وجود

... loading ...

وجود

موبائل کے غلط استعمال سے جنسی جرائم بڑھ رہے ہیں، عمران خان

بدھ 25 اگست 2021 موبائل کے غلط استعمال سے جنسی جرائم بڑھ رہے ہیں، عمران خان

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک میں یکساں نصاب ایک اہم موڑ اور بہت بڑی تبدیلی ہے، دنیا میں جن قوموں نے ترقی کی ہے وہاں یکساں نظام تعلیم ہے، انگلش میڈیم سسٹم نے ہمیں مغربی کلچر کاغلام بنادیا، موبائل کے غلط استعمال کی وجہ سے جنسی جرائم بڑھ رہے ہیں، مینار پاکستان واقعہ انتہائی شرمناک اور تکلیف دہ ہے ، مناسب تربیت نہ ہونے کے سبب نئی نسل تباہی کی طرف جا رہی ہے، ہمیں اپنے بچوں کوسیرت النبی ۖ سے آگاہی دینے کی ضرورت ہے۔لاہور میں پنجاب ایجوکیشن کنونشن سے خطاب کے دوران وزیر اعظم نے کہا کہ بدقسمتی سے ماضی نے تعلیم پر کسی نے زور ہی نہیں دیا کیونکہ تعلیم کسی کی ترجیح ہی نہیں تھی ، ماضی کی کسی حکومت نے نہیں سوچا کے مستقبل کا کیا بنے گا،جمہوریت میں ہر پانچ سال کے بعد الیکشن ہوتا ہے اور 1988 سے 1999 تک صرف ڈھائی سال حکومت چلتی تھی تو جو بھی اقتدار میں آتا تھا وہ یہ سوچ کر کام کرتا کہ یہ پانچ سال میں مکمل ہو تو میں اس کے اشتہار دے کر اگلے انتخابات جیت جائوں۔عمران خان نے کہا کہ ماضی میں ڈیم بنانے اور بہتر گورننس سسٹم پر بھی توجہ نہیں دی گئی، اگر ہم صرف ڈیم بنا دیتے تو ہمیں پانی سے سستی اور صاف بجلی مل سکتی تھی اور افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ دو بڑے ڈیم جمہوری حکمرانوں نے نہیں بلکہ فوجی آمروں نے بنائے جس سے ملک کو بہت عرصے تک فائدہ ہوا لیکن اس کے بعد کسی نے نہیں سوچا کہ ہماری اگلی نسلوں کا کیا بنے گا اور ہم نے سب سے مہنگی بجلی درآمد شدہ ایندھن سے بنا لی۔ عمران خان نے کہا کہ ماضی میں یکساں نصاب لایا جانا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں کیا گیا، سابق حکومتیں چھوٹے کاموں کی بھی بہت تشہیر کیا کرتا تھیں، وہ کام کم اور شور زیادہ کیا کرتی تھیں، وزیر اعظم نے وزیر تعلیم پنجاب مراد راس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ آپ نے وہ کام کیے ہیں جو پورے پاکستان میں کسی صوبے نے نہیں کیے لیکن کسی کو پتا ہی نہیں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اچھے کاموں میں آپ اپنا نام سامنے لانا ہی نہیں چاہتے ،وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود اور یہاں مراد راس نے بہت اچھا کام کیا،ہمیشہ سوچتا ہوں آپ وہ کام کر رہے ہیں جوکوئی صوبہ نہیں کر رہا، پنجاب میں موجود حکومت نے وہ کیے ہیں جو کسی نے نہیں کیے، عثمان بزدار اچھے کام کررہے ہیں لیکن لوگوں کوپتہ ہی نہیں چلتا، وہ اچھے کاموں میں اپنا نام لانا ہی نہیں چاہتے، عثمان بزدار خاموشی سے کام اور لوگ تنقید کرتے رہتے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ جب ہم آزاد ہوئے تھے تو ہمیں سب سے زیادہ تعلیم پر توجہ دینا چاہیے تھی اور ایک ہی نصاب لانا چاہیے تھا لیکن اس کے بجائے ہم تین طرف نکل گئے، ایک طرف دینی مدرسے چلے گئے، ایک طرف اردو میڈیم اور چھوٹے سے طبقے کو انگلش میڈیم تعلیم دی گئی اور انگریزی میڈیم میں بھی تعلیم کے بجائے دیسی ولایتی بنانے پر زیادہ زور تھا۔انہوں نے کہا کہ انگریز کے نظام تعلیم میں انتہائی تھوڑے لوگوں کو انگریزی میڈیم کی تعلیم دی جاتی تھی لیکن وہ یہ نظام اس لیے لائے تھے تاکہ لارڈ میکالی کے بقول وہ ہو تو ہندوستانی لیکن وہ انگریز کی طرح سوچے اور اس کے ذریعے ہم برصغیر پر حکومت کریں اور ایک خاص تعلیمی نظام سے انہوں نے ایسے لوگ بنائے۔عمران خان نے کہا کہ دنیا میں جن قوموں نے ترقی کی ہے وہاں یکساں نظام تعلیم ہے، مغرب تعلیم میں ہم سے آگے نکل گیا ہے، انگریزوں نے ایک خاص کلاس بنانے کے لئے مختلف نظام تعلیم رائج کیے، جب میں باہر گیا تو مجھے محسوس ہوا کہ مجھے اپنے کلچر اور دین سے دور کیا گیا، مجھے ایسا لگا کہ مجھے انگلش پبلک اسکول بوائے بنایا گیا ہے، انگریزوں کاسسٹم تبدیل کرنیکی بجائے ہم نے انہیں مزید بڑھایا، ملک میں ایک چھوٹے سے طبقے کے لئے انگلش میڈیم ہے اور باقی لوگوں کے لئے اردو میڈیم ہے، انگلش میڈیم سسٹم ذہنی غلامی لایا، انگلش میڈیم سسٹم نے ہمیں مغربی کلچر کاغلام بنادیا۔انہوں نے کہا کہ جب ہم ایک نصاب کی بات کرتے ہیں تو لوگ کہتے ہیں کہ یہ تو پیچھے لے کر جا رہے ہیں، چین، جاپان اور فرانس میں کتنے نصاب ہیں، جو بھی ملک ترقی کررہے ہیں وہ ایک نصاب کے ساتھ قوم بناتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں ایک چھوٹے سے نجی اسکول کے کلچر نے ترقی تو کی لیکن انہوں نے ہمیں دوسرے کلچر کا غلام بنا دیا اور ملک میں یکساں نصاب ایک اہم موڑ ہے اور بہت بڑی تبدیلی ہے، یہ ایک دن میں ٹھیک نہیں ہو گا۔عمران خان نے کہا کہ انگریزی اوٹیٹس کی نشانی نہیں بلکہ اعلی تعلیم کے لیے ایک زبان ہونی چاہیے اور پاکستان میں یکساں نصاب کے اقدام کے انتہائی اہم اثرات مرتب ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم بنا تو ہر تقریب میں انگلش بولی جا رہی تھی۔ پاکستان میں 80 فیصد لوگوں کو انگلش نہیں آتی لیکن پارلیمنٹ اور سینیٹ اجلاسوں میں اراکین انگریزی میں تقریر شروع کر دیتے ہیں، یہ سب کچھ لوگوں کو متاثر کرنے کیلئے کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی سے ہم کرپشن پر قابو پا سکتے ہیں جو اس ملک میں نیچے تک سرایت کر چکی ہے، ہم ایف بی آر کو خودکار کرنا چاہتے ہیں اور خودکار ہونے سے کرپشن نیچے آتی جائے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے اپنی کابینہ کو بھی ٹیکنالوجی کے لحاظ سے جدید خطوط پر استور کیا ہے اور اب وہاں کاغذ نہیں ہوتا بلکہ ای گورننس کی بدولت ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جاتا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں ٹیکنالوجی سکھانے کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کی تربیت بھی کرنی ہے، وزیر اعظم نے کہا کہ مینار پاکستان میں جو ہوا اس سے تکلیف ہوئی، جو حرکتیں ہورہی ہیں یہ ہمارے کلچر اور دین کا حصہ نہیں ہے، ماضی میں ملک میں خواتین کی جو عزت و تکریم کی جاتی تھی ایسی دنیا میں کہیں نہیں تھی، مغرب میں عورت کی اتنی عزت نہیں جو ہم یہاں کرتے تھے، ہم جو تباہی دیکھ رہے ہیں اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے بچوں کی صحیح تربیت نہیں ہورہی۔ موبائل کے غلط استعمال کی وجہ سے جنسی جرائم میں اضافہ ہورہا ہے، ہمیں اپنے بچوں کوسیرت النبی ۖ سے آگاہی دینے کی ضرورت ہے، وہ دنیا میں سب سے عظیم انسان تھے، نہ کوئی آیا ہے، نہ کوئی آئے گا۔


متعلقہ خبریں


حکومت بجٹ کو چھپانے لگی،ٹیکس رعایتوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے سے انکار وجود - بدھ 17 جون 2026

حکومت کی جانب سے بجٹ کے حوالے سے آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کی کوششیں ، دونوں فریقین میںمذاکرات کا جاری ، ممکنہ خسارے کے ازالے کیلئے متبادل ریونیو اقدامات پر مشاورت حکومت کا فنانس بل میں شامل مختلف ٹیکس رعایتوں کی مکمل تفصیلات جاری کرنے سے گریز، تنخواہ دار طبقے کو دیے گئے ٹیکس ر...

حکومت بجٹ کو چھپانے لگی،ٹیکس رعایتوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے سے انکار

عمران خان سے ملاقات تک خیبر پختونخوا کا حتمی بجٹ ملتوی، صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپرمنظور ہوگا وجود - بدھ 17 جون 2026

میری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے بات ہوگئی ہے،صوبائی حکومت صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپر پاس کرے گی، آئین کا آرٹیکل 125 اجازت دیتا ہے، آپ 3 ماہ کا بجٹ پیپر پیش کرسکتے ہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک حتمی بجٹ پیش نہیں ہوگا،30 جون تک بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو خیبر پختونخوا...

عمران خان سے ملاقات تک خیبر پختونخوا کا حتمی بجٹ ملتوی، صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپرمنظور ہوگا

منشیات کیس ،پنکی کیخلاف بڑے نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشافات وجود - بدھ 17 جون 2026

ملزمہ سادہ کوکین 20ہزار فی گرام جبکہ گولڈن اسٹف40ہزار فی گرام فروخت کرتی تھی مقدمے میں نامزد پانچ ملزمان مفرور قرار ،پولیس نے گرفتاری کیلئے کارروائیاں تیز کر دی کراچی میں منشیات فروشی کے مبینہ بڑے نیٹ ورک کی مرکزی ملزمہ انمول عرف پنکی اور دیگر کے خلاف منشیات کے مقدمے کا عبوری...

منشیات کیس ،پنکی کیخلاف بڑے نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشافات

کراچی میں پنکی کے بعد ایک اور منشیات گینگ بے نقاب وجود - بدھ 17 جون 2026

منشیات کی ترسیل کے لیے انڈوں کے خول استعمال کیے جاتے تھے،ملزم شاہ فہد سہراب گوٹھ سے مختلف رائیڈرز کے ذریعے مختلف علاقوں میں سپلائی کیا جاتا تھا کراچی سائوتھ زون پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے منشیات سپلائی کرنے والے ایک اور مبینہ منظم نیٹ ورک کا سراغ لگانے کا دعوی کیا ہے۔ گرفتار...

کراچی میں پنکی کے بعد ایک اور منشیات گینگ بے نقاب

سندھ حکومت کا مزید ڈبل ڈیکر اور ای وی بسیں لانے کا اعلان وجود - بدھ 17 جون 2026

رواں سال ڈبل ڈیکر اور جدید الیکٹرک بسوں کی بڑی تعداد کراچی پہنچ جائے گی،شرجیل میمن نئی ڈبل ڈیکر اور ماحول دوست ای وی بسیں مرحلہ وار مختلف روٹس پر چلائی جائیں گی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی کے شہریوں کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کا ا...

سندھ حکومت کا مزید ڈبل ڈیکر اور ای وی بسیں لانے کا اعلان

عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت وجود - منگل 16 جون 2026

ایک شخص کی وجہ سے ملکی تناؤ ہے تو اسے باہر نکالیں، مجھے کہا جاتا ہے آپ تو عمران خان کیخلاف تھے، مخالف جیل میں ہاتھ پاؤں بندھا پڑا ہو تو اس کیخلاف بات نہیں کرتے،سربراہ جے یو آئی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈروں کی تقریروں کو بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے، ہم نے کشمیریوں کی ماؤں بہنوں کی...

عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ وجود - منگل 16 جون 2026

81ہزار ٹن خریداری ہدف سے کم، مقامی مارکیٹ اور پاسکو سے مزید گندم خریدنے کا فیصلہ ہاریوں کو مقررہ امدادی قیمت کی ادائیگی ہر صورت یقینی بنائی جائے،اجلاس میں تفصیلی جائزہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلی ہاؤس میں محکمہ خوراک اور محکمہ زراعت کا مشترکہ اجلاس ...

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ

کراچی کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں ہے،شرجیل میمن وجود - منگل 16 جون 2026

عوام بخوبی جانتے ہیں کہ کس نے اسے بوری بند لاشوں کے تحفے دیے،سینئر صوبائی وزیر کراچی ملک کا معاشی حب اور سندھ کا دارالخلافہ ہے، خالد مقبول کے بیان پر سخت ردعمل سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا خالد مقبول صدیقی کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کراچی کے عوام بخوبی جانتے ہیں ...

کراچی کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں ہے،شرجیل میمن

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان وجود - پیر 15 جون 2026

تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے وجود - پیر 15 جون 2026

پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم وجود - اتوار 14 جون 2026

حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران وجود - اتوار 14 جون 2026

امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران

مضامین
مقبوضہ وادی میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی بھارتی سازش وجود بدھ 17 جون 2026
مقبوضہ وادی میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی بھارتی سازش

علم، اعتدال اور اصلاحِ معاشرہ کا روشن باب وجود بدھ 17 جون 2026
علم، اعتدال اور اصلاحِ معاشرہ کا روشن باب

ایک تقریب ملتوی ہوگئی!! وجود منگل 16 جون 2026
ایک تقریب ملتوی ہوگئی!!

جھوٹ ہمیشہ اعتماد کا قاتل ہوتا ہے! وجود منگل 16 جون 2026
جھوٹ ہمیشہ اعتماد کا قاتل ہوتا ہے!

کب تک ؟ وجود منگل 16 جون 2026
کب تک ؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر