وجود

... loading ...

وجود

پنجاب، خیبر پی کے کی اسمبلیاں قمر جاوید باجوہ کے مشورے پر تحلیل کی تھیں، عمران خان

پیر 24 اپریل 2023 پنجاب، خیبر پی کے کی اسمبلیاں قمر جاوید باجوہ کے مشورے پر تحلیل کی تھیں، عمران خان

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ انہوں نے پنجاب اور خیبر پختونخوا ہ کی صوبائی اسمبلیاں سابق آرمی چیف جنرل (ر) باجوہ کے مشورے پر تحلیل کی تھیں، انہوں نے کہا تھا اگر پی ٹی آئی نئے انتخابات چاہتی ہے تو اپنی حکومتیں ختم کردیں، قمر جاوید باجوہ نے ایکسٹینشن کا پلان کیا ہوا تھا، ان کا کوئی نظریہ نہیں تھا، جنرل باجوہ اور ایجنسی کو پتہ تھا کہ یہ لوگ پیسہ چوری کر کے باہر لے گئے ہیں، جنرل باجوہ ان لوگوں کو این آر او دینے کو تیار ہو گئے، آئی بی ہیڈ نے بتایا کہ قمر جاوید باجوہ شہباز شریف کو لانا چاہتے ہیں، مشرق وسطی کے رہنما نے ایک سال قبل بتایا کہ قمر جاوید باجوہ تمہارے ساتھ نہیں، حکومت مذاکرات کو تاخیری حربے کے طور پر استعمال کرے گی، سپریم کورٹ نے 14 مئی کی تاریخ دے دی ہے، ہم ان کو آگے جانے نہیں دیں گے، اگر یہ سمجھتے ہیں کہ سپریم کورٹ کو دباؤ میں لے آئیں گے تو ہم ہونے نہیں دیں گے، حکومت کے پاس کوئی تجویز ہے تو دے ہم بات کریں گے، وزیر اعظم اسمبلی تحلیل کریں جولائی میں عام انتخابات کی تجویز دیں ہم بات کریں گے، غیر جانبدار نگران حکومت لائیں پھر بات ہو سکتی ہے، اسد قیصر کو بات کرنے کا مینڈیٹ نہیں دیا، شاہ محمود قریشی بات کریں گے، شاہ محمود سے ابھی تک کسی نے مذاکرات کے لیے رابطہ نہیں کیا، شاہ محمود قریشی، حماد اظہر، فواد چودھری کی وفاق میں ضرورت ہے، پنجاب کے وزیراعلیٰ سے متعلق ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا، وزیراعلیٰ  پنجاب کی نامزدگی اس لیے نہیں کر رہا کیونکہ ابھی سے جھگڑا ہو جائے گا، اپنی غلطیوں کی بھاری قیمت ادا کی ہے اور بہت کچھ سیکھا ہے، میں ہر کسی پر بھروسہ اور اعتماد کرتا تھا، جس کی بھاری قیمت ادا کی ہے، سبق سیکھ لیا وزیراعظم بن کر کسی پر اعتماد نہیں کر سکتا۔ انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ حکومت مذاکرات کی آڑ لے کر انتخابات میں تاخیری حربے استعمال کرے گی، موجودہ نگران حکومت کی مدت ختم ہو گئی، ان کے اب اقدامات غیر قانونی ہوں گے، پاکستان تحریک انصاف قوم کو تیار کر رہی ہے، پوری قوم، آئین قانون اور عدلیہ کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسد قیصر کو بات کرنے کا مینڈیٹ نہیں دیا، شاہ محمود قریشی بات کریں گے، شاہ محمود سے ابھی تک کسی نے مذاکرات کے لیے رابطہ نہیں کیا، پی ڈی ایم، پیپلز پارٹی سمیت سب نے کہا اپنی حکومتیں گرائیں انتخابات کروا دیں گے، ہم نے اپنی اسمبلیاں تحلیل کر دیں تو اب یہ بھاگ رہے ہیں۔ یہ لوگ تاخیری حربے استعمال کر رہے ہیں کہ کسی طرح 14 مئی کو عبور کریں، سپریم کورٹ نے واضح کہہ دیا ہے کہ انتخابات 14 مئی کو ہوں گے، ہم سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق 14 مئی کو انتخابات کے لیے کھڑے ہوئے ہیں، ہم 14 مئی سے آگے نہیں جائیں گے، ان لوگوں کے پاس کوئی تجویز ہے تو دیدیں ہم اس پر بھی بات کریں گے، اگر یہ کہتے ہیں کہ اکتوبر میں الیکشن ہوں گے تو اس وقت پھر کوئی بہانہ کریں گے، یہ ہمیں ٹریپ کرنا چاہتے ہیں، ہم سپریم کورٹ کے فیصلے کے ساتھ کھڑے ہیں، جولائی میں عام انتخابات کی تجویز دیں ہم اس پر بات کریں گے، وزیر اعظم قومی اسمبلی تحلیل کریں، غیر جانبدار نگرا ن حکومت لائیں پھر بات ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ٹھیک کرنا ہے تو سب کو قانون کے سامنے کھڑا کرنا ہے، ہم نے بدلے نہیں لینے بس قانون کی بالادستی چاہتا ہوں، قانون کی بالادستی کا مطلب یہ نہیں کہ کسی سے بدلے لیں گے، حلفیہ ضمانت دی کہ عدالت میں پیش ہوں گا پھر بھی میرے اوپر پر حملہ کیا گیا، میرے گھر پر چڑھائی کی گئی، اسے پھر بھی معاف کر سکتا ہوں، ظل شاہ کا قتل کیا گیا، نہتے کارکنوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اس کو کیسے معاف کر سکتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ مڈل ایسٹ کے ایک رہنما نے سال پہلے بتایا کہ سابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ تمہارے ساتھ نہیں ہے، آئی بی ہیڈ نے مجھے ذاتی طور پر بتایا قمر جاوید باجوہ شہباز شریف کو لانا چاہتے ہیں، قمر جاوید باجوہ سے براہ راست پوچھا کہیں آپ شہباز شریف کا تو نہیں سوچ رہے، انہوں نے کہا یہ نہیں ہو سکتا، شریف میرے سب سے بڑے دشمن ہیں، قمر جاوید باجوہ کو کہا شہباز شریف پر 17 ارب روپے کے کرپشن کے کیسز ہیں، انہیں سنا ہے یہ لوگ آپ کو توسیع کی پیشکش کر رہے ہیں تو ہم بھی پیشکش کر دیتے ہیں، پہلا جھوٹ یہ تھا کہ وہ کہتے تھے میں مدت میں توسیع نہیں لوں گا، اس کے بعد کچھ جنرل ہمارے پاس آئے تو ہمارے لوگوں کو توسیع کے لیے راضی کیا ۔ قمر جاوید باجوہ نے بھی ایسے جھوٹ بولے جو کبھی نہیں سنے تھے، جب ہماری حکومت گرائی گئی اس وقت پتہ چلا تھا قمر جاوید باجوہ ہم سے جھوٹ بولتا رہا۔ انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ میں 20 دن کا وقت تھا اس میں بھی تاخیر کی تھی۔ بد نیتی کی حد دیکھیں، انہیں وقت دے رہا تھا اور یہ گھر پر چھاپے مار رہے تھے، یہ لوگ سنجیدہ ہی نہیں تھے اس لیے ہم نے لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔ زندگی میں چیلنجززیادہ ہوں تو صلاحیتیں سامنے آتی ہیں، پی ٹی آئی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کاسامنا کر رہی ہے، دیکھ لیں ایک سال میں مہنگائی کی شرح کہاں پہنچا دی گئی ہے، ایک سال پہلے پاکستان کہاں تھا اور دیکھ لیں آج کہاں کھڑا ہے، میرے گھر پر حملہ کیا گیا، مجھے گرفتار کرنے کا پروگرام بنایا گیا، ہم تو پوری طرح انتخابات کی تیاری کر رہے ہیں، (ن) لیگ کا انتخابات سے بھاگنا ہمیں سمجھ آ رہا ہے، مسلم لیگ (ن) بالکل ٹوٹ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ (ن) لیگ کی تاریخ ہے یہ لوگوں کو خریدتے یا بلیک میل کرتے ہیں، آڈیوز ریکارڈ کراتے ہیں اور پھر انہیں لیک کرتے ہیں، مریم نواز خود کہتی ہیں میں نے ویڈیوز بنائی ہوئی ہیں، یہ لوگ مسلسل عدلیہ پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں، آڈیو ریکارڈنگ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹکٹ کیلئے نام فائنل کر لیے، باقاعدہ انتخابی مہم کا آغاز کر رہے ہیں، ہمارے سیاسی مخالفین پنجاب میں نکلیں گے تو انہیں پتا چلے گا لوگ ان سے کیوں نفرت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین کہتا ہے اسمبلیاں تحلیل ہوں تو 90 روز میں الیکشن کرانے ہوں گے، سوموٹو لے کر قاسم سوری کی رولنگ مسترد کی گئی تو عدلیہ کی تعریفیں ہو رہی تھیں، اب سپریم کورٹ کے سوموٹو پر ان کو بہت تکلیف ہو رہی ہے، ہمارے لیے عدالتیں رات 12 بجے کھلتی تھیں، فیصلے سے انکارنہیں کیا۔ عمران خان نے کہا کہ ہم کوئی توڑ پھوڑ نہیں کر رہے، ہماری کوشش ہے بیلٹ سے فیصلہ ہو، جیسے ہی ملک میں انتخابات ہوں گے مخالف یہاں سے بھاگ جائیں گے، جب بھی انتخابات کرائیں ان کا نام ای سی ایل میں ڈال کر کرائیں، جانور بھی دنیا میں آ کر کھاپی پیر کر چلا جاتا ہے، انسان کی زندگی کا مقصد ہے، اس وقت ہم سب کا مقصد حقیقی آزادی ہے، سابق وزیراعظم پر حملہ ہوتا ہے وہ ایف آئی آر نہیں کٹوا سکتا، دنیا میں دیکھیں جو قومیں تباہ ہو رہی ہیں وہاں انصاف نہیں۔ مجرم مریم نواز کو پروٹوکول دیا جا رہا ہے، الیکشن کمیشن ان سے ملا ہوا ہے، نواز شریف اب تک نہیں بتا سکا کہ اربوں روپے کی پراپرٹیز کہاں سے آ ئیں۔ انہوں نے کہا کہ شاہ محمود قریشی، حماد اظہر، فواد چودھری میرے وفاقی وزیر تھے، سارے وزرا ء کو پنجاب میں لگا دوں تو وفاق میں کس سے کام لوں گا، تینوں کی وفاق میں ضرورت ہے، خواہشات پر ملک نہیں چلتا، پنجاب کے وزیراعلیٰ  سے متعلق ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا، پنجاب میں ہماری حکومت آئی تو تین گروپ بن گئے تھے، عثمان بزدار کو اس لیے منتخب کیا کیونکہ ان کی کوئی مخالفت نہیں کر رہا تھا، وزیراعلیٰ  پنجاب کی نامزدگی اس لیے نہیں کر رہا کیونکہ ابھی سے میچ پڑ جائے گا، پرویز الہٰی اور عثمان بزدار دونوں کی مختلف صلاحیتیں تھیں، ساری غلطیوں سے سیکھ کر ایسا وزیراعلیٰ لاؤں گا جو صوبہ کو اوپر لے کر جائے۔ اپنی غلطیوں کی بھاری قیمت ادا کی ہے اور بہت کچھ سیکھا ہے، میں ہر کسی پر بھروسا اور اعتماد کرتا تھا، جس کی بھاری قیمت ادا کی ہے، سبق سیکھ لیا وزیراعظم بن کر کسی پر اعتماد نہیں کر سکتا۔ عمران خان نے کہا کہ توشہ خانہ کی اوپن سماعت ہونی چاہیے، آصف زرداری، مریم نواز نے توشہ خانہ سے گاڑی چوری کی ہے، فنڈنگ اور توشہ خانہ میں یہ لوگ پھنسیں گے۔


متعلقہ خبریں


عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت وجود - منگل 16 جون 2026

ایک شخص کی وجہ سے ملکی تناؤ ہے تو اسے باہر نکالیں، مجھے کہا جاتا ہے آپ تو عمران خان کیخلاف تھے، مخالف جیل میں ہاتھ پاؤں بندھا پڑا ہو تو اس کیخلاف بات نہیں کرتے،سربراہ جے یو آئی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈروں کی تقریروں کو بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے، ہم نے کشمیریوں کی ماؤں بہنوں کی...

عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ وجود - منگل 16 جون 2026

81ہزار ٹن خریداری ہدف سے کم، مقامی مارکیٹ اور پاسکو سے مزید گندم خریدنے کا فیصلہ ہاریوں کو مقررہ امدادی قیمت کی ادائیگی ہر صورت یقینی بنائی جائے،اجلاس میں تفصیلی جائزہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلی ہاؤس میں محکمہ خوراک اور محکمہ زراعت کا مشترکہ اجلاس ...

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ

کراچی کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں ہے،شرجیل میمن وجود - منگل 16 جون 2026

عوام بخوبی جانتے ہیں کہ کس نے اسے بوری بند لاشوں کے تحفے دیے،سینئر صوبائی وزیر کراچی ملک کا معاشی حب اور سندھ کا دارالخلافہ ہے، خالد مقبول کے بیان پر سخت ردعمل سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا خالد مقبول صدیقی کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کراچی کے عوام بخوبی جانتے ہیں ...

کراچی کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں ہے،شرجیل میمن

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان وجود - پیر 15 جون 2026

تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے وجود - پیر 15 جون 2026

پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم وجود - اتوار 14 جون 2026

حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران وجود - اتوار 14 جون 2026

امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران

18 ؍ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش ،تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ وجود - هفته 13 جون 2026

    دفاعی بجٹ 17.6فیصد اضافے کے بعد3؍ہزار 10؍ارب 90 کروڑ مختص، حکومت کے کل اخراجات میں سے 8,054ارب روپے صرف مارک اپ کی ادائیگی کے لیے مختص،جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح میں کمی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18,771 ارب روپے ،سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 1,07...

18 ؍ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش ،تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ

وفاقی بجٹ میں کراچی مکمل نظر انداز ، کوئی پیکیج یا نیا منصوبہ شامل نہیں وجود - هفته 13 جون 2026

  پرانے منصوبوں میں پانی فراہمی کے منصوبے کے فور کے لئے 10ارب اور کراچی اربن انفرا اسٹرکچر کے لئے 7ارب 50کروڑ روپے مختص، حیدرآباد سکھر موٹر وے پر 30ارب روپے خرچ ہونگے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کراچی کوئٹہ چمن روڈ کے لئے 3؍ارب روپے رکھے گئے ، کراچی گرین لائن کے لئے تقری...

وفاقی بجٹ میں کراچی مکمل نظر انداز ، کوئی پیکیج یا نیا منصوبہ شامل نہیں

غریبوں پر بوجھ اور امیروں کو ریلیف دیا گیا، پی ٹی آئی نے بجٹ مسترد کردیا وجود - هفته 13 جون 2026

یہ ن لیگ کا بجٹ ہے جس میں غریب کو صرف ٹکڑے جبکہ امیر کو ریلیف دیا گیا ہے بجٹ ایماندار ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے پر مبنی ہے، شیخ وقاص اکرم کی گفتگو پاکستان تحریک انصاف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو مسترد کردیا۔پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اس ...

غریبوں پر بوجھ اور امیروں کو ریلیف دیا گیا، پی ٹی آئی نے بجٹ مسترد کردیا

مودی سرکار منی پورمیں حالات پرقابو پانے میں ناکام وجود - هفته 13 جون 2026

ناگا قبیلیکے 6افراد کی لاشیں برآمد ، ڈپٹی وزیراعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ منی پور قابض بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے، خانہ جنگی کی صورتحال بھی برقرار مودی کی نااہلی کے باعث منی پور میں فسادات روزانہ ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کررہے ہیں۔بھارت کا اپنا جریدہ "انڈیا نیوز نی...

مودی سرکار منی پورمیں حالات پرقابو پانے میں ناکام

خوشحالی کا دور شروع ہو چکا ، بجٹ تاریخی قرار،شہباز شریف وجود - هفته 13 جون 2026

حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچائے گی ، وزیراعظم حکومت اب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے قابل ہوئی ہے، بیان جاری وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو عوامی ریلیف، معاشی ترقی اور خوشحالی کا بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہ...

خوشحالی کا دور شروع ہو چکا ، بجٹ تاریخی قرار،شہباز شریف

مضامین
ایک تقریب ملتوی ہوگئی!! وجود منگل 16 جون 2026
ایک تقریب ملتوی ہوگئی!!

جھوٹ ہمیشہ اعتماد کا قاتل ہوتا ہے! وجود منگل 16 جون 2026
جھوٹ ہمیشہ اعتماد کا قاتل ہوتا ہے!

کب تک ؟ وجود منگل 16 جون 2026
کب تک ؟

ہندوتوا کی حجاب کے خلاف مہم وجود منگل 16 جون 2026
ہندوتوا کی حجاب کے خلاف مہم

عالمی سطح پر مودی سرکار کی کھلی مداخلت وجود پیر 15 جون 2026
عالمی سطح پر مودی سرکار کی کھلی مداخلت

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر