وجود

... loading ...

وجود

ملک میں سالانہ 80 ٹن سونا اسمگلنگ کے ذریعے درآمد ہونے کا انکشاف

جمعه 07 جنوری 2022 ملک میں سالانہ 80 ٹن سونا اسمگلنگ کے ذریعے درآمد ہونے کا انکشاف

قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں ملک میں سالانہ 80 ٹن سونا اسمگلنگ کے ذریعے درآمد ہونے کا انکشاف ہوا اور بتایاگیا ہے کہ پاکستان میں سونا درآمد کرنے کی کوئی پالیسی اور ٹیکس نظام نہیں،صرف سونا ہی نہیں ڈائمنڈ بھی اسمگلنگ کے ذریعے آ رہا ہے جس پر ممبر ایف بی آر نے کہاہے کہ پاکستان میں سالانہ 160 ٹن سونا استعمال میں آتا ہے۔80 ٹن سونا مختلف ممالک سے اسمگلنگ کے ذریعے آ رہا ہے،پاکستان میں سونا کی مارکیٹ تقریباً 2.2 ٹریلین روپے کی ہے۔ایف بی آر میں صرف 29 ارب روپے گولڈ مارکیٹ ڈکلئیرڈ ہے،36 ہزار سوناروں میں سے صرف 54 گولڈسمتھ ٹیکس دیتے ہیں جبکہ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے سونے پر سیلز ٹیکس ڈیڑھ فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد کرنے کی تجویز مسترد کر دی۔ جمعرات کوسینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد طلحہ محمود کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی میں مالیاتی بل کا شق وارجائزہ لیاگیا۔ سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ مالیاتی بل پیش ہورہا ہے اور فنانس والے نہیں آئے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اگر بل کو مسترد کردیں تو پیغام یہی جائے گا کہ سینیٹ نے بل مسترد کردیا۔ قائمہ کمیٹی نے ڈریپ سے وٹامن کی ادویات کی تعریف طلب کی جس پر قائمہ کمیٹی کو ڈریپ کی جانب سے بریفنگ میں بتایا گیا کہ رجسٹرڈ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوگا اورپیکجنگ میٹریل اور یوٹیلٹیز پر ٹیکس پہلے سے موجود ہے۔ٹیکس بڑھنے سے عمومی طور پر ادویات کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوگا۔قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ضروری وٹامنز کی قیمتوں میں بھی اضافہ نہیں ہوگا جبکہ دیگر وٹامنز کی قیمتوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔گزشتہ دنوں 8 ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا۔چیئرمین ایف بی آر نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ ایف بی آر خود سے ادویات کی فہرست بناکر ٹیکس نہیں لگائے گا۔ وٹامن اے، بی، سی، ڈی پر ایف بی آر ٹیکس نہیں لگائے گا۔ سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ ادویات کے خام مال پر ٹیکس سے کمپنیوں کا سرمایہ پھنس جائے گا۔ چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ ملک میں ادویات کی صنعت ابتدائی مراحل میں ہے ان کا بھی یہی خدشہ ہے۔کمپنیاں سرمایہ پھنسنے کے بارے میں تحریری طور پر بتائے۔انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے وزیر خزانہ سے بات کریں گے کہ کمپنیوں کے سرمایہ کو تحفظ دیں۔ایف بی آر کمپنیوں کے تحفظات کی روشنی میں پالیسی بنائے گا۔سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ٹیکس لگتے ہی ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔ جس پر چیئرمین ایف بی آر نے جواب دیا کہ ہم قیمتیں بڑھنے نہیں دیں گے۔سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ ٹیکس کی رقم کے بجائے اسی مالیت کا چیک لینے کی پالیسی بنائی جائے۔سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ حکومت نے گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے اس کا براہ راست اثر عام آدمی پر پڑ رہا ہے۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں ضمنی مالیاتی بل پر چیئرمین ایف بی آر نے کمیٹی کو بریفنگ دی۔قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ درآمدی مال کی ویلیویشن میں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ماضی قریب میں کسٹم سٹاف کو دیئے گئے اختیارات واپس لئے گئے۔کسٹمز کو اختیارات قانونی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے دیئے گئے ہیں۔جس پر اراکین کمیٹی نے کہا کہ کلکٹر کے ویلیوشن اختیارات مکمل طور پر ختم کرنے کی سفارش ایف بی آر کو بھیجی جائے۔سینیٹر فیصل سبزواری نے کہا کہ میڈیا میں آرہا ہے کہ ضمنی مالیاتی بل کی وجہ سے مہنگائی بڑھے گی۔بتایا جائے کہ کیا کسٹم ایکٹ میں ترمیم بھی آئی ایم ایف کے کہنے پر آئی ہے۔جس پر چیئرمین ایف بی آرنے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ قانونی سقم دور کرنے کیلئے ایف بی آر اپنے طور پر ترامیم کر کے آیا ہے۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں کمپنیوں سے ٹیکس اور بنک گارنٹی نہ لینے کی سفارش کی گئی۔کاٹیج انڈسٹری کا ٹرن اوور 1 کروڑ سے کم کرکے 80 لاکھ روپے کرنے کا معاملہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں زیر بحث آیا۔چیئرمین ایف بی آر نے اس حوالے سے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ کاٹیج انڈسٹری پیکیج سے سیلز ٹیکس ادا کرنے والوں کی تعداد کم ہوگی۔آئی ایم ایف نے ہماری توجہ اس جانب دلائی ہے، اس پیکیج میں تبدیلی لازمی ہے۔ہمیں پہلے اپنا ہاؤس ان آرڈر کرنا ہوگا۔چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ ایسی اصلاحات لارہے ہیں کہ یہ آخری آئی ایم ایف پروگرام ہوگا۔ایک کروڑ کی کاٹیج سیلز ٹیکس گزاروں کی تعداد کم کرتی ہے۔سینیٹر مصدق ملک نے کہا کہ ایک کروڑ روپیہ اب ڈالر کے مقابلے میں 40 فیصد رہ گیا ہے۔کاٹیج انڈسٹری کی سیلنگ کم کرنے سے کاروبار بند ہو جائے گا۔ سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ایف بی آر اس شق کو تبدیل کرکے ہمیں ارسال کریں۔ہم آپ کو تبدیل شدہ شق ارسال کریں گے۔سینیٹر انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ ٹیکس بڑھانے اور بھتہ لینے میں فرق ہونا چاہیے۔ہمیں ٹیکس بڑھانے کیلئے ٹیکس حکام کی بھتہ خوری ختم کرنی چاہیے۔ٹیکس قوانین میں اصلاح کی اشد ضرورت ہے۔قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں ملک میں سالانہ 80 ٹن سونا سمگلنگ کے ذریعے درآمد ہونے کا انکشاف ہوا۔گولڈ ایسوسی ایشن حکام نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان میں سونا درآمد کرنے کی کوئی پالیسی اور ٹیکس نظام نہیں۔صرف سونا ہی نہیں ڈائمنڈ بھی سمگلنگ کے ذریعے آ رہا ہے۔جس پر ممبر ایف بی آر نے کہا کہ پاکستان میں سالانہ 160 ٹن سونا استعمال میں آتا ہے۔80 ٹن سونا مختلف ممالک سے سمگلنگ کے ذریعے آ رہا ہے۔پاکستان میں سونا کی مارکیٹ تقریباً 2.2 ٹریلین روپے کی ہے۔ایف بی آر میں صرف 29 ارب روپے گولڈ مارکیٹ ڈکلئیرڈ ہے۔36 ہزار سونار وں میں سے صرف 54 گولڈسمتھ ٹیکس دیتے ہیں۔قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے سونے پر سیلز ٹیکس ڈیڑھ فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد کرنے کی تجویز مسترد کر دی۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں وقفے کے بعد اراکین کمیٹی نے وفاقی وزیر خزانہ، چیئرمین ایف بی آر اور سیکرٹری خزانہ کی کمیٹی اجلاس میں عدم موجودگی پر برہمی کا اظہار کیا۔ سینیٹر مصدق مسعود ملک نے کہا کہ اگر وفاقی وزیر خزانہ، سیکرٹری خزانہ اور چیئرمین ایف بی آر موجود نہیں تو ہمارے یہاں بیٹھے کاکیا مقصد ہے۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد طلحہ محمود نے کہا کہ ان کی وزیر خزانہ سے بات ہوئی وہ آنے کو تیار ہیں۔میں نے ان سے کہا ہے کہ ہماری سفارشات کو منظور کرنا ہوگا۔ جس پر سینیٹر مصدق مسعود ملک نے کہا کہ اگر مشیر خزانہ اور اس کی ٹیم موجود نہیں ہے تو ہم کس کے سامنے اپنی سفارشات رکھیں گے۔سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ ایف بی آر ایک کرپٹ ادارہ ہے، 450 ارب روپے کھا لیتے ہیں۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ایک کمیٹی بننی چاہئے جو ٹیکس کلیکٹر اور انسپکٹرز کی جانچ کرے کہ ان کے پاس کروڑوں روپے کہاں سے آجاتے ہیں جبکہ ان کی تنخواہ 1 لاکھ روپے تک ہوگی۔سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ جب تک ایف بی آر اپنا رویہ ٹھیک نہیں کرے گا تو لوگ ٹیکس نہیں دیں گے۔قائمہ کمیٹی نے متفقہ طور پر فارمولا ملک پر 17 فیصد ٹیکس لگانے کی تجویز مسترد کردی۔ممبر ایف بی آر نے کہاکہ فارمولا ملک ایک فیشن بن گیا ہے۔سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ اگر قیمت بڑھے گی تو غریب مائیں اپنے بچوں کو دودھ نہیں پلا سکیں گی اگر چار بچے بھی وفات پا جاتے ہیں وہ ہماری وجہ سے ہوں گے۔سینیٹر ز فیصل سبزواری، فاروق ایچ نائیک اور کامل علی آغا نے کہا کہ بچوں سے وہ نوالہ جو زندگی ہے نا چھینے۔اگر سبسڈی دینی ہی ہیں تو غریب کو دیں۔سب کو کیوں بھکاری بنا رہے ہیں۔اگر سبسڈی دینی ہے تو چیزیں سستی کریں۔اگر ان کا بس چلے تو ہوا پر بھی ٹیکس لگا دیں۔ٹارگیٹڈ سبسڈی لگائیں۔سولر پینلز پر بھی 17 فیصد ٹیکس لگا دیا ہے۔ممبر ایف بی آر نے قائمہ کمیٹی کوبتایا کہ درآمدی سائیکل پر بھی ٹیکس لگانے جا رہے ہیں۔جس پر قائمہ کمیٹی نے 25 ہزار روپے تک درآمدی سائیکل پر ٹیکس نا لگانے اور اس سے زائد رقم کی درآمدی سائیکل پر ڈیوٹی لگانے کی تجویز دی۔قائمہ کمیٹی نے درآمدی مرغی پر 17 فیصد ٹیکس لگانے کی ایف بی آر کی تجویز منظور کر لی۔ممبرایف بی آر نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ ہسپتالوں، تعلیمی اداروں کو عطیہ کرنے والی اشیائ پر بھی 17 فیصد ٹیکس لگانے جا رہے ہیں۔جس پر سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ یہ چیریٹی کا کام ہے 17 فیصد ٹیکس لگانے سے تو لوگ چندہ اور مدد کرنا بند کرلیں گے۔قائمہ کمیٹی نے چندہ کے طور پر عطیہ کرنے والی اشیائ پر 17 فیصد ٹیکس لگانے کی تجویز مسترد کردی۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمدطلحہ محمود نے کہا کہ اگر میں ہسپتال کو مشین عطیہ کرتا ہوں اور اس پر ٹیکس دینا پڑ جائے تو میں عطیہ نہیں کروں گا۔قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے مانع حمل سے متعلق ادویات پر بھی سیلز ٹیکس لگانے کی تجویزبھی مسترد کردی۔ممبر ایف بی آر نے کہا کہ مانع حمل کی ادویات پر پچھلے فنانس بل میں ٹیکس چھوٹ دی گئی تھی اس کو اب ٹیکس نیٹ میں لا رہے ہیں۔قائمہ کمیٹی نے مانع حمل کی ادویات کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی تجویز مسترد کر دی۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں قائد ایوان سینیٹ سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم، سینیٹر ز فاروق ایچ نائیک،مصدق مسعودملک،کامل علی آغا، شیری رحمان،فیصل سبزواری، محسن عزیز، فیصل سلیم، دلاور خان، ذیشان خانزادہ، سلیم مانڈوی والا، انوار الحق کاکڑکے علاوہ چیئرمین ایف بی آر،ممبر ایف بی آر اور دیگر متعلقہ اداروں کے حکام نے شرکت کی۔


متعلقہ خبریں


حکومت بجٹ کو چھپانے لگی،ٹیکس رعایتوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے سے انکار وجود - بدھ 17 جون 2026

حکومت کی جانب سے بجٹ کے حوالے سے آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کی کوششیں ، دونوں فریقین میںمذاکرات کا جاری ، ممکنہ خسارے کے ازالے کیلئے متبادل ریونیو اقدامات پر مشاورت حکومت کا فنانس بل میں شامل مختلف ٹیکس رعایتوں کی مکمل تفصیلات جاری کرنے سے گریز، تنخواہ دار طبقے کو دیے گئے ٹیکس ر...

حکومت بجٹ کو چھپانے لگی،ٹیکس رعایتوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے سے انکار

عمران خان سے ملاقات تک خیبر پختونخوا کا حتمی بجٹ ملتوی، صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپرمنظور ہوگا وجود - بدھ 17 جون 2026

میری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے بات ہوگئی ہے،صوبائی حکومت صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپر پاس کرے گی، آئین کا آرٹیکل 125 اجازت دیتا ہے، آپ 3 ماہ کا بجٹ پیپر پیش کرسکتے ہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک حتمی بجٹ پیش نہیں ہوگا،30 جون تک بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو خیبر پختونخوا...

عمران خان سے ملاقات تک خیبر پختونخوا کا حتمی بجٹ ملتوی، صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپرمنظور ہوگا

منشیات کیس ،پنکی کیخلاف بڑے نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشافات وجود - بدھ 17 جون 2026

ملزمہ سادہ کوکین 20ہزار فی گرام جبکہ گولڈن اسٹف40ہزار فی گرام فروخت کرتی تھی مقدمے میں نامزد پانچ ملزمان مفرور قرار ،پولیس نے گرفتاری کیلئے کارروائیاں تیز کر دی کراچی میں منشیات فروشی کے مبینہ بڑے نیٹ ورک کی مرکزی ملزمہ انمول عرف پنکی اور دیگر کے خلاف منشیات کے مقدمے کا عبوری...

منشیات کیس ،پنکی کیخلاف بڑے نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشافات

کراچی میں پنکی کے بعد ایک اور منشیات گینگ بے نقاب وجود - بدھ 17 جون 2026

منشیات کی ترسیل کے لیے انڈوں کے خول استعمال کیے جاتے تھے،ملزم شاہ فہد سہراب گوٹھ سے مختلف رائیڈرز کے ذریعے مختلف علاقوں میں سپلائی کیا جاتا تھا کراچی سائوتھ زون پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے منشیات سپلائی کرنے والے ایک اور مبینہ منظم نیٹ ورک کا سراغ لگانے کا دعوی کیا ہے۔ گرفتار...

کراچی میں پنکی کے بعد ایک اور منشیات گینگ بے نقاب

سندھ حکومت کا مزید ڈبل ڈیکر اور ای وی بسیں لانے کا اعلان وجود - بدھ 17 جون 2026

رواں سال ڈبل ڈیکر اور جدید الیکٹرک بسوں کی بڑی تعداد کراچی پہنچ جائے گی،شرجیل میمن نئی ڈبل ڈیکر اور ماحول دوست ای وی بسیں مرحلہ وار مختلف روٹس پر چلائی جائیں گی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی کے شہریوں کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کا ا...

سندھ حکومت کا مزید ڈبل ڈیکر اور ای وی بسیں لانے کا اعلان

عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت وجود - منگل 16 جون 2026

ایک شخص کی وجہ سے ملکی تناؤ ہے تو اسے باہر نکالیں، مجھے کہا جاتا ہے آپ تو عمران خان کیخلاف تھے، مخالف جیل میں ہاتھ پاؤں بندھا پڑا ہو تو اس کیخلاف بات نہیں کرتے،سربراہ جے یو آئی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈروں کی تقریروں کو بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے، ہم نے کشمیریوں کی ماؤں بہنوں کی...

عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ وجود - منگل 16 جون 2026

81ہزار ٹن خریداری ہدف سے کم، مقامی مارکیٹ اور پاسکو سے مزید گندم خریدنے کا فیصلہ ہاریوں کو مقررہ امدادی قیمت کی ادائیگی ہر صورت یقینی بنائی جائے،اجلاس میں تفصیلی جائزہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلی ہاؤس میں محکمہ خوراک اور محکمہ زراعت کا مشترکہ اجلاس ...

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ

کراچی کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں ہے،شرجیل میمن وجود - منگل 16 جون 2026

عوام بخوبی جانتے ہیں کہ کس نے اسے بوری بند لاشوں کے تحفے دیے،سینئر صوبائی وزیر کراچی ملک کا معاشی حب اور سندھ کا دارالخلافہ ہے، خالد مقبول کے بیان پر سخت ردعمل سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا خالد مقبول صدیقی کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کراچی کے عوام بخوبی جانتے ہیں ...

کراچی کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں ہے،شرجیل میمن

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان وجود - پیر 15 جون 2026

تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے وجود - پیر 15 جون 2026

پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم وجود - اتوار 14 جون 2026

حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران وجود - اتوار 14 جون 2026

امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران

مضامین
مقبوضہ وادی میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی بھارتی سازش وجود بدھ 17 جون 2026
مقبوضہ وادی میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی بھارتی سازش

علم، اعتدال اور اصلاحِ معاشرہ کا روشن باب وجود بدھ 17 جون 2026
علم، اعتدال اور اصلاحِ معاشرہ کا روشن باب

ایک تقریب ملتوی ہوگئی!! وجود منگل 16 جون 2026
ایک تقریب ملتوی ہوگئی!!

جھوٹ ہمیشہ اعتماد کا قاتل ہوتا ہے! وجود منگل 16 جون 2026
جھوٹ ہمیشہ اعتماد کا قاتل ہوتا ہے!

کب تک ؟ وجود منگل 16 جون 2026
کب تک ؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر