... loading ...
گلشن اقبال مسکن چورنگی دھماکے کے متاثرین کو تاحال کوئی معاوضہ اور متبادل جگہ فراہم نہیں کی جاسکی جب کہ عمارت بھی منہدم کردی گئی ہے ۔گلشن اقبال مسکن چورنگی پر واقع عمارت اللہ نور اپارٹمنٹس میں 21 اکتوبر بروز بدھ کو ہونے والے دھماکے کے متاثرین کو تاحال حکومت کی جانب سے کوئی معاوضہ اور رہائش گاہ فراہم نہیں کی گئی، عمارت کے متاثرہ حصے کے اطراف ٹیپ لگا کر سیل کیا ہوا ہے جسکی وجہ سے عمارت سے متصل قائم ایک ریسٹورانٹ اور کیفے بھی گزشتہ ایک ہفتے سے بند پڑا ہے ۔عمارت کے متاثرہ خاندانوں کا سازو سامان جس میں فرنیچر، برتن، بستر، کپڑے سمیت دیگر اشیا شامل ہیں اپارٹمنٹس میں دھوپ میں پڑا خراب ہورہا ہے ، عمارت کے متاثرہ خاندانوں نے اپنے رشتے داروں اور عزیز و اقارب کے گھروں پر عارضی پناہ لے رکھی ہے ، عمارت کے پہلی منزل پر دھماکا ہوا تھا جو گرائونڈ فلور پر واقع بینک کا حصہ تھا جب کہ اس سے اوپر دوسری، تیسری اور چوتھی منزل پر خاندان رہائش پزیر تھے جن میں سے دوسری منزل کا رہائشی خالد سلطان حادثے میں جاں بحق ہوچکا ہے جب کہ تیسری منزل کے رہائشی مسرور رضا کے پیر میں فریکچر آیا ہے اور چوتھی منزل کے رہائشی خاندان کو خوش قسمتی سے کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے ۔اپارٹمنٹ انتظامیہ نے متاثرہ عمارت کے 2 خاندانوں کو اپارٹمنٹ کے خالی فلیٹس میں عارضی طور پر منتقل کردیا ہے ، عمارت کے متاثرین نے حکومت سے معاوضہ دینے اور عمارت کو دوبارہ تعمیر کرنے کا مطالبہ کیا ہے جب کہ اپارٹمنٹ کے دیگر رہائشیوں نے حکومت سے عمارت کی دوبارہ تعمیر کرانے سمیت واقعے کی شفاف تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے متاثرہ عمارت کی تیسری منزل کے رہائشی مسرور رضا نے بتایاکہ پہلی منزل پر دھماکا ہوا تھا، متاثرین کی مدد کرنے یا معاوضہ دینے کے حوالے سے اب تک صوبائی سطح پر باقاعدہ طور پر کوئی اعلان نہیں ہوا، نہ ہی یہ بتایا گیا ہے کہ عمارت دوبارہ تعمیر کی جائے گی یا نہیں، حکومت کو چاہیے کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کروائے جس میں بینک انتظامیہ کو بھی شامل کیا جائے اور ان سے بھی پوچھ گچھ کی جائے اور دھماکا ہونے کی اصل وجہ بتائی جائے ، ہم بالکل سڑک پر آگئے ہیں، اپارٹمنٹ انتظامیہ نے تعاون کیا ہے ، عارضی طور پر پلاٹ رہنے کے لئے دیا ہے لیکن یہ کوئی مستقل حل نہیں ہے ، حکومت ہمیں مستقل رہنے کے لئے جگہ فراہم کرے ۔اپارٹمنٹ کی ایک رہائشی خاتون افت نے بتایاکہ کسی نے متاثرین کے ساتھ کوئی تعاون نہیں کیا کوئی پوچھنے کے لئے نہیں آیا، متاثرین کے گھر کا سامان بھی سب باہر پڑا ہوا ہے ، خاندان تباہ ہوگئے ہیں، ہر گز یہ گیس لیکج سے دھماکا نہیں ہوا ہے ، جب دھماکا ہوا تب نہ چنگاری تھی نہ آگ تھی صرف دھول مٹی تھی، حکومت کو چاہیے کہ متاثرہ عمارت کی دوبارہ تعمیر کرے ۔ایک اور عمارت کے رہائشی اعجاز الحق نے کہاکہ میں کچھ دوری پر موجود تھا جب دھماکا ہوا، جتنے شدید زخمی افراد تھے وہ سیلنڈر دھماکے کے زخمی نہیں تھے ، ساڑھے نو بجے کے قریب دھماکا ہوا ہے ، تین سے چار سیکنڈ میں نیچے اترے اسوقت کوئی مدد کے لئے نہیں پہنچا تھا، اپنی مدد آپ کے تحت متاثرین کو عمارت سے باہر نکالا، یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ اس عمارت کو گیس لیکج دھماکے کی وجہ بتاکر کلئرنگ سرٹیفکیٹ کیسے دے دیا گیا، بینک انتظامیہ سوئی گیس کمپنی اور سندھ حکومت کو چاہیے متاثرین کو معاوضہ دیں انکی مالی مدد کریں۔دوسری جانب اللہ نور اپارٹمنٹس کے جنرل سیکرٹری سید عسکری زیدی نے بتایاکہ جیسے ہی حادثہ ہوا میں دس منٹ بعد جائے حادثہ پر موجود تھا، جو تیسری اور چوتھی منزل کا رہائشی تھا اسے ریسکیو کیا، دوسری منزل پر رہنے والے خالد صاحب انتقال کرگئے تھے ، اپارٹمنٹ کی پہلی منزل جہاں دھماکا ہوا وہ بینک کے پاس ہے لیکن وہاں گیس کا کوئی نام و نشان نہیں ہے یا کوئی بدبو یا کوئی سیلنڈر مجھے نظر نہیں آیا، حکومت کا کام ہے کہ وہ تفتیش کرے ، ہم نے تمام حکام سے رابطہ کیا ہے ، وزیر اعلی سندھ سمیت ناصر حسین شاہ اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے حکام کو بھی خط لکھے ہیں لیکن انکی جانب سے کوئی جواب نہیں آیا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے صرف دو مطالبے ہیں کہ جو عمارت گری ہے اسکو حکومت ویسے ہی دوبارہ تعمیر کروایا جائے اور واقع کی شفاف تحقیقات کروائی جائے ، دھماکا اتنا شدید تھا کہ پوری عمارت ہل گئی تھی، کئی افراد ہلاک بھی ہوچکے ہیں۔دریں اثنا عمارت کو مخدوش ہونے کے سبب ایس بی سی اے نے منہدم کردیا۔ قبل ازیں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی حکام نے متاثرہ عمارت کا جائزہ لینے کے بعد عمارت کے مخصوص حصے کو مخدوش قرار دیتے ہوئے اسے گرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ جس کے بعد عمارت کے مخصوص حصے کو رہائشی اپارٹمٹ سے الگ کرنے کا کام شروع کیا گیا اور 7 روز تک مزدور روایتی طریقے سے عمارت کی چھت، پلر اور بیم کا سریا کاٹتے رہے ۔سات روز کے بعد متاثرہ عمارت کا سریا کاٹ کر اسے محفوظ رہنے والی عمارت سے الگ کردیا گیا اورمنگل کی دوپہر ہیوی کرین کے ذریعے عمارت کے متاثرہ حصے کو مسمار کردیا گیا جس کے بعد عمارت کا ملبہ ہٹانے کا کام شروع کردیا گیا ہے ۔واضح رہے کہ مسکن چورنگی دھماکے میں اب تک 7 افراد ہلاک جبکہ 20 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...
3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...
ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...
ہم کسی کو اجازت نہیں دینگے عمران خان کو بلاجواز جیل میں رکھیں،پیپلزپارٹی نے مل کرآئین کاڈھانچہ تبدیل کیا، سندھ میں پی پی کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، فسطائیت ہمیشہ یاد رہے گی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عمران خان کی سیاست ختم کرنیوالے دیکھ لیں قوم آج کس کیساتھ کھڑی ہے، آج ہمارے ساتھ مختلف...
بی وائی سی بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت کاکوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں بالخصوص فتنہ الہندوستان کے بظاہر سافٹ فیس کے طور پر ...
شاہ کس بائے پاس روڈ پر واقع ناکے کلے میں فتنہ الخوارج کی تشکیل کو نشانہ بنایا ہلاک دہشت گرد فورسز پر حملوں سمیت دیگر واقعات میں ملوث تھے، سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ٹی) نے ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔سی ...
گائیڈ لائنز پر عمل کریں، وزیراعلیٰ کا عہدہ آئینی عہدہ ہے اوراس کا مکمل احترام کیا گیا ہے جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان پر عمل نہیں کیا جا رہا سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہ...
سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ کردی گئی حیدر آباد سے کراچی واپسی پرجگہ جگہ رکاوٹیں ڈالی گئیں ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ ہوگئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق...
واشنگٹن اور اتحادی ممالک میں تشویش ، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی اس اقدام کی مخالفت کانگریس ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرے گی،نیٹو اتحاد کے مستقبل پر سوالات اٹھ سکتے ہیں برطانوی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ حملہ سے متعلق فوجی منصوبہ تیار کرنے کے ...
پاکستان کی عدلیہ کی آزادی کے لیے کوششیں جاری ہیں،سندھ اس وقت زرداری کے قبضے میں ہے لیکن سندھ عمران خان کا تھا اور خان کا ہی رہیگا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا پرتپاک اور والہانہ استقبال کیا پیپلزپارٹی خود کو آئین اور18ویں ترمیم کی علمبردار کہتی ہے لیکن افسوس! پی پی نے 26 اور 27و...
حکومت سندھ نے آبپاشی اور زراعت کی ترقی کیلئے خصوصی اور جامع اقدامات کیے ہیں مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے جائزہ اجلاس میں گفتگو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ اجلاس ہوا، اجلاس میں صوبائی وزراء ...
خیمے بارش کے پانی میں ڈوب گئے،ایندھن کی شدید قلت نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا دیوار گرنے سے کمسن بچہ زخمی،قابض اسرائیل کی فوج نے بیشتر عمارتیں تباہ کر دی،رپورٹ شدید موسمی دباؤ اور شدید بارشوں جن کی لپیٹ میں پورا فلسطین ہے، غزہ کے محصور شہریوں کی اذیتوں میں مزید اضافہ کر دی...