وجود

... loading ...

وجود

تگڑا شو کرنے والا ہوں، ابھی بتاؤں گا نہیں ،عمران خان

جمعرات 16 جون 2022 تگڑا شو کرنے والا ہوں، ابھی بتاؤں گا نہیں ،عمران خان

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ تگڑا شو کرنے والا ہوں لیکن ابھی نہیں بتاؤں گا ،اگر امریکی سازش کامیاب ہوگئی تو ملک معاشی طور پر تباہ جائے گا، بلوں کو دودھ کی رکھوالی پر بٹھا دیا گیا، اگر ہم نے امریکہ کے سامنے جھکنا نہ چھوڑا تو ہم مکمل غلام ہو جائیں گے ، امریکہ ہمیں کیوں حکم دے کہ ہم روس جائیں یا نہیں، معیشت میں عدم استحکام ہوا توسنبھالی نہیں جاسکے گی ، مجھے یہ خوف ہے کہ موجودہ حکومت پاکستان کو انتہائی کمزور کر دے گی۔ یہ حکومت ہماری قوم کی آزادی کو خطرے میں ڈال رہی ہے ان سب کا ایک ہی حل ہے اور وہ ہے الیکشن، حقیقی آزادی دلوانے کے لئے ساری قوم کو نکلنا ہوگا، جس ملک میں رول آف لا کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں وہاں پھر کیا ہوگا، سب کو حقیقی آزادی کے لیے نکلنے کی دعوت دے رہا ہوں۔ جمعرات کو اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ بار اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی آزادی کی جو تحریک چلی تھی اس میں وکلاء کا بہت بڑا کردار تھا، آج جو پاکستان کی حقیقی آزاد ی کی تحریک ہے اس میں اگر دیگر تمام شعبوں کو ایک طرف رکھ دیں تو پاکستان کے وکلاء کا اس تحریک میں بہت بڑا کردار ہے۔ مجھے کہا گیا کہ جب عدم اعتماد کا ووٹ ہو گا تو آئینی طور پر مجھے قبول کر لینا چاہئے تھا، اب میں وکلاء کے سامنے حقائق رکھتا ہوں ، سات مارچ کو امریکی انڈر سیکرٹری آف اسٹیٹ فار ساؤتھ ایشیاء کی واشنگٹن میں پاکستانی سفیر سے ملاقات ہوتی ہے، وہ پاکستانی سفیر کو کہتا ہے کہ عمران خان روس کیوں گیا تھا اور یہ اس کا اپنا اقدام تھا اور امریکا اس کے اوپر بڑا ناراض ہے اور پھر کہتا ہے کہ عمران خان کو اگر تحریک عدم اعتماد جو اسمبلی میں پیش ہورہی ہے، ابھی سات کو پیش نہیں ہوئی تھی اور وہ تحریک عدم اعتماد پیش ہونے سے ایک دن پہلے آ کر کہتا ہے اگر آپ عمران خان کو نہیں ہٹائیں گے تو پاکستان کو بڑی مشکلوں کا سامان کرنا پڑے گا اور پھر کہتا ہے کہ اگر ہٹا دو گے تو پاکستان کو معاف کردیا جائے گا۔ سات کو یہ ہوتا ہے اور آٹھ کو اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پیش ہوتی ہے اورایک دم ہمارے اتحادیوں کو بھی خیال آتا ہے کہ یہ حکومت تو بہت بری ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی حکم کے بعد ہمارے پندرہ، بیس لوٹوں کو خیال آگیا امریکی ایمبیسی حزب اختلاف کے لوگوں سے ملنا شروع ہوگئے امریکی سفارتخانے کا کیا کام کہ بیک بینچر سے ملے۔ کے پی کے کے وزیر عاطف خان کو بھی حکومت ہٹانے کا کہا گیا انہوں نے کہا کہ جہاں آج پاکستان کھڑا ہے آج وکلا کمیونٹی پر بڑی ذمہ داری ہے پاکستان کے فائونڈر بھی وکیل تھے پاکستان کی آزادی میں وکلا کا بڑا کردار تھا۔ آج حقیقی آزادی میں بھی وکلا کا رول انتہائی اہم ہے۔ سات مارچ کو پاکستانی ایمبیسیڈر کی امریکہ میں میٹنگ ہوئی ہے امریکہ نے کہا کہ عمران خان روس کیوں گیا تھا۔ امریکہ کہتا تھا کہ عمران خان کو نہیں ہٹاؤ گے تو پاکستان کو بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔ چند لوٹے امریکن ایمبیسی سے لوگوں کو بلا بلا کر میٹنگ کر رہے تھے۔ عمران خان نے کہا کہ ہمارے بھی لوٹے امریکن ایمبیسی کے لوگوں سے ملے ہمارے منسٹر خیبرپختونخوا سے بھی امریکن ایمبیسی کے نمائندوں نے میٹنگ کی۔ اتحادیوں سے امریکن ایمبیسی والے ملتے رہے۔ ہماری حکومت کے پہلے دوسال انتہائی مشکل تھے چائنہ مدد نہ کرتا تو بہت مشکل ہو جاتی پھر کورونا آگیا۔ لاک ڈاؤن کا مشکل وقت گزرا جس طرح کورونا کا مقابلہ کیا دنیا کے سامنے ہے کورونا میں عوام کو بڑی مشکلات سے بچایا۔ انہوں نے کہا کہ تیس سالوں میں ہماری معاشی پاور سب سے زیادہ رہی۔ ریکارڈ ایکسپورٹ ریکارڈ ٹیکس کلیکشن رہی، سب سے زیادہ پیسہ کسانوں کو دیا گیا، زرعی گروتھ بہترین رہی بیرونی سازش کے خلاف پاکستانی قوم نے اسٹینڈ نہ لیا تو بڑی مشکلات ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ جنرل مشرف نے اپنی کتاب میں امریکی دھمکیوں کے بارے میں لکھا۔ ماضی میں ہمارے ملک میں چار سو ڈرون اٹیک کئے گئے۔ غلامی کے سامنے ڈٹ گیا تھا۔ میں بھی امریکہ کے سامنے گھٹنے ٹیک سکتا تھا۔ پیٹرول کی قیمتیں بڑھنے سے غریب طبقہ پس جائے گا۔عمران خان نے کہا کہ ہم نے روس سے گیس اور گندم لینی تھی تیل بھی سستا روس سے ملنے والا تھا اب ہم امریکہ سے پوچھ کر روس جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ انڈیا آج چالیس فیصد کم پر روس سے تیل خرید رہا ہے انڈیا نے پچیس فیصد تیل کی قیمت کم کی ہے ہم کیوں نہیں سستا تیل روس سے لے سکتے۔ عمران خان نے کہا کہ امریکہ کو بہتر جانتا ہوں جتنا ہم جھکیں گے وہ ڈو مور کہیں گے، میں امریکہ کا مائنڈ سیٹ جانتا ہوں۔ امریکہ نے دھمکی دی کہ عمران خان کو ہٹاؤ۔ نیشنل سکیورٹی کونسل نے یہ تسلیم کیا کہ مداخلت ہوئی ہے ہم نے چیف جسٹس کو مراسلہ بھیجا، کیا انہیں تحقیقات نہیں کرنی چاہئیں؟عمران خان نے کہا کہ میں غلامی کے سامنے ڈٹ گیا تھا میں بھی امریکہ کے سامنے گھٹنے ٹیک سکتا تھا، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیٹرول کی قیمتیں بڑھنے سے غریب طبقہ پس جائے گا۔ اگر ہم نے امریکہ کے سامنے جھکنا نہ چھوڑا تو ہم مکمل غلام ہو جائیں گے ، امریکہ ہمیں کیوں حکم دے کہ ہم روس جائیں یا نہیں، امریکہ نے کئی دیگر ممالک میں بھی مداخلت کی جب ہماری چھ فیصد گروتھ تھی۔ باہر سے پیسہ بھی آتا تھا جب معلوم ہوا کہ سازش ہو رہی تھی تو میں نے ان کو سمجھایا جو سازش روک سکتے تھے۔ شوکت ترین کو بھی کہا کہ انہیں واضح کریں سازش ہو رہی ہے اب امپورٹڈ حکومت آچکی ہے جن کے آتے ہی اسٹاک مارکیٹ گر گئی۔ امپورٹڈ حکومت صرف این آر او ٹو لینا چاہتی ہے۔ رول آف لاء کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں محض سولہ ارب روپے کے کیسز ختم کروانے چاہتے ہیں۔ تمام کیسز ہماری حکومت سے پہلے کے ہیں ہم نے کسی سے کوئی انتقامی کارروائی نہیں کی، مقصود چپڑاسی بھی مارا گیا دو انوسٹی گیٹر جان سے گئے۔ ایک انوسٹی گیٹر نے کل پھانسی لے لی۔ نیب و ایف آئی اے کے اوپر شہباز شریف بیٹھ گئے ہیں۔ امپورٹڈ حکومت نے نئے لاز سے تمام کرپشن کیسز ختم ہو جائیں گے۔ عمران خان نے کہا کہ صدر مملکت نے تحقیقات کے لیے مراسلہ بھیجا ہے ثبوت کیا ہیں اس پر تحقیقات ہوں امریکہ نے پہلی مرتبہ رجیم چینج نہیں کی۔ 1950میں وزیراعظم کو ہٹایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ معیشت میں عدم استحکام ہوا تو سنبھالی نہیں جائے گی۔ اگر ہم نے اسٹینڈ نہ لیا تو امریکہ آئندہ بھی ایسا کریگا۔ اگر امریکی سازش کامیاب ہوگئی تو ملک معاشی طور پر تباہ جائے گا، بلوں کو دودھ کی رکھوالی پر بٹھا دیا گیا۔ عمران خان نے کہا کہ مجھے یہ خوف ہے کہ موجودہ حکومت پاکستان کو انتہائی کمزور کر دے گی۔ یہ حکومت ہماری قوم کی آزادی کو خطرے میں ڈال رہی ہے، ان سب کا ایک ہی حل ہے اور وہ ہے الیکشن حقیقی آزادی دلوانے کے لئے ساری قوم کو نکلنا ہوگا۔ جس ملک میں رول آف لا کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں وہاں پھر کیا ہوگا۔ سب کو حقیقی آزادی کے لئے نکلنے کی دعوت دے رہا ہوں، تگڑا شو کرنے والا ہوں لیکن ابھی نہیں بتاؤں گا کہ کیا کرنے والا ہوں۔


متعلقہ خبریں


18 ؍ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش ،تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ وجود - هفته 13 جون 2026

    دفاعی بجٹ 17.6فیصد اضافے کے بعد3؍ہزار 10؍ارب 90 کروڑ مختص، حکومت کے کل اخراجات میں سے 8,054ارب روپے صرف مارک اپ کی ادائیگی کے لیے مختص،جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح میں کمی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18,771 ارب روپے ،سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 1,07...

18 ؍ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش ،تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ

وفاقی بجٹ میں کراچی مکمل نظر انداز ، کوئی پیکیج یا نیا منصوبہ شامل نہیں وجود - هفته 13 جون 2026

  پرانے منصوبوں میں پانی فراہمی کے منصوبے کے فور کے لئے 10ارب اور کراچی اربن انفرا اسٹرکچر کے لئے 7ارب 50کروڑ روپے مختص، حیدرآباد سکھر موٹر وے پر 30ارب روپے خرچ ہونگے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کراچی کوئٹہ چمن روڈ کے لئے 3؍ارب روپے رکھے گئے ، کراچی گرین لائن کے لئے تقری...

وفاقی بجٹ میں کراچی مکمل نظر انداز ، کوئی پیکیج یا نیا منصوبہ شامل نہیں

غریبوں پر بوجھ اور امیروں کو ریلیف دیا گیا، پی ٹی آئی نے بجٹ مسترد کردیا وجود - هفته 13 جون 2026

یہ ن لیگ کا بجٹ ہے جس میں غریب کو صرف ٹکڑے جبکہ امیر کو ریلیف دیا گیا ہے بجٹ ایماندار ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے پر مبنی ہے، شیخ وقاص اکرم کی گفتگو پاکستان تحریک انصاف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو مسترد کردیا۔پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اس ...

غریبوں پر بوجھ اور امیروں کو ریلیف دیا گیا، پی ٹی آئی نے بجٹ مسترد کردیا

مودی سرکار منی پورمیں حالات پرقابو پانے میں ناکام وجود - هفته 13 جون 2026

ناگا قبیلیکے 6افراد کی لاشیں برآمد ، ڈپٹی وزیراعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ منی پور قابض بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے، خانہ جنگی کی صورتحال بھی برقرار مودی کی نااہلی کے باعث منی پور میں فسادات روزانہ ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کررہے ہیں۔بھارت کا اپنا جریدہ "انڈیا نیوز نی...

مودی سرکار منی پورمیں حالات پرقابو پانے میں ناکام

خوشحالی کا دور شروع ہو چکا ، بجٹ تاریخی قرار،شہباز شریف وجود - هفته 13 جون 2026

حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچائے گی ، وزیراعظم حکومت اب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے قابل ہوئی ہے، بیان جاری وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو عوامی ریلیف، معاشی ترقی اور خوشحالی کا بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہ...

خوشحالی کا دور شروع ہو چکا ، بجٹ تاریخی قرار،شہباز شریف

قومی اقتصادی سروے پیش،حکومت اہم معاشی اہداف کے حصول میں ناکام وجود - جمعه 12 جون 2026

مہنگائی بتدریج کم ہوئی، شرحِ نمو 3۔7 فیصد تک پہنچ گئی، پچھلے 4 سال کی سب سے بہترین معاشی ترقی، تجارتی غیر یقینی کے بعد پھر سیلاب آیا، مارچ میں خطے میں عدم استحکام ہوا، وفاقی وزیر خزانہ تمام چیلنجز سے درست نبردآزما ہوئے،مالی سال کے دوران 3 بڑے چیلنجز سے کامیابی سے نمٹا گیا،اکنا...

قومی اقتصادی سروے پیش،حکومت اہم معاشی اہداف کے حصول میں ناکام

ایران پر آج شدید حملے کریں گے ،تیل و گیس کے ذخائر اور خارگ جزیرے پر قبضہ کرلیں گے،ٹرمپ کی دھمکی وجود - جمعه 12 جون 2026

امریکا مستقبل میں خارگ جزیرے سمیت ایران کے اہم تیل اور گیس کے انفراسٹرکچر پر قبضہ کرکے ان کی توانائی منڈیوں کا مکمل کنٹرول سنبھال لے گا، پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان یہ حکمت عملی اسی طرز پر ہوگی جس طرح امریکا نے وینزویلا میں توانائی کے شعبے سے متعلق اقدامات کیے تھے، اامریکا...

ایران پر آج شدید حملے کریں گے ،تیل و گیس کے ذخائر اور خارگ جزیرے پر قبضہ کرلیں گے،ٹرمپ کی دھمکی

کراچی بی آر ٹی منصوبے کیلئے 256 الیکٹرک بسیں خریدنے کا فیصلہ وجود - جمعه 12 جون 2026

منصوبہ اپنی تکمیل کے بعد روزانہ تین لاکھ تک مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرے گا 21 کلومیٹر طویل مخصوص بی آر ٹی کوریڈور داؤد چورنگی سے نمائش تک قائم کیا جائے گا کراچی کے یلو لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کے لئے 256 الیکٹرک بسیں خریدی جائیں گی جبکہ منصوبہ اپنی تکمیل ک...

کراچی بی آر ٹی منصوبے کیلئے 256 الیکٹرک بسیں خریدنے کا فیصلہ

پی ٹی آئی رہنما اقبال آفریدی کی قومی اسمبلی کی رکنیت معطل وجود - جمعه 12 جون 2026

اسٹاف پر ہاتھ اٹھایا، ڈی جی میڈیا اور پولیس اہلکاروں سے بدتمیزی کی جو ناقابل قبول ہے (ن) لیگ کی رکن فرح ناز اکبر نے رکنیت معطل کرنے کی تحریک پیش جسے منظور کرلیا گیا اسپیکر قومی اسمبلی نے اسٹاف اور سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ بدتمیزی پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اقبال ...

پی ٹی آئی رہنما اقبال آفریدی کی قومی اسمبلی کی رکنیت معطل

صومالیہ میں یرغمال پاکستانیوں کی رہائی کیلئے سرگرم ہیں،دفترخارجہ وجود - جمعه 12 جون 2026

صومالی سفیر دفتر خارجہ طلب ، یرغمالیوں کی رہائی کیلئے جاری کوششوں پر تبادلہ خیال دو روز قبل وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے صومالیہ کے وزیر خارجہ عبدالسلام علی سے رابطہ کیا ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ صومالیہ میں ایک بحری جہاز پر سوار پاکستانی شہری گزشتہ 15 روز سے یرغمال ہیں اور پ...

صومالیہ میں یرغمال پاکستانیوں کی رہائی کیلئے سرگرم ہیں،دفترخارجہ

پاکستان آرمی کا ہیلی کاپٹرتباہ، تمام سوار اہلکار شہید وجود - جمعرات 11 جون 2026

ایم آئی 17ہیلی کاپٹر مظفر آباد کے قریب حادثے کی درست تکنیکی وجوہات جاننے کیلئے بورڈ آف انکوائری بنانے کا حکم دے دیا گیا ہے جو اپنی تفصیلی رپورٹ مرتب کرے گا،آئی ایس پی آر فیلڈ مارشل ، صدر مملکت و وزیراعظم کا حادثے میں شہید تمام اہلکاروں کو خراجِ عقیدت ،پوری قوم اپنے بہادر سپوتو...

پاکستان آرمی کا ہیلی کاپٹرتباہ، تمام سوار اہلکار شہید

پاک افغان سرحد پر سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 26دہشتگرد ہلاک، 4 اہم اہداف تباہ وجود - جمعرات 11 جون 2026

9جون کو موسی درہ میں فیڈرل کانسٹیبلری کی چوکی پر دہشتگرد حملہ ہوا ،2جون کو شمالی وزیرستان میں فوجی چوکی پر گاڑی میں نصب خودکش بم حملہ ہوا ،9مئی کو بنوں کے پولیس اسٹیشن پر خودکش حملہ کیا گیا دہشتگردکیمپوں اور محفوظ ٹھکانوں کوانتہائی درستگی اور احتیاط سے نشانہ بنایا گیا، تباہ کیے ...

پاک افغان سرحد پر سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 26دہشتگرد ہلاک، 4 اہم اہداف تباہ

مضامین
کرپشن میں ڈوبی بھارتی فوج وجود هفته 13 جون 2026
کرپشن میں ڈوبی بھارتی فوج

بصارت سے آگے کا سفر وجود جمعه 12 جون 2026
بصارت سے آگے کا سفر

امریکہ مخالف بھارت ، روس تعلقات وجود جمعه 12 جون 2026
امریکہ مخالف بھارت ، روس تعلقات

ٹرمپ ڈاکٹرائن کیا ہے؟ وجود جمعه 12 جون 2026
ٹرمپ ڈاکٹرائن کیا ہے؟

آزاد کشمیر:شورش کا حل وجود جمعرات 11 جون 2026
آزاد کشمیر:شورش کا حل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر