وجود

... loading ...

وجود

تحریک لبیک اورسندھ رواداری مارچ کی پولیس سے جھڑپیں،ایک شخص جاں بحق، متعدد زخمی

اتوار 13 اکتوبر 2024 تحریک لبیک اورسندھ رواداری مارچ کی پولیس سے جھڑپیں،ایک شخص جاں بحق، متعدد زخمی

کراچی میں سندھ رواداری مارچ اور تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کی بیک وقت احتجاج کی کال کے باعث ریڈ زون میدان جنگ بن گیا۔میٹرو پول ہوٹل کے قریب پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ میں فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق اور ایک پولیس اہلکار سمیت متعدد افراد زخمی ہوگئے ، مشتعل افراد نے پولیس موبائل کو آگ لگادی جبکہ پولیس نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر 30 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا۔واضح رہے کہ سول سوسائٹی نے عمر کوٹ میں توہین مذہب کے الزام میں ڈاکٹر شاہنواز کنبھر کے ماورائے عدالت قتل اور سندھ میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کے خلاف آج کراچی پریس کلب پر احتجاج کی کال دے رکھی تھی، جبکہ تحریک لبیک پاکستان نے بھی اسی مسئلے پر پریس کلب پر احتجاج کا اعلان کیا تھا۔پولیس نے احتجاج کی کال کے پیش نظر گزشتہ روز ہی سندھ بھر میں 5 روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے ہر قسم کے جلسے ، جلوس اور احتجاجی مظاہروں پر پابندی لگادی تھی، اتوار کی صبح ہی کراچی پریس کلب کو جانے والے تمام راستوں پر بھاری نفری تعینات کردی گئی تھی۔عینی شاہدین کے مطابق اتوار کی شام ٹی ایل پی کے کارکنوں کی بڑی تعداد میٹروپول ہوٹل پر جمع ہوئی تاہم وہاں تعینات پولیس کی بھاری نفری نے مظاہرین کو پریس کلب جانے سے روک دیا کیونکہ وہاں پہلے ہی سندھ رواداری مارچ کے شرکا احتجاج کر رہے تھے اور فریقین کا آمنا سامنا ہونے سے امن و امان کی صورتحال بگڑنے کا خدشہ تھا۔پولیس کی جانب سے ٹی ایل پی کے کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال صورتحال کشیدہ ہونے کا باعث بن گیا، اس دوران فائرنگ کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور پولیس اہلکار سمیت متعدد افراد زخمی ہوگئے ۔ مبینہ طور پر مشتعل مظاہرین نے ایک پولیس موبائل کو بھی نذرآتش کردیا۔تحریک لبیک پاکستان کے ترجمان ریحان محمد خان نے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر براہ راست فائرنگ کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ فائرنگ سے کارکن ماجد جاں بحق اور کئی زخمی ہوئے ہیں۔اس سوال پر کہ جب پریس کلب پر پہلے سے ایک مظاہرہ جاری تھا تو وہ وہاں کیوں جانا چاہتے تھے ؟ ترجمان نے کہا کہ وہ (سول سوسائٹی) اپنا احتجاج ریکارڈ کرا چکے تھے ، انہوں نے سوال کیا کہ جب وہ گستاخی کے مرتکب شخص کے حامیوں کے خلاف پریس کلب جانا چاہتے ہیں تو انہیں کیوں روکا جارہا ہے ؟ادھر پولیس سرجن سمعیہ سید نے بتایا کہ مظاہرے کے مقام سے ایک شخص کی لاش جناح ہسپتال لائی گئی ہے جس کے سر پر گولی لگی ہے ۔قبل ازیں ڈی آئی جی جنوبی اسد رضا نے کراچی پریس کلب کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے کراچی پریس کلب کے باہر سے فریقین کے 20 افراد کو حراست میں لیا ہے ، حراست میں لیے گئے افراد میں تحریک انصاف کے رہنما علی پلھ، سورٹھ تھیبو اور دیگر بھی شامل ہیں۔واضح رہے کہ پولیس نے کراچی پریس کلب آنے والی تمام سڑکیں اور راستے بسیں اور کنٹینر کھڑے کرکے بند کردیے تھے ، حتیٰ کہ رپورٹرز اور کیمرامین کو بھی پریس کلب آنے سے روک دیا گیا۔ڈپٹی کمشنر جنوبی نے کراچی پریس کلب کا دورہ کیا تو اُنہیں آگاہ کیا گیا کہ کراچی پریس کلب پر دفعہ 144 کا اطلاق نہیں ہوتا کیونکہ اس مقام کو ’ہائیڈ پارک‘ قرار دیا جاچکا ہے جہاں مظاہروں پر کوئی پابندی نہیں ہے ۔ڈپٹی کمشنر نے اصرار کیا کہ ہنگاموں اور فسادات کے خطرے کے پیش نظر نہ صرف کراچی بلکہ سندھ بھر میں دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے۔ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ یہ اقدام ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب اسلام آباد میں اہم غیرملکی شخصیات آرہی ہیں اور اس قسم کی صورتحال ملک کے بارے میں برا تاثر پیش کرسکتی ہے ۔واضح رہے کہ پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس میں شرکت کے لیے غیرملکی وفود وفاقی دارالحکومت میں موجود ہیں۔دوسری جانب سندھ رواداری مارچ کے شرکا اور عینی شاہدین نے بتایا کہ مارچ کے شرکا کو روکنے کے لیے شاہراہ فیصل پر ایف ٹی سی، کورنگی روڈ پر قیوم آباد اور سپر ہائی وے پر ٹول پلازا سمیت دیگر مقامات پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔دوسری جانب ایم اے جناح روڈ پر کیپری سنیما کے قریب بھی پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی جو گاڑیوں اور موٹرسائیکل سواروں کو روک کر تلاشی میں مصروف تھی۔کلفٹن تین تلوار پر ہلال احمر میڈیکل سینٹر کے قریب بھی مظاہرین سے نمٹنے کے ساز و سامان سے لیس پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔ادھر ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے کراچی پولیس کے ہاتھوں سندھ رواداری مارچ کے متعدد شرکا کی گرفتاری پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے ۔کمیشن نے ایک بیان میں کہا کہ پولیس نے ایچ آر سی پی کے سربراہ اسد اقبال بٹ کو بھی گرفتار کرنے کی کوشش کی اور انہیں ذرائع ابلاغ سے بات کرنے سے روک دیا۔ کمیشن نے مطالبہ کیا ہے کہ گرفتار مظاہرین کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کرکے سندھ رواداری مارچ کے شرکا کو کراچی پریس کلب پر احتجاج کی اجازت دی جائے۔


متعلقہ خبریں


عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی وجود - پیر 12 جنوری 2026

ہم کسی کو اجازت نہیں دینگے عمران خان کو بلاجواز جیل میں رکھیں،پیپلزپارٹی نے مل کرآئین کاڈھانچہ تبدیل کیا، سندھ میں پی پی کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، فسطائیت ہمیشہ یاد رہے گی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عمران خان کی سیاست ختم کرنیوالے دیکھ لیں قوم آج کس کیساتھ کھڑی ہے، آج ہمارے ساتھ مختلف...

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک وجود - پیر 12 جنوری 2026

بی وائی سی بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت کاکوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں بالخصوص فتنہ الہندوستان کے بظاہر سافٹ فیس کے طور پر ...

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک وجود - پیر 12 جنوری 2026

شاہ کس بائے پاس روڈ پر واقع ناکے کلے میں فتنہ الخوارج کی تشکیل کو نشانہ بنایا ہلاک دہشت گرد فورسز پر حملوں سمیت دیگر واقعات میں ملوث تھے، سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ٹی) نے ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔سی ...

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن وجود - پیر 12 جنوری 2026

گائیڈ لائنز پر عمل کریں، وزیراعلیٰ کا عہدہ آئینی عہدہ ہے اوراس کا مکمل احترام کیا گیا ہے جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان پر عمل نہیں کیا جا رہا سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہ...

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن

مراد علی شاہ کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سے ملنے سے معذرت وجود - پیر 12 جنوری 2026

سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ کردی گئی حیدر آباد سے کراچی واپسی پرجگہ جگہ رکاوٹیں ڈالی گئیں ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ ہوگئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق...

مراد علی شاہ کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سے ملنے سے معذرت

ٹرمپ کا گرین لینڈ پر ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کا حکم وجود - پیر 12 جنوری 2026

واشنگٹن اور اتحادی ممالک میں تشویش ، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی اس اقدام کی مخالفت کانگریس ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرے گی،نیٹو اتحاد کے مستقبل پر سوالات اٹھ سکتے ہیں برطانوی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ حملہ سے متعلق فوجی منصوبہ تیار کرنے کے ...

ٹرمپ کا گرین لینڈ پر ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کا حکم

سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں،عمران خان کی ہدایت،سہیل آفریدی کا پیغام وجود - اتوار 11 جنوری 2026

پاکستان کی عدلیہ کی آزادی کے لیے کوششیں جاری ہیں،سندھ اس وقت زرداری کے قبضے میں ہے لیکن سندھ عمران خان کا تھا اور خان کا ہی رہیگا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا پرتپاک اور والہانہ استقبال کیا پیپلزپارٹی خود کو آئین اور18ویں ترمیم کی علمبردار کہتی ہے لیکن افسوس! پی پی نے 26 اور 27و...

سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں،عمران خان کی ہدایت،سہیل آفریدی کا پیغام

زراعت کی ترقی کیلئے آبپاشی نظام میں بہتری لانا ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ وجود - اتوار 11 جنوری 2026

حکومت سندھ نے آبپاشی اور زراعت کی ترقی کیلئے خصوصی اور جامع اقدامات کیے ہیں مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے جائزہ اجلاس میں گفتگو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ اجلاس ہوا، اجلاس میں صوبائی وزراء ...

زراعت کی ترقی کیلئے آبپاشی نظام میں بہتری لانا ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ

غزہ موسمی دباؤاورشدید بارشوں کی لپیٹ میں ،محصور شہری اذیت میں مبتلا وجود - اتوار 11 جنوری 2026

خیمے بارش کے پانی میں ڈوب گئے،ایندھن کی شدید قلت نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا دیوار گرنے سے کمسن بچہ زخمی،قابض اسرائیل کی فوج نے بیشتر عمارتیں تباہ کر دی،رپورٹ شدید موسمی دباؤ اور شدید بارشوں جن کی لپیٹ میں پورا فلسطین ہے، غزہ کے محصور شہریوں کی اذیتوں میں مزید اضافہ کر دی...

غزہ موسمی دباؤاورشدید بارشوں کی لپیٹ میں ،محصور شہری اذیت میں مبتلا

ملک ریاض دوبارہ ریڈار پر آگئے،ایف آئی اے کابحریہ ٹاؤن کراچی کے مرکزی دفتر پر چھاپہ، ریکارڈ ضبط وجود - هفته 10 جنوری 2026

بحریہ ٹاؤن اور کراچی میں زمینوں پر مبینہ قبضوں میں ملوث سندھ کے طاقتور سسٹم سے وابستہ بااثر افراد کیخلاف تحقیقات ایکبار پھر بحال کر دی ،چھاپہ تقریباً 6 سے 8 گھنٹے تک جاری رہا، ذرائع کارروائی کے دوران کسی شخص کو باہر جانے کی اجازت نہیں دی ، کسی گرفتاری کی تصدیق نہیں کی ، ضبط شدہ...

ملک ریاض دوبارہ ریڈار پر آگئے،ایف آئی اے کابحریہ ٹاؤن کراچی کے مرکزی دفتر پر چھاپہ، ریکارڈ ضبط

دو ٹیموں کی بولی سے بیرونی سرمایہ کاری کو فروغ ملا،وزیر اعظم وجود - هفته 10 جنوری 2026

پی ایس ایل کی دو نئی ٹیموں کے نمائندگان کی ملاقات، شہباز شریف نے مبارکباد دی پی ایس ایل کیلئے تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوں گی، محسن نقوی،عطاء تارڑ موجود تھے وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے پاکستان سپر لیگ میں دو نئی ٹیموں کی بڈنگ جیتنے والی فرمز کے نمائندگان نے ملاقات کی ہے۔تفصیل...

دو ٹیموں کی بولی سے بیرونی سرمایہ کاری کو فروغ ملا،وزیر اعظم

اپوزیشن اتحادکے قافلے پر حملہ،پنجاب حکومت کا مختلف شہروں میں کریک ڈائون وجود - جمعه 09 جنوری 2026

کھاریاں میںنقاب پوش افراد نے ایم پی اے تنویر اسلم راجا اور ملک فہد مسعود کی گاڑی کے شیشے توڑ دیے ، پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن اراکین کی گاڑیوں پر لاٹھی چارج ، 2 پی ٹی آئی رہنما زیر حراست امجد خان نیازی اور ظفر اقبال گوندل کو پولیس نے جہلم منتقل کر دیا،صوبائی حکومت بوکھلاہٹ کا شکار...

اپوزیشن اتحادکے قافلے پر حملہ،پنجاب حکومت کا مختلف شہروں میں کریک ڈائون

مضامین
لفظوں کا مصور! وجود پیر 12 جنوری 2026
لفظوں کا مصور!

مودی سرکار کے اوچھے ہتھکنڈے وجود پیر 12 جنوری 2026
مودی سرکار کے اوچھے ہتھکنڈے

اگلا ٹارگٹ گرین لینڈ ہے! وجود پیر 12 جنوری 2026
اگلا ٹارگٹ گرین لینڈ ہے!

شہری طرزِ حکمرانی صنفی شمولیت کے تناظر میں وجود پیر 12 جنوری 2026
شہری طرزِ حکمرانی صنفی شمولیت کے تناظر میں

انصاف کے منتظر پی ٹی آئی کے ورکرز اور لواحقین کی کوفت وجود اتوار 11 جنوری 2026
انصاف کے منتظر پی ٹی آئی کے ورکرز اور لواحقین کی کوفت

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر