر تعبیر میں ملّی اور مذہبی نقطہ نظر کو اہمیت دیتے تھے۔ ہماری قومی تعبیرات بھی اسی سے مملو تھیں۔ زیادہ وقت نہیں گزرا کہ ہم خلیفہ ٔ چہارم حضرت علی کے ایک مشہور قول کا حوالہ بھی رکھتے تھے۔ دوست کا دوست بھی دوست ہوتا ہے اور دوست کا دشمن ، دشمن ہوتا ہے۔ یہ حوالہ بھی ہمارے تضادات کے کھیل میں کہیں متعلق نہیں رہا۔ دوست کا دوست دشمن ہو سکتا ہے اور دشمن کا دوست ، دوست بھی ہو سکتا ہے۔ یہاں تک کہ دوست بھی دشمن ہو سکتا ہے اور دشمن بھی دوست ہو سکتا ہے۔
امریکا ہمارا دشمن ہے یا دوست؟ قومی ریاست کے ‘رکھوالوں’ کی عملی زندگی ایک اور جواب دیتی ہے، جبکہ عوامی شعور کا جواب مختلف ہے۔ ہماری تاریخ متوازی طور پر امریکا دوستی اور دشمنی کی دو سطحیں رکھتی ہیں۔ عملی طور پر پاکستان کی آزادی کا پورا تصور صرف امریکا سے تعلق میں ایک مضحک سطح پر آپہنچا ہے۔ عالمی سیاست کی اہم ترین کتابیںہمیںامریکا کی ایک سیٹلائٹ ریاست کے طور پر پیش کرتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ امریکا ہمارے لیے کیا ہے؟ ہمارے پاس اس کا کوئی حقیقی جواب نہیں۔ یہاں تک کہ ہمارے پاس تو اس کا بھی کوئی ٹھوس جواب نہیں کہ ہم کیا ہیں؟ ان دنوں ہمارا پورا انحصار امریکی صدر کی تعریفوں پر ہیں۔ ہمارے پاس تعریفوں کا بھی، کبھی ایک تصور ہوتا تھا۔ ہمارے مذہبی پس منظر میں دوست یا ساتھی کی مبالغہ آمیز تعریف بھی ایک ہلاکت خیز عمل تصور کی جاتی تھی۔ سرکار دوعالمۖ کی احادیث سے اکتساب ِفیض ہوتا تھا۔صحیح بخاری میں حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی روایت موجود ہے کہ
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دوسرے شخص کی خوب بڑھا چڑھاکر تعریف کرتے ہوئے سنا تو
فرمایا :” تم نے اس شخص کو ہلاک کردیا” یا فرمایا کہ ” تم نے اس کی کمر توڑ دی”۔
رحمت عالم ۖ نے ایک اور موقع پرایک شخص کو دوسرے کی مبالغہ آمیز تعریف پر بہ تکرار فرمایا: ”تمہارا بُرا ہو تم نے اپنے ساتھی کی گردن ماری دی”۔
یہ دوست کی دوست کے لیے مبالغہ آمیز تعریف پر رہنمائی ہے، مگر امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے باب میں تو معاملہ اور بھی نازک ہے یہاں دشمن اپنی ناقابل اعتبار سطح سے مخاطب ہے، جن کے تمام تصورات ِحیات غیر جذباتی اور مفادات سے پھوٹتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی زندگی سامنے ہے۔ وہ ایک مسلم مخالف ذہنیت رکھتے ہیں۔ وہ دسمبر 2015 میںامریکہ کے صدارتی امیدوار کی دوڑ میں شریک تھے، جب اُنہوں نے کہا تھا کہ امریکہ میں مسلمانوں کا داخلہ بند کیا جائے۔ وہ اب 2026ء میں ایسا کرنے کا ارادہ بھی رکھتے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف بھی پنجہ آزمائی پر تُلے ہیں۔ ایک جنگ جو ہماری دہلیز پر دستک دے رہی ہے، دراصل اسرائیل کی ایماء پر امریکا کی جنگ ہے جسے تیسری عالمی جنگ کا پیش خیمہ قرار دیا جارہا ہے۔ فلسطینی مسلمانوں کے قاتل اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہوامریکی صدر کا تعارف سچے یہودی کے طور پر کراتے ہیں۔ ٹرمپ، بورڈ آف پیس کے ذریعے اسرائیل کو مسلم دنیا سے بالواسطہ تسلیم کر ا رہے ہیں اور انتہائی مکاری سے فلسطینی مسلمانوں کی امیدوں کے مراکز مسلم ممالک کواپنے بورڈکے ذریعے اُن کے مقابل لے آئے ہیں۔امریکی صدر پاکستان کے کچھ رہنماؤں کی تعریفیں تو کیے دیتے ہیں مگر اسے پالیسی کی سطح پر پاکستان کے لیے کہیں مفید نہیں بناتے، بلکہ ان تعریفوں کو نہایت چالاکی سے بھارت پر دباؤ ڈال کر اپنے لیے منافع بخش بنا چکے ہیں۔ پاکستان کے بونے رہنماؤں کی طرف سے ان تعریفوں کا اندرون ملک ایک سیاسی استعمال ہی باقی رہ جاتا ہے اور بس!اس دوران میں امریکا نے بھارت کے ساتھ ایک تجارتی معاہدہ کر لیا ہے، دوسری طرف بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اسرائیل سے تزویراتی سطح کی شراکت داری کو مزید توسیع دے رہے ہیں، وہ اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) سے خطاب کر تے ہوئے فلسطینی مسلمانوں کی نسل کشی کے ہنگام ہولو کاسٹ کو مبالغہ آمیز طور پریاد کر رہے ہیں۔مسلمانوں کا قاتل اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو اپنے خطاب میں مودی کو اپنا دوست نہیں بھائی قرار دے رہے ہیں۔غور کریں تو ٹرمپ ، نیتن یاہو اور مودی کی مثلث مشرق وسطیٰ سمیت عالمی سطح پر ایک جیسا ورلڈ ویو رکھتی ہے جو مسلمانوں کاخون بہانے کی نفسیات کے ساتھ پیچیدہ مسلم دشمنی پر مبنی ہے۔
حیرت انگیز طور پر بھارت سے تاریخی قربت رکھنے والے روس میں گہرائی سے جائزہ لیا جارہا ہے کہ بھارت خود کو عالمی سطح پر امریکا کے ساتھ کیسے صف بند کر رہا ہے؟ اس ضمن میں فیوڈور لوکیانوف(Fyodor Lukyanov) نے ایک مضمون میں اس پر تفصیلی بحث کی ہے۔ مضمون نگار روسی صدر پیوٹن سے قربت رکھتے ہیں اور ہر سال ولاڈائی کلب میں پیوٹن کے سوال وجواب کے سیشن کی نظامت کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان اس صف بندی پر جو، نیتن یاہو کی شمولیت سے مزید مہلک ہوتی ہے، مکمل لاتعلق ہے۔ پاکستان یہاں بھی خوش ہے کہ ٹرمپ نے بھارت کے گرائے گئے جہازوں کی گنتی جاری رکھی ہوئی ہے۔ بھارتی وزیراعظم مودی اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے کنیسٹ سے خطابات میں موجود ایک زہریلا نامیاتی تعلق سمجھنے کے بعد پھر یاد کر لیں کہ پاکستان اُس بورڈ آف پیس کا حصہ ہے جس سے برطانیہ ، فرانس ، جرمنی اٹلی اور دیگر یورپی ممالک بھی اپنا دامن چھڑا چکے ہیں۔
افسوس ناک طور پر پاکستان میں مقامی سیاسی دشمنیوں میں اس گہرے اکٹھ کے خطرات کو نظر انداز کیا جارہا ہے ، کیونکہ ہمارے لیے ٹرمپ کی تعریفیں ہی کافی سے زیادہ ہیں۔ عالمی تنازعات کی فہرست میں کسی بھی مسئلے کو اُٹھالیں ہمارے قومی تصورات امریکا، بھارت اور اسرائیل سے قطعی مختلف ہیں، دوسری طرف یہ تینوں ممالک نظری سطح پر ہم آہنگ دکھائی دیتے ہیں۔ مگر پاکستانی رہنما ٹرمپ کے ساتھ کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ تضادفریقین میں کسی گہرے نفاق کے بغیر ممکن نہیں۔ اور یہی نکتہ ٹرمپ کی تعریفوں کی حقیقت کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔ ایسے پست کردار ، متعصب اور مسلم دشمن کی زبان سے تعریف کا ہونا صرف ہلاکت خیز عمل نہیں بلکہ اُن کے ممدوحین کو بھی مشکوک بناتا ہے۔ حضرت علی کا ایک قول منظوم کرتے ہوئے کبھی تابش دہلوی گنگنائے تھے:
وہ تو ہے تیری جان کا دشمن
جو ترا مرتبہ گھٹاتا ہے
پر اس کو بھی جان اپنا عدو
جو ترا مرتبہ بڑھاتا ہے
اس نکتے کا ادراک شرف کے ساتھ ایک تناظر کا تقاضا کرتا ہے، مگر پاکستانی حکمرانوں میں کسی بھی سطح پر یہ دکھائی نہیں دیتا۔ گراوٹ ہی گراوٹ ہے!
٭٭٭