وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

بارودکاڈھیر

جمعه 15 اکتوبر 2021 بارودکاڈھیر

وہ حا فظ ِ قرآن تھا لیکن ایک کمپوڈر ٹائپ اتائی ڈاکٹر گوجرانوالہ کے کسی نواحی قصبہ میں لوگوںکا علاج معالجہ کرتا تھا انتہائی شریف النفس ،بے ضرر ،اپنے اڑوس پڑوس کا خیال رکھنے والا ایک روز اس کا کسی سے جھگڑا ہوگیا موقع پر موجود لوگوںنے معاملہ رفع دفع کروادیا لیکن مخالف انتہائی مکار تھا اس نے دل ہی دل میں اتائی ڈاکٹر کو مزا چکھانے کا فیصلہ کرلیا چند روز بعد مخالف نے سرگوشیوں کے انداز میں کانا پوسی شروع کردی کہ اتائی ڈاکٹر گستاخ ہے حالات سے بے خبر اتائی ڈاکٹر کے خلاف ماحول بنتا گیا پھر ایک روز صبح ایک مسجد سے اعلان ہوا کہ ایک اتائی ڈاکٹر نے نعوذ باللہ آخری الہامی کتاب کی بے حرمتی کی ہے شرپسندوں نے اتائی ڈاکٹر کو عیسائی ڈاکٹر سمجھ لیا پھر اس کے مکان پر چڑھ دوڑے دروازہ توڑ ڈالا اتائی ڈاکٹر کی بیوی نے بلوائیوں کو لاکھ سمجھایا ،مگرانہوںنے ایک نہ سنی وہ ہر چیز تہس نہس کرتے ہوئے اس کمرے تک جا پہنچے وہاں ڈاکٹر کرسی پر بیٹھا قرآن حکیم کی تلاوت کررہاتھا ،شرپسند اتنے غیض و غضب میں تھے کہ انہوںنے اللہ کی کتاب کا بھی احترام نہیں کیااور ڈاکٹرکو لاتوں،مکوں گھونسوں اور ٹھڈوں سے مار مار کر ادھ مواء کردیا جب تک پولیس پہنچی ڈاکٹر کی ہڈیوںکا سرما بن گیا تھا ،اذیت،خوف اور دردکی شدت سے اس کا منہ کھلے کا کھلا اور آنکھیں بے نور ہوچکی تھیں بعد میں لوگوںکو حقیقت ِ حال کا پتہ چلا بہت دیرہوچکی تھی ۔
اسی طرح احمدپورشرقیہ میں ایک مجذوب نوجوان کو قرآن مجیدکی بے حرمتی کے الزام میں پٹرول چھڑک کر آگ لگادی گئی ٹھیک دوسال بعد اس جگہ ایک پٹرول سے بھرا ایک آئل ٹینکر الٹ گیا اس شہرکے باسی راوی ہیں کہ قدرت نے اس خون ناحق کا ایسا انتقام لیا کہ جہاں جہاں مجذوب نوجوان اپنی جان بچانے کی فطری خواہش لیے بھاگتا پھرتا وہاں وہاں پٹرول کو مال مفت سمجھ کر جو 200 سے زائد لوگ گیلن،ڈرم بھررہے تھے زندہ جل کر خاکسترہو گئے ہمارے ارد گرد عبرت کی کئی مثالیں موجود ہیں لیکن ہم میں سے کوئی سبق حاصل نہیں کرناچاہتا ۔۔۔ یہ کتنی خوفناک بات ہے کہ لاالہ اللہ کی بنیادپر معرض ِ وجود میں آنے والی مملکت خداداد پاکستان میں مذہبی جنونیت انتہا کو پہنچ گئی ہے اب اپنے مخالفین کو قتل کرنا کتنا آسان ہوگیا ہے ،اب ڈر لگنے لگا ہے کہ کسی دن آپ کا کوئی ملازم ،گارڈ یا مخالف آپ کو گستاخ قرار دے کر قتل کرڈالے یا پھرگستاخ یا کافر کہہ کر گولیاں مار دے اور یوں آپ کے سب گھر والے بھی یکایک رسک پہ آجائیں، پھر قاتل تھانے میں چائے پیتا پھرے اور مقتول کو مسلمان ثابت کرنے کے لیے اس کے لواحقین شہادتیں اکٹھی کرتے پھریں اور ان کو اپنی جان کے لالے پڑجائیں بلاشبہ ایسے واقعات انتہائی دردناک ہیں اصل واقعہ مگر اس کے بعد کا ہے چنیوٹ کا جنونی قاتلانہ حملہ کرنے والا ا ہیرو بن چکا تھا، تھانے میں اسے چائے پیش کی گئی، لوگوںنے آئودیکھا نہ تائو تھانے کی چھت پر چڑھ کر گستاخ ِ رسول کی سزا لوگ سر تن سے جدا کے نعرے لگانے شروع کردئیے۔
بلاشبہ بنی برحق ﷺ کی شان میں گستاخی کائنات کا سب سے بڑا جرم ہے ایسا کرنے والا کسی رعائت کا مستحق نہیں ۔ حکومت یہ دیکھ رہی ہے،علماء بھی خاموش تماشائی ہیں، کسی میں جرات نہیں کہ قاتلوں کے اس مجنونہ رقص کو گستاخانہ،خلافِ شریعت اور آئین کی کھلی خلاف ورزی کہہ سکے۔ یہ علما ء آخر کیوں چپ ہیں؟ کیا کسی کو صفائی کا موقعہ دیئے بغیر اسے گستاخ ِ رسول قرار دے کر قتل کرنا جائز ہے ؟ کیا وہ یہ معاملہ برحق سمجھتے ہیں،یا اس وقت بولنا خلاف مفاد سمجھتے ہیں؟ اس واقعہ میں قاتل و مقتول دونوں ایک ہی مسلک کے ہیں شنیدتویہ ہے کہ گارڈ نے اپنے پیر کو ماسک کے بغیر بنک میں داخل کیا. پیر صاحب کے جانے کے بعد مینجر نے کہا کہ ماسک کا اصول ہر کسٹمر کے لیے ہے جس پر گارڈ نے کہا کہ میرا پیر مشکل کشا ء ہے اس کو ماسک کی ضرورت نہیں منیجر نے کہا کہ مشکل کشا ء صرف خدا کی ذات ہے. اس گستاخی پر گارڈ نے مینجر کو گولی مار دی کچھ لوگوں کا یہ بھی کہناہے کہ بس ذرا سا اختلاف زاویہ ٔ سوچ کا فرق تھا ایسا مان بھی لیا جائے یہ تو اور بھی خطرناک بات ہے غوروفکریہ بات یہ ہے کہ جو نبی ﷺرحمت ِ دوجہاں ہے اسی کا نام لے کر دوسروںکو قتل کرنا کون سی دانائی ہے اناللہ واناالیہ راجعون ایک ناجائز قتل گویا کہ پوری انسانیت کا قتل ہے۔۔ اہل ِ علم سے شکوہ کریں تو ان کا اپنا نقطہ ٔ نظر ہے ان کا مؤقف ہے گذشتہ800سال سے مسلمان علمی انحطاط کا شکارہیں تحقیق سے لاتعلقی نے مسائل کا انبار اکٹھاکردیاہے آج تمام ایجادات ان لوگوںکی ہیں جنہیں ہم کافر کہتے ہیں غیرمسلم ممالک میں تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں کی تعداد لاکھوں کروڑوںمیں ہے جبکہ 53مسلم ممالک اور ریاستوںکی حالت سب کے سامنے ہیں جہاں دنیاکی TOP HUNDRED یونیوسٹیوں میں ایک بھی کسی مسلم ممالک میں قائم نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ آج منبر اور محراب پرتعلیم یافتہ علماء کی اکثریت نہیںہے اس کی بنیادی وجہ دور وراز اور پسماندہ علاقوں میں غربت بہت زیادہ ہے جس کے باعث ہمارے مدارس میں طلبہ کوجدید علوم سے روشناس نہیں ہو سکے اس پر مزید ظلم یہ ہوا کہ جاہل پیر طریقت بن بیٹھے ہیں ا ور دن بہ دن یہ صورت ِ حال سنگین سے سنگین ہوتی چلی جارہی ہے ۔کسی کو دین اسلام کی مبادیات کا علم نہیں۔۔۔فقہ’جہاد’اجتہاد’ شرع’ تقوی ‘ فتوی۔۔۔اس علم سے مطلقاً واقفیت نہیں۔
آج اگر معاشرہ اس نہج پر پہنچ چکا ہے کہ جاہل ریاست کو اپنے جْہل کی نوک پر رکھ چکے ہیں تو اس میں اچھلنے، حیرت اور اچھنبے کی کیا بات ہے؟؟؟ جہاں جاہل بیک وقت وکیل اورجج بن کر فیصلے کرنے لگیں اورلوگ بغیر سوچے سمجھے عقل کے فیصلے جذبات سے کرتے ہوئے سڑکوں پر قاتلوںکے حق میں نعرے لگاتے پھریں وہاں بہتر کیا ہوسکتاہے۔ کیا عشق ِ رسالت مآب ﷺکے یہی تقاضے ہیں ہمیں ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچناہوگا ان حالات میں ریاست کو ا یسے واقعات کی روک تھام کے لیے ایک بیانیہ تشکیل دینا چاہیے کہ من گھڑت واقعات اور گستاخی کی حدود کا تعین اورفیصلہ کون کرے گا؟ یہ ہمارے ہاں اکثریت کا
مائنڈ سیٹ بھیڑ چال ہے اس لیے وزارت ِ مذہبی امور مختلف مکاتب ِ فکر کے علمائ،مذہبی ا سکالرز اور ایڈوکیٹ جنرل پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی جائے جو ایسے معاملات کا جائزہ لے کر فیصلہ کرے کسی شخص کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہ دی جائے کیونکہ برے سے برا مسلمان بھی رسالت مآب ﷺ کی شان میں گستاخی کا تصور نہیں کرسکتا یقین جانئے میں نے ٹن شرابیوں کو نبی پاک ﷺ کا اسم ِ گرامی سن کر مؤدب ہوکر سنبھلتے دیکھا ہے ۔خوشاب کا واقعہ میں نماز ِجنازہ کے دوران مقتول بینک منیجرکے حق میں ہزاروں لوگوںکی گواہی نے ہم سب کو سوچنے پر مجبورکردیاہے ۔کیا ابھی بھی کوئی شک رہ جاتا ہے کہ کسی کوبھی قتل کر کے اس کو گستاخ رسول کہہ کر ہیرو بن جانا کس قدر آسان ہے جس طرح ریاست اس پہ ستو پی کر سوتی رہی اس کا خمیازہ پوری قوم بھگت رہی ہے ملکی جغرافیائی صورت ِ حال،نازک حالات، دہشت گردی ،فرقہ واریت،صوبائی عصبیت اور لسانی معاملات کے تناظرمیں دیکھا جائے تو پاکستان پہلے ہی بارود کے ڈھیرپر کھڑا ہے ہمارے چاروں جانب دشمن موقع کی تلاش میں ہے خدارا حالات کی نزاکت کااحساس کریں اسلام کے نام پر بننے والی پہلی مملکت ِ خداداد میں جاہلوںکو سپورٹ کرنا بندکردیں ورنہ اس بارود کے ڈھیر کے لیے ماچس کی ایک تیلی ہی کافی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں


مضامین
کون نہائے گا وجود منگل 07 دسمبر 2021
کون نہائے گا

دوگززمین وجود پیر 06 دسمبر 2021
دوگززمین

سجدوں میں پڑے رہناعبادت نہیں ہوتی! وجود پیر 06 دسمبر 2021
سجدوں میں پڑے رہناعبادت نہیں ہوتی!

چین کی عسکری صلاحیت’’عالمی رونمائی‘‘ کی منتظر ہے! وجود پیر 06 دسمبر 2021
چین کی عسکری صلاحیت’’عالمی رونمائی‘‘ کی منتظر ہے!

دوگززمین وجود اتوار 05 دسمبر 2021
دوگززمین

یورپ کا مخمصہ وجود هفته 04 دسمبر 2021
یورپ کا مخمصہ

اے چاندیہاں نہ نکلاکر وجود جمعه 03 دسمبر 2021
اے چاندیہاں نہ نکلاکر

تاریخ پررحم کھائیں وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
تاریخ پررحم کھائیں

انوکھی یات۔ٹو وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
انوکھی یات۔ٹو

وفاقی محتسب واقعی کام کرتاہے وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
وفاقی محتسب واقعی کام کرتاہے

ڈی سی کی گرفتاری اور سفارشی کلچر وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
ڈی سی کی گرفتاری اور سفارشی کلچر

ماں جیسی ر یاست اور فہیم۔۔۔ وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
ماں جیسی ر یاست اور فہیم۔۔۔

اشتہار

افغانستان
طالبان کے خواتین سے متعلق حکم نامے کا خیرمقدم کرتے ہیں، تھامس ویسٹ وجود اتوار 05 دسمبر 2021
طالبان کے خواتین سے متعلق حکم نامے کا خیرمقدم کرتے ہیں، تھامس ویسٹ

15 سالہ افغان لڑکی برطانوی اخبار کی 2021 کی 25 با اثر خواتین کی فہرست میں شامل وجود هفته 04 دسمبر 2021
15 سالہ افغان لڑکی برطانوی اخبار کی 2021 کی 25 با اثر خواتین کی فہرست میں شامل

طالبان کی خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے،شادی مرضی سے کرانے کی ہدایت وجود جمعه 03 دسمبر 2021
طالبان کی خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے،شادی مرضی سے کرانے کی ہدایت

جھڑپ میں ایران کے 9سرحدی گارڈز ہلاک ہوئے،طالبان وجود جمعه 03 دسمبر 2021
جھڑپ میں ایران کے 9سرحدی گارڈز ہلاک ہوئے،طالبان

افغان طالبان اور ایرانی بارڈر گارڈز کے درمیان شدید جھڑپیں، بھاری اسلحہ کا استعمال وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
افغان طالبان اور ایرانی بارڈر گارڈز کے درمیان شدید جھڑپیں، بھاری اسلحہ کا استعمال

اشتہار

بھارت
بابری مسجد شہادت کے 29 برس بیت گئے وجود منگل 07 دسمبر 2021
بابری مسجد شہادت کے 29 برس بیت گئے

بھارت ، ٹیکس میں کمی، پیٹرول 8روپے فی لیٹرسستا ہوگیا وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
بھارت ، ٹیکس میں کمی، پیٹرول 8روپے فی لیٹرسستا ہوگیا

بھارت میں مشتعل ہجوم کی چرچ میں تھوڑ پھوڑ ،عمارت کو نقصان،ایک شخص زخمی وجود بدھ 01 دسمبر 2021
بھارت میں مشتعل ہجوم کی چرچ میں تھوڑ پھوڑ ،عمارت کو نقصان،ایک شخص زخمی

بھارت میں نفرت جیت گئی، فنکار ہار گیا،مسلم کامیڈین وجود پیر 29 نومبر 2021
بھارت میں نفرت جیت گئی، فنکار ہار گیا،مسلم کامیڈین

بھارت میں ہندوانتہا پسندوں کی نماز جمعہ کے دوران ہلڑ بازی وجود هفته 27 نومبر 2021
بھارت میں ہندوانتہا پسندوں کی نماز جمعہ کے دوران ہلڑ بازی
ادبیات
جرمن امن انعام زمبابوے کی مصنفہ کے نام وجود منگل 26 اکتوبر 2021
جرمن امن انعام زمبابوے کی مصنفہ کے نام

پکاسو کے فن پارے 17 ارب روپے میں نیلام وجود پیر 25 اکتوبر 2021
پکاسو کے فن پارے 17 ارب روپے میں نیلام

اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا وجود بدھ 13 اکتوبر 2021
اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا

بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف وجود جمعه 01 اکتوبر 2021
بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف

اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب وجود پیر 20 ستمبر 2021
اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
شخصیات
جنید جمشید کی پانچویں برسی آج منائی جائے گی وجود منگل 07 دسمبر 2021
جنید جمشید کی پانچویں برسی آج منائی جائے گی

نامور شاعر ، مزاح نگار پطرس بخاری کی 63 ویں برسی آج منائی جائیگی وجود اتوار 05 دسمبر 2021
نامور شاعر ، مزاح نگار پطرس بخاری کی 63 ویں برسی آج منائی جائیگی

سینئر صحافی ضیاءالدین ا نتقال کر گئے وجود پیر 29 نومبر 2021
سینئر صحافی ضیاءالدین ا نتقال کر گئے

پاکستانی سائنسدان مبشررحمانی مسلسل دوسری بار دنیا کے بااثرمحققین میں شامل وجود جمعرات 25 نومبر 2021
پاکستانی سائنسدان مبشررحمانی مسلسل دوسری بار دنیا کے بااثرمحققین میں شامل

سکھ مذہب کے بانی و روحانی پیشواباباگورونانک کے552ویں جنم دن کی تین روزہ تقریبات کا آغاز وجود جمعه 19 نومبر 2021
سکھ مذہب کے بانی و روحانی پیشواباباگورونانک کے552ویں جنم دن کی تین روزہ تقریبات کا آغاز