وجود

... loading ...

وجود

آئی ایم ایف ہم سے خوش نہیں، مزید مشکل فیصلے کرنے پڑیں گے، مفتاح اسماعیل

هفته 11 جون 2022 آئی ایم ایف ہم سے خوش نہیں، مزید مشکل فیصلے کرنے پڑیں گے، مفتاح اسماعیل

وفاقی وزیر خزانہ و ریونیو ڈاکٹر مفتاح اسماعیل احمد نے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے، آئی ایم ایف ہم سے خوش نہیں ہے، حکومت کو مزید مشکل فیصلے کرنے پڑیں گے، ملک کو انتظا می طور پر ٹھیک کرنا ہو گا وگرنہ ملک کی معیشت نہیں چلے گی۔ مجھے شہباز شریف پر فخر ہے کہ انہوں نے مشکل فیصلے لئے ہیں،اس سیاست کا کوئی فائدہ نہیں جس میں اس ملک کا نقصان ہو ، سرکاری ملازمیں کی تنخواہوں میں اضافہ 2017کے پے اسکیل پر ہو گااور اس کے بعدایڈہاک ریلیف بنیادی تنخواہ میں ضم ہوں گے۔ اگر جون کے مہینے میں ہمارے پاس ہر قسم کا ایندھن موجود بھی ہوتا تو پھر بھی بجلی کی لوڈشیڈنگ ہوتی کیونکہ ہمارے پاس استعدادکار نامکمل تھی۔ آئندہ مالی سال میں ہم تاریخ رقم کریں گے اور ایکسپورٹس کو 35ارب ڈالرز تک لے کر جائیں۔ عمران خان خود بھی نااہل تھے اور ان کی ٹیم بھی نااہل تھی اور خروبر د کے اندر بھی بہت لوگ ملوث تھے۔ میاں محمد نواز شریف تین مرتبہ وزیر اعظم رہے اور وہ نو یا 10سال وزیر اعظم رہے ، تینوں ادوار میں نواز شریف نے جتنا قرضہ لیا، عمران خان نے اس سے دوگنا سے بھی تھوڑا سازیادہ قرضہ پونے چار سال میں لیا ہے کہ مہنگائی کم کرنا بھی ہمارا ٹارگٹ ہے لیکن ہمارا پہلا ٹارگٹ ملک کو ایسی نہج سے ہٹانا ہے جہاں پر عمران خان چھوڑ کر گیا ہے، پہلا ٹارگٹ ہمارایہ ہے کہ ہم سری لنکا کی صورتحال تک نہ چلے جائیں، اور پہلا ٹاگٹ اپنے ملک کے فنانس کو بچانا ہے۔ہمارا دوسرا ٹارگٹ اپنے غریب عوام کو ریلیف دینا ہے ۔ ہم سارا سال یوٹیلیٹی اسٹورز پر سستا آٹا اور سستی چینی بیچتے رہیں گے۔ ان خیالات کااظہار ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے وفاقی وزیر برائے اطلاعات ونشریات مریم اورنگزیب، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریونیو ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا اور دیگر اعلیٰ حکام کے ہمراہ پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ ایک بڑا مشکل وقت ہے اور مشکل وقت میں ہم نے بجٹ دیا ہے اور پاکستان ایک مشکل گھڑی پر کھڑا ہوا ہے۔ مجھے امریکہ سے پڑھ کرآئے ہوئے 30سال ہو گئے ہیں اور میں نے اتنا مشکل اور گھمبیر وقت نہیں دیکھا ہے جہاں ایک طرف بین الاقوامی سطح پر ایک چیلنجنگ ماحول ہے اور دوسری طرف ہماری حکومت کی انتظامیہ بد تر سے بد تر ہو کر ایسی جگہ پر پہنچ گئی ہے جہاں پر ہم نے مسائل کو حل کرنے کی کوئی کوشش نہیں بلکہ ہم مسائل بڑھاتے رہے۔ رواں مالی سال کے دوران حکومت پاکستان نے بجلی کے محکموں کو 1100ارب روپے سے زیادہ سبسڈی دی ہے۔ ہم 100ارب یونٹ بنا کر صارفین تک پہنچاتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ بجلی پر ہم نے 11روپے فی یونٹ سبسڈی دی ہے ۔ 500ارب روپے ہم نے سرکولرڈیٹ کی مد میں دینے ہیں جو بجلی کی مدمیں 500ارب روپے کا ایک اور نقصان ہوا۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم16روپے فی یونٹ بجلی کی مد میں دے رہے ہیں۔ ہم 30،35روپے فی یونٹ بجلی بنارہے ہیں، ہمارے ہاں دنیا بھر کے مقابلہ میں سستے ترین پاور پلانٹس کام کررہے ہیں ، اس کے باوجود بجلی اتنی مہنگی کیوں پیدا ہورہی ہے اس کی وجہ بدانتظامی، ہمارے بجلی کے ریٹ طے کرنے کے نظام میں کچھ سقم ہیں، ہمارے ٹرانسمیشن لاسز ناقابل برداشت حد تک زیادہ ہیں اورگزشتہ تین، چار سال کے دوران اس پر کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ہمار ابل کلیکشن کا ریٹ بہت کم ہے، جن لوگوں کو بجلی دے رہے ہیں ان سے بل نہیں لے پارہے، یہ بہت سارے سقم ہیں، جب 1100ارب روپے اور 1600ارب روپے کا وفاق کا نقصان ہو جاتا ہے تو یہ ملک کو لے ڈوبے گا ، یہ ملک اس کا متحمل نہیں ہو سکتا اور ہماری معیشت اتنا بڑا بوجھ نہیں اٹھا سکتی،1600ارب روپے ہمارے ملک کے دفاعی بجٹ سے بھی زیادہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ رواں مالی سال کے دوران گیس کے شعبہ کے لئے بھی400ارب روپے کی سبسڈی دی گئی ہے جس میں وزیر اعظم پیکیج بھی ہے ، جبکہ گیس کے شعبہ میں 1400ارب روپے کا سرکولر ڈیٹ کر دیاگیا ہے۔ صرف گزشتہ دوسال کے دوران سردیوں میں ایس این جی پی ایل نے200ارب روپے کا نقصان کیا ہے جب ہم نے ایل این جی کو سردیوں میں گھریلو صارفین کو بیچا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بھارت، بنگلادیش اور سری لنکا میں سستی گیس مل رہی ہو گی تو ہم اپنے لوگوں کو مہنگی گیس نہیں دے سکتے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم ایس ایس جی سی کے سسٹم سے 2.4ارب ڈالرز کی گیس سالانہ ہوا میں اڑا دیتے ہیں جبکہ اتنی یااس سے تھوڑی سی کم ایس این جی پی ایل کے سسٹم سے اڑتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم اس طرح کے خرچے برداشت نہیں کرسکتے جن کی ہمارے پاس گنجائش نہیں ہے۔ عمران خان نے جب فروری کے آخر اور مارچ میں جب ان کو لگ رہا تھا کہ ان کی حکومت جارہی ہے توانہوں نے آئی ایم ایف کے معاہدے کے خلاف پیٹرول اور ڈیزل پر جو سبسڈی دی ، بنیادی طور پر وہ چیک لکھ کردے گئے جبکہ آپ کے اکائونٹ میں پیسے نہیں تھے۔ یہ ہم مارکیٹوں میں دیکھتے ہیں دیکھتے ہیں کہ لوگ چیک لکھ کر دیتے ہیں اوراس کے بعد ملک سے بھاگ جاتے ہیں، کوئی سنگا پور چلا جاتا ہے اور پھرچھ، آٹھ سال واپس نہیں آتا، اس کو ہم کراچی میں ٹوپی گھمانا کہتے ہیں یہاں پتا نہیں کیا کہتے ہیں۔ ملک اس طرح چلتے ہیں، مجھے شہباز شریف پر فخر ہے کہ انہوں نے مشکل فیصلے لئے ہیں،اس سیاست کا کوئی فائدہ نہیں ہے جس میں اس ملک کا نقصان ہو رہا ہے۔ اگر مشکل فیصلے لینے ہیں تو ہم لیں گے، اس وقت ہمارے پاس چوائس نہیں ہے کہ ہم مشکل فیصلے نہ لیں، اس وقت ہمیں اٹیک پر جانا ضروری ہے اور ہم یہ کام ضرور کریں گے۔ انہوںنے کہا کہ تاریخ کے چار سب سے بڑے بجٹ خسارے عمران خان نے گزشتہ چار سال میں کئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے۔ آئی ایم ایف ہم سے خوش نہیں ہے، حکومت کو مزید مشکل فیصلے کرنے پڑیں گے،ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پونے چار سال میں عمران خان نے جتنا قرضہ لیایہ پاکستان کی 71سالہ تاریخ کے80فیصد قرضے کے برابر ہے۔ جس سال میں چھوڑ کر گیا تھااس سال ہم نے 1499ارب روپے قرضوں پر سود کی مد میں ہم نے ادا کئے تھے، اس سال ہم نے 3950ارب روپے کا تخمینہ رکھا ہے، یعنی آپ صرف ڈیٹ سروسنگ کے لئے2500ارب روپے اور دے رہے ہیں جو کہ دفاعی بجٹ سے دوگنا ہے۔ ہم7004ارب روپے ٹیکس جمع کریں گے اور ہمارا نان ٹیکس ریونیو دو ہزار ارب روپے ہو جائے گااور یہ کل رقم 9000ارب روپے ہو جائے گی،اس میں سے ہم صوبوں کو 4000ارب روپے دے دیں گے، ہمارے پاس پانچ ہزار ارب روپے بچیں گے جس میں سے 4000ارب روپے سود کی ادائیگی پر لگ جائیں گے اور ہمارے پاس صرف ایک ہزار ارب روپے بچ جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پہلے دن 600ارب روپے کے خسارے سے کام شروع کرتے ہیں۔ یہاں سے ہمیں یہ ملک ملا ہے اور یہاں سے ہم اس ملک کو لے کر چلیں گے ، میں یقین سے کہتا ہوں کہ ملک کے اندر جتنے وسائل ہیں اس کا ہم نے پانچ فیصد بھی استعمال نہیں کیا۔ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے کہا کہ اگر بھارت کے پاس600ارب ڈالرز کے زرمبادلہ کے ذخائر ہوسکتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ ہمارے پاس نہیں ہوسکتے، ہم 1990کی دہائی میں توان سے آگے ہوتے تھے۔ ہرسال ہماری گروتھ اچھی ہوتی تھی اور ہماری مینجمنٹ اچھی ہوتی تھی ، کیا وجہ ہے کہ ہم بنگلادیش سے آگے نہیں ہو سکتے۔ ہم مینجمنٹ ٹھیک کریں گے اور ہم چاہتے ہیں کہ اگر ہم مشکل فیصلے لیں تو میڈیا بھی ایک ،ایک چیز پر نہ چلائے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے کل اخراجات صرف تین فیصد بڑھ رہے ہیں اور اگر ڈیٹ سروسنگ نکال دوں تو میں نے کل اخراجات کم رکھے ہیں، اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے بجلی اور گیس سیکٹر کی سبسڈی کاٹی ہے۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا بجٹ ہم نے تقریباً100ارب روپے بڑھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگلے 15دن قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بجٹ پر بحث ہو گی اور 15روز میں بجٹ کے حوالے سے چھوٹی موٹی تبدیلیاں ہو ں گی۔ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ہم نے ہر جگہ بجٹ میں کٹ لگانے کی کوشش کی ہے، وفاقی حکومت کے خرچے بھی بہت جگہ پر ہم نے کم کرنے کی کوشش کی ہے اور آزاد کشمیر کے بجٹ میں بھی کٹ لگایا ہے اور وزیر اعظم آزاد کشمیر میرے بھائی ہیں اگر وہ بات کرنا چاہتے ہیں تو میرے دروزاے ہر وقت ان کے لئے کھلے ہیں۔ ایک سوال پرمفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ سابقہ فاٹا پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا اور اگر بجٹ بکس میں اس حوالہ سے کچھ لکھا ہے تومیں اس پر معذرت کرتا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کا پورا ارادہ ہے کہ ہم تمام بڑی کمپنیوں کو نجکاری کی طرف لے کر جارہے ہیں جن میں بجلی کی تقسم کار کمپنیاں،سوئی گیس کی دو بڑی تقسیم کار کمپنیاں، پی آئی اے ، اسٹیل ملز اور دیگر شامل ہیں۔ ہم کچھ کمپنیوں کے شیئرز براہ راست مارکیٹ میں بیچیں گے اور ایک دو بڑی کمپنیوں کو پرائیویٹائز کریں گے لیکن ابھی میں اس حوالہ سے بات نہیں کرنا چاہتا کیوںکہ بڑا جھگڑا شروع ہو جاتا ہے۔ انہوںنے کہا کہ عمران خان خود بھی نااہل تھے اور ان کی ٹیم بھی نااہل تھی اور خروبر د کے اندر بھی بہت لوگ ملوث تھے، ہیرے کی بات ہم نے سن لی، راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے میں کیاہوا ہم نے یہ بات سن لی، ہم سب نے دیکھ لیا کہ 48روپے کی چینی بیچ کر96روپے کی چینی آئی ہے، ہم سب نے سن لیا کہ کس طرح تحائف دیئے جاتے تھے، اب تحائف کو رشوت کا نام دیا جاتا ہے۔ میں اگر وزیر خزانہ کا کام چھوڑ کر عمران خان کی پراسیکیوشن کرنے کے پیچھے لگ جائوں تو پھر میرا اپنا کام کون کرے گا۔ انہوں نے کہاکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ 2017کے پے اسکیل پر ہو گااور اس کے بعدایڈہاک ریلیف بنیادی تنخواہ میں ضم ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کو غریبوں کا احسا س ہے اور وہ ہمیشہ غریبوں کی مدد کا سوچتے ہیںاور وہ غریبوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اگر جون کے مہینے میں ہمارے پاس ہر قسم کا ایندھن موجود بھی ہوتا تو پھر بھی بجلی کی لوڈشیڈنگ ہوتی کیونکہ ہمارے پاس استعدادکار نامکمل تھی، عمران خان لوگوں کے سامنے غلط بیانی کرتے رہے ہیں کہ پاکستان میں کوئی اوورکیپیسٹی ہے، جون کے مہینے میں 28ہزار میگاواٹ بجلی کی طلب تھی اور ہر چیز چلاتے تو ہم جون میں 21ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرتے ، آج ہم جامشورو میں فرنس آئل پر پلانٹ چلا رہے ہیں جس سے بجلی فی یونٹ59پیدا ہورہی ہے۔ اگر عمران خان ہمیں جیلوں میں بند کرنے کے علاوہ بھی کوئی کام کرلیتے تو یہ کام نہ ہوتا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ اس بجٹ میں ہم نئی چیز کررہے ہیں کہ غریب لوگوں کو امیر کرکے دیکھتے ہیں، اللہ کرے یہ کامیاب ہو جائے، اگر یہ نہ ہوا تو ایک کوشش کریں گے اس میں کیا ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ میں اب بھی یقین رکھتا ہوں کہ قومیں ہسپتالوں، سکولوں اور سڑکوں سے بنتی ہیں ، خالی تقاریر سے نہیں بنتیں۔


متعلقہ خبریں


فیلڈ مارشل کا دورۂ تہرن،اہم امریکی پیغام پہنچا دیا،امریکا ، ایران مذاکرات اگلے ہفتے اسلام آباد میںہوں گے وجود - جمعرات 16 اپریل 2026

سیدعاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی کا وفد کے ہمراہ تہران پہنچنے پر پُرتپاک استقبال ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کیا، سفارتی اور ثالثی کوششوں کے سلسلے کو آگے بڑھائیں گے آرمی چیف کی قیادت میں اعلیٰ سطح کا وفد ایرانی حکومت کے اعلیٰ ترین حکام سے مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاری ...

فیلڈ مارشل کا دورۂ تہرن،اہم امریکی پیغام پہنچا دیا،امریکا ، ایران مذاکرات اگلے ہفتے اسلام آباد میںہوں گے

پی ای سی ایچ ایس، امتحانی مرکز پر چیئرمین میٹرک بورڈ کا چھاپہ، سینٹر سپرٹنڈنٹ معطل وجود - جمعرات 16 اپریل 2026

اساتذہ اور والدین کی جانب سے انکشاف کیا گیا تھا کہ امتحانی مرکز میں پیسوں کے عوض نقل کرائی جا رہی ہے نقل کی روک تھام کیلئیزیرو ٹالرنس کی پالیسی برقرار رہے گی،شفافیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا ،غلام حسین سوہو چیئرمین میٹرک بورڈغلام حسین سوہو نے پیسوں کے عوض نقل کی شکایت پر گورن...

پی ای سی ایچ ایس، امتحانی مرکز پر چیئرمین میٹرک بورڈ کا چھاپہ، سینٹر سپرٹنڈنٹ معطل

وزیراعلیٰ سندھ کا محکمہ خوراک کو گندم خریداری مہم تیز کرنے کا حکم وجود - جمعرات 16 اپریل 2026

9لاکھ 73ہزار 900میٹرک ٹن کا مجموعی ہدف مقرر کیا گیاہے،مراد علی شاہ تمام اضلاع اپنے نظام کو فعال بنائیں،بلا تاخیر ہدف حاصل کریں، بریفنگ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبائی محکمہ خوراک کو گندم خریداری مہم تیز کرنے کا حکم دے دیا۔ترجمان وزیراعلی سندھ کے مطابق سید مراد علی شا...

وزیراعلیٰ سندھ کا محکمہ خوراک کو گندم خریداری مہم تیز کرنے کا حکم

افغان طالبان کی باجوڑ میں آبادی پر گولہ باری ،2بچوں سمیت 3 افرادشہید وجود - جمعرات 16 اپریل 2026

افغان طالبان کی کچھ روز سے فتنہ الخوارج کی ایک تشکیل کو پاکستان میں داخل کرانے کی کوشش پاک فوج کی جوابی کارروائی پر افغانستان سے فائر کرنیوالی گن پوزیشن کو تباہ کردیا،سکیورٹی ذرائع افغان طالبان کی باجوڑ میں پاکستانی سول آبادی پر گولہ باری ،2بچوں سمیت 3 افرادشہید، 3شدید زخمی ہ...

افغان طالبان کی باجوڑ میں آبادی پر گولہ باری ،2بچوں سمیت 3 افرادشہید

غزہ میں اسرائیل کی جنگ بندی خلاف ورزیاں ، تازہ حملے میں11فلسطینی شہید وجود - جمعرات 16 اپریل 2026

3اور 14سال کے دو بچے شہید، اسرائیلی جنگی طیاروں نے پولیس گاڑی کو نشانہ بنایا شاطی پناہ گزین کیمپ کے قریب چوک پر اسرائیلی ڈرون حملے میں کئی افراد نشانہ بنے حماس کے ساتھ جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری ہیں جس میں اسرائیل کے غزہ پٹی میں تازہ حملے...

غزہ میں اسرائیل کی جنگ بندی خلاف ورزیاں ، تازہ حملے میں11فلسطینی شہید

امریکا ،ایران میں دوبارہ مذاکرات کی تیاری،اگلا دور بھی پاکستان میں ہوسکتا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ وجود - بدھ 15 اپریل 2026

ایران کے بعد امریکا کی ترجیح پاکستان بن گیا، امریکی صدر نے آئندہ دو روز میں مذاکرات کا اشارہ دے دیا،ہم پاکستان جانے پر زیادہ مائل ہیں،فیلڈ مارشل عاصم منیر لاجواب آدمی ہیں مذاکرات ممکنہ طور پر جمعرات کو اسلام آباد میں منعقد ہو سکتے ہیں، دونوں فریقین اہم تنازعات پر بات چیت جاری رک...

امریکا ،ایران میں دوبارہ مذاکرات کی تیاری،اگلا دور بھی پاکستان میں ہوسکتا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ

پیٹرولیم لیوی ٹیکس عوام پر ظلم ، عدالت سے رجوع کرینگے،حافظ نعیم وجود - بدھ 15 اپریل 2026

کھرب پتی طبقہ ٹیکس بچا رہا ہے موٹرسائیکل چلانیوالا عام شہری ٹیکس ادا کر رہا ہے عوام ایک لیٹر پیٹرول پر تقریباً سوا سو روپے ٹیکس ادا کر رہے ہیں، پریس کانفرنس حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ پٹرولیم لیوی ٹیکس کے معاملے پر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے گا کیونکہ یہ عوام کے ساتھ ...

پیٹرولیم لیوی ٹیکس عوام پر ظلم ، عدالت سے رجوع کرینگے،حافظ نعیم

حکومت کا روزانہ 2 گھنٹے 15 منٹ لوڈشیڈنگ کا فیصلہ وجود - بدھ 15 اپریل 2026

شام 5بجے سے رات ایک بجے تک بجلی کی لوڈشیڈنگ کی جائے گی، پاور ڈویژن بجلی مہنگی ہونے سے بچانے کیلئے مہنگے ایندھن کے استعمال کو کم سے کم رکھا جا سکے ترجمان پاور ڈویژن نے کہاہے کہ بجلی مہنگی ہونے سے بچانے کے لیے شام 5بجے سے رات 00:1بجے تک روزانہ 2 گھنٹے15،منٹ تک بجلی کی لوڈشیڈنگ ...

حکومت کا روزانہ 2 گھنٹے 15 منٹ لوڈشیڈنگ کا فیصلہ

عمران خان کی صحت اور قید تنہائی تشویشناک قرار وجود - بدھ 15 اپریل 2026

قید تنہائی کسی بھی قیدی کیلئے انتہائی سخت سزا ، امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے بانی پی ٹی آئی کے مطابق ان کی آنکھ میں کوئی بہتری نہیں آئی، سلمان صفدر بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے کہا ہے کہ ان کے مؤکل کی صحت اور قید تنہائی کی صورتحال نہایت تشویشناک ہے۔لاہور ہائیکورٹ بار می...

عمران خان کی صحت اور قید تنہائی تشویشناک قرار

گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی، وزیراعلیٰ سندھ وجود - بدھ 15 اپریل 2026

مراد علی شاہ کی زیرصدارت گندم خریداری پالیسی کا جائزہ اجلاس، خریداری مہم تیز کرنے کی ہدایت سبسڈی لینے والے آبادگاروں سے گندم خریدی جائے، تمام اضلاع میں مراکز فعال کیے جائیں کراچی میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرصدارت گندم خریداری پالیسی کا جائزہ اجلاس ہوا، چھوٹے آبا...

گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی، وزیراعلیٰ سندھ

پاک فضائیہ جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے تیار،نیول چیف وجود - بدھ 15 اپریل 2026

پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی کوششوں سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی ممکن ہوئی ایڈمرل نوید اشرف کا ایٔر فورس اکیڈمی میںکیڈٹس کی پاسنگ آؤٹ کی تقریب سے خطاب چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے کہا ہے کہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی کوششوں سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی ممکن...

پاک فضائیہ جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے تیار،نیول چیف

ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا،جے ڈی وینس وجود - بدھ 15 اپریل 2026

ایران کیساتھ مذاکرات میں کافی پیش رفت ہوئی، گیند اب تہران کے کورٹ میں ہماری تمام ریڈ لائنز اسی بنیادی اصول سے نکلتی ہیں،امریکی نائب صدر کا انٹرویو امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ حالیہ مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے...

ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا،جے ڈی وینس

مضامین
مسلم ،تیرا انداز بدل کیوں نہیں جاتا؟ وجود جمعرات 16 اپریل 2026
مسلم ،تیرا انداز بدل کیوں نہیں جاتا؟

پاکستان کی ثالثی،مودی پر تنقید وجود جمعرات 16 اپریل 2026
پاکستان کی ثالثی،مودی پر تنقید

پیمراقوانین اور ٹی وی نشریات کا زوال وجود جمعرات 16 اپریل 2026
پیمراقوانین اور ٹی وی نشریات کا زوال

اسلام آباد کا سفارتی مشن اورعالمی سیاست میں بڑی تبدیلی کی آہٹ وجود جمعرات 16 اپریل 2026
اسلام آباد کا سفارتی مشن اورعالمی سیاست میں بڑی تبدیلی کی آہٹ

مذاکرات سے مثبت امیدیں وجود بدھ 15 اپریل 2026
مذاکرات سے مثبت امیدیں

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر