وجود

... loading ...

وجود

بھارتی آرمی چیف کے دورہ مقبوضہ کشمیرنے واد ی میں آگ لگادی

منگل 03 اپریل 2018 بھارتی آرمی چیف کے دورہ مقبوضہ کشمیرنے واد ی میں آگ لگادی

مقبوضہ کشمیر میں بھارت مخالف مظاہروں کے دوران قابض فوج نے نہتے شہریوں پر فائرنگ کر دی جس سے 27کشمیری شہید اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے۔ غیرملکی خبررساں ادارے اے پی کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ واقعہ کو جھڑپ کا نام دیتے ہوئے پولیس حکام نے دعویٰ کیا کشمیر کے جنوبی علاقے میں سکیورٹی اہلکاروں کو اس وقت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا جب وہ مبینہ طور پر یہاں چھپے دہشت گردوں کیخلاف کارروائی کے لیے آئے تھے۔ آئی این پی کے مطابق بھارتی پولیس اور فوج نہتے مظاہرین پر ٹوٹ پڑی اور پیلٹ گنز سے فائرنگ کی۔ مظاہرین نے آزادی کے حق میں اور بھارت کے خلاف نعرے لگائے۔ اے این این کے مطابق بھارتی آرمی چیف کے دورہ کے بعد بھارتی فورسز نے علاقے میں تباہی مچا دی۔ شوپیاں اور اننت ناگ میں نام نہاد آپریشن کے دوران 20کشمیری شہید ہو گئے۔ مبینہ کارروائیوں میں 3 بھارتی فوجی جہنم واصل ہو گئے۔ فورسز نے دعویٰ کیا مارے جانے والوں میں 2 کمانڈرز بھی شامل ہیں جبکہ ایک جنگجو کو زندہ پکڑنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

واقعات کے خلاف لوگوں نے زبردست احتجاج کیا۔ کاروباری مراکز، تجارتی ادارے بند، انٹرنیٹ، موبائل سروس معطل ہو گئی اور ٹرین کا پہیہ بھی رک گیا۔ حریت قیادت نے نوجوانوں کی شہادت کیخلاف دو روزہ ہڑتال کا اعلان کیا ہے جبکہ وزیراعظم آزاد کشمیر کی کال پر آج دو اپریل کو یوم مذمت منایا جائے گا۔ اے ایف پی/ اے این این/ نیٹ نیوز کے مطابق شہادتیں دو مختلف واقعات میں ہوئی ہیں۔ بھارتی پولیس نے دعویٰ کیا کہ کشمیری نوجوان بھارتی فوج سے جھڑپ کے دوران مارے گئے اور ان کا تعلق عسکریت پسند تنظیم حزب المجاہدین سے تھا جبکہ شہید نوجوانوں میں اعلی مجاہد کمانڈرز بھی شامل ہیں۔ وادی میں پولیس چیف شیش پال وید نے واقعات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا مارے جانے والوں میں دو مجاہد کمانڈر بھی شامل ہیں۔ پہلا واقعہ شوپیاں کے درگد گائوں میں پیش آیا۔ جہاں فورسز کے ساتھ جھڑپ میں 12 نوجوان مارے گئے جبکہ بھارتی فورسزکے 2 اہلکار ہلاک ہوئے۔ اننت ناگ کے علاقے دیالگام میں ایک جنگجو کو زندہ پکڑا گیا جبکہ ایک نوجوان شہید ہو گیا۔ ادھر اسرائیلی فوج کے سابق اعلیٰ افسر نے ڈی جی پولیس ایس پی وید کی جھڑپ کے حوالے سے ٹوئٹ کا جواب دیتے ہوئے بھارتی فورسز کو شاباش دی۔ اسرائیلی فوج کے سابق افسر کرنل ایونر میولر نے اپنے ٹویٹ میں لکھا ان اسلامی دہشتگردوں کے خاندانوں کو بھی بے گھر کیا جانا چاہیے۔ اور ان کے تمام حامیوں کو گولیوں سے بھون کر رکھنا چاہئے۔ واقعات کیخلاف لوگوں نے بھارتی فورسز پر پتھرائو کیا۔ لوگوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی۔ وادی میں کاروباری مراکز کے ساتھ ساتھ ریل سروس بھی بند کر دی گئی جبکہ انٹر نیٹ اور موبائل سروس پہلے سے معطل ہے۔ ادھر پلوامہ اور کھنہ بل میں پولیس پر جنگجوئوں کے حملوں میں ایک سپیشل پولیس افسر ہلاک اور ایک شدید زخمی ہوا۔ ادھر شوپیاں میں جنگجوئوں نے فوج کی ایک گاڑی پر گھات لگا کر حملہ کیا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ اس دوران گاندربل کے علاقے سمبل سوناواری کے شاہ گنڈ اور نائد کے علاقوں میں اس وقت حالات کشیدہ ہوگئے جب تلاشی کارروائی کے دوران فوج اور مشتعل نوجوانوں کے مابین شدید جھڑپوں کے دوران 11نوجوان پیلٹ اور شیلنگ سے زخمی ہوئے جبکہ ایک مکان کے اندر شل پھٹنے سے آگ لگ گئی۔

شاہ گنڈ میں اس وقت نوجوانوں اور فوج کے مابین جھڑپ ہوئی جب فوج نے بستی کو محاصرے میں لے لیا اور تلاشی کارروائی شروع کی۔ اس دوران لوگ گھروں سے باہر آئے اور نعرہ بازی کی جس دوران نوجوانوں نے پتھرائو کیا۔ فوج نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے شیلنگ کی جس کے نتیجے میں 6نوجوان زخمی ہوئے۔ صباح نیوز کے مطابق وزیراعظم ا?زادکشمیر راجہ محمدفاروق حیدر نے دنیا بھر میں بسنے والے کشمیریوں سے اپیل کی ہے وہ پیرکو یوم مذمت منائیں اور آزاد کشمیر کی تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں کے زعما، سول سوسائٹی، تاجر اورطلبا مذمتی ریلیوں میں بھرپور شرکت کریں۔ وزیراعظم آزادکشمیر نے کشمیری نوجوانوں کی شہادت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہندوستان کشمیریوں کی نسل کشی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور منصوبہ بندی کے تحت ہندوستانی بد نام زمانہ خفیہ ایجنسی’را‘ معصوم کشمیریوں کا قتل عام کرا رہی ہے۔ کشمیری نوجوانوں کی شہادت پر خاموش نہیں بیٹھ سکتے، بھارتی سفیر کو طلب کر کے سخت احتجاج کیا جائے۔ این این آئی کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھارتی فوج کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں درندگی کی انتہا اور انسانی حقوق کی شدید پامالی کی 29سال کی رپورٹ شائع کردی جس میں 1989ء تا 28فروری 2018ء تک بھارتی حکومت اور اس کی خفیہ ایجنسی نے مقبوضہ کشمیر میں انسانیت سوز قتل عام کیا جن میں 94ہزار 9سو 22افراد کو مختلف جعلی مقابلوں میں قتل کیا جبکہ مختلف علاقوں میں 7ہزار سے زائد گمنام قبروں کا بھی انکشاف ہوا۔ حراست کے دوران مختلف عقوبت خانوں میں اذیت دے کر 7ہزار 1سو افراد کو قتل کیا۔ رپورٹ کے مطابق سول بے گناہ افراد کو گرفتار کرکے مختلف جیلو ں میں ڈالا گیا ہے جن کی تعداد 1لاکھ 43ہزار 364 افراد جو اس وقت مختلف جیلوں میں سزا کاٹ رہے ہیںجبکہ 22ہزار 866خواتین بیوہ ہوئیں جبکہ 1لاکھ 7ہزار 697بچے یتیم ہوئے۔ 11ہزار 43خواتین کا گینگ ریپ ہوا۔ 1لاکھ 86ہزار 64مقامات کو مکمل طور پر تباہ کرکے اربوں روپے کا نقصان کیا جبکہ فروری 2018ء میں 15بے گناہ کشمیریوں کو قتل کیا گیا، 1حراست میں جبکہ 57افراد زخمی ہوئے۔ 209سول افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ 16مقامات کو مکمل طور پر تباہ کرکے اپنی درندگی کا ثبوت پیش کیا۔

دوسری جانب پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی طرف سے طاقت کے وحشیانہ استعمال اور معصوم کشمیری نوجوانوں کو شہید کرنے کی سخت مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ عالمی برادری اس ظلم کا نوٹس لے۔ اتوار کی شام جاری کیے گئے ترجمان دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں پر امن احتجاج کرنے والوں بطور خاص نوجوانوں اور بچوںکے خلاف وحشیانہ کریک ڈاو?ن جاری ہے جس میں خاص طور پر چھرہ بندوقیں استعمال کی جارہی ہیں۔ انٹرنیٹ سروس بند کردی گئی ہے تاکہ معصوم کشمیریوں کو محکوم بنایا جاسکے اور مزید دبایا جائے۔ خون کی ہولی کھیلی جارہی ہے جو بھارتی ریاستی دہشت گردی کا غیر انسانی چہرہ پیش کر رہی ہے، بھارت کشمیریوں کے ساتھ ایسا سلوک دہائیوں سے روا رکھے ہوئے ہے۔ کشمیری نوجوانوں کو جان بوجھ کر اور ایک طریقہ کار کے تحت ہدف بنایا جارہا ہے تاکہ کشمیریوں کے عزم کو توڑا جاسکے تاہم قابض افواج کے اس طرح کے بزدلانہ اقدامات سے کشمیری عوام کے عزم کو مہمیز کرتے ہیں۔ بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر کے بہادر اور پرعزم عوام نے بار بار ثابت کیا ہے کہ قید و بند کی صعوبتیں اور ماورائے قتل اقدامات سمیت کسی بھی قسم کے مظالم ان کو حق خود ارادیت کے حصول کی جدوجہد سے نہیں روک سکتے۔ نہ ہی کسی بھی قسم کا بھارتی پراپیگنڈا عالمی برادری کو گمراہ کرتے ہوئے کشمیریوں کی قانونی و ذاتی جدوجہد کو دہشت گردی کا رنگ دے سکتا ہے۔ پاکستان جموں و کشمیر کے عوام سے مکمل اظہار یکجہتی کرتا ہے اور عالمی برادری پر زور دیتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق کی صریحاً خلاف ورزیوں اور زندہ رہنے کے سب سے بنیادی انسانی حق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے اور بھارت پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے اسے زندگیاں چھیننے کے اس کلچر کو روکے جو اس نے کئی دہائیوں سے جاری رکھا ہوا ہے۔ پاکستان عالمی برادری پر یہ بھی زور دیتا ہے کہ اپنا درست کردار ادا کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق کشمیر تنازعہ کے منصفانہ اور دیرپا حل کے لیے کام کرے۔

خصوصی نامہ نگار کے مطابق امیر جماعۃ الدعوۃحافظ سعید کی اپیل پر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی طرف سے کشمیریوں کو شہید کیے جانے کے خلاف ملک گیر احتجاج اور لاہور سمیت چاروں صوبوں و آزاد کشمیر میں زبردست احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ ادھر ترجمان دفتر خارجہ نے دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی کا وہ پیغام سماجی رابطہ کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر شیئر کیا ہے جس میں انہوں نے بھارتی فوج کے ہاتھوں کشمیری نوجوانوں کی شہادت کا نوحہ بیان کیا ہے۔ آسیہ اندرابی نے اپنے پیغام میں کہا ہے کشمیر لہو لہان ہے، لوگ ہر طرف لاشیں گن رہے ہیں، ہر طرف مساجد میں پاکستان کے ترانے بج رہے ہیں،آسیہ اندرابی نے پاکستان سے التجاء کی پاکستان یوم سیاہ کا اعلان کرے، اپنے کشمیریوں کیساتھ، کشمیر کیساتھ،غیور کشمیری مسلمانوں کیساتھ اظہار یکجہتی کے لیے یوم سیاہ منائیں۔ جبکہ مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے قائد میر واعظ مولوی عمر فاروق نے ٹوئیٹر پیغام میں کہا ’’جنوبی کشمیر میں بھارتی افواج نے ایک بار پھر خون کی ہولی کھیلی جس سے بیس نوجوان شہید ہوگئے ہیں، جن میں سے بارہ کا تعلق شوپیاں ضلع سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ آخر کب تک اپنا پیدائشی حق مانگنے کی پاداش میں کشمیریوں کو چن چن کر مارا جائیگا اور دنیا خاموشی سے دیکھتے رہے گی۔


متعلقہ خبریں


وزیر اعلیٰ اور میئر کی سرزنش،کراچی کو بہتر کرو،صدر زرداری کی 3 ماہ کی مہلت وجود - بدھ 25 فروری 2026

آصف علی زرداری نے مراد علی شاہ اوروہاب مرتضیٰ کی کراچی صورتحال پر پارٹی قیادت کی سخت کلاس لے لی ، فوری نتائج نہ آنے پر برہمی کا اظہار ،اجلاس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا بتائیں پیسے، اختیارات کس چیزکی کمی ہے، یہاں سڑکیں تاخیر سے بنتی ہیں تو محسن نقوی سے پوچھ لیں انڈرپاس ساٹھ...

وزیر اعلیٰ اور میئر کی سرزنش،کراچی کو بہتر کرو،صدر زرداری کی 3 ماہ کی مہلت

مجھے نظر نہیں آرہا،عمران خان کا جیل سے پیغام وجود - بدھ 25 فروری 2026

میرے ڈاکٹروں کو مجھ تک رسائی دی جائے،عمران خان نے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے، اب سمجھ آتا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے،عمران سے آج کسی کی ملاقات نہ ہوسکی، عظمی خان بانی کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال لے کر جائیں ان کا طبی ڈیٹا ان کے ڈاکٹرز کے پاس ہے، یہ لوگ بہت جھوٹ بول چ...

مجھے نظر نہیں آرہا،عمران خان کا جیل سے پیغام

کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں کی منظوری وجود - بدھ 25 فروری 2026

کراچی کی سڑکوں کی بحالی کیلئے 8ارب، گل پلازہ متاثرین کیلئے 7ارب معاوضہ منظور آئی آئی چندریگر روڈ پر تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے ایک ارب 57 کروڑ روپے مختص سندھ کابینہ نے شہر کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لیے 8 ارب 53 کروڑ روپے اور گل پلازہ آتشزدگی متاثرین کے لیے 7 ارب روپے معاو...

کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں کی منظوری

بھکر میں چیک پوسٹ پر خودکش حملہ ، 2 پولیس اہلکار شہید، ایک زخمی وجود - بدھ 25 فروری 2026

فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی، زخمی اور لاشیں ڈی ایچ کیو بھکر منتقل وفاقی وزیرداخلہ کاشہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش پنجاب کے ضلع بھکر کی سرحد پر قائم بین الصوبائی چیک پوسٹ داجل پر خودکش حملہ ہوا جس میں 2 پولیس اہلکار شہید اور 1 زخمی ہوگیا۔تفصیلات ک...

بھکر میں چیک پوسٹ پر خودکش حملہ ، 2 پولیس اہلکار شہید، ایک زخمی

اپوزیشن کا احتجاج، عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے کا مطالبہ وجود - منگل 24 فروری 2026

ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...

اپوزیشن کا احتجاج، عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے کا مطالبہ

عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اور کابینہ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم وجود - منگل 24 فروری 2026

21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...

عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اور کابینہ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم

پنجگور میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ،6 افراد جاں بحق، 2 گاڑیاں جلادیں وجود - منگل 24 فروری 2026

حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...

پنجگور میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ،6 افراد جاں بحق، 2 گاڑیاں جلادیں

پاکستان کے تین افغان صوبوں میں حملے، سات مراکز تباہ، 80 خوارج ہلاک، مناسب وقت پر ردعمل دینگے، افغان طالبان کی دھمکی وجود - پیر 23 فروری 2026

فضائی کارروائی کے دوران ننگرہار میں چار، پکتیکا میں دو اور خوست میں ایک ٹھکانہ تباہ، بہسود میں ایک ہی گھر کے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مارے گئے خوارجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، سیکیورٹی ذرائع ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، افغان طالبان کی وزارت...

پاکستان کے تین افغان صوبوں میں حملے، سات مراکز تباہ، 80 خوارج ہلاک، مناسب وقت پر ردعمل دینگے، افغان طالبان کی دھمکی

مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت کاسندھ پر قبضہ ہے،سندھ اسمبلی میں آئین کیخلاف قراردادپیش کی گئی، ایم کیو ایم کی ھکومت پر سخت تنقید وجود - پیر 23 فروری 2026

یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے،جماعت اسلامی قرارداد کی حمایت سے شریک جرم ، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟ ہمارے ہوتے ہوئیسندھو دیش کا خواب خواب ہی رہیگا، سندھو دیش نہیں بن سکتا،جو سب ٹیکس دے اس کو کو...

مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت کاسندھ پر قبضہ ہے،سندھ اسمبلی میں آئین کیخلاف قراردادپیش کی گئی، ایم کیو ایم کی ھکومت پر سخت تنقید

طالبان، بی ایل اے دہشت گرد تنظیمیں ہیں، سختی سے نمٹنا چاہیے،اپوزیشن اتحاد وجود - پیر 23 فروری 2026

حکومت ناکام نظر آرہی ہے ،دہشت گردی کیخلاف حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسی پر شدید تشویش کا اظہار بورڈ آف پیس میں ہم ڈھٹائی سے وہاں پہنچے اور کسی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا،مصطفیٰ نواز کھوکھر کی پریس کانفرنس اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں نے دہشت گردی کے ...

طالبان، بی ایل اے دہشت گرد تنظیمیں ہیں، سختی سے نمٹنا چاہیے،اپوزیشن اتحاد

دو وفاقی وزیر سندھ حکومت کیخلاف سازش مصروف ہیں،شرجیل میمن وجود - پیر 23 فروری 2026

خالد مقبول اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس آئین سے ناواقفیت کی واضح علامت ہے وفاقی وزیر کے بیانات سے سوال پیدا ہوتا ہیکیایہ وفاقی حکومت کی پالیسی ہے؟ ردعمل سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس ان کی کم علمی اور آئ...

دو وفاقی وزیر سندھ حکومت کیخلاف سازش مصروف ہیں،شرجیل میمن

سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے، گورنرٹیسوری وجود - اتوار 22 فروری 2026

یہاں کچھ لوگ سیاسی فیکٹریاں لگائے بیٹھے ہیں، کسی بھی معاملے کو سیاسی بنا دیتے ہیں کوشش کامیاب ہوتی ہے سازش کبھی نہیں ہوتی ، ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے،خطاب گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے۔گورنر ہاؤس کراچی میں افطار عشائیے...

سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے، گورنرٹیسوری

مضامین
ہم خود قیامت تھے وجود بدھ 25 فروری 2026
ہم خود قیامت تھے

نکھل گپتا کا اعتراف ِ جرم : ایک بھیانک خوابِ غم وجود بدھ 25 فروری 2026
نکھل گپتا کا اعتراف ِ جرم : ایک بھیانک خوابِ غم

طارق رحمن کابینہ میں ہندو وزیر کی شمولیت وجود منگل 24 فروری 2026
طارق رحمن کابینہ میں ہندو وزیر کی شمولیت

آرٹیکل ١٠٩(ب) کے بعد آرٹیکل ١١٠ وجود منگل 24 فروری 2026
آرٹیکل ١٠٩(ب) کے بعد آرٹیکل ١١٠

سیرتِ نبوی ۖ: رحمت، اخلاق اور انسانیت کا کامل نمونہ وجود منگل 24 فروری 2026
سیرتِ نبوی ۖ: رحمت، اخلاق اور انسانیت کا کامل نمونہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر