وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

بیس کی چائے

اتوار 17 اکتوبر 2021 بیس کی چائے

دوستو، آپ کو حیرت ہورہی ہوگی کہ کالم کا نام ـ’’بیس کی چائے‘‘ کیوں رکھا ہے؟ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ چائے کے حوالے سے آج کچھ اوٹ پٹانگ باتیں ہوں گی،چائے کی قیمت موضوع بحث ہوگی یا پھر چائے کی افادیت پر سیرحاصل گفتگو رہے گی۔؟؟ ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔۔ اصل میں آج سے ’’ٹی ٹوئنٹی‘‘ ورلڈ کپ شروع ہورہا ہے،ہمارے باباجی ’’ ٹی ٹوئنٹی‘‘ کا اردو ترجمہ۔۔بیس کی چائے کرتے ہیں۔۔اصل میچ، یعنی فائنل سے پہلے فائنل چوبیس اکتوبر کو پاکستان اپنے روایتی حریف بھارت سے کھیلے گا۔۔ چلیں تو پھر آج آپ کو بیس کی چائے پلاتے ہیں۔۔ آج اتوار ہے یعنی چھٹی کا دن، چھٹی والے دن شوہرات زیادہ تر گھر کے کام نمٹانے کے بعد ٹی وی کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں، اگر کرکٹ میچ آرہا ہوتو ان کی وقت اچھا پاس ہوجاتا ہے، بیگمات اپنے شوہرات کی چھٹی کی مناسبت سے کچن میں اسپیشل ڈشز بناتی ہیں اس طرح خواتین کا ٹائم بھی پاس ہوجاتا ہے۔۔
1970ء کی دہائی تک کرکٹ کی اپنی ثقافت اور معیار تھے۔ یہ کھیل تماشائیوں کو ذہنی تناؤ اور بلند فشار خون کی بجائے سکون اور آسودگی دیتا تھا۔ پانچ روزہ ٹیسٹ میچ اکثر ہار جیت کے فیصلے کے بغیر ختم ہوجایا کرتے تھے لیکن اس وقت شاید ’’ہار جیت ‘‘ کچھ زیادہ معنی بھی نہیں رکھتی تھی۔ کرکٹ کو جنگ و جدل کی بجائے ایک نفیس کھیل سمجھا جاتا تھا۔ شائقین کھلاڑیوں کے ہنر، تکنیک اور کھیلنے کے انفرادی سٹائل سے لطف اندوز ہوا کرتے تھے۔ کھلاڑی بھی مہذب، شائستہ اور پرتحمل تھے۔ پیسے اور شہرت کے جنون پر شوق اور سپورٹس مین اسپرٹ حاوی تھا۔ میچ فکسنگ، جوے اور سٹے کا تصور تک نہیں تھا۔ اس وقت تک کرکٹ کمرشلائز نہیں ہوا تھا۔۔کمرشل کرکٹ کا آغاز80 کی دہائی میں آسٹریلیا کے بڑے سرمایہ دارکیری پیکر نے کروایا تھا۔ پہلے پہل آئی سی سی نے اس رجحان کو روکنے کی کوشش کی لیکن سرمائے نے اس ادارے کو بھی ہڑپ کرلیا۔ ون ڈے کے بعد اس کھیل کو مزید منافع بخش بنانے کے لیے T-20 کا آغاز کیا گیا۔ پھر آئی پی ایل جیسے ٹورنامنٹ شروع ہوئے جہاں طوائفوں کی طرح کھلاڑیوں کی بولیاں لگائی جانے لگیں۔ دولت کی ہوس نے سماج کے ہر شعبے کی طرح کرکٹ کو بھی برباد کر دیا۔ ماضی قریب میں ’’بگ تھری‘‘ کا معاملہ ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح کھیل دولت کے شکنجے میں جکڑا جاچکا ہے۔نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کی کرکٹ ٹیموں کا پاکستان کے دورے سے انکار بھی کچھ اسی طرح کا معاملہ ہے،جیسے پاکستانی ٹیم بچوں پر مشتمل ہے ،فرنگیوں کا جب دل کرے گا کھیلیں گے جب جی چاہے گا کھیلنے سے منع کردیں گے۔۔
ایک دوست فون پراپنے دوست کوبتارہا تھاکہ ۔یار پرسوں ہمارا کرکٹ کا فائنل میچ تھا ، خوب فائٹ ہوئی اور بعد میں بہت لڑائی ہوئی۔۔ احمدشہزاد کسی دعوت میں گئے، میزبان نے پوچھا کھانا کیسا لگا۔۔ قومی ٹیم کے اوپنر کہنے لگے۔۔‘‘سارا کھانا بہت مزیدار تھا لیکن میٹھا۔۔ بہت میٹھا تھا‘‘۔۔ یاسر شاہ سے کسی نے پوچھا۔۔بھینس کی کتنی ٹانگیں ہوتی ہیں۔۔لیگ اسپنر نے کہا۔۔ یہ تو کوئی بے وقوف بھی بتادے گا۔۔ پوچھنے والے نے جگت لگائی۔۔اسی لیے تو تم سے پوچھ رہا ہوں۔۔ آفریدی کو بچپن میں استاد نے پوچھا۔۔ کوئی سے پانچ پھلوں کے نام بتاؤ۔۔ آفریدی بولا۔۔ تین مالٹے دو سیب۔۔قومی ٹیم کے پروفیسر نیوزی لینڈ کی ایک مشہور بیکری گئے۔پوچھا ۔۔ یہاں کیا کیا ملتا ہے۔۔ سیلزمین نے کہا سرجوآپ چاہیں گے مل جائے گا۔۔حفیظ نے کہا۔۔کتے کے کھانے کا کیک ہوگا۔۔سیلزمین بولا۔۔سر یہیں کھائیں گے یا گھر لے جائیں گے۔۔شعیب ملک کا تعلق سیالکوٹ سے ہے، ان کے پڑوسی نے ایک بار پوچھا۔۔ کیا آپ بتاسکتے ہیں، گائے مفید ہے یا بکری۔۔ شعیب ملک کہنے لگے۔۔ میرے خیال میں بکری مفید ہے، اس لیے کہ گائے نے ایک بار مجھے ٹکر ماری تھی۔۔عمرگل سے کسی نے پوچھا۔۔خان صاحب کیا جنت میں نسوار ملے گی؟۔۔ شگفتہ مزاج عمرگل بولے۔۔ ہاں ضرور، لیکن اس کو تھوکنے کے لیے جہنم میں جانا پڑے گا۔۔نیوزی لینڈ کے دورے میں ٹیم کے کھلاڑی سیروتفریح میں مشغول تھے کہ ۔۔سرفراز کو ایک بھکاری نظرآیا جو ہاتھ میں پلے کارڈ اٹھائے بھیک مانگ رہاتھا۔۔ پلے کارڈ پر لکھا تھا میں بہرہ اور گونگا ہوں برائے کرم میری مدد کرو۔۔سرفراز بھکاری کے قریب گیا اور پوچھا۔۔ آپ کب سے گونگے اور بہرے ہیں۔۔بھکاری نے فوری جواب دیا۔۔’’ پیدائشی گونگا اور بہرہ ہوں۔‘‘۔۔سرفراز بھی نرم دل تھے جیب سے دس ڈالر کا نوٹ نکال کر فقیر کو دے دیا۔۔عمادوسیم سے استاد نے کہا۔۔ سب لڑکوں نے دودھ پر دو صفحات کا مضمون لکھا ہے، اور تم نے دو سطر کا۔۔ عماد وسیم نے کہا۔۔ جناب! میں نے خالص دودھ پر مضمون لکھا ہے۔
بیوی نے جب شوہر کوتیارشیار ہوکر باہر جاتے دیکھا تو سمجھ گئی کہ کرکٹ کا شوقین کھیلنے جارہا ہے، غصے سے بولی۔۔ پھر وہی منحوس کرکٹ اگر تم ایک شام کرکٹ کھیلنے نہ جاؤ تو میں خوشی سے مر جاؤں۔۔شوہر بڑی معصومیت سے کہنے لگا۔۔بیگم خدا کے لیے مجھے ایسا لالچ نہ دو۔۔کرکٹ ٹیسٹ میچ ہو رہا تھا ،اسٹیڈیم کے گیٹ پر ایک لڑکا پاس دکھا کر اندر جانے لگا تو گیٹ کیپر نے کہا ’’یہ تمھارا پاس تو نہیں ہے‘‘۔ لڑکے نے جواب دیا۔’’یہ میرے والد صاحب کا ہے‘‘۔ گیٹ کیپر نے پوچھا۔۔’’وہ کیوں نہیں آئے؟‘‘۔ لڑکے نے جواب دیا’’وہ بہت مصروف ہیں‘‘۔ گیٹ کیپر نے پوچھا’’وہ کیا کر رہے ہیں‘‘۔ بچے نے جواب دیا ’’اپنا پاس تلاش کر رہے ہیں‘‘۔۔ایک قومی کرکٹر ماہرنفسیات کے پاس گیا اور کہنے لگا۔۔ڈاکٹر صاحب میں ایک عجیب مرض میں مبتلا ہوگیا ہوں۔۔ہر وقت سر چکراتا رہتا ہے ۔۔نہ مجھ سے رن بنتے ہیں نہ ہی باولنگ ہوتی ہے۔۔فیلڈنگ کرتے وقت میرا دم گٹھنے لگتاہے، کیچ پکڑتے وقت گیند ہی نظر نہیں آتی۔۔ماہرنفسیات نے پوری بات سن کر انتہائی سنجیدگی سے کہا۔۔آپ ایسا کریں کہ کرکٹ کھیلنا چھوڑ دیں اس کا بس یہی علاج ہے۔۔کرکٹر غصے سے کہنے لگا۔۔نا ممکن ۔۔میں تو اب قومی ٹیم میں کھیل رہا ہوں۔۔
آپ کو کرکٹ پسند ہو یا نہیں، پاکستانیوں کی اکثریت کو یہ کھیل بے انتہاپسند ہے۔۔ اب کچھ روز فضاؤں میں کرکٹ ،کرکٹ گونجے گی۔۔ نائی کی دکان سے لے کر چائے کے ہوٹلوں تک۔۔ بسوں ، ٹرینوں میں سفر سے لے کر اسپتالوں کی انتظارگاہوں تک سب ایک دوسرے سے اسکور پوچھ رہے ہوں گے اور اپنے شاہینوں کی فتح کے لیے دعاگو رہیں گے۔۔ اب چلتے چلتے آخری بات۔۔بچپن کے کھیل ختم ہوتے ہیں تو پھر نصیب کے کھیل شروع ہوجاتے ہیں۔۔ خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں


مضامین
کون نہائے گا وجود منگل 07 دسمبر 2021
کون نہائے گا

دوگززمین وجود پیر 06 دسمبر 2021
دوگززمین

سجدوں میں پڑے رہناعبادت نہیں ہوتی! وجود پیر 06 دسمبر 2021
سجدوں میں پڑے رہناعبادت نہیں ہوتی!

چین کی عسکری صلاحیت’’عالمی رونمائی‘‘ کی منتظر ہے! وجود پیر 06 دسمبر 2021
چین کی عسکری صلاحیت’’عالمی رونمائی‘‘ کی منتظر ہے!

دوگززمین وجود اتوار 05 دسمبر 2021
دوگززمین

یورپ کا مخمصہ وجود هفته 04 دسمبر 2021
یورپ کا مخمصہ

اے چاندیہاں نہ نکلاکر وجود جمعه 03 دسمبر 2021
اے چاندیہاں نہ نکلاکر

تاریخ پررحم کھائیں وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
تاریخ پررحم کھائیں

انوکھی یات۔ٹو وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
انوکھی یات۔ٹو

وفاقی محتسب واقعی کام کرتاہے وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
وفاقی محتسب واقعی کام کرتاہے

ڈی سی کی گرفتاری اور سفارشی کلچر وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
ڈی سی کی گرفتاری اور سفارشی کلچر

ماں جیسی ر یاست اور فہیم۔۔۔ وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
ماں جیسی ر یاست اور فہیم۔۔۔

اشتہار

افغانستان
طالبان کے خواتین سے متعلق حکم نامے کا خیرمقدم کرتے ہیں، تھامس ویسٹ وجود اتوار 05 دسمبر 2021
طالبان کے خواتین سے متعلق حکم نامے کا خیرمقدم کرتے ہیں، تھامس ویسٹ

15 سالہ افغان لڑکی برطانوی اخبار کی 2021 کی 25 با اثر خواتین کی فہرست میں شامل وجود هفته 04 دسمبر 2021
15 سالہ افغان لڑکی برطانوی اخبار کی 2021 کی 25 با اثر خواتین کی فہرست میں شامل

طالبان کی خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے،شادی مرضی سے کرانے کی ہدایت وجود جمعه 03 دسمبر 2021
طالبان کی خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے،شادی مرضی سے کرانے کی ہدایت

جھڑپ میں ایران کے 9سرحدی گارڈز ہلاک ہوئے،طالبان وجود جمعه 03 دسمبر 2021
جھڑپ میں ایران کے 9سرحدی گارڈز ہلاک ہوئے،طالبان

افغان طالبان اور ایرانی بارڈر گارڈز کے درمیان شدید جھڑپیں، بھاری اسلحہ کا استعمال وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
افغان طالبان اور ایرانی بارڈر گارڈز کے درمیان شدید جھڑپیں، بھاری اسلحہ کا استعمال

اشتہار

بھارت
بابری مسجد شہادت کے 29 برس بیت گئے وجود منگل 07 دسمبر 2021
بابری مسجد شہادت کے 29 برس بیت گئے

بھارت ، ٹیکس میں کمی، پیٹرول 8روپے فی لیٹرسستا ہوگیا وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
بھارت ، ٹیکس میں کمی، پیٹرول 8روپے فی لیٹرسستا ہوگیا

بھارت میں مشتعل ہجوم کی چرچ میں تھوڑ پھوڑ ،عمارت کو نقصان،ایک شخص زخمی وجود بدھ 01 دسمبر 2021
بھارت میں مشتعل ہجوم کی چرچ میں تھوڑ پھوڑ ،عمارت کو نقصان،ایک شخص زخمی

بھارت میں نفرت جیت گئی، فنکار ہار گیا،مسلم کامیڈین وجود پیر 29 نومبر 2021
بھارت میں نفرت جیت گئی، فنکار ہار گیا،مسلم کامیڈین

بھارت میں ہندوانتہا پسندوں کی نماز جمعہ کے دوران ہلڑ بازی وجود هفته 27 نومبر 2021
بھارت میں ہندوانتہا پسندوں کی نماز جمعہ کے دوران ہلڑ بازی
ادبیات
جرمن امن انعام زمبابوے کی مصنفہ کے نام وجود منگل 26 اکتوبر 2021
جرمن امن انعام زمبابوے کی مصنفہ کے نام

پکاسو کے فن پارے 17 ارب روپے میں نیلام وجود پیر 25 اکتوبر 2021
پکاسو کے فن پارے 17 ارب روپے میں نیلام

اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا وجود بدھ 13 اکتوبر 2021
اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا

بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف وجود جمعه 01 اکتوبر 2021
بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف

اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب وجود پیر 20 ستمبر 2021
اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
شخصیات
جنید جمشید کی پانچویں برسی آج منائی جائے گی وجود منگل 07 دسمبر 2021
جنید جمشید کی پانچویں برسی آج منائی جائے گی

نامور شاعر ، مزاح نگار پطرس بخاری کی 63 ویں برسی آج منائی جائیگی وجود اتوار 05 دسمبر 2021
نامور شاعر ، مزاح نگار پطرس بخاری کی 63 ویں برسی آج منائی جائیگی

سینئر صحافی ضیاءالدین ا نتقال کر گئے وجود پیر 29 نومبر 2021
سینئر صحافی ضیاءالدین ا نتقال کر گئے

پاکستانی سائنسدان مبشررحمانی مسلسل دوسری بار دنیا کے بااثرمحققین میں شامل وجود جمعرات 25 نومبر 2021
پاکستانی سائنسدان مبشررحمانی مسلسل دوسری بار دنیا کے بااثرمحققین میں شامل

سکھ مذہب کے بانی و روحانی پیشواباباگورونانک کے552ویں جنم دن کی تین روزہ تقریبات کا آغاز وجود جمعه 19 نومبر 2021
سکھ مذہب کے بانی و روحانی پیشواباباگورونانک کے552ویں جنم دن کی تین روزہ تقریبات کا آغاز