وجود

... loading ...

وجود

گلشن دھماکے کے متاثرین گھر اور معاوضے سے محروم؛ عمارت بھی منہدم کردی گئی

بدھ 28 اکتوبر 2020 گلشن دھماکے کے متاثرین گھر اور معاوضے سے محروم؛ عمارت بھی منہدم کردی گئی

گلشن اقبال مسکن چورنگی دھماکے کے متاثرین کو تاحال کوئی معاوضہ اور متبادل جگہ فراہم نہیں کی جاسکی جب کہ عمارت بھی منہدم کردی گئی ہے ۔گلشن اقبال مسکن چورنگی پر واقع عمارت اللہ نور اپارٹمنٹس میں 21 اکتوبر بروز بدھ کو ہونے والے دھماکے کے متاثرین کو تاحال حکومت کی جانب سے کوئی معاوضہ اور رہائش گاہ فراہم نہیں کی گئی، عمارت کے متاثرہ حصے کے اطراف ٹیپ لگا کر سیل کیا ہوا ہے جسکی وجہ سے عمارت سے متصل قائم ایک ریسٹورانٹ اور کیفے بھی گزشتہ ایک ہفتے سے بند پڑا ہے ۔عمارت کے متاثرہ خاندانوں کا سازو سامان جس میں فرنیچر، برتن، بستر، کپڑے سمیت دیگر اشیا شامل ہیں اپارٹمنٹس میں دھوپ میں پڑا خراب ہورہا ہے ، عمارت کے متاثرہ خاندانوں نے اپنے رشتے داروں اور عزیز و اقارب کے گھروں پر عارضی پناہ لے رکھی ہے ، عمارت کے پہلی منزل پر دھماکا ہوا تھا جو گرائونڈ فلور پر واقع بینک کا حصہ تھا جب کہ اس سے اوپر دوسری، تیسری اور چوتھی منزل پر خاندان رہائش پزیر تھے جن میں سے دوسری منزل کا رہائشی خالد سلطان حادثے میں جاں بحق ہوچکا ہے جب کہ تیسری منزل کے رہائشی مسرور رضا کے پیر میں فریکچر آیا ہے اور چوتھی منزل کے رہائشی خاندان کو خوش قسمتی سے کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے ۔اپارٹمنٹ انتظامیہ نے متاثرہ عمارت کے 2 خاندانوں کو اپارٹمنٹ کے خالی فلیٹس میں عارضی طور پر منتقل کردیا ہے ، عمارت کے متاثرین نے حکومت سے معاوضہ دینے اور عمارت کو دوبارہ تعمیر کرنے کا مطالبہ کیا ہے جب کہ اپارٹمنٹ کے دیگر رہائشیوں نے حکومت سے عمارت کی دوبارہ تعمیر کرانے سمیت واقعے کی شفاف تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے متاثرہ عمارت کی تیسری منزل کے رہائشی مسرور رضا نے بتایاکہ پہلی منزل پر دھماکا ہوا تھا، متاثرین کی مدد کرنے یا معاوضہ دینے کے حوالے سے اب تک صوبائی سطح پر باقاعدہ طور پر کوئی اعلان نہیں ہوا، نہ ہی یہ بتایا گیا ہے کہ عمارت دوبارہ تعمیر کی جائے گی یا نہیں، حکومت کو چاہیے کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کروائے جس میں بینک انتظامیہ کو بھی شامل کیا جائے اور ان سے بھی پوچھ گچھ کی جائے اور دھماکا ہونے کی اصل وجہ بتائی جائے ، ہم بالکل سڑک پر آگئے ہیں، اپارٹمنٹ انتظامیہ نے تعاون کیا ہے ، عارضی طور پر پلاٹ رہنے کے لئے دیا ہے لیکن یہ کوئی مستقل حل نہیں ہے ، حکومت ہمیں مستقل رہنے کے لئے جگہ فراہم کرے ۔اپارٹمنٹ کی ایک رہائشی خاتون افت نے بتایاکہ کسی نے متاثرین کے ساتھ کوئی تعاون نہیں کیا کوئی پوچھنے کے لئے نہیں آیا، متاثرین کے گھر کا سامان بھی سب باہر پڑا ہوا ہے ، خاندان تباہ ہوگئے ہیں، ہر گز یہ گیس لیکج سے دھماکا نہیں ہوا ہے ، جب دھماکا ہوا تب نہ چنگاری تھی نہ آگ تھی صرف دھول مٹی تھی، حکومت کو چاہیے کہ متاثرہ عمارت کی دوبارہ تعمیر کرے ۔ایک اور عمارت کے رہائشی اعجاز الحق نے کہاکہ میں کچھ دوری پر موجود تھا جب دھماکا ہوا، جتنے شدید زخمی افراد تھے وہ سیلنڈر دھماکے کے زخمی نہیں تھے ، ساڑھے نو بجے کے قریب دھماکا ہوا ہے ، تین سے چار سیکنڈ میں نیچے اترے اسوقت کوئی مدد کے لئے نہیں پہنچا تھا، اپنی مدد آپ کے تحت متاثرین کو عمارت سے باہر نکالا، یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ اس عمارت کو گیس لیکج دھماکے کی وجہ بتاکر کلئرنگ سرٹیفکیٹ کیسے دے دیا گیا، بینک انتظامیہ سوئی گیس کمپنی اور سندھ حکومت کو چاہیے متاثرین کو معاوضہ دیں انکی مالی مدد کریں۔دوسری جانب اللہ نور اپارٹمنٹس کے جنرل سیکرٹری سید عسکری زیدی نے بتایاکہ جیسے ہی حادثہ ہوا میں دس منٹ بعد جائے حادثہ پر موجود تھا، جو تیسری اور چوتھی منزل کا رہائشی تھا اسے ریسکیو کیا، دوسری منزل پر رہنے والے خالد صاحب انتقال کرگئے تھے ، اپارٹمنٹ کی پہلی منزل جہاں دھماکا ہوا وہ بینک کے پاس ہے لیکن وہاں گیس کا کوئی نام و نشان نہیں ہے یا کوئی بدبو یا کوئی سیلنڈر مجھے نظر نہیں آیا، حکومت کا کام ہے کہ وہ تفتیش کرے ، ہم نے تمام حکام سے رابطہ کیا ہے ، وزیر اعلی سندھ سمیت ناصر حسین شاہ اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے حکام کو بھی خط لکھے ہیں لیکن انکی جانب سے کوئی جواب نہیں آیا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے صرف دو مطالبے ہیں کہ جو عمارت گری ہے اسکو حکومت ویسے ہی دوبارہ تعمیر کروایا جائے اور واقع کی شفاف تحقیقات کروائی جائے ، دھماکا اتنا شدید تھا کہ پوری عمارت ہل گئی تھی، کئی افراد ہلاک بھی ہوچکے ہیں۔دریں اثنا عمارت کو مخدوش ہونے کے سبب ایس بی سی اے نے منہدم کردیا۔ قبل ازیں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی حکام نے متاثرہ عمارت کا جائزہ لینے کے بعد عمارت کے مخصوص حصے کو مخدوش قرار دیتے ہوئے اسے گرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ جس کے بعد عمارت کے مخصوص حصے کو رہائشی اپارٹمٹ سے الگ کرنے کا کام شروع کیا گیا اور 7 روز تک مزدور روایتی طریقے سے عمارت کی چھت، پلر اور بیم کا سریا کاٹتے رہے ۔سات روز کے بعد متاثرہ عمارت کا سریا کاٹ کر اسے محفوظ رہنے والی عمارت سے الگ کردیا گیا اورمنگل کی دوپہر ہیوی کرین کے ذریعے عمارت کے متاثرہ حصے کو مسمار کردیا گیا جس کے بعد عمارت کا ملبہ ہٹانے کا کام شروع کردیا گیا ہے ۔واضح رہے کہ مسکن چورنگی دھماکے میں اب تک 7 افراد ہلاک جبکہ 20 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔


متعلقہ خبریں


پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا، فیلڈ مارشل وجود - جمعه 20 مارچ 2026

پاکستان کیخلاف سرگرم دہشتگردوں اور ان کے نیٹ ورکس کا جہاں وجود ہوگا، انہیں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کے ذریعے ختم کیا جائے گا، خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے فعال سفارتکاری کر رہا ہے چیف آف ڈیفنس فورس سے اہلِ تشیع مکتبِ فکر کے علماء کی ملاقات ، گمراہ کن پروپیگنڈا اور فرقہ...

پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا، فیلڈ مارشل

پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ، انٹیلی جنس چیف نے سینیٹ میں دھماکا کر دیا وجود - جمعه 20 مارچ 2026

رپورٹ میں پاکستانی میزائل پروگرام اور پالیسیاں امریکی سلامتی کیلئے ممکنہ خطرہ قرار،پاکستانی میزائل امریکا تک پہنچنے کے قابل ہو سکتے ہیں، پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے ایٹمی تصادم کا خطرہ پاکستان مسلسل جدید میزائل ٹیکنالوجی تیار کر رہا ہے جو اس کی فوج کو جنوبی ایشیا سے با...

پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ، انٹیلی جنس چیف نے سینیٹ میں دھماکا کر دیا

عمران خان رہائی تحریک، پی ٹی آئی کارکنوں کو متحرک کرناپارٹی کیلئے مشکل ہوگیا وجود - جمعه 20 مارچ 2026

پی ٹی آئی پنجاب کی قیادت تذبذب کا شکار ،عالیہ حمزہ اور سینٹرل پنجاب کے صدر سزا کے باعث روپوش لاہور کے صدر کسی سے رابطہ ہی نہیں کرتیپنجاب میں تتر بتر تنظیم کو دوبارہ فعال بنانا چیلنج ہوگا، ذرائع عید کے بعد عمران خان کی رہائی کے لیے تحریک شروع کرنے کے معاملے پر پی ٹی آئی کے ا...

عمران خان رہائی تحریک، پی ٹی آئی کارکنوں کو متحرک کرناپارٹی کیلئے مشکل ہوگیا

ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو شہید کرنیکا دعویٰ وجود - بدھ 18 مارچ 2026

ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران اس نوعیت کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں، ایران کی طرف سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ،اس خبر کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی علی لاریجانی کی ہلاکت ایرانی حکومت کے خاتمے کے ہمارے منصوبے کا حصہ ہے، ہم ہارڈ لائنر کو نشانہ بنا ...

ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو شہید کرنیکا دعویٰ

عمران خان کی دوسری آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ،سرکاری ڈاکٹر اور رپورٹس پر یقین نہیں، علیمہ خانم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

بس کردیں اور بانی کاعلاج کرائیں، جب ملاقات ہو گی تو انھیں بتائیں گے کتنے لوگوں نے ان سے اظہار یکجہتی کیا،اعتزاز احسن کے شکر گزار وہ آئے اور ہمارے ساتھ بیٹھے ،جدوجہد جاری رکھیں گے اگر عید کے بعد علاج نہ کروایا اور ملاقات نہیں ہونے دی تو حالات بدلیں گے، چیف کمشنر کی بات پر کیسے ی...

عمران خان کی دوسری آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ،سرکاری ڈاکٹر اور رپورٹس پر یقین نہیں، علیمہ خانم

وزیراعظم بے اختیار،فارم47 کے حکمرانوں کو عوام کی پرواہ نہیں،حافظ نعیم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

امریکہ، اسرائیل طاغوت، شیعہ سنی تفریق پیدا کرنیوالے ان کے آلہ کار ہیں، امیر جماعت اسلامی جماعت اسلامی اسٹیبلشمنٹ نہیں عوامی تائید سے اقتدار چاہتی ہے، حلقہ خواتین کی تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ وزیراعظم بے اختیار، فارم سنتالیس سے آئے...

وزیراعظم بے اختیار،فارم47 کے حکمرانوں کو عوام کی پرواہ نہیں،حافظ نعیم

حالات کی بہتری تک، متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں،وزیراعظم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

ملک کی پیٹرولیم درآمدات کی سپلائی چین بہتر بنانے کیلئے وزیر پیٹرولیم مزید متحرک ہوں شہبازشریف کی زیرصدارت اجلاس،کفایت شعاری کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ حالات کی بہتری تک تمام متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں، ملک کی پیٹرولیم...

حالات کی بہتری تک، متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں،وزیراعظم

تہران پر بمباری، عراق ودبئی میں ڈرون حملہ،10امریکی فوجی ہلاک وجود - منگل 17 مارچ 2026

بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب وکٹوریہ بیس پر ڈرونز اور راکٹوں سے حملہ، آگ بھڑک اٹھی ،8 افراد زخمی ،عراقی مزاحمتی تنظیم کی امریکی سفارتخانے کو نشانہ بنانے کی کوشش،روسی ٹی وی کا دعویٰ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے17 ویں روز ایران پر حملوں کا سلسلہ جاری ، اسرائیل کے وسطی علاقوں...

تہران پر بمباری، عراق ودبئی میں ڈرون حملہ،10امریکی فوجی ہلاک

بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام، ادائیگی مرکز کی چھت گرنے سے 8 خواتین جاں بحق، 70سے زائد زخمی وجود - منگل 17 مارچ 2026

رقم کی وصولی کے سلسلہ میںخواتین دوکان کی چھت پرچڑھ گئیں جس سے کمزورچھت اچانک زمین بوس ہوگئی،ضلعی انتظامیہ متعدد کی حالت تشویشناک علاقہ بھرکی فضاسوگوار،وزیراعلیٰ پنجاب کانوٹس، رپورٹ طلب کرلی، لواحقین سے اظہارتعزیت بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام کی رقم وصولی کے دوران دوکان کی چھت گر...

بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام، ادائیگی مرکز کی چھت گرنے سے 8 خواتین جاں بحق، 70سے زائد زخمی

عالمی سطح پر جاری کشیدگی، کسی بھی قسم کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں(وزیر اعظم) وجود - منگل 17 مارچ 2026

بروقت فیصلوں کی بدولت اس وقت ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی مناسب مقدار موجود ہے،شہباز شریف ملکی معیشت کے استحکام اور عوام کو ریلیف دینے کیلئے اقدامات کے حوالے سے جائزہ اجلاس میں بات چیت وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان عالمی سطح پر جاری کشیدگی کے پیش نظر کسی بھی ق...

عالمی سطح پر جاری کشیدگی، کسی بھی قسم کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں(وزیر اعظم)

کراچی کے موٹر سائیکل سواروں نے ای چالان سسٹم کو بھی ہرا دیا وجود - منگل 17 مارچ 2026

سروے میں 100فیصد موٹرسائیکل سوار دھوکا دینے میں ملوث نکلے ،ڈی آئی جی ٹریفک آئی جی سندھ کے احکامات پر عید کے بعد بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا فیصلہ کرلیا شہر قائد کے موٹرسائیکل سواروں نے ای چالان سسٹم کو بھی ہرادیا ، ڈی آئی جی ٹریفک نے انکشاف کیا سروے میں 100 فیصد موٹرسائیکل س...

کراچی کے موٹر سائیکل سواروں نے ای چالان سسٹم کو بھی ہرا دیا

اصفہان پر امریکی اسرائیلی حملہ، ایران کے تابڑ توڑ جوابی کارروائیاں وجود - پیر 16 مارچ 2026

اصفہان میں15 افراد شہید، کئی زخمی ہو گئے،لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپیں جاری ،ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے موجودہ شرائط امریکا کیلئے قابل قبول نہیں ہیں، امریکی صدر ٹرمپ اسرائیل میںایرانی پاسداران انقلاب کے میزائل حملے سے بڑے پیمانے تباہی ، متعدد مقامات پر آگ...

اصفہان پر امریکی اسرائیلی حملہ، ایران کے تابڑ توڑ جوابی کارروائیاں

مضامین
ٹرمپ کیوں کر پاگل نہ ہو! وجود جمعه 20 مارچ 2026
ٹرمپ کیوں کر پاگل نہ ہو!

''را''کے خلاف امریکی پابندی وجود جمعه 20 مارچ 2026
''را''کے خلاف امریکی پابندی

امریکی دباؤ اور ایران امن گیس پائپ لائن کی کہانی وجود جمعه 20 مارچ 2026
امریکی دباؤ اور ایران امن گیس پائپ لائن کی کہانی

چاہ بہار پر بھارتی سرمایہ کاری وجود جمعرات 19 مارچ 2026
چاہ بہار پر بھارتی سرمایہ کاری

خلیجی لڑائی کے کچھ حیران کُن پہلو وجود جمعرات 19 مارچ 2026
خلیجی لڑائی کے کچھ حیران کُن پہلو

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر