وجود

... loading ...

وجود

بنگلہ دیش کی انتخابی سیاست

پیر 19 جنوری 2026 بنگلہ دیش کی انتخابی سیاست

ریاض احمدچودھری

بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے جولائی 2024 میں شروع ہونے والی تحریک کی قیادت وہی رہنما کر رہے تھے جنھوں نے گذشتہ سال فروری میں نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) قائم کی۔ این سی پی نے ملک میں متبادل سیاست کی بات کی لیکن ناقدین انھیں جماعتِ اسلامی کی ‘بی ٹیم’ قرار دیتے ہیں۔این سی پی کے رہنما انڈیا کی حکومتی پالیسیوں پر کْھل کر تنقید کرتے ہیں اور گذشتہ چند ماہ کے دوران اس جماعت نے اپنے انڈیا مخالف بیانیے کی وجہ سے بھی شہرت حاصل کی۔ اب جب بنگلہ دیش میں عام انتخابات میں محض دو ماہ باقی ہیں، تو این سی پی نے اعلان کیا ہے کہ وہ جماعتِ اسلامی کے ساتھ مل کر انتخابی میدان میں اْترے گیں۔یاد رہے کہ 1971 میں جماعتِ اسلامی نے بنگلہ دیش کی آزادی کے خلاف اور پاکستان کے حق میں مؤقف اپنایا تھا اور اب یہ جماعت، این سی پی اسی کے ساتھ انتخابی اتحاد کر رہی ہے۔دسمبر میں این سی پی کے چیف آرگنائزر حسنَات عبداللہ نے خبردار کیا تھا کہ اگر بنگلہ دیش کو غیر مستحکم کیا گیا تو انڈیا کی شمال مشرقی ریاستوں، جنھیں ‘سیون سسٹرز’ (سات بہنیں) کہا جاتا ہے’ کو توڑ دیا جائے گا۔ان ریاستوں میں اروناچل پردیش، آسام، منی پور، میگھالیہ، میزورم، ناگالینڈ اور تریپورہ شامل ہیں۔
حسنات عبداللہ نے اپنے اس متنازع بیان کے دو روز بعد ڈھاکہ میں انڈیا کے ہائی کمشنر کو بھی ملک سے نکالنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اْن کا کہنا تھا کہ ‘انڈیا کے ہائی کمشنر کو ملک بدر کر دینا چاہیے تھا کیونکہ اْن کا ملک شیخ حسینہ کو پناہ دے رہا ہے۔’بنگلہ دیش کی نو تشکیل شدہ نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) نے آئندہ عام انتخابات کے لیے جماعت اسلامی کی قیادت والے اتحاد میں شمولیت کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ اس اتحاد کا اعلان جماعت اسلامی کے امیر شفیق الرحمان نے کیا، جیسا کہ بنگلہ دیشی میڈیا رپورٹس نے تصدیق کی ہے۔این سی پی کی تشکیل اس سال ہوئی تھی اور اس کی تشکیل طلبہ رہنماؤں نے کی تھی جنہوں نے گزشتہ سال شیخ حسینہ حکومت کے خلاف تحریک کی قیادت کی تھی۔ این سی پی کی مرکزی کمیٹی کے 170 سے زائد رہنماؤں نے جماعت اسلامی کے ساتھ اتحاد کے فیصلے کی حمایت کی ہے۔
جماعت اسلامی اور این سی پی کے اتحاد پر انڈیا میں بھی بحث جاری ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اگر فروری 2026 کے انتخابات میں اس اتحاد کو کامیابی ملتی ہے تو اس کے اثرات انڈیا پر مرتب ہوں گے۔انڈیا کے اسٹریٹجک اْمور کے ماہر برہما چیلانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ ‘بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ حکومت کو پْرتشدد طریقے سے اقتدار سے ہٹانے کے دوران اسلامی قوتوں، خاص طور پر جماعتِ اسلامی کے طلبا ونگ نے سڑکوں پر ہونے والے مظاہروں کو بڑی حد تک توانائی فراہم کی۔ اب انھی طلبا مظاہروں کی قیادت کرنے والے رہنماؤں پر مشتمل نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) نے باضابطہ طور پر جماعتِ اسلامی کے ساتھ اتحاد کر لیا۔’ ‘دوسرے بڑے اتحاد کی قیادت کرنے والی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے بھی اسلامی قوتوں کے ساتھ اتحاد کیا۔ بی این پی کا اتحاد جمعیت علمائے اسلام کے ساتھ ہوا۔’ملک کی سب سے بڑی اور سیکولر سمجھی جانے والی عوامی لیگ پر پابندی کے بعد، فروری کا انتخاب اب دو ایسے اتحادوں کے درمیان مقابلہ بن گیا جو اسلامی قوتوں کی طرف جھکاؤ رکھتے ہیں۔ یہ بنگلہ دیش کی بنیاد کے اصولوں سے ایک اہم اور علامتی انحراف کو ظاہر کرتا ہے۔’
بنگلہ دیش کی سیاست کے تجزیہ کار ڈاکٹر مبشر حسن کا کہنا ہے کہ این سی پی کا مستقبل اس بات پر منحصر ہو گا کہ انڈیا مخالف سیاست کس حد تک آگے جاتی ہے تاہم ان کا ماننا ہے کہ انتخابی اتحاد فریقین کے لیے فائدہ مند ثابت ہو گا۔ ‘بنگلہ دیش میں انڈیا مخالف ماحول کا مضبوط ہونا این سی پی اور جماعت اسلامی کی یکجہتی کی بڑی وجہ ہے۔’ این سی پی نے جن قوتوں کے ساتھ سمجھوتہ کیا، جن میں جماعت اسلامی بھی شامل ہے، ان کا مقصد انڈیا مخالف جذبات کو ہوا دے کر عوامی تحریک کھڑی کرنا اور انتخابی فائدہ حاصل کرنا ہے۔ڈھاکہ یونیورسٹی کے پروفیسر شمیم رضا کا ماننا ہے کہ این سی پی کو اتحاد میں شامل کرنے سے جماعت اسلامی کو کچھ حد تک فائدہ ہوا کیونکہ این سی پی کی شبیہ جماعت کے حلقے سے باہر کے ووٹوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں مدد دے گی۔ ‘ایک بار پھر جماعت اسلامی کے پاس یہ موقع ہے کہ وہ ان مسائل پر این سی پی کو قریب لائے جن پر این سی پی رہنماؤں کی عوامی اور سوشل میڈیا پر موجودگی کے باعث تنقید ہوتی ہے تاہم جماعت کے ساتھ اتحاد کی وجہ سے این سی پی کو کچھ سوالات کا سامنا ضرور کرنا پڑے گا۔’
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
بنگلہ دیش کی انتخابی سیاست وجود پیر 19 جنوری 2026
بنگلہ دیش کی انتخابی سیاست

تھیوکریسی وجود پیر 19 جنوری 2026
تھیوکریسی

معاشرتی امن و ترقی میں اخلاقی اقدار کا کردار وجود پیر 19 جنوری 2026
معاشرتی امن و ترقی میں اخلاقی اقدار کا کردار

شر سے خیر کاجنم وجود اتوار 18 جنوری 2026
شر سے خیر کاجنم

تیسری عالمی جنگ شروع وجود اتوار 18 جنوری 2026
تیسری عالمی جنگ شروع

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر