وجود

... loading ...

وجود

بی ایل اے کی دہشت گردانہ کارروائیاں

پیر 02 فروری 2026 بی ایل اے کی دہشت گردانہ کارروائیاں

ریاض احمدچودھری

امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے کہا امریکا بلوچستان میں سکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیوں اورحملوں کی شدید مذمت کرتا ہے،جن کی ذمہ داری بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی ہے، جو امریکہ کی جانب سے نامزد کردہ ایک غیرملکی دہشت گرد تنظیم ہے۔پاکستانی عوام حق رکھتے ہیں کہ وہ تشدد اور خوف سے آزاد زندگی گزاریں۔اس سے قبل بھی کالعدم بی ایل اے نے تربت میں ایک مسافر بس پر حملہ کیا جس میں کئی معصوم شہری جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔ اس حملے سے یہ ثابت ہوتا ہے دہشتگرد تنظیم بی ایل اے اپنے مذموم مقاصد کیلئے معصوم شہریوں کو نشانہ بناتی ہے، ایک جانب بی ایل اے خود کو بلوچ عوام کے حقوق کا علمبردار قرار دیتی ہے دوسری جانب ان معصوم بلوچوں کی جان کی بھی دشمن ہے۔ یہ حملہ بی ایل اے کی منافقت کا کھلا ثبوت ہے اور ثابت کرتا ہے کہ ان کی تربیت ہی معصوم لوگوں کی جان لینا ہے، بی ایل اے کی بلوچ عوام کیخلاف نفرت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس نے ایک سال میں 100 سے زائد معصوم بلوچ شہریوں کو شہید کیا۔
گزشتہ سال 9 نومبر کو بھی ایک خود کش حملے میں بی ایل اے نے 10 سے زائد معصوم بلوچ شہریوں کی جان لی، بی ایل اے عوام دشمنی کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے ہی لوگوں کے خلاف بیرونی قوتوں کے ایجنڈے پر عمل کرتے ہوئے ان کی زندگیوں سے کھیل رہی ہے۔ بی ایل اے بیرونی طاقتوں، خصوصاً بھارتی خفیہ ایجنسی را، اسرائیلی ایجنسی موساد اور مغربی قوتوں کا آلہ کار ہے، مکتی باہنی جیسی دہشتگرد حکمت عملی اپنانا بی ایل اے کی سازش کا حصہ ہے۔برطانیہ نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گرد حملوں کی شدید مذمت کی ہے، برطانوی ہائی کمیشن کاکہنا ہے جاں بحق افراد کے اہل خانہ اور تمام متاثرہ افراد کے ساتھ دلی ہمدردی ہے۔برطانیہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے، برطانیہ کی جانب سے پاکستان کے ساتھ امن وسلامتی کے مشترکہ عزم کا اعادہ بھی کیا گیا۔سعودی عرب نے بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات کی بھرپور مذمت کی ہے۔ سعودی وزارت خارجہ کا کہنا ہے بلوچستان میں دہشت گردوں کی پْرتشدد کارروائیوں پر تشویش ہے۔امریکی محکمہ خارجہ نے 11 اگست کو بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور اس کے عرف/اہم خودکش دہشت گردا سکواڈ، مجید بریگیڈ، کو خارجی دہشت گرد تنظیم (ایف ٹی او) کے طور پر نامزد کیا۔ یہ اقدام امریکہ اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں بہتری— جس کا نقطہ عروج جون میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ایک نجی ملاقات کی صورت ہوا، اور کرپٹو کرنسی سے لے کر تجارت، اہم معدنیات و توانائی اور بلوچستان میں سیکیورٹی کی بد ترہوتی صورتحال، جو کہ پاکستان کا معدنیات سے مالا مال مگرسب سے زیادہ محروم صوبہ ہے، سمیت ہر امر پر مشتمل معاملت داری، دونوں کے نتیجے میں اْٹھایا گیا۔
درحقیقت بلوچستان کی صوبائی وزارتِ داخلہ (ہوم ڈیپارٹمنٹ) کی وسطِ سال کی رپورٹ کے مطابق پچھلے سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں صوبے بھر میں تشدد سال 2025 کے پہلے نصف میں 45 فیصد بڑھ گیا ہے، جس میں شورشی حملے، قتل بہدف (ٹارگٹڈ کلنگز) اور بم دھماکوں کے واقعات شامل ہیں۔ حالیہ برسوں میں بی ایل اے نے پاکستان میں سب سے زیادہ دیدہ دلیری سے حملے کیے ہیں، جن میں مارچ 2025 میں جعفر ایکسپریس ٹرین کی بے مثال ہائی جیکنگ بھی شامل ہے، جس میں 30 سے زائد شہری اور سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔واشنگٹن کی جانب سے بی ایل اے کی بطورایف ٹی او نامزدگی پاکستان کے دیرینہ سیاسی مطالبات میں سے ایک کو پورا کرتی ہے اور اس طرح یہ پاکستان کے لیے ایک اہم سفارتی وسیاسی کامیابی ہے جو ممکنہ طور پر امریکہ کے ساتھ تعاون برائے انسدادِ دہشت گردی کو بھی مضبوط کر سکتی ہے۔ تاہم ایف ٹی او کی نامزدگیوں کی تاریخ اور بلوچ علیحدگی پسند تحریک کے مخصوص عوامل یہ ظاہر کرتے ہیں کہ (محض) یہ نامزدگی بی ایل اے کو نمایاں طور پر کمزور کرنے یا اسے ختم کرنے کے لیے کافی نہیں جب تک کہ انتظام و انصرام میں دیگر تبدیلیاں (بھی) نہ لائی جائیں۔
پاکستان کے لیے بی ایل اے اور مجیدبریگیڈ کو دہشت گرد تنظیم قرار دینا اس بات کا اعتراف ہے کہ پاکستان خود ”دہشت گردی کے خلاف ایک مضبوط فصیل” کے طور پر کام کر رہا ہے اور پاکستان کے اس دعوے کی توثیق کرتا ہے کہ بی ایل اے ایک دہشت گرد تنظیم ہے جو بلوچ عوام کے حقوق اور آزادی کے لیے لڑنے کے بجائے خوف و ہراس اور انتشارپھیلاتی ہے۔ریاست کا طویل عرصے سے یہ موقف ہے کہ بی ایل اے پروپیگنڈا اور نوجوانان کی انتہاپسندی اور بیرونی طاقتوں کی مبینہ حمایت پر فروغ پاتی ہے۔ بلوچستان میں جارحیت پسندانہ تشدد میں مسلسل اضافے کے پیشِ نظر پاکستان اس گروپ کی مقامی جڑیں رکھنے کے دعوے کو کمزور کرنے اور اس کے خلاف حرکی کارروائیاں کرنے کے لیے حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ نامزدگی ممکنہ طور پر امریکہـپاکستان تعاون برائے انسدادِ دہشت گردی کو تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) جیسے مذہبی بنیاد پرست دہشت گرد انتہاپسند گروپوں کا مقابلہ کرنے کے دائرہ کار سے آگے بڑھنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
ٹرمپ امن بورڈ :روس اور چین کا لائحہ عمل وجود پیر 02 فروری 2026
ٹرمپ امن بورڈ :روس اور چین کا لائحہ عمل

بی ایل اے کی دہشت گردانہ کارروائیاں وجود پیر 02 فروری 2026
بی ایل اے کی دہشت گردانہ کارروائیاں

ٹرمپ،نیتن،مودی،شہباز وجود پیر 02 فروری 2026
ٹرمپ،نیتن،مودی،شہباز

لکیر کے فقیر نہیں درست ڈگر وجود اتوار 01 فروری 2026
لکیر کے فقیر نہیں درست ڈگر

انقلاب کی پہلی شرط وجود اتوار 01 فروری 2026
انقلاب کی پہلی شرط

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر