وجود

... loading ...

وجود

ماہرِنفسیات بدلنے کی 10 وجوہات

منگل 22 مئی 2018 ماہرِنفسیات بدلنے کی 10 وجوہات

جسمانی کی طرح ذہنی امراض بھی لاحق ہو جاتے ہیں۔ نفسیاتی امراض کا علاج تھراپی اور ادویات دونوں سے کیا جاتا ہے۔ اگر مرض کی شدت کم ہو تو کوشش کی جاتی ہے کہ ادویات کے بغیر تھراپی کے ذریعے علاج کر لیا جائے۔ بعض افراد کو اپنے ماہر نفسیات یا تھراپسٹ سے شکایات ہوتی ہیں۔ دوران علاج انہیں احساس ہونے لگتا ہے کہ نفسیاتی مسائل کے لیے تھراپی کام نہیں کر رہی۔ نفسیاتی امراض کے لیے تھراپی موثر ہے۔ تھراپی میں گفتگو اور مشاورت ہی کے ذریعے بہت سے لوگ بہتر ہو جاتے ہیں لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ تھراپسٹ قابل ہو۔ بہت سے افراد کو اندازہ ہی نہیںہوتا کہ ایک قابل اور اچھا ماہر نفسیات یا تھراپسٹ کیسا ہوتا ہے۔ کچھ افراد کی سالوں تک ایک ماہر تھراپی کرتا رہتا ہے اور وہ بہتری محسوس نہیںکرتے۔ اچھے تھراپسٹ کے کام کا مثبت نتیجہ نکلنا چاہیے۔ یہ بات ذہن میں رکھیں کہ کبھی کبھی مسئلہ تھراپسٹ کی بجائے آپ کے ساتھ ہوتا ہے۔ اگر بہتری کے لیے آپ ایمانداری، ذمہ داری اور مضبوط ارادے سے کام نہیں لے رہے تو بہتر نہ ہونے کا سبب آپ خود ہیں۔ اس کے باوجود اگر آپ کا ذہنی مسئلہ تھراپسٹ حل نہیں کر پا رہا تو اسے بدلیں۔ ذیل میں ان علامات کا ذکر ہے جن کی موجودگی میں ایسا کرنا چاہیے۔

1۔ سمجھ نہ پانا: تھراپی کے سیشنز میں جب آپ کا تھراپسٹ غلط توجیحات پیش کر رہا ہو، بار بار کنفیوڑن کا شکار ہو یا جھجک دکھا رہا ہو تو آپ کو شک پڑ جاتا ہے کہ وہ آپ کے مسئلے کو اچھی طرح سمجھ نہیں پا رہا۔ اگر تشخیص غلط ہو جائے تو علاج بھی غلط ہوگا۔ اگر آپ کو یہ محسوس ہو کہ آپ کے مسئلے کو ماہر سمجھنے سے قاصر ہے تو علاج جاری رکھنے سے پہلے کسی دوسرے ماہر سے مشورہ کر لیجیے۔ ایک اچھا تھراپسٹ ایک یا دو سیشنز میں ذہنی صحت کا جامع نقشہ بنانے کے قابل ہوتا ہے۔ وہ علاج کے لیے ایسے مشورے دیتا ہے جو معقول لگتے ہیں اور آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ بصیرت رکھتا ہے۔

2۔ بہت ملنسار: مریض کا بھروسہ پانے کے لیے ملنسار و مددگار ہونا مفید ہوتا ہے، لیکن اگر یہ لگے کہ تھراپسٹ بس آپ کی باتیں اچھی طرح سنتا جا رہا ہے اور آپ کے جذبات کے بہاومیں بہہ رہا ہے تو شاید آپ کو اسے بدلنے کی ضرورت ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ صرف اس ڈر سے کہ آپ اَپ سیٹ نہ ہوں زندگی کے بعض اہم مگر حساس پہلووں پر بات کرنے سے گریز کرے۔ تاہم آپ کو ایسا تھراپسٹ چاہیے جو آپ کی سچائیاں آپ کے سامنے لا سکے اور علاج کی خاطر ایسی بات بھی کر سکے جو آپ کو بے آرام کرتی ہے۔

3۔ مشورہ نہ دینا: کچھ تھراپسٹ مشورے دینے سے بہت گریز کرتے ہیں۔ انہیں شاید ڈر ہوتا ہے کہ جس طرح کی تھراپی ہو رہی ہے اگر اسے بدلا گیا تو کہیں آپ مخالفت نہ کرنے لگیں۔ مشورہ اور رہنمائی تھراپی کا اہم حصہ ہیں۔ مریضوں کو اپنی زندگی بہتر بنانے کے لیے نیامشورہ چاہیے ہوتا ہے۔انہیں سننا کافی نہیں ہوتا۔ ایک اچھا تھراپسٹ مشورہ دیتا ہے اور اس کے ساتھ مریض کو اپنے فیصلے خود کرنے کے قابل بھی بناتا ہے۔

4۔ بہت زیادہ شیئر کرنا: کسی بھی تھراپسٹ کے لیے یہ غیر پیشہ ورانہ اور نامناسب ہے کہ وہ اپنی ذاتی زندگی کے بارے میں بات کرے۔ بعض تھراپسٹ کا خیال ہوتا ہے کہ ذاتی زندگی کی باتیں بتا کر مریض سے ربط بہتر ہو گا لیکن یہ غیراصولی اور غیر پیشہ ورانہ تصور ہے۔ مریض کا دوست نہیں بننا چاہیے اور اپنی حدود کو سمجھنا چاہیے۔

5۔آپ زیادہ سمجھدار ہیں: اگر ایسا ہو کہ کئی موقعوں پر تھراپسٹ سے زیادہ سمجھ آپ کوآ رہی ہو، یعنی اس کی سمجھ بوجھ میں گہرائی نہ ہو تو بہتر ہے کہ زیادہ سمجھدار ماہر سے رجوع کریں۔

6۔ پروا نہ کرنا: ہمیشہ یہ احساس ہونا چاہیے کہ تھراپسٹ اپنی پوری کوشش کر رہا ہے۔ اگر ایسا لگے کہ وہ توجہ نہیں دے رہا یا وہ بار بار بھول جاتا ہے یا اسے آپ سے زیادہ فیس کی فکر ہے، وہ لاپروا ہے تو یہ اچھی علامات نہیں۔ اسی طرح اس میں ہم دردی کا عنصر نظر نہ آئے تو اپنے انتخاب پر ازسرنو غور کیجیے۔

7۔ رکاوٹ: کبھی کبھار یوں ہوتا ہے کہ آپ بہتر ہوتے ہیں لیکن ایک مقام پرآ کر بہتری کا عمل رک جاتا ہے۔ ایسے میں اگر تھراپسٹ نئی صورت حال کے مطابق اپنے طریقہ کار کو نہیں بدلتا تو یہ اس کی ناکامی ہوگی۔

8۔ دلچسپی لینا: تھراپسٹ کا مریض میں رومانوی دلچسپی لینا بالکل غلط سمجھا جاتا ہے اور اس سے علاج متاثر ہوتا ہے۔ اگر محسوس ہو کہ وہ ایسی دلچسپی لے رہا ہے تو اس سے علاج کرانا ترک کر دینا چاہیے۔ پیشہ ور تھراپسٹ اپنی حدود سے باہر نہیں جاتا اور ایسا ماحول پیدا کرتا ہے جس میں توجہ صرف علاج پر ہو۔

9۔ بلانا: بدقسمتی سے کچھ تھراپسٹ علاج میں بہتری نہ بھی لا رہے ہوں تو بھی وہ چاہتے ہیں کہ مریض ہاتھ سے نہ جائے۔ اس کے لیے وہ مریض سے ایسی باتیں کرتے ہیں جن سے کسی دوسرے تھراپسٹ کے پاس جانے کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے اور مریض کسی دوسرے کے بارے میں سوچنے پر احساس جرم میں مبتلا ہوتا ہے۔ اگر ایسا ہے تو اپنا تھراپسٹ بدلیں۔

10۔ اندازِ گفتگو: تھراپسٹ ایسا ہونا چاہیے جس سے آسانی سے اپنا مدعا بیان ہو سکے۔ اگر وہ تلخ لہجے اور روک ٹوک کا عادی ہو گا تو بات مکمل نہیں ہو پائے گی۔


متعلقہ خبریں


پشتون علاقوں میںعلیحدگی کے نعرے کا خطرہ ، محموداچکزئی نے خبردار کردیا وجود - جمعرات 14 مئی 2026

حکومتی پالیسیوں سے بلوچستان میں علیحدگی کا نعرہ لگ چکا،نواز شریف، زرداری اور فضل الرحمن آئین بچانے کے لیے آگے آئیں اگر نہیں آئے تو حالات خطرناک ہوتے جائیں گے، اپوزیشن لیڈر ملک خطرناک حالات کی طرف جارہا ہے، طاقت اور پیسے کی بنیاد پر7 پارٹیوں کو اکٹھا کیا گیا، اسرائیلی جیلوں س...

پشتون علاقوں میںعلیحدگی کے نعرے کا خطرہ ، محموداچکزئی نے خبردار کردیا

نیب کراچی کی بڑی کارروائی ،بحریہ ٹاؤن کراچی کی اربوں روپے مالیت کی جائیدادیں منجمد وجود - جمعرات 14 مئی 2026

بحریہ ٹاؤن ہلز میں واقع 67ایکڑ پر مشتمل علی ولا کو منجمد کر دیا ، جو مبینہ طور پر علی ریاض ملک کے نام پر تعمیر کی گئی تھی، رہائش گاہ میں جدید سہولیات جیسے ہیلی پیڈ، منی چڑیا گھر اور سوئمنگ پولز شامل ہیں،ذرائع حکومت سندھ اور محکمہ جنگلات کی ملکیت1338ایکڑ اراضی بھی منجمد،مبینہ طو...

نیب کراچی کی بڑی کارروائی ،بحریہ ٹاؤن کراچی کی اربوں روپے مالیت کی جائیدادیں منجمد

ایران امریکا کشیدگی،یتن یاہو بوکھلاہٹ کا شکار، پاکستان پر الزام لگا دیا وجود - جمعرات 14 مئی 2026

پاکستان کی مؤثر سفارت کاری کے باعث یہود و ہنود کی گمراہ کن پروپیگنڈا مہم متحرک ہوگئی ثالثی کے دوران ایرانی طیاروں کو پاکستانی ایئربیس پر جگہ دی گئی، ترجمان دفتر خارجہ کا ردعمل ایران امریکا کشیدگی میں پاکستان کی موثر سفارت کاری کے باعث یہود و ہنود کی گمراہ کن پروپیگنڈا مہم مت...

ایران امریکا کشیدگی،یتن یاہو بوکھلاہٹ کا شکار، پاکستان پر الزام لگا دیا

قومی اسمبلی ،پی ٹی آئی اراکین گتھم گتھا، ایک دوسرے کو گالیاں وجود - جمعرات 14 مئی 2026

اجلاس ختم ہونے کے بعداقبال آفریدی اور جنید اکبر میں تلخ کلامی ، ہاتھا پائی ہوتے ہوتے رہ گئی اقبال آفریدی کی جانب سے کورم کی نشاندہی کی کوشش ، جنید اکبر کے روکنے پر سیخ پا ہوگئے،ذرائع قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی اراکین آپس میں گتھم گتھا ہوگئے جب کہ اجلاس ختم ہونے کے بعد پی ٹ...

قومی اسمبلی ،پی ٹی آئی اراکین گتھم گتھا، ایک دوسرے کو گالیاں

آئی ایم ایف کی شرط پوری،حکومت کا گیس ، بجلی کی پوری قیمت وصول کرنے کا فیصلہ وجود - جمعرات 14 مئی 2026

یکم جنوری 2027 سے ماہانہ 300 یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کیلئے بلوں میں اضافے کا خدشہ گیس اور بجلی پر دی جانے والی رعایتیں صارف کے استعمال کے بجائے اس کی آمدنی کی بنیاد پر دی جائیں گی حکومت نے آئندہ بجٹ میں آئی ایم ایف کی ایک اور شرط پوری کرنے کی یقین دہانی کروا دی ہے۔ ی...

آئی ایم ایف کی شرط پوری،حکومت کا گیس ، بجلی کی پوری قیمت وصول کرنے کا فیصلہ

ٹرمپ نے پھر پاکستان پر اعتماد کی مہر لگا دی،امریکی سینیٹر کی تنقید مسترد وجود - جمعرات 14 مئی 2026

فیلڈ مارشل اورشہباز شریف نے ایران جنگ بندی پر بہترین کردار ادا کیا، امریکی صدر پاکستان غیر جانبدار ثالث نہیں رہ سکتا، مجھے پاکستان پر بالکل اعتماد نہیں، لنڈسے گراہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کے لیے پاکستان پر ایک بار پھر اعتماد کا اظہار کرتے ہو...

ٹرمپ نے پھر پاکستان پر اعتماد کی مہر لگا دی،امریکی سینیٹر کی تنقید مسترد

تجارت کی آڑ میں منی لانڈرنگ پکڑی گئی، آئی ایم ایف کی حکومت کو سخت تنبیہ وجود - بدھ 13 مئی 2026

عالمی مالیاتی ادارے کامشکوک مالی ٹرانزیکشن پر اظہار تشویش، آئندہ مالی سال کے بجٹ سے قبل حکومت کو منی لانڈرنگ کیخلاف سخت اقدامات کی ہدایت کردی،ذرائع کالے دھن، غیر ٹیکس شدہ سرمایہ کاری کی نشاندہی،بینی فیشل اونرشپ کی معلومات کے تبادلے میں خامیاں دور کرنے اور مالیاتی نگرانی کا نظام...

تجارت کی آڑ میں منی لانڈرنگ پکڑی گئی، آئی ایم ایف کی حکومت کو سخت تنبیہ

پاکستان میں ایرانی طیاروں کی موجودگی کی وجود - بدھ 13 مئی 2026

سی بی ایس نیوز کی رپورٹ پر سخت ردِعمل، امریکی میڈیا رپورٹ کو قطعی طور پر مسترد قیاس آرائیوں پر مبنی رپورٹس خطے میں امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے، دفتر خارجہ پاکستان کے دفترِ خارجہ نے امریکی میڈیا ادارے سی بی ایس نیوز کی اس رپورٹ کو قطعی طور پر مسترد کر دیا ہے جس میں دعویٰ ...

پاکستان میں ایرانی طیاروں کی موجودگی کی

فلسطینی قیدیوں کیلئے سزائے موت کے قانون کی منظوری وجود - بدھ 13 مئی 2026

7 اکتوبر کے قیدیوں کیلئے سرعام ٹرائل اور سزائے موت کے متنازع قانون کی منظوری اسرائیلی پارلیمنٹ کے نئے قانون کی منظوری سے عالمی سطح پر تنازع مزید بڑھنے کا خدشہ اسرائیلی پارلیمنٹ (نیسٹ) نے ایک متنازع قانون منظور کیا ہے جس کے تحت 7 اکتوبر کے حملوں میں ملوث ہونے کے الزام میں زیرِ...

فلسطینی قیدیوں کیلئے سزائے موت کے قانون کی منظوری

کپتان سے ملاقات کرائیں ورنہ پارلیمنٹ نہیں چلے گی،محموداچکزئی کی حکومت کودھمکی وجود - منگل 12 مئی 2026

ایک ہفتے میں عمران خان کا درست علاج نہ ہوا اور ملاقاتیں نہ کرائی گئیں تو پھر دما دم مست قلندر ہوگا،8 فروری کو نوجوان طبقے نے آپ کے سارے پلان الٹ دئیے، اپوزیشن لیڈر بلوچستان سے لے کر کے پی تک بغاوت کی فضا ہے، ایک اور آئینی ترمیم کی تیاری ہورہی ہے، پاکستان کو کچھ ہوا تو ذمہ دار ...

کپتان سے ملاقات کرائیں ورنہ پارلیمنٹ نہیں چلے گی،محموداچکزئی کی حکومت کودھمکی

ایران کا جوہری پروگرام کسی بھی وقت قبضے میں لے سکتے ہیں،صدرٹرمپ کی تنبیہ وجود - منگل 12 مئی 2026

امریکی فوج افزودہ یورینیم کی نگرانی کر رہی ہے ایران کو عسکری طور پر شکست دی جا چکی ،قیادت کی اے اور بی ٹیم مکمل ختم ، سی ٹیم کا کچھ حصہ بھی ختم ہو چکا ہے ایران کو جوہری ہتھیار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ وہ غیر ذمہ دار ہے،معاہدہ کر کے اسے توڑ دیتا ہے، امریکا کو آبنائے ہرمز کی ضرورت ...

ایران کا جوہری پروگرام کسی بھی وقت قبضے میں لے سکتے ہیں،صدرٹرمپ کی تنبیہ

آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیح، وزیراعظم وجود - منگل 12 مئی 2026

پاکستان کے نوجوانوں میں آئی ٹی کے حوالے سے بے پناہ استعداد موجود ہے جس سے بھرپور استفادہ حاصل کیا جانا چاہئے، شہباز شریف کی اجلاس میں گفتگو وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیح ہے،آئی ٹی کے شعبے میں شہری اور دیہی علا...

آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیح، وزیراعظم

مضامین
کشمیریوں کی آزادی اظہار رائے سلب وجود جمعرات 14 مئی 2026
کشمیریوں کی آزادی اظہار رائے سلب

ایان اور پنکی وجود جمعرات 14 مئی 2026
ایان اور پنکی

وہ کہانیاں جو کبھی کہی نہیں جاتیں! وجود جمعرات 14 مئی 2026
وہ کہانیاں جو کبھی کہی نہیں جاتیں!

مہنگے پیٹرول کا چکر وجود جمعرات 14 مئی 2026
مہنگے پیٹرول کا چکر

دیارِ مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے! وجود بدھ 13 مئی 2026
دیارِ مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر