وجود

... loading ...

وجود
وجود

سندھ میں بلدیاتی انتخابات کس اُصول کے تحت ہوں گے؟

جمعرات 18 نومبر 2021 سندھ میں بلدیاتی انتخابات کس اُصول کے تحت ہوں گے؟

جمہوریت کے ثمرات اُس وقت تک عام عوام تک پہنچ ہی نہیں سکتے ،جب تک کہ کسی ملک میں مستحکم بلدیاتی نظام حقیقی معنوں میں قائم نہیںکردیا جاتا ہے۔سادہ الفاظ میں یوں سمجھ لیجیے کہ جمہوریت کی بنیادی اساس ہی بلدیاتی نظام پر استوار ہوتی ہے ۔لیکن کتنی عجیب بات ہے کہ ہمارے ہاں! ہر جمہوریت پسند سیاسی جماعت اور جمہوریت کی راہ میں جان و مال کی قربانی دینے کے بلند و بانگ دعوے کرنے والے تمام سیاسی رہنما ہمہ وقت ’’جمہوریت ‘‘ کا راگ تو ضرور الاپتے ہیں، لیکن جب کبھی اِن کے سامنے غیر جانب دارانہ اور منصفانہ بلدیاتی نظام نافذ کرنے کا مطالبہ رکھ دیا جائے تو پھر ان سب کی مجرمانہ خاموشی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔
شاید یہ ہی وجہ ہے پاکستان میں جب بھی طاقت ور بلدیاتی نظام قائم کرنے کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا ہے ، اُس وقت بظاہر ایک آمر کی حکومت تھی ۔ جبکہ جمہوری ادوار میں برسراقتدار کون سی ایسی جماعتوں کا نام لیا جائے ،جنہوں نے بلدیاتی نظام کے نفاذ کی راہ میں حتی المقدور مختلف حیلوں بہانوںسے آئینی ،قانونی اور سیاسی روڑے اٹکانے کی کامیاب کاوش اور کوشش نہ کی ہو۔ حالانکہ اِن میں بعض سیاسی جماعتوں کا تو بنیادی دعوی ہی یہ رہا ہے کہ ’’وہ اختیارات کو نچلی سطح تک پہنچانے کا پختہ عزم و ارادہ رکھتی ہیں ‘‘۔ مگر جب منصب اقتدار انہیں حاصل ہوتاہے تو اِ ن جماعتوں کے رہنما اور قائدین بلدیاتی نظام کے نام سے بھی ایسے بدکنے لگتے ہیں کہ جیسے کسی نے اُ ن کے سامنے مثالی جمہوری عہد میں آمریت کا کوئی ’’کالا قان‘‘ نافذ کرنے کی بات چھیڑ دی ہو۔ کہنے کو گزشتہ آٹھ برس سے پاکستان میں جمہوریت کا راج سنگھاسن اپنے پورے طمطراق سے قائم ہے اور جمہوریت کے پروردہ جماعتیں حصہ بقدر جثہ کے ’’انتخابی فارمولے‘‘ کے تحت اقتدار کے مزے بھی لوٹ رہی ہیں ۔مگر افسوس کی بات یہ ہے کوئی بھی برسراقتدار سیاسی جماعت، بلدیاتی نظام اپنے علاقے میں قائم کرنے میں راضی بہ رضا دکھائی نہیں دیتی ۔ پنجاب میں اگر تحریک انصاف بلدیاتی انتخابات کروانے میں لیت و لعل سے کام لے رہی ہے تو ماشاء اللہ سے صوبہ سندھ میں پاکستان پیپلزپارٹی بھی کسی ایسے آئینی سقم کی تلاش میں گزشتہ دس، بارہ سال سے سرگرداں ہے کہ جس کا سہارا لے کر بلدیاتی انتخابات کے جھنجھٹ میں پڑنے سے ہی گلو خلاصی حاصل کرلی جائے ۔
لیکن دوسری جانب مصیبت یہ ہے کہ عدالت عالیہ، سندھ حکومت کو جلدازجلد بلدیاتی انتخابات کروانے کا حکم صادر فرماچکی ہے تو وہیں الیکشن کمیشن آف پاکستان بھی ملک بھر کی طرح صوبہ سندھ میں بھی بلدیاتی انتخابات آئندہ چند ماہ میں کروانے پر کمربستہ دکھائی دیتا ہے۔ ایسی صورت حال میں سندھ حکومت کی جانب سے جلد ازجلد سندھ بھر میں بلدیاتی انتخابات کروانے کا اعلان پیپلزپارٹی کی فطری جمہوری خواہش سے زیادہ آئینی و قانون مجبور ی زیادہ لگتی ہے۔ بہرحال بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ،دل سے کروایا جائے یا بے دلی سے ،ہوں گے تو وہ بلدیاتی انتخابات ہی ۔ اس لیئے صوبہ سندھ میں آئندہ منعقد ہونے والے بلدیاتی انتخابا ت کے متعلق یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ وہ کیسے ماحول ،کس اصول اور کن خدوخاول کے مطابق منعقد کیئے جائیں گے؟
اُصولی طور پر یہ اُمور پاکستان پیپلزپارٹی اور اپوزیشن جماعتوں کو باہمی طو ر پر مل جل کر سندھ اسمبلی میں بہت پہلے طے کرلینے چاہئے تھے۔ مگر یہاں مصیبت یہ ہے کہ سندھ حکومت تو رہی، ایک طرف ، بدقسمتی سے سندھ اسمبلی میں موجود دیگر اپوزیشن جماعتوں کو بھی بلدیاتی انتخابات کی کوئی خاص پرواہ نہیں ہے ۔یعنی اَب تازہ ترین صورت حال یہ ہے کہ سندھ حکومت کی جانب سے بلدیاتی انتخابات کروانے پر مکمل طور پر آمادگی تو ظاہر کردی گئی ہے ،لیکن کیا یہ بلدیاتی انتخابات جمہوری اُمنگوں کے عین مطابق ہوں ؟۔ یقینی طور پر کچھ یقین سے نہیں کہا جاسکتا۔ بہرحال غیر ضروری سیاسی آپا دھاپی میں ایک اچھی خبریہ ضرور سننے کو ملی ہے کہ امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے جماعت اسلامی کی طرف سے وزیر اعلیٰ سندھ کوبلدیاتی نظام میں اصلاحات سے متعلق اپنی تجاویز ارسال کردی ہیں۔
امیر جماعت اسلامی کراچی کی جانب سے وزیراعلی سندھ سید مرادعلی شاہ کو بھیجی گئی تجاویز میں بلاشبہ کئی نکات انتہائی معنی خیز ہیں۔ مثال کے طور انہوں نے تجویز دی ہے کہ ’’ بلدیاتی ایکٹ میں کراچی کو میٹر و پولیٹن کارپوریشن کے بجائے میگا سٹی گورنمنٹ کا درجہ دیا جا ئے،میئر اور ڈپٹی میئر کا انتخاب بالغ رائے دہی کی بنیادپر براہ راست کروایا جائے،کے ڈی اے،کے ڈبلیو ایس بی،ایم ڈی اے،کے ڈی اے سمیت دیگر ادارے میگا سٹی گورنمنٹ کے حوالے کیے جا ئیں،موٹر وہیکل ٹیکس،جائیداد منتقلی ٹیکس،غیر منقولہ جائیدا ٹیکس،پراپرٹی ٹیکس سمیت دیگر ٹیکسز جمع کر نے کا اختیار بھی میگا سٹی گورنمنٹ کو دیا جائے۔سٹی پولیس اور ٹریفک پولیس کو بھی میگا سٹی گورنمنٹ کے ماتحت کیا جائے۔نیز صوبے میں تمام شہر وں کو بھی بلدیاتی طور بااختیار بنایا جا ئے اور ہر ضلع کیلئے ڈسٹرکٹ میونسپل کمیٹی کا نظام ختم کیا جائے۔ جبکہ کراچی جو 32سب ڈویژنز پر مشتمل ہے، یہاں ٹاؤن کا نظام نافذ کیا جائے اور میگا سٹی گورنمنٹ میں ٹاؤن کو نسل کو10 سے 15 ہزار کی آباد ی کے لحاظ سے تقسیم کیا جائے،تاکہ تمام مسائل نچلی سطح پر بہترین طریقے سے حل ہوںسکیں‘‘۔
حافظ نعیم الرحمن نے مزید یہ تجاویز بھی دی ہیں کہ’’ بلدیاتی ایکٹ کی حدود میں شامل محکمے سٹی گورنمنٹ کے اختیار میں ہونے چاہئیں اور سول ڈیفنس، ماہی گیری،سماجی بہود،انفارمیشن ٹیکنالوجی،فنی تعلیم،ہاسپٹل،چھوٹے،بڑے کالج،ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن،ضلعی سڑکوں وعمارتوں،ماس ٹرانزٹ سسٹم، انڈسٹریل اسٹیٹ،آئی ٹی پارکس سمیت دیگر محکمے 2021میں بلدیات کے ماتحت تھے،اب انہیں میگا سٹی گورنمنٹ کے ماتحت کر دینا چاہیے۔ نیزمیگا سٹی گورنمنٹ کومختلف اداروں میں 17گریڈ سے اوپر سمیت تمام ملازمین کی تقرر ی تبادلوں کا اختیار بھی ہونا چاہیے ۔ جبکہ طے شدہ فارمولہ 2002 کے مطابق،کراچی کے لیے ضلع آکٹرائے ٹیکس میں اصل حصہ بحال کیا جائے،مختلف کونسلوں سے صوبائی مالیاتی کمیشن (PFC) کے اراکین، حکومت کی طرف سے نامزد نہیں بلکہ متعلقہ کونسلوں سے منتخب ہونے چاہئیں،شہری کونسل کے منتخب اراکین کو صوبائی مالیاتی کمیشن کی طرح صوبائی لوکل گورنمنٹ کمیشن میں بھی نمائندگی دی جانی چاہیے،سندھ کچی آبادی بورڈ میں کونسلز کے منتخب اراکین کی نمائندگی ان علاقوں کی آبادی کے تناسب سے رکھی جائے،سٹی پولیس کے انچارج سمیت کراچی میگا گورنمنٹ کے محکموں کے سربراہوں کی سالانہ کارکردگی کی رپورٹیں میگا سٹی گورنمنٹ کے میئر کے دفتر کے زیر اہتمام تیار ہوں، کراچی شہر کی زمینوں سے تمام محصولات، ٹیکس، جرمانے وغیرہ کی وصولی میگا سٹی گورنمنٹ کو واپس کی جائے،مذکورہ بالا مجوزہ اصلاحات کی روشنی میں یہ ایکٹ تبدیل کیا جانا چائیے‘‘۔
یہ تو ہم نہیں کہہ سکتے کہ امیر جماعت اسلامی کراچی کی جانب سے پیش کی گئی تمام تجاویز لازماً بلدیاتی نظام کا حصہ ہونا چاہیئے لیکن اتنا ضرور کہا جا سکتاہے اگر وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ اِن پیش گئی تجاویز پر صرف جماعت اسلامی ہی سے نہیںبلکہ دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ بھی مشاورت کا آغاز کریں تو یقینا اِن تجاویز میں سے ضرور ایسے نکات نکل آئیں گے، جنہیں اگر آئندہ بلدیاتی نظام کا حصہ بنالیا جائے تو یقیناسندھ میں قائم ہونے والے بلدیاتی نظام ملک کے دیگر حصوں میں قائم ہونے بلدیاتی نظام کے مقابلے میں زیادہ طاقت ور ، مفید اور کارآمد ثابت ہوسکتاہے۔ ویسے بھی صوبہ سندھ کے آئندہ بلدیاتی انتخابات میں جیتنے والوں کو اکثریت کا تعلق پاکستان پیپلزپارٹی سے ہی ہوگا۔ اس لیئے صوبہ سندھ میں ایک طاقت اور مضبوط بلدیاتی نظام سب سے زیادہ سندھ حکومت اور پاکستان پیپلزپارٹی کو ہی سندھ میں مزید مستحکم کرنے کا باعث بنے گا۔
٭٭٭٭٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
وزیراعظم کے دشمن مصنوعی خیالات وجود جمعرات 27 جنوری 2022
وزیراعظم کے دشمن مصنوعی خیالات

لال قلعہ کاقیدی وجود جمعرات 27 جنوری 2022
لال قلعہ کاقیدی

''کسان ،ٹریکٹر ،ٹرالی ریلی ''کی بھی ایک پہیلی ہے وجود جمعرات 27 جنوری 2022
''کسان ،ٹریکٹر ،ٹرالی ریلی ''کی بھی ایک پہیلی ہے

اقتدار سے نکلنے پر خطرناک ہونے کا دعویٰ وجود بدھ 26 جنوری 2022
اقتدار سے نکلنے پر خطرناک ہونے کا دعویٰ

خطر۔ناک۔۔ وجود بدھ 26 جنوری 2022
خطر۔ناک۔۔

برطانیہ میں سب سے زیادہ امتیازی سلوک مسلمانوں کے ساتھ کیے جانے کا انکشاف وجود بدھ 26 جنوری 2022
برطانیہ میں سب سے زیادہ امتیازی سلوک مسلمانوں کے ساتھ کیے جانے کا انکشاف

بھارتی اسکول میں پرنسپل کا بچوں کو نماز کی اجازت دینا جرم بن گیا وجود بدھ 26 جنوری 2022
بھارتی اسکول میں پرنسپل کا بچوں کو نماز کی اجازت دینا جرم بن گیا

کووڈ صورت حال کی پیش گوئی: ’یہ کوئی قطعی سائنس نہیں‘ وجود منگل 25 جنوری 2022
کووڈ صورت حال کی پیش گوئی: ’یہ کوئی قطعی سائنس نہیں‘

حرام سے اجتناب کاانعام وجود منگل 25 جنوری 2022
حرام سے اجتناب کاانعام

سعودی عرب میں ہر گھنٹے سات طلاقوں کے کیسز رپورٹ وجود منگل 25 جنوری 2022
سعودی عرب میں ہر گھنٹے سات طلاقوں کے کیسز رپورٹ

حق دو کراچی کو وجود پیر 24 جنوری 2022
حق دو کراچی کو

ہندوستان کی شبیہ کون داغدار کررہاہے؟ وجود پیر 24 جنوری 2022
ہندوستان کی شبیہ کون داغدار کررہاہے؟

اشتہار

افغانستان
افغانستان میں امریکی شہری کا قبولِ اسلام، اسلامی نام محمد عیسیٰ رکھا وجود پیر 24 جنوری 2022
افغانستان میں امریکی شہری کا قبولِ اسلام، اسلامی نام محمد عیسیٰ رکھا

افغانستان،ہرات میں دھماکہ، 7 افراد جاں بحق، 9 زخمی وجود اتوار 23 جنوری 2022
افغانستان،ہرات میں دھماکہ، 7 افراد جاں بحق، 9 زخمی

اسلامی ممالک طالبان حکومت کو تسلیم کریں، افغان وزیراعظم کا مطالبہ وجود جمعرات 20 جنوری 2022
اسلامی ممالک طالبان حکومت کو تسلیم کریں، افغان وزیراعظم کا مطالبہ

طالبان کا شمالی مغربی شہر میں بدامنی کے بعد فوجی پریڈ کے ذریعے طاقت کا مظاہرہ وجود منگل 18 جنوری 2022
طالبان کا شمالی مغربی شہر میں بدامنی کے بعد فوجی پریڈ کے ذریعے طاقت کا مظاہرہ

افغان صوبہ بادغیس میں شدید زلزلہ،ہلاکتوں کی تعداد30 سے تجاوز وجود منگل 18 جنوری 2022
افغان صوبہ بادغیس میں شدید زلزلہ،ہلاکتوں کی تعداد30 سے تجاوز

اشتہار

بھارت
بھارت میں گوگل کے سی ای او سندر پچائی کیخلاف مقدمہ وجود جمعرات 27 جنوری 2022
بھارت میں گوگل کے سی ای او سندر پچائی کیخلاف مقدمہ

بھارتی اسکول میں پرنسپل کا بچوں کو نماز کی اجازت دینا جرم بن گیا وجود بدھ 26 جنوری 2022
بھارتی اسکول میں پرنسپل کا بچوں کو نماز کی اجازت دینا جرم بن گیا

شلپا شیٹی فحاشی پھیلانے کے مقدمے سے بری وجود منگل 25 جنوری 2022
شلپا شیٹی فحاشی پھیلانے کے مقدمے سے بری

بھارت کا چین پر سرحد سے لاپتا نوجوان کو اغوا کرنے کا الزام وجود جمعه 21 جنوری 2022
بھارت کا چین پر سرحد سے لاپتا نوجوان کو اغوا کرنے کا الزام

بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا وجود جمعه 21 جنوری 2022
بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا
ادبیات
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل وجود منگل 04 جنوری 2022
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل

پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی

غلاف کعبہ کی سلائی میں عربی کا ثلث فانٹ استعمال کرنے کی وضاحت جاری وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
غلاف کعبہ کی سلائی میں عربی کا ثلث فانٹ استعمال کرنے کی وضاحت جاری

دنیا کی 1500 زبانیں معدوم ہونے کا خطرہ وجود منگل 21 دسمبر 2021
دنیا کی 1500 زبانیں معدوم ہونے کا خطرہ

سقوط ڈھاکہ پر لکھی گئی نظمیں وجود جمعرات 16 دسمبر 2021
سقوط ڈھاکہ پر لکھی گئی نظمیں
شخصیات
دنیا کی کم عمر مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ کو بچھڑے 10 برس بیت گئے وجود هفته 15 جنوری 2022
دنیا کی کم عمر مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ کو بچھڑے 10 برس بیت گئے

مولانا طارق جمیل کی اپنے طوطےاور بلی کے ہمراہ دلچسپ ویڈیو وائرل وجود منگل 11 جنوری 2022
مولانا طارق جمیل کی اپنے طوطےاور بلی کے ہمراہ دلچسپ ویڈیو وائرل

ہے رشک ایک خلق کو جوہر کی موت پر ۔ یہ اس کی دین ہے جسے پروردگار دے وجود بدھ 05 جنوری 2022
ہے رشک ایک خلق کو جوہر کی موت پر        ۔ یہ اس کی دین ہے جسے پروردگار دے

سرگودھا کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ : مولانا اکرم طوفانی سپرد خاک وجود پیر 27 دسمبر 2021
سرگودھا کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ : مولانا اکرم طوفانی سپرد خاک

قائداعظم کے خطاب کا تحقیقی جائزہ (خواجہ رضی حیدر) وجود هفته 25 دسمبر 2021
قائداعظم کے خطاب کا تحقیقی جائزہ  (خواجہ رضی حیدر)