... loading ...
خلفائے راشدین کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا رہا ہے تو کیا یہ ان سے بھی بڑے ہیں؟ صدارت کے منصب کے بعد ایسا کیوں؟مسلح افواج کے سربراہان ترمیم کے تحت ملنے والی مراعات سے خود سے انکار کردیں
یہ سب کچھ پارلیمنٹ اور جمہورہت کے منافی ہوا، جو قوتیں اس ترمیم کو لانے پر مُصر تھیں ان کی عزت میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، عوام میں حکومت کی مقبولیت بڑی تیزی سے گری،سربراہ جے یو آئی کی میڈیا کو بریفنگ
جمعیت علماء اسلام( ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر تے ہوئے واضح کیا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم سے نہ دستور میں بہتری آئے گی نہ یہ عوامی مفاد کا تقاضا پورا کرے گی، حکومت مکمل طور پر عدلیہ کو اپنے پنجے میں رکھنا چاہتی ہے ،ترمیم لانے والی قوتوں کی عزت نہیں بڑھی،اصولی طور پر جے یو آئی آئینی عدالت کے حق میں تھی،جب آئین بن رہا تھا، اس وقت بھی پارٹیوں کا موقف مختلف تھا،مساوات کے نعرے لگانا اور اس کے برعکس قانون پاس کرنا جمہوری معاشرے کے شایان شان نہیں، اسلامی جمہوریہ پاکستان میں قرآن و سنت کو آئین سازی کا اساس قراردیا گیا ہے ،خلفائے راشدین کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا رہا ہے تو کیا یہ ان سے بھی بڑے ہیں؟،قانون کی نظر میں سب برابر ہیں،یہ قائداعظم کے اصولوں کی بھی نفی ہے ،قرارداد مقاصد کے مطابق ملک میں قرآن کے منافی کوئی قانون نہیں بنایا جائے گا۔منگل کو پارٹی کی مجلس شوریٰ کے اجلاس کے موقع پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمن نے بتایا کہ اجلاس میں ستائیسویں آئینی ترمیم اور بعض ایسے قوانین جو پارلیمنٹ سے پاس کیے گئے ، پر غور کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جے یو آئی نے ستائیسویں آئنی ترمیم کو کلیتاً مسترد کردیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں ہمارے اراکین نے اس ترمیم کی مخالفت کی، مجلس شوریٰ نے اپنی جماعت کے پارلیمنٹرینز کے اس فیصلے کی توثیق کردی۔ مولانا فضل الرحمن نے بتایا کہ 26 ویں ترمیم کے حوالے سے ہم پی ٹی آئی کو ہر پیشرفت سے آگاہ کرتے رہے ،پی ٹی آئی کی تجاویز پر ہم حکومت کو مجبور بھی کرتے رہے ، وہ ترمیم باہمی مشاورت کے عمل سے گزری تھی۔ کہا جاسکتا ہے کہ وہ ترمیم پارلیمنٹ میں قدرے متفقہ طور پر منظور ہوئی۔انہوں نے کہا کہ 27 ویں ترمیم کے دوران ان کا فرض تھا کہ وہ اپوزیشن سے مشاورت کرتے ،کم ازکم جے یو آئی سے مشاورت کرتے ،انہوں نے ایک فریق کو نظر اندازکیا، یہ دوتہائی اکثریت جبری اور جعلی تھی،یہ سب کچھ پارلیمنٹ اور جمہورہت کے منافی ہوا۔ جو قوتیں اس ترمیم کو لانے پر مصر تھیں ان کی عزت میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ عوام میں حکومت کی مقبولیت بڑی تیزی سے گری۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ 26ویں ترمیم میں حکومت جن چیزوں سے دستبردار ہوئی، آج پارلیمنٹرینز کا ہاتھ مروڑ کر انہیں پاس کیا۔ ترمیم لاکر ایسی پیچیدگیاں پیدا کی گئیں کہ خود عدالت کو بھی سمجھ نہیں آرہا۔اصولی طور پر جے یو آئی آئینی عدالت کے حق میں تھی،جب آئین بن رہا تھا، اس وقت بھی پارٹیوں کا موقف مختلف تھا۔انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے دوتہائی اکثریت ہونے کے باوجود سب سے مشاورت کی، چھوٹے صوبوں کو اعتماد میں لیا گیا، آج پیپلزپارٹی کس طرح ذوالفقار علی بھٹو کے نظریے کے خلاف گئی؟ پیپلزپارٹی نے جمہوریت کی نفی میں کردار ادا کیا۔ پیپلزپارٹی نے غیرجمہوری عمل میں حکومت کا ساتھ دیا۔سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ بعض اہل منصب کو تاحیات استثنا دیا گیا، فوجی حکومت میں زرداری صاحب الزامات پر 8سال جیل میں رہے ،آج اسی کو کہا جارہاہے تاحیات آپ کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں ہوسکے گا۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان کا قانون ان کو 8سال تک عدالت میں پیش نہیں کرتا رہا ؟ صدارت کے منصب کے بعد ایسا کیوں؟ کیوں معصوم شخصیت کا روپ دے دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ تینوں مسلح افواج کے سربراہان کی بھارت کے مقابلے میں بہادری کی سب سے پہلے ہم نے تعریف کی، لیکن اس کی پاداش میں ان کو تاحیات جو مراعات دی گئی ہیں، وہ جمہوری معاشرے میں متحمل نہیں۔ مسلح افواج کے سربراہان اس ترمیم کے تحت ملنے والی مراعات سے خود سے انکار کردیں۔ اس طرح تو ملک میں طبقاتی نظام پیدا ہوگا۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ مساوات کے نعرے لگانا اور اس کے برعکس قانون پاس کرنا جمہوری معاشرے کے شایان شان نہیں، اسلامی جمہوریہ پاکستان میں قرآن و سنت کو آئین سازی کا اساس قراردیا گیا ہے ،خلفائے راشدین کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا رہا ہے تو کیا یہ ان سے بھی بڑے ہیں؟،قانون کی نظر میں سب برابر ہیں،یہ قائداعظم کے اصولوں کی بھی نفی ہے ۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ آئینی عدالت کے معاملے میں چیف جسٹس کون کہلائے گا، ابھی ابہام باقی ہے ۔ آئینی عدالت کے قیام کی صورت میں شریعت کورٹ کا فیصلہ ہوا تو آئینی عدالت کہے گی ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ یہ سوچا ہی نہیں گیا، ہمارا مطالبہ ہے کہ فیڈرل شریعت کورٹ اور سپریم کورٹ اپیلٹ بینچ کو فعال بنایا جائے ۔ شریعت کورٹ کے 2 ججز کی تاحال نامزدگی نہیں کی جارہی۔انہوں نے کہا کہ جے یو آئی کی نظر میں ستائیسویں ترمیم سے نہ تو آئین میں کوئی بہتری آئے گی اور نہ اس سے عوامی مفاد حاصل ہوگا،ہم مکمل طور پر ستائیسویں ترمیم کو مسترد کرتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ حکومت عدالتوں کو ہرحال میں اپنے پنجے میں رکھنا چاہتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ 18سال سے کم عمر بچوں کے نکاح کے بارے میں قانون سازی، ٹرانسجینڈر اور گھریلو تشدد کے حوالے سے قانون سازیاں ہوئی ہیں،18سال سے کم عمر کے بچے کو نابالغ کہنا یہ کس شریعت میں ہے ؟اور 18 سال سے کم عمری میں نکاح کو زنابالجبر کی سزادینے کی بات ہوئی ہے ، اس ملک میں زنا کے مرتکب کو سہولت دینے کا قانون پاس ہوا اور پیپلزپارٹی نے اس میں بھی ساتھ دیا۔ آج جائز نکاح میں رکاوٹیں پیدا کی جارہی ہیں،18سال سے کم عمری کے نکاح کو ناجائز قرار دیا گیا ہے لیکن اس میں سے ہونے والی اولاد کو جائز قرار دیا گیا ہے ۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ آئین میں اسلام کو ملک کا دین قرار دیا گیا ہے ،قرارداد مقاصد کے مطابق ملک میں قرآن کے منافی کوئی قانون نہیں بنایا جائے گا، کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے کہنے پر قانون سازی کی گئی ہے ، اسی کو غلامی کہا جاتا ہے ۔ ہم نے 300 سال تک غلامی کیخلاف جنگ لڑی ہے ۔ کسی صورت میں ایسی قانون سازی کو جائز قرارنہیں دیا جاسکتا۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ، شہباز شریف سے ہمیں یہ توقع نہیں تھی، مسلم لیگ کے اندر آج بھی غلامی کے جراثیم زندہ ہیں۔ انہوںنے کہاکہ دینی مدارس کی رجسٹریشن کے معاملے پر جو قانون سازی ہوئی اس پر کوئی عملدرآمد نہیں ہورہا،یہ اپنی کی ہوئی قانون سازی کے ساتھ بھی منافقت کررہے ہیں، ہم اتحاد مدراس اور تمام مکاتب فکر سے رابطے کررہے ہیں، اس سلسلے میں ملک بھر میں سیمینارز منعقد کیے جائیں گے ۔ احتجاجی سلسلہ شروع کیا جائے گا۔ انہوںنے کہاکہ حافظ صاحب کی بہادری کی ہم تعریف کرتے ہیں لیکن جس چیز کو ایک خاص شخص کے لیے مراعات کہا جائے اس سے ملک کو محفوظ رکھا جائے ۔
بحریہ ٹاؤن کراچی منی لانڈرنگ کیس میںدونوں ملزمان کوواپس لانے کیلئے امارات کی حکومت سے رابطہ کر لیا، جلد گرفتار کر کے پاکستان لاکرمقدمات کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے، چیئرمین نیب ریڈ وارنٹ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں کرپشن کے مقدمات پر جاری ہوئے، 900 ارب سے زائد کے مقدمات کی تحقیقات م...
ممکنہ حملوں میں ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، امریکا ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے اور زیادہ لچک دکھانے پر زور دے گا، سینٹرل کمانڈ ٹرمپ نے ایران کی پیشکش مسترد کردی، امریکا کے خدشات دور کیے جائیں اس وقت تک ایران پر بحری ناکہ بندی برقرار رکھی جائے گی،...
چمن سیکٹر میں بلا اشتعال جارحیت پرافغان طالبان کی متعدد چوکیاں،گاڑیوں کو درستگی سے نشانہ بنا کر تباہ پاک فوج کی موثر کارروائیوں نے افغان طالبان اور دہشتگردوںکو پسپائی پر مجبور کر دیا ہے،سکیورٹی ذرائع پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت کا پاک فوج نے بھرپور جوا...
کابینہ اجلاس سے خطاب میں کفایت شعاری اقدامات جاری رکھنے کا اعلان مسائل پہاڑ بن کر سامنے کھڑے ہیں لیکن مشکل وقت سے سرخرو ہوکر نکلیں گے وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی اور قیام امن کیلئے متواتر کوششیں کیں جو ہنوز جاری ہیں، جنگ کی وجہ سے...
جو اہلکار مجرمانہ سرگرمی میں ملوث ہوا اسے B کمپنی کا مکین بنایا جائے گا، آئی جی سندھ اسٹریٹ کرائم اور آرگنائز کرائم پر زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں کی جا رہی ہیں (کرائم رپورٹر؍ اسد رضا) جو اہلکار و افسران ڈیپارٹمنٹ کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں ان تمام عناصر کے خلاف ...
جسٹس محسن اختر کیانی لاہور،جسٹس بابر ستار پشاور ہائیکورٹ ،جسٹس ثمن رفعت امتیاز کا سندھ ہائیکورٹ تبادلہ 9 ارکان نے حق میں ووٹ دیاجبکہ تبادلے کیخلاف 3 ووٹ سامنے آئے،ذرائع چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرصدارت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے اجلاس میں ہائیکورٹ کورٹ ججوں ک...
آزاد عدلیہ کیلئے افسوس ناک دن ، ججوں کے تبادلے کی کوئی وجہ ہونا چاہیے(سینیٹر علی ظفر) عدلیہ پر تیز وارکیا گیا، ججز کا تبادلہ کسی فرد کا کام نہیں، فیصلہ عدلیہ کو تقسیم کرنے کے مترادف ، بیرسٹر گوہر پاکستان تحریک انصاف کے چیٔرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور رہنما بیرسٹر علی ظفر نے ...
امارات کا اوپیک سے نکلنے کا فیصلہ رکن ملکوں اور سعودی عرب کیلئے بڑا دھچکا، پالیسی فیصلہ تیل کی پیداوار کی موجودہ اور مستقبل کی ضرورتوں کو مدنظر رکھ کر کیا،اماراتی وزیرتوانائی کا جاری بیان یکم مئی سے اوپیک اور اوپیک پلس جس میں روس جیسے اتحادی شامل ہیں دونوں کو چھوڑ دے گا، یو اے ا...
یہ میزائل سسٹم جدید ایویونکس اور جدید ترین نیوی گیشنل آلات سے لیس ہے،آئی ایس پی آر تجربہ کا مشاہدہ اسٹریٹجک پلانز ڈویژن، آرمی راکٹ فورس کمانڈ،پاک فوج کے افسران نے کیا آرمی راکٹ فورس کمانڈ نے مقامی طور پر تیار کردہ فتح ٹو میزائل سسٹم کا کامیاب تربیتی تجربہ کرلیا، جو جدید ...
آبادی کے سیلاب کے سامنے بند نہ باندھا تو آنے والے برسوں میں ملکی وسائل کو مزید تیزی سے بہا کر لے جائے گا ہر سال 60لاکھ بچے پیدا ہوتے ہیں، بچوں کی پیدائش میں وقفہ ماں اور پورے خاندان کیلئے ضروری، وزیر مملکت صحت وزیر مملکت برائے صحت مختار احمد بھرتھ نے 2050تک پاکستان کی آباد...
ایران مذاکرات کی پیش کش پر غورکیلئے آمادہ ہوگیا،امریکا جنگ کے دوران اپنا ایک بھی ہدف حاصل نہیں کر سکا،اسی لیے جنگ بندی کی پیش کش کی جا رہی ہے، ایرانی وزیر خارجہ ہم نے پوری دنیا کو دکھا دیا ایرانی عوام اپنی مزاحمت اور بہادری کے ذریعے امریکی حملوں کا مقابلہ کرسکتے ہیں اور اس مشکل...
فتنہ الخوارج کی تشکیل کی دراندازی میں ناکامی کے بعد افغان طالبان نے سول آبادی کو نشانہ بنایا، فائرنگ کے نتیجے میں 2 خواتین سمیت 3 شہری زخمی وانا ہسپتال منتقل،سکیورٹی ذرائع اہل علاقہ کا افغان طالبان کی فائرنگ کے واقعہ کی مذمت ،پاک فوج سے جوابی کارروائی کا مطالبہ،وفاقی وزیرداخلہ ...