... loading ...
سپریم کورٹ آف پاکستان میں پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف درخواستوں پر سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور درخواست گزار کے وکیل امتیاز صدیقی کے درمیان تلخ جملوں کا تبالہ ہوا ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان میں پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف درخواستوں پر سماعت چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں فل کورٹ نے کی۔ جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ اے ملک، جسٹس اطہر من اللّٰہ، جسٹس سید حسن اظہر رضوی، جسٹس شاہد وحید اور جسٹس مسرت ہلالی فل کورٹ میں شامل ہیں۔ دورانِ سماعت صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن عابد زبیری نے دلائل دیے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ان سے استفسار کیا کہ آئین تو پہلے ہی سپریم کورٹ کو پابند کرتا ہے کہ آئین و قانون کے مطابق رولز بنائے۔ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے عابد زبیری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ میرے سوال کا جواب دیدیں کہ سبجیکٹ ٹولاء کو نکال دیں تو رولز بنانے کے اختیار پر کیا فرق پڑے گا، وقت کم ہے جواب جلدی دیں۔ وکیل عابد زبیری نے کہا کہ آئین سے آئین و قانون کے مطابق رولز بنانے کے الفاظ ہٹا دیے جائیں تو بھی فرق نہیں پڑے گا۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ بس ٹھیک ہے جواب آ گیا اگلے نکتے پر جائیں۔ وکیل عابد زبیری نے کہا کہ اگر آرٹیکل 191 میں کہا جاتا کہ پارلیمنٹ سپریم کورٹ سے متعلق قانون سازی کر سکتی ہے تو ٹھیک تھا۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ ایک اور سوال ہے کہ کیا سپریم کورٹ پارلیمنٹ کے اختیار سے تجاوز کر کے قانون بنا سکتی ہے؟ دیکھنا ہو گا آئین کسی بھی ادارے کو آئینی حدود کا پابند کہاں بناتا ہے، آئین سپریم کورٹ کو آئین و قانون کے مطابق رولز بنانے کے لیے بااختیار بناتا ہے بات ختم۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مسٹر زبیری! میں آپ سے دلائل سننا چاہتا ہوں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سپریم کورٹ کو رولز بنانے کا اختیار دیا گیا جو اس نے استعمال کیا، کیا اس کے بعد قانون سازی سے سپریم کورٹ کے رولز کو بدلا جا سکتا ہے۔ وکیل عابد زبیری نے کہا کہ جب سپریم کورٹ نے رولز بنا لیے تو قانون کے ذریعے نہیں بدلا جا سکتا۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آج کو سماعت مکمل کرنی ہے، میں وکلاء کو سننا چاہتا ہوں، جج صاحبان اپنے فیصلے میں جو لکھنا چاہتے ہیں لکھیں۔جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آئین و قانون کے مطابق رولز بنانے کے لیے پابند کرنے کا مطلب ہے موجودہ قانون کے مطابق رولز بنیں گے۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ یہ کیس سن رہے ہیں اور ہمارے ادارے میں کیسز کا بوجھ بڑھ رہا ہے، کیس کو ختم کرنا ہے، اپنے دلائل 11 بجے تک ختم کریں، ہم میں سے جس کو جو رائے دینی ہے فیصلے میں لکھ دیں گے، آپ نے تحریری دلائل جمع کرائے تھے؟ وکیل عابد زبیری نے کہا کہ ابھی اپنا تحریری جواب جمع کرایا ہے۔ چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے پہلے سے تحریری دلائل جمع کرانے کا حکم دیا تھا، اتنے سارے کاغذات ابھی پکڑا دئیے، کون سے ملک میں ایسے ہوتا ہے کہ کیس کی سماعت میں تحریری جواب جمع کراؤ؟ ہر بات میں امریکی اور دوسری عدالتوں کا حوالہ دیتے ہیں یہاں بھی بتائیں۔ وکیل عابد زبیری نے کہا کہ نیو جرسی کی عدالت کے فیصلے کا حوالہ دینا چاہتا ہوں۔ چیف جسٹس پاکستان نے وکیل عابد زبیری سے کہا کہ کم از کم امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کا تو حوالہ دیں، ہمارا لیول اتنا نہ گرائیں کہ نیو جرسی کی عدالت کے فیصلے کو بطور مثال پیش کر رہے ہیں، یہ تو فیصلہ بھی نہیں ہے۔ وکیل عابد زبیری نے کہا کہ نیوجرسی کی عدالت میں کہا گیا ہے کہ قانون سازی اور رولز بنانے میں فرق ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر نے وکیل عابد زبیری سے کہا کہ آرٹیکل 175 ٹو کو آرٹیکل 191 کے ساتھ ملا کر پڑھیں، آرٹیکل 175 ٹو میں کسی بھی عدالت کے مقدمات سننے کا اختیار بتایا گیا ہے۔ وکیل عابد زبیری نے جواب دیا کہ سپریم کورٹ کے رولز سے متعلق آرٹیکل 142 اے اور اینٹری 55 کو ملا کر پڑھنا ہو گا، سپریم کورٹ کے رولز بنانے کے اختیار سے متعلق آئینی شق کو تنہا نہیں پڑھا جا سکتا۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ فل کورٹ یہ مقدمہ سن رہی ہے تاکہ وکلاء سے کچھ سمجھ اور سیکھ سکیں، آئینی شقوں پر دلائل دیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آئینی شقوں کو ملا کر پڑھنا ہوتا ہے، آئین کے کچھ آرٹیکل اختیارات اور کچھ ان اختیارات کی حدود واضح کرتے ہیں۔ وکیل عابد زبیری نے کہا کہ یہ تو معزز سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔ جس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ معزز سپریم کورٹ نہیں ہوتی، معزز ججز ہوتے ہیں، اصطلاحات ٹھیک استعمال کریں۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ہم یہاں آئین اور قانون سازوں کی نیت دیکھ رہے ہیں، اگر آئین سازوں کی نیت دیکھنی ہے تو آرٹیکل 175 دیکھیں، اگر آئین سازوں کو مکمل اختیار سپریم کورٹ کو دینا ہوتا تو واضح لکھ دیتے، کوئی بھی ضابطہ قانون یا آئین سے متصادم ہو گا تو خودہی کالعدم ہو جائے گا۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ میں سوال واضح کر دیتا ہوں، جوڈیشل کمیشن، سپریم جوڈیشل کونسل کے رولز سے متعلق آئین میں لکھا ہے آئینی باڈیز خود قانون بنائیں گی، جب سپریم کورٹ کے ضابطوں سے متعلق آرٹیکل 191 میں لکھا ہے کہ قانون سے بھی بن سکتے ہیں، سوال یہ ہے آئین سازوں نے خود آئین کے ساتھ قانون کا آپشن دیا۔جسٹس مظاہر نقوی نے سوال کیا کہ سپریم کورٹ کے رولز پر پارلیمنٹ نے پابندی لگائی لیکن ہائی کورٹ اور شریعت عدالت کے ضابطوں پر کیوں نہیں لگائی؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ہائی کورٹس اپنے پریکٹس اینڈ پروسیجر بنانے کے لیے خود بااختیار ہیں۔وکیل عابد زبیری نے کہا کہ آج بھی سپریم کورٹ اپنے رولز خود بنا لے تو کوئی اعتراض نہیں اٹھا سکتا، آئین کہتا ہے سپریم جوڈیشل کونسل اپنے قوانین خود بنائے گی جن کی وقعت آئینی ضوابط کے برابر ہو گی۔جسٹس منیب اختر نے سوال کیا کہ کیا وفاقی شریعت عدالت اپنے رولز بنانے کے اختیار میں سپریم کورٹ سے بھی اونچی سطح پر ہے؟ وکیل عابد زبیری نے کہا کہ سپریم کورٹ اگر اپنے رولز خود بنائے تو وہ تمام رولز سے اونچی سطح پر ہوں گے، اب آئین میں درج سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار پر دلائل دوں گا۔ جسٹس اعجازالاحسن نے وکیل عابد زبیری سے استفسار کیا کہ آرٹیکل 191 سپریم کورٹ کو رولز بنانے کا اختیار دیتا ہے، دائرہ اختیار بتاتا ہے؟وکیل عابد زبیری نے جواب دیا کہ آرٹیکل 191 سپریم کورٹ کو رولز بنانے کی پاور دیتا ہے۔چیف جسٹس پاکستان نے سوال کیا کہ پاکستان میں 184 تین کا استعمال کیسے ہوا؟ کیا ہیومن رائٹس سیل کا تذکرہ آئین یا سپریم کورٹ رولز میں ہے؟ آرٹیکل 184 تین سے متعلق ماضی کیا رہا؟ یا تو کہہ دیتے کہ 184 تین میں ہیومن رائٹس سیل بن سکتا تھا، اس بات پر تو آپ آنکھیں بند کر کے بیٹھ گئے ہیں، اس سے پہلے کہ دنیا مجھ پر انگلی اٹھائے میں خود اپنے اوپر انگلی اٹھا رہا ہوں، آپ یہ تو کہہ دیں کہ سپریم کورٹ کے ایک چیف جسٹس نے غلطی کی تو پارلیمنٹ اسے درست کر سکتی ہے یا نہیں؟ نیو جرسی نہ جائیں، پاکستان کی ہی مثال دے دیں، سپریم کورٹ غلطی کر دے تو کیا پارلیمنٹ اسے درست کر سکتی ہے؟چیف جسٹس نے عابد زبیری سے سوال کیا کہ آپ پی ٹی آئی کی نمائندگی نہیں کر رہے؟ وکیل عابد زبیری نے کہا کہ نہیں میں سپریم کورٹ بار کی نمائندگی کر رہا ہوں، آپ کی رائے سن چکا ہوں، ابھی آرٹیکل 184 تین پر آ رہا تھا، میں آپ سے متفق ہوں کہ آرٹیکل 184 تین کا غلط استعمال ہوتا رہا ہے۔ جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ پارلیمنٹ کے پاس ویسے بھی اختیار ہے کہ سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار بڑھا یا کم کر سکتی ہے، کیا پارلیمنٹ بنیادی حقوق سے متعلق قانون سازی نہیں کر سکتی؟جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اس کیس میں اچھے برے یا صحیح غلط کا سوال نہیں، اختیار کا سوال ہے، یہ بتائیں قانون جتنا بھی اچھا ہو، سپریم کورٹ کے رولز بنانے کا اختیار پارلیمنٹ کے پاس ہے یا نہیں۔ جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ انصاف تک رسائی کے حق کی سپریم کورٹ خلاف ورزی کر رہی ہو تو کیا پارلیمنٹ مداخلت نہیں کر سکتی؟ آپ اس کیس کے قابلِ سماعت ہونے پر دلیل نہیں دے سکے، سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر سے زیادہ بڑا مسئلہ جبری گمشدگیوں کا ہے، اگر چیف جسٹس یہ کیس پہلے مقرر کر رہے ہیں اور جبری گمشدگیوں سے متعلق نہیں تو پارلیمنٹ قانون سازی نہیں کر سکتی؟ چیف جسٹس پاکستان نے سوال کیا کہ ماضی میں آرٹیکل 184 تین کا استعمال صحیح ہوا یا غلط؟ میرے سوال کا جواب دیں بطور سپریم کورٹ بار آپ کی کیا رائے ہے؟ اگر مگر نہیں، سیدھا جواب دیں۔وکیل عابد زبیری نے کہا کہ آرٹیکل 184 تین کا غلط استعمال ہوا اور اس کے خلاف اپیل ہونی چاہیے۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آپ کے مطابق آرٹیکل 184 تین کا دائرہ اختیار نہ پارلیمنٹ بڑھا سکتی ہے نہ ہی سپریم کورٹ، پھر ہم یہ کیس کیوں سن رہے ہیں؟ سپریم کورٹ مقدمات میں آرٹیکل 184 تین کا دائرہ بڑھائے تو ٹھیک اور پارلیمنٹ بڑھائے تو غلط، اگر انکم ٹیکس آرڈیننس یا فیملی رائٹس میں ترمیم ہو تو کیا براہِ راست سپریم کورٹ میں درخواست آ سکتی ہے؟وکیل عابد زبیری نے کہا کہ بالکل آ سکتی ہے۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آپ کا جواب نوٹ کر رہا ہوں کہ بنیادی حقوق کے علاوہ بھی قانون سازی براہِ راست سپریم کورٹ میں چیلنج ہو سکتی ہے۔جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ کے لیے دروازہ کھول دیں کہ سپریم کورٹ کے ہر معاملے میں مداخلت کرے گی، ایک بار دروازہ کھل گیا تو اس کا کوئی سرا نہیں ہو گا، قانون سازی اچھی یا بری بھی ہو سکتی ہے، یہ نہیں ہو سکتا کہ قانون سازی درست ہے تو ٹھیک ورنہ کالعدم قرار دے دیں، آئین اس طرح سے نہیں چل سکتا۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ماضی کو دیکھیں، ایک شخص آتا ہے اور پارلیمنٹ کو ربر اسٹیمپ بنا دیتا ہے، امریکا میں یہ سب نہیں ہوتا، ہمارا ماضی بہت بوسیدہ ہے، سپریم کورٹ بار خود تو درخواست لے کر نہیں آئی۔ وکیل عابد زبیری نے کہا کہ سپریم کورٹ بار نے جو درخواستیں کیں وہ تو مقرر نہیں ہو رہیں۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اگر آپ اس کیس کو ختم کریں تو باقی مقرر ہوں، کل کی باتیں نہ کریں آج کی صورتِ حال بتائیں۔جسٹس مسرت ہلالی نے سوال کیا کہ ایکٹ میں آئین کی کون سی شق کا حوالہ دیا گیا ہے؟ ایسے تو سادہ اکثریت سے قانون سازی کا دروازہ کھولا جا رہا ہے۔جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آئین میں سادہ اکثریت سے بالواسطہ ترمیم کر کے دروازہ کھولا جا رہا ہے۔جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ آرٹیکل 184 تین کا اختیار آئین میں رہ کر استعمال کیا گیا ہوتا تو ایسی قانون سازی نہ ہوتی، آپ مدعی ہیں نہ مدعا علیہ تو پھر اس ایکٹ کی مخالفت کیوں کر رہے ہیں؟جسٹس مظاہر نقوی نے سوال کیا کہ آرٹیکل 184 تین میں اپیل سے اصل دائرہ اختیار کے کیس کی دوبارہ سماعت کا حق کیسے دے دیا گیا؟چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ پارلیمنٹ کو تو کہتے ہیں نمبر گیم پورا ہونا چاہیے لیکن فردِ واحد آئینی ترمیم کرے تو وہ ٹھیک ہے، پارلیمنٹ کچھ اچھا کرنا چاہتی ہے تو اسے کچلنا کیوں چاہتے ہیں؟جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار بڑھانے سے متعلق دلائل دیں۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم بھی مانتے ہیں کہ صوبائی اسمبلیوں کو ایسی قانون سازی کا اختیار نہیں ہے، بس اب دلائل ختم کریں، یہ تاثر مت دیں کہ آپ یہ کیس ختم کرنا نہیں چاہتے۔ جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ اگر کسی نے 188 کے تحت نظرِ ثانی ایک بار دائر کر دی تو وہ اپیل نہیں کر سکتا، ایکٹ کے تحت نظرِ ثانی کے خلاف تو اپیل کا حق نہیں دیا گیا۔چیف جسٹس نے عابد زبیری سے کہا کہ بوجھ سپریم کورٹ پر پڑے گا تو گھبراہٹ آپ کو کیوں ہو رہی ہے؟ آپ کے دلائل مکمل ہو گئے، اگلے فریق کو 20 منٹ سنیں گے۔
حکومت کی جانب سے بجٹ کے حوالے سے آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کی کوششیں ، دونوں فریقین میںمذاکرات کا جاری ، ممکنہ خسارے کے ازالے کیلئے متبادل ریونیو اقدامات پر مشاورت حکومت کا فنانس بل میں شامل مختلف ٹیکس رعایتوں کی مکمل تفصیلات جاری کرنے سے گریز، تنخواہ دار طبقے کو دیے گئے ٹیکس ر...
میری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے بات ہوگئی ہے،صوبائی حکومت صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپر پاس کرے گی، آئین کا آرٹیکل 125 اجازت دیتا ہے، آپ 3 ماہ کا بجٹ پیپر پیش کرسکتے ہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک حتمی بجٹ پیش نہیں ہوگا،30 جون تک بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو خیبر پختونخوا...
ملزمہ سادہ کوکین 20ہزار فی گرام جبکہ گولڈن اسٹف40ہزار فی گرام فروخت کرتی تھی مقدمے میں نامزد پانچ ملزمان مفرور قرار ،پولیس نے گرفتاری کیلئے کارروائیاں تیز کر دی کراچی میں منشیات فروشی کے مبینہ بڑے نیٹ ورک کی مرکزی ملزمہ انمول عرف پنکی اور دیگر کے خلاف منشیات کے مقدمے کا عبوری...
منشیات کی ترسیل کے لیے انڈوں کے خول استعمال کیے جاتے تھے،ملزم شاہ فہد سہراب گوٹھ سے مختلف رائیڈرز کے ذریعے مختلف علاقوں میں سپلائی کیا جاتا تھا کراچی سائوتھ زون پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے منشیات سپلائی کرنے والے ایک اور مبینہ منظم نیٹ ورک کا سراغ لگانے کا دعوی کیا ہے۔ گرفتار...
رواں سال ڈبل ڈیکر اور جدید الیکٹرک بسوں کی بڑی تعداد کراچی پہنچ جائے گی،شرجیل میمن نئی ڈبل ڈیکر اور ماحول دوست ای وی بسیں مرحلہ وار مختلف روٹس پر چلائی جائیں گی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی کے شہریوں کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کا ا...
ایک شخص کی وجہ سے ملکی تناؤ ہے تو اسے باہر نکالیں، مجھے کہا جاتا ہے آپ تو عمران خان کیخلاف تھے، مخالف جیل میں ہاتھ پاؤں بندھا پڑا ہو تو اس کیخلاف بات نہیں کرتے،سربراہ جے یو آئی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈروں کی تقریروں کو بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے، ہم نے کشمیریوں کی ماؤں بہنوں کی...
81ہزار ٹن خریداری ہدف سے کم، مقامی مارکیٹ اور پاسکو سے مزید گندم خریدنے کا فیصلہ ہاریوں کو مقررہ امدادی قیمت کی ادائیگی ہر صورت یقینی بنائی جائے،اجلاس میں تفصیلی جائزہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلی ہاؤس میں محکمہ خوراک اور محکمہ زراعت کا مشترکہ اجلاس ...
عوام بخوبی جانتے ہیں کہ کس نے اسے بوری بند لاشوں کے تحفے دیے،سینئر صوبائی وزیر کراچی ملک کا معاشی حب اور سندھ کا دارالخلافہ ہے، خالد مقبول کے بیان پر سخت ردعمل سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا خالد مقبول صدیقی کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کراچی کے عوام بخوبی جانتے ہیں ...
تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...
پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...
حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...
امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...