وجود

... loading ...

وجود

آئی ایم ایف ہم سے خوش نہیں، مزید مشکل فیصلے کرنے پڑیں گے، مفتاح اسماعیل

هفته 11 جون 2022 آئی ایم ایف ہم سے خوش نہیں، مزید مشکل فیصلے کرنے پڑیں گے، مفتاح اسماعیل

وفاقی وزیر خزانہ و ریونیو ڈاکٹر مفتاح اسماعیل احمد نے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے، آئی ایم ایف ہم سے خوش نہیں ہے، حکومت کو مزید مشکل فیصلے کرنے پڑیں گے، ملک کو انتظا می طور پر ٹھیک کرنا ہو گا وگرنہ ملک کی معیشت نہیں چلے گی۔ مجھے شہباز شریف پر فخر ہے کہ انہوں نے مشکل فیصلے لئے ہیں،اس سیاست کا کوئی فائدہ نہیں جس میں اس ملک کا نقصان ہو ، سرکاری ملازمیں کی تنخواہوں میں اضافہ 2017کے پے اسکیل پر ہو گااور اس کے بعدایڈہاک ریلیف بنیادی تنخواہ میں ضم ہوں گے۔ اگر جون کے مہینے میں ہمارے پاس ہر قسم کا ایندھن موجود بھی ہوتا تو پھر بھی بجلی کی لوڈشیڈنگ ہوتی کیونکہ ہمارے پاس استعدادکار نامکمل تھی۔ آئندہ مالی سال میں ہم تاریخ رقم کریں گے اور ایکسپورٹس کو 35ارب ڈالرز تک لے کر جائیں۔ عمران خان خود بھی نااہل تھے اور ان کی ٹیم بھی نااہل تھی اور خروبر د کے اندر بھی بہت لوگ ملوث تھے۔ میاں محمد نواز شریف تین مرتبہ وزیر اعظم رہے اور وہ نو یا 10سال وزیر اعظم رہے ، تینوں ادوار میں نواز شریف نے جتنا قرضہ لیا، عمران خان نے اس سے دوگنا سے بھی تھوڑا سازیادہ قرضہ پونے چار سال میں لیا ہے کہ مہنگائی کم کرنا بھی ہمارا ٹارگٹ ہے لیکن ہمارا پہلا ٹارگٹ ملک کو ایسی نہج سے ہٹانا ہے جہاں پر عمران خان چھوڑ کر گیا ہے، پہلا ٹارگٹ ہمارایہ ہے کہ ہم سری لنکا کی صورتحال تک نہ چلے جائیں، اور پہلا ٹاگٹ اپنے ملک کے فنانس کو بچانا ہے۔ہمارا دوسرا ٹارگٹ اپنے غریب عوام کو ریلیف دینا ہے ۔ ہم سارا سال یوٹیلیٹی اسٹورز پر سستا آٹا اور سستی چینی بیچتے رہیں گے۔ ان خیالات کااظہار ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے وفاقی وزیر برائے اطلاعات ونشریات مریم اورنگزیب، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریونیو ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا اور دیگر اعلیٰ حکام کے ہمراہ پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ ایک بڑا مشکل وقت ہے اور مشکل وقت میں ہم نے بجٹ دیا ہے اور پاکستان ایک مشکل گھڑی پر کھڑا ہوا ہے۔ مجھے امریکہ سے پڑھ کرآئے ہوئے 30سال ہو گئے ہیں اور میں نے اتنا مشکل اور گھمبیر وقت نہیں دیکھا ہے جہاں ایک طرف بین الاقوامی سطح پر ایک چیلنجنگ ماحول ہے اور دوسری طرف ہماری حکومت کی انتظامیہ بد تر سے بد تر ہو کر ایسی جگہ پر پہنچ گئی ہے جہاں پر ہم نے مسائل کو حل کرنے کی کوئی کوشش نہیں بلکہ ہم مسائل بڑھاتے رہے۔ رواں مالی سال کے دوران حکومت پاکستان نے بجلی کے محکموں کو 1100ارب روپے سے زیادہ سبسڈی دی ہے۔ ہم 100ارب یونٹ بنا کر صارفین تک پہنچاتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ بجلی پر ہم نے 11روپے فی یونٹ سبسڈی دی ہے ۔ 500ارب روپے ہم نے سرکولرڈیٹ کی مد میں دینے ہیں جو بجلی کی مدمیں 500ارب روپے کا ایک اور نقصان ہوا۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم16روپے فی یونٹ بجلی کی مد میں دے رہے ہیں۔ ہم 30،35روپے فی یونٹ بجلی بنارہے ہیں، ہمارے ہاں دنیا بھر کے مقابلہ میں سستے ترین پاور پلانٹس کام کررہے ہیں ، اس کے باوجود بجلی اتنی مہنگی کیوں پیدا ہورہی ہے اس کی وجہ بدانتظامی، ہمارے بجلی کے ریٹ طے کرنے کے نظام میں کچھ سقم ہیں، ہمارے ٹرانسمیشن لاسز ناقابل برداشت حد تک زیادہ ہیں اورگزشتہ تین، چار سال کے دوران اس پر کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ہمار ابل کلیکشن کا ریٹ بہت کم ہے، جن لوگوں کو بجلی دے رہے ہیں ان سے بل نہیں لے پارہے، یہ بہت سارے سقم ہیں، جب 1100ارب روپے اور 1600ارب روپے کا وفاق کا نقصان ہو جاتا ہے تو یہ ملک کو لے ڈوبے گا ، یہ ملک اس کا متحمل نہیں ہو سکتا اور ہماری معیشت اتنا بڑا بوجھ نہیں اٹھا سکتی،1600ارب روپے ہمارے ملک کے دفاعی بجٹ سے بھی زیادہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ رواں مالی سال کے دوران گیس کے شعبہ کے لئے بھی400ارب روپے کی سبسڈی دی گئی ہے جس میں وزیر اعظم پیکیج بھی ہے ، جبکہ گیس کے شعبہ میں 1400ارب روپے کا سرکولر ڈیٹ کر دیاگیا ہے۔ صرف گزشتہ دوسال کے دوران سردیوں میں ایس این جی پی ایل نے200ارب روپے کا نقصان کیا ہے جب ہم نے ایل این جی کو سردیوں میں گھریلو صارفین کو بیچا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بھارت، بنگلادیش اور سری لنکا میں سستی گیس مل رہی ہو گی تو ہم اپنے لوگوں کو مہنگی گیس نہیں دے سکتے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم ایس ایس جی سی کے سسٹم سے 2.4ارب ڈالرز کی گیس سالانہ ہوا میں اڑا دیتے ہیں جبکہ اتنی یااس سے تھوڑی سی کم ایس این جی پی ایل کے سسٹم سے اڑتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم اس طرح کے خرچے برداشت نہیں کرسکتے جن کی ہمارے پاس گنجائش نہیں ہے۔ عمران خان نے جب فروری کے آخر اور مارچ میں جب ان کو لگ رہا تھا کہ ان کی حکومت جارہی ہے توانہوں نے آئی ایم ایف کے معاہدے کے خلاف پیٹرول اور ڈیزل پر جو سبسڈی دی ، بنیادی طور پر وہ چیک لکھ کردے گئے جبکہ آپ کے اکائونٹ میں پیسے نہیں تھے۔ یہ ہم مارکیٹوں میں دیکھتے ہیں دیکھتے ہیں کہ لوگ چیک لکھ کر دیتے ہیں اوراس کے بعد ملک سے بھاگ جاتے ہیں، کوئی سنگا پور چلا جاتا ہے اور پھرچھ، آٹھ سال واپس نہیں آتا، اس کو ہم کراچی میں ٹوپی گھمانا کہتے ہیں یہاں پتا نہیں کیا کہتے ہیں۔ ملک اس طرح چلتے ہیں، مجھے شہباز شریف پر فخر ہے کہ انہوں نے مشکل فیصلے لئے ہیں،اس سیاست کا کوئی فائدہ نہیں ہے جس میں اس ملک کا نقصان ہو رہا ہے۔ اگر مشکل فیصلے لینے ہیں تو ہم لیں گے، اس وقت ہمارے پاس چوائس نہیں ہے کہ ہم مشکل فیصلے نہ لیں، اس وقت ہمیں اٹیک پر جانا ضروری ہے اور ہم یہ کام ضرور کریں گے۔ انہوںنے کہا کہ تاریخ کے چار سب سے بڑے بجٹ خسارے عمران خان نے گزشتہ چار سال میں کئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے۔ آئی ایم ایف ہم سے خوش نہیں ہے، حکومت کو مزید مشکل فیصلے کرنے پڑیں گے،ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پونے چار سال میں عمران خان نے جتنا قرضہ لیایہ پاکستان کی 71سالہ تاریخ کے80فیصد قرضے کے برابر ہے۔ جس سال میں چھوڑ کر گیا تھااس سال ہم نے 1499ارب روپے قرضوں پر سود کی مد میں ہم نے ادا کئے تھے، اس سال ہم نے 3950ارب روپے کا تخمینہ رکھا ہے، یعنی آپ صرف ڈیٹ سروسنگ کے لئے2500ارب روپے اور دے رہے ہیں جو کہ دفاعی بجٹ سے دوگنا ہے۔ ہم7004ارب روپے ٹیکس جمع کریں گے اور ہمارا نان ٹیکس ریونیو دو ہزار ارب روپے ہو جائے گااور یہ کل رقم 9000ارب روپے ہو جائے گی،اس میں سے ہم صوبوں کو 4000ارب روپے دے دیں گے، ہمارے پاس پانچ ہزار ارب روپے بچیں گے جس میں سے 4000ارب روپے سود کی ادائیگی پر لگ جائیں گے اور ہمارے پاس صرف ایک ہزار ارب روپے بچ جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پہلے دن 600ارب روپے کے خسارے سے کام شروع کرتے ہیں۔ یہاں سے ہمیں یہ ملک ملا ہے اور یہاں سے ہم اس ملک کو لے کر چلیں گے ، میں یقین سے کہتا ہوں کہ ملک کے اندر جتنے وسائل ہیں اس کا ہم نے پانچ فیصد بھی استعمال نہیں کیا۔ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے کہا کہ اگر بھارت کے پاس600ارب ڈالرز کے زرمبادلہ کے ذخائر ہوسکتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ ہمارے پاس نہیں ہوسکتے، ہم 1990کی دہائی میں توان سے آگے ہوتے تھے۔ ہرسال ہماری گروتھ اچھی ہوتی تھی اور ہماری مینجمنٹ اچھی ہوتی تھی ، کیا وجہ ہے کہ ہم بنگلادیش سے آگے نہیں ہو سکتے۔ ہم مینجمنٹ ٹھیک کریں گے اور ہم چاہتے ہیں کہ اگر ہم مشکل فیصلے لیں تو میڈیا بھی ایک ،ایک چیز پر نہ چلائے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے کل اخراجات صرف تین فیصد بڑھ رہے ہیں اور اگر ڈیٹ سروسنگ نکال دوں تو میں نے کل اخراجات کم رکھے ہیں، اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے بجلی اور گیس سیکٹر کی سبسڈی کاٹی ہے۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا بجٹ ہم نے تقریباً100ارب روپے بڑھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگلے 15دن قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بجٹ پر بحث ہو گی اور 15روز میں بجٹ کے حوالے سے چھوٹی موٹی تبدیلیاں ہو ں گی۔ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ہم نے ہر جگہ بجٹ میں کٹ لگانے کی کوشش کی ہے، وفاقی حکومت کے خرچے بھی بہت جگہ پر ہم نے کم کرنے کی کوشش کی ہے اور آزاد کشمیر کے بجٹ میں بھی کٹ لگایا ہے اور وزیر اعظم آزاد کشمیر میرے بھائی ہیں اگر وہ بات کرنا چاہتے ہیں تو میرے دروزاے ہر وقت ان کے لئے کھلے ہیں۔ ایک سوال پرمفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ سابقہ فاٹا پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا اور اگر بجٹ بکس میں اس حوالہ سے کچھ لکھا ہے تومیں اس پر معذرت کرتا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کا پورا ارادہ ہے کہ ہم تمام بڑی کمپنیوں کو نجکاری کی طرف لے کر جارہے ہیں جن میں بجلی کی تقسم کار کمپنیاں،سوئی گیس کی دو بڑی تقسیم کار کمپنیاں، پی آئی اے ، اسٹیل ملز اور دیگر شامل ہیں۔ ہم کچھ کمپنیوں کے شیئرز براہ راست مارکیٹ میں بیچیں گے اور ایک دو بڑی کمپنیوں کو پرائیویٹائز کریں گے لیکن ابھی میں اس حوالہ سے بات نہیں کرنا چاہتا کیوںکہ بڑا جھگڑا شروع ہو جاتا ہے۔ انہوںنے کہا کہ عمران خان خود بھی نااہل تھے اور ان کی ٹیم بھی نااہل تھی اور خروبر د کے اندر بھی بہت لوگ ملوث تھے، ہیرے کی بات ہم نے سن لی، راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے میں کیاہوا ہم نے یہ بات سن لی، ہم سب نے دیکھ لیا کہ 48روپے کی چینی بیچ کر96روپے کی چینی آئی ہے، ہم سب نے سن لیا کہ کس طرح تحائف دیئے جاتے تھے، اب تحائف کو رشوت کا نام دیا جاتا ہے۔ میں اگر وزیر خزانہ کا کام چھوڑ کر عمران خان کی پراسیکیوشن کرنے کے پیچھے لگ جائوں تو پھر میرا اپنا کام کون کرے گا۔ انہوں نے کہاکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ 2017کے پے اسکیل پر ہو گااور اس کے بعدایڈہاک ریلیف بنیادی تنخواہ میں ضم ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کو غریبوں کا احسا س ہے اور وہ ہمیشہ غریبوں کی مدد کا سوچتے ہیںاور وہ غریبوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اگر جون کے مہینے میں ہمارے پاس ہر قسم کا ایندھن موجود بھی ہوتا تو پھر بھی بجلی کی لوڈشیڈنگ ہوتی کیونکہ ہمارے پاس استعدادکار نامکمل تھی، عمران خان لوگوں کے سامنے غلط بیانی کرتے رہے ہیں کہ پاکستان میں کوئی اوورکیپیسٹی ہے، جون کے مہینے میں 28ہزار میگاواٹ بجلی کی طلب تھی اور ہر چیز چلاتے تو ہم جون میں 21ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرتے ، آج ہم جامشورو میں فرنس آئل پر پلانٹ چلا رہے ہیں جس سے بجلی فی یونٹ59پیدا ہورہی ہے۔ اگر عمران خان ہمیں جیلوں میں بند کرنے کے علاوہ بھی کوئی کام کرلیتے تو یہ کام نہ ہوتا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ اس بجٹ میں ہم نئی چیز کررہے ہیں کہ غریب لوگوں کو امیر کرکے دیکھتے ہیں، اللہ کرے یہ کامیاب ہو جائے، اگر یہ نہ ہوا تو ایک کوشش کریں گے اس میں کیا ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ میں اب بھی یقین رکھتا ہوں کہ قومیں ہسپتالوں، سکولوں اور سڑکوں سے بنتی ہیں ، خالی تقاریر سے نہیں بنتیں۔


متعلقہ خبریں


وائٹ ہاؤس عشائیے میں ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ، سیکیورٹی اہلکار زخمی، حملہ آور گرفتار وجود - پیر 27 اپریل 2026

تقریب واشنگٹن ہلز میں جاری تھی کہ اچانک فائرنگ کی آوازوں نے ہلچل مچا دی، ہال میں موجود 2 ہزار 600 کے قریب مہمانوں نے چیخنا شروع کر دیا اور لوگ میزوں کے نیچے چھپ گئے پانچ گولیاں چلیں، ٹرمپ بال بال بچ گئے(عینی شاہدین)سیکیورٹی کی خصوصی یونٹ کائونٹر اسالٹ ٹیم کے مسلح اہلکار اسٹیج پر...

وائٹ ہاؤس عشائیے میں ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ، سیکیورٹی اہلکار زخمی، حملہ آور گرفتار

پیٹرولیم مصنوعات کی مد میں عوام پر نیا بوجھ ڈالنے کی تیاری وجود - پیر 27 اپریل 2026

ہم آئی ایم ایف سے رعایت نہ ملی تو اگلے جمعہ 50، 55 روپے لیویپیٹرول یا ڈیزل پر لگانے کا فیصلہ کرنا ہوگا معاہدے کی پاسداری کرنی ہے،آئی ایم ایف کی مدد کے بغیر معیشت کو آگے نہیں چلایا جا سکتا، وفاقی وزیر پیٹرولیم وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کا کہنا ہے کہ ہم آئی ایم ایف ...

پیٹرولیم مصنوعات کی مد میں عوام پر نیا بوجھ ڈالنے کی تیاری

پاکستان دہشت گردی کیخلاف ایک دیوارہے ،عطا تارڑ وجود - پیر 27 اپریل 2026

بھارت دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے، پاکستان مقابلہ کررہا ہے،وزیراطلاعات پہلگا م واقعے کی تحقیقات کی پیشکش پر بھارت کا جواب نہ دینا سوالیہ نشان ہے،گفتگو وفاقی وزیراطلاعات عطا تارڑ نے کہاہے کہ پاکستان دہشت گردی کا مقابلہ کررہا ہے،پاکستان دہشت گردی کیخلاف دیوار ہے جبکہ بھارت دہشت...

پاکستان دہشت گردی کیخلاف ایک دیوارہے ،عطا تارڑ

امریکا سے مذاکرات،ایرانی وزیرخارجہ دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے وجود - پیر 27 اپریل 2026

عباس عراقچی مسقط سے اسلام آباد پہنچے، تہران سے ایرانی وفد بھی اسلام آباد پہنچاہے ایرانی اور امریکی وفود کی آنے والے دنوں میںملاقات ہو سکتی ہے،ایرانی سفارت کار ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی دورہ عمان کے بعد دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے۔ اطلاعات کے مطابق ایرانی وزیرخارجہ عباس ...

امریکا سے مذاکرات،ایرانی وزیرخارجہ دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے

قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،پاکستان کے چیلنجز پرریاست کے ساتھ ہیں،عمران خان وجود - اتوار 26 اپریل 2026

تحریک انصاف ملک، ریاستی اداروں اور عوام کے ساتھ کھڑی ہے ، پاکستانی قوم متحد ہو تو کوئی طاقت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی،بانی پی ٹی آئی کا بھی یہی پیغام ہے ،بیرسٹر گوہر پاکستان کی سفارتی کامیابیوں پر اس کے دشمن ہی ناخوش ہوں گے، ہم بھی خوش مگر چاہتے ہیں اپنوں کو نہ جوڑ کے دوسروں کی...

قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،پاکستان کے چیلنجز پرریاست کے ساتھ ہیں،عمران خان

پاکستان کے ایک کھرب روپے مرکزی مالیاتی نظام سے باہر ،آئی ایم ایف کی گرفت وجود - اتوار 26 اپریل 2026

پاکستان کے ایک کھرب روپے مرکزی مالیاتی نظام سے باہر ،آئی ایم ایف کی گرفت،حکومت کا اعتراف،سرکاری فنڈزمرکزی کنٹرول میں لانے کی یقین دہانی حکومت کی آئی ایم ایف کو70 نئے سرکاری اداروں کے اکاؤنٹس، جن میں اوسطاً 290 ارب روپے موجود ہیں، کمرشل بینکوں سے سرکاری خزانے میں منتقل کرنے کی...

پاکستان کے ایک کھرب روپے مرکزی مالیاتی نظام سے باہر ،آئی ایم ایف کی گرفت

حکومت کاایران امریکا مذاکرات میں سہولت کاری جاری رکھنے کا اعلان وجود - اتوار 26 اپریل 2026

نائب وزیراعظم اسحاق ڈارکا خطے کی تازہ صورتحال پر اہم جائزہ اجلاس،علاقائی پیش رفت اور سفارتی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا پاکستان امن و استحکام کیلئے کردار ادا کرتا رہے گا، غیر مصدقہ ذرائع اور قیاس آرائیوں پر مبنی خبروں سے گریز کیا جائے، اسحاق ڈار نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ مح...

حکومت کاایران امریکا مذاکرات میں سہولت کاری جاری رکھنے کا اعلان

دہشت گرد اسرائیل کے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے، 12 فلسطینی شہید وجود - اتوار 26 اپریل 2026

متعدد زخمی ہو گئے، علاقے میں جنگ بندی کے باوجود کشیدگی برقرار ، وزارتِ داخلہ غزہ سٹی ،خان یونس میںفضائی حملوں میں 6 پولیس اہلکارشہید ہوگئے،عینی شاہدین دہشت گرد اسرائیل کے نہتے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے جاری رہے،غزہ میں صیہونی فورسز کے حملوں میں 6 پولیس اہلکاروں سمیت 12 فلسطین...

دہشت گرد اسرائیل کے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے، 12 فلسطینی شہید

ایران کی مزید ناکہ بندی،نیا بحری بیڑا پہنچنے والا ہے،امریکاکا اعلان وجود - هفته 25 اپریل 2026

ایران اب کبھی جوہری ہتھیار نہیں بنا سکتا،یہ امریکی جنگ نہیں، آبنائے ہرمز سے بڑا فائدہ ایشیا اور یورپی ممالک کو ہے،بحری جہاز اب ہماری شرائط پر ہی گزریں گے،امریکی وزیر دفاع ایران کے ساتھ کسی معاہدے میں جلد بازی نہیں، معاہدہ نہیں کیا تو اس کے خلاف فوری طور پر دوبارہ جنگ شروع کرنے ...

ایران کی مزید ناکہ بندی،نیا بحری بیڑا پہنچنے والا ہے،امریکاکا اعلان

دہشت گرد ہماری امن کوششوں کو کمزور کرنا چاہتے ہیں،صدرمملکت، وزیراعظم وجود - هفته 25 اپریل 2026

دہشت گردی کے ناسور کیخلاف سکیورٹی فورسز کیقربانیاں قابلِ فخر ہیں، وزیر داخلہ ضلع خیبر میںخوارج کی ہلاکتوں اور اسلحے کی برآمدگی پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ضلع خیبر میں مشترکہ انٹیلی جنس آپریشن میں22 دہشت گردوں کی ہلاکت اور اسلحے کی برآمدگی...

دہشت گرد ہماری امن کوششوں کو کمزور کرنا چاہتے ہیں،صدرمملکت، وزیراعظم

پی ٹی آئی کے ساتھ امتیازی سلوک جاری رہا تو ہر قسم کی مصالحت ختم کردیں گے، سہیل آفریدی وجود - هفته 25 اپریل 2026

پاکستان کو امن اور مذاکرات کے کردار پر عالمی پذیرائی ملی، عمران خان 24 سال سے اسی پالیسی کے داعی رہے ہیں قومی مفاد کو مقدم رکھا ، ذمہ دار سیاسی رویے کا مظاہرہ کیاوفاقی حکومت کے اجلاس میں شرکت کی، اجلاس سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ اگر ملک ک...

پی ٹی آئی کے ساتھ امتیازی سلوک جاری رہا تو ہر قسم کی مصالحت ختم کردیں گے، سہیل آفریدی

آئی ایم ایف بورڈ سے قرض کیلئے اگلی قسط کی منظوری متوقع وجود - هفته 25 اپریل 2026

عالمی مالیاتی ادارہ نے 4 مئی کیلئے اپنے ایگزیکٹو بورڈ اجلاس کا شیڈول جاری کر دیا پاکستان کیلئے 1۔2 ارب ڈالر کی اگلی قسط کی منظوری دی جائے گی،وزارت خزانہ حکام وفاقی وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) بورڈ سے مئی کے پہلے ہفتے میں پاکستان کے لیے قرض کی ا...

آئی ایم ایف بورڈ سے قرض کیلئے اگلی قسط کی منظوری متوقع

مضامین
معنی کی تلاش میں سرگرداں! وجود پیر 27 اپریل 2026
معنی کی تلاش میں سرگرداں!

26اپریل1984 ۔۔امتناع قادیانیت آرڈیننس وجود پیر 27 اپریل 2026
26اپریل1984 ۔۔امتناع قادیانیت آرڈیننس

اختلافِ رائے ۔۔رحمت یا زحمت؟ ایک فکری جائزہ وجود پیر 27 اپریل 2026
اختلافِ رائے ۔۔رحمت یا زحمت؟ ایک فکری جائزہ

چلو !! آج ہنستے ہیں! وجود پیر 27 اپریل 2026
چلو !! آج ہنستے ہیں!

دوڑتا ہوا سایہ وجود اتوار 26 اپریل 2026
دوڑتا ہوا سایہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر