... loading ...
گزشتہ24گھنٹوں کے دوران ملک بھرمیں عالمی وباء کوروناوائرس کے مزید 54مریض انتقال کر گئے جس کے بعد ملک میں کوروناوائرس سے انتقال کرنے والے مریضوں کی تعداد7897تک پہنچ گئی جبکہ گذشتہ 24گھنٹوں کے دوران ملک میں کوروناوائرس کے 3113 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعد پاکستان میں کوروناوائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد تین لاکھ 89ہزار311تک پہنچ گئی جبکہ ملک میں تین لاکھ 35ہزار881مریض مکمل طور پر صحتیاب ہو چکے ہیں۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر(این سی اوسی)کی جانب سے جمعہ کے روز کوروناوائرس کے حوالہ سے جاری تازہ اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں اس وقت کوروناوائرس کے 2112مریضوںکی حالت تشویشناک ہے ۔ ملک میں کوروناوائرس سے انتقال کرنے والے مریضوںکی شرح دو فیصد جبکہ صحتیاب ہونے والے مریضوں کی شرح86.3فیصد تک پہنچ گئی ۔ گذشتہ24گھنٹوں کے دوران کوروناوائرس کے 1489مریض صحتیاب ہو کرگھروں کو چلے گئے ۔ پاکستان میں کوروناوائرس کے فعال کیسز کی تعداد تیزی سے بڑھنے کا سلسلہ جاری ہے اور یہ تعداد45533تک پہنچ گئی۔ صوبہ سندھ کوروناوائرس کے کل رپورٹ ہونے والے کیسز، فعال کیسز اور صحتیاب ہونے والے مریضوں کی تعداد کے اعتبار سے ملک بھر میں پہلے نمبر پرہے جبکہ صوبہ پنجاب دوسرے نمبر پر ہے ۔ صوبہ پنجاب کوروناوائرس سے انتقال کرنے والے مریضوں کی تعداد کے اعتبارسے ملک بھر میں پہلے نمبر پر ہے جبکہ صوبہ سندھ دوسرے نمبر پر ہے ۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کوروناوائرس کے فعال کیسز کے اعتبار سے ملک بھر میں تیسرے نمبر پر ہے ۔ اسلام آباد میںکوروناوائرس کے کیسز کی تعداد5917تک پہنچ گئی جبکہ صوبہ سندھ میں کوروناوائرس کے فعال کیسز کی تعداد17586،صوبہ پنجاب میں کوروناوائرس کے فعال کیسز کی تعداد16024جبکہ صوبہ خیبر پختونخوا میں کوروناوائر س کے فعال کیسز کی تعداد3735جبکہ صوبہ بلوچستان میں کوروناوائرس کے فعال کیسز کی تعداد 629،آزادجموں وکشمیر1460جبکہ گلگت بلتستان میں کوروناوائرس کے فعال کیسز کی تعداد183تک پہنچ گئی جو ملک بھر میں سب سے کم ہے ۔این سی او سی کے مطابق اسلام آباد میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد28 ہزار980تک پہنچ گئی، خیبرپختونخوا46 ہزار281، سندھ ایک لاکھ 68 ہزار783، پنجاب ایک لاکھ 17 ہزار160، بلوچستان 17 ہزار8، آزاد کشمیرمیں6ہزار501 اور گلگت بلتستان میں 4 ہزار 598 افراد کورونا سے متاثر ہوچکے ہیں۔کورونا کے سبب سب سے زیادہ اموات پنجاب میں ہوئی ہیں جہاں 2 ہزار945افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ سندھ میں 2 ہزار885، خیبر پختونخوا ایک ہزار346، اسلام آباد305، گلگت بلتستان96، بلوچستان میں 165 اور آزاد کشمیر میں155 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ملک بھر میں اب تک 53 لاکھ 86 ہزار 916 افراد کے ٹیسٹ کئے گئے ، گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 43 ہزار 214 نئے ٹیسٹ کئے گئے ۔این سی او سی کے مطابق پاکستان میں کورونا وائرس کی دوسری لہرشروع ہو چکی ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے ایس اوپیز پر سختی سے عملدآمد کرنا ہو گا۔حکومت پاکستان نے 16 بڑے شہروں میں 31جنوری2021 تک سخت پابندیاں نافذ کر رکھی ہیں اور پورے میں تعلیمی ادارے ایک بار پھر بند کر دیئے گئے ہیں۔ملک بھر کے ہسپتالوں کو 2811 آکسیجن بیڈز فراہم کیے گئے ۔ ہسپتالوں میں 13ہزار آکسیجن سلنڈرز دیئے جاچکے ہیں۔صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی گئی کہ بازاروں، شاپنگ مالز، پبلک ٹرانسپورٹ، ریسٹورنٹس میں ایس او پیز اور ماسک کو لازم قرار دیں۔شہری گھروں سے باہر نکلتے وقت ماسک لازمی پہنیں۔ حکومتی اور نجی سیکٹرز کے دفاتر میں کام کرنے والوں کے لیے ماسک پہننا لازم ہے ۔
پاکستان استنبول میں ہونے والے مجوزہ مذاکرات میں شرکت کرے گا، جن کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا اور بات چیت کے ذریعے تنازعے کے حل کی راہ ہموار کرنا ہے، ترجمان طاہر اندرابی امریکا کے نمائندہ خصوصی اور ایرانی وزیرخارجہ اپنے ممالک کی نمائندگی کریں گے،خطے کی طاقتوںسعودی...
اڈیالہ جیل میں قیدبانی پی ٹی آئی کی صحت بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے، طبی معائنہ شوکت خانم اور شفا اسپتال کے ڈاکٹروں سے کرایا جائے، قائدِ حزبِ اختلاف نے صحت کا معاملہ اٹھا دیا وزیراعظم سے فوری ذاتی مداخلت کا مطالبہ ،خط میں اپوزیشن لیڈرنے ذاتی ڈاکٹروں کے نام تجویز ڈاکٹر محمد ...
صدر میں 200سے زائد دکانیں سیل،مارکیٹ میں حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے دکانداروں کو سات روز قبل نوٹس جاری ، انتظامات کیے جانے تک مارکیٹیں سیل رہیں گی صدر ہاشو سینٹر اور الیکٹرک مارکیٹ سیل کر دی گئی، دونوں مارکیٹوں میں دو سو سے زائد دکانیں موجود ہیں۔تفصیلات کے مطابق فائر سیفٹی ک...
خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ 72,703قومی شناختی کارڈز بلاک کیے گئے سندھ 49,666، پنجاب میں 29,852شناختی کارڈز بلاک ہوئے،نادراحکام پاکستانی حکام نے گزشتہ تین برسوں کے دوران ملک بھر میں تقریبا 195,000 کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈز (CNICs) بلاک کیے، جو شہری ڈیٹا بیس میں موجود مخت...
ملک بھر کے عوام ناانصافی کیخلاف رضاکارانہ طور پر دکانیں بند اور احتجاج ریکارڈ کرائیں گے،سندھ اور پنجاب میں پی ٹی آئی کارکنان کی گرفتاریوں اور ان کے گھروں پر چھاپوں کی شدید مذمت بلوچستان میں دہشتگردی کی مذمت،دہشتگردی کیخلاف جدوجہد میں قوم متحد، مشترکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں م...
سیکیورٹی صورتحال سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال ،امن کیلئے صوبائی حکومت کو کوششیں مزید بڑھانا ہوں گی، صوبائی حکومت با اختیار ،خیبر پختونخوا وفاق کی اہم اکائی ،صوبائی اداروں کو مضبوط کرے،شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے درمیان ملاقات ہوئ...
دہشت گردی کے حوالے سے گفتگو ہوئی، ایک دو ملاقاتیں مزید ہوں گی، میڈیا سے گفتگو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف سے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی اور میں نے بانی سے ملاقات کا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔وزیراعظم...
14 روز انتظار کے بعد 30 جنوری کو جواب دینے میں ناکامی پرعہدے سے ہاتھ دھونا پڑا سابق ڈی آئی جی ٹریفک کوعہدے سے ہٹانے پر مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں (رپورٹ : افتخار چوہدری)ڈی آئی جی پیر محمد شاہ پرمبینہ طور پر ذاتی اثرورسوخ استعمال کرکے تاجرکومبینہ طورپراغوا کروانے کا ا...
عدالت نے ایف آئی اے کو چالان مکمل کرنے کیلئے 2 دن کی مہلت دے دی معاملہ 2022 سے چل رہا ہے ، آپ نے دلچسپی ہی نہیں لی، پراسیکیوٹر سے مکالمہ فارن فنڈنگ کسی میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے لیے نئی مشکل تیار ہوگئی۔بینکنگ کورٹ اسلام آباد میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف غیر...
آبی ذخائر کا تحفظ قومی، ماحولیاتی اور سماجی فلاح کے لیے ناگزیر ہے،شہباز شریف پانی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کومسترد کرتے ہیں،پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آبی ذخائر کا تحفظ قومی، ماحولیاتی اور سماجی فلاح کے لیے ناگزیر ہے، سندھ طاس معاہدے...
گورنر راج لگانے کی سازشیں ہو رہی ہیں، مجھے عدالتوں سے نااہل کرایا جائے گا،تمام قبائلی اضلاع میں جاکر اسلام آباد میں دھرنے پر رائے لوں گا،سوال یہ ہے دہشتگرد ہمارے گھروں تک پہنچے کیسے؟ میں نے 4 ارب مختص کیے تو وفاق مجھ پر کرپشن کے الزامات لگا رہا ہے، 4 ارب نہیں متاثرین کیلئے 100 ...
کراچی سمیت سندھ میں رہنماؤں ، سینئر صوبائی قیادت ،منتخب نمائندوں اور کارکنان کے گھروں پرتابڑ توڑ چھاپے،متعدد کارکنان نامعلوم مقامات پر منتقل،8 فروری میں 7 دن باقی،حکمران خوفزدہ کریک ڈاؤن کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ منصوبہ بند ی کے تحت کارروائی ہے، گرفتاریوں، دھمکیوں اور حکومت...