وجود

... loading ...

وجود
منگل 27 اکتوبر 2026

فرحت اللہ بابرسے لاتعلقی ‘پیپلزپارٹی کاسلیم مانڈوی والاپردست شفقت

جمعه 09 مارچ 2018 فرحت اللہ بابرسے لاتعلقی ‘پیپلزپارٹی کاسلیم مانڈوی والاپردست شفقت

لگتا ہے فرحت اللہ بابر نے بال دھوپ میں سفید کرلیے ہیں اور ساری عمر پیپلز پارٹی کی زلف گرہ گیر کا اسیر رہنے کے باوجود انہیں اپنی اس پارٹی کی سیاست کی سمجھ ہی نہ آسکی۔ جب وہ سرکاری افسر تھے تو بھی اس پارٹی کی محبت میں گرفتار تھے۔ ریٹائر ہوکر سیاست میں آئے تو ان کا انتخاب یہی پارٹی تھی۔ براہ راست الیکشن لڑنے کی ان میں سکت نہیں تھی کہ ساری عمر سرکاری ملازمت کی تھی۔ کوئی حلقہ تھا نہ ووٹروں سے براہ راست رابطہ۔ اس لیے پارٹی نے ان پر مہربانی کی اور ایوان بالا کا رکن بنا دیا، لیکن جب عقل پر پردہ پڑتا ہے تو پھر انسان سے ایسی حرکت سرزد ہو جاتی ہے جو فرحت اللہ بابر سے ہوئی۔ یہ اجلاس جس میں انہوں نے آخری تقریر کی بنیادی طور پر الوداع ہونے والے ارکان کو سلیقے اور قرینے سے رخصت کرنے کے لیے منعقد کیا گیا تھا، جو ارکان ریٹائر ہو رہے تھے، انہوں نے چیئرمین رضا ربانی کی خدمات کو سراہا، ان کے کردار کی تعریف کی، ساتھیوں کی تعریفیں بھی کی گئیں، جنہوں نے بہت اچھا وقت گزارا۔ نسرین جلیل تو جذباتی تقریر کرتے ہوئے آبدیدہ بھی ہوگئیں۔ ممکن ہے انہیں اس الوداعی تقریب سے زیادہ ان حالات کا صدمہ ہو جن سے ان کی پارٹی گزر رہی ہے۔

لیکن حیرت ہے فرحت اللہ بابر کو کیا سوجھی کہ انہوں نے جاتے جاتے اپنے خطاب میں بے موسمی سچی باتیں کر دیں۔ جو کچھ انہوں نے کہا عمومی طور پر اس سے اختلاف کی بہت کم گنجائش ہے اور اگر ہو بھی تو جنہیں اختلاف ہے وہ اختلاف کرسکتے ہیں، لیکن پیپلز پارٹی نے فرحت اللہ بابر کو جس انداز میں سینیٹ سے الوداع کیا ہے، سچی بات ہے یہ پارٹی سے ان کی محبت کا بہت برا صلہ ہے۔ فرحت اللہ بابر نے سینیٹ میں جو کچھ کہا، یہ ایسا نہیں تھا کہ ان کے ساتھ یہ سلوک روا رکھا جاتا۔ پارٹی کی جانب سے یہ وضاحت تو کل ہاتھ کے ہاتھ ہی آگئی تھی کہ بابر نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ ان کے ذاتی ہیں۔ پارٹی ان سے متفق نہیں، لیکن کیا یہ ضروری تھا کہ لاتعلقی کا یہ اعلان کرنے کے ساتھ ہی انہیں ترجمان کے منصب سے بھی ہٹا دیا جاتا۔ حالانکہ اب تک وہ پارٹی کے قائد اور پارٹی کی ترجمانی کا فریضہ بطریق احسن ادا کرتے رہے ہیں۔ انگریزی ان کی اچھی تھی اور اگر کسی انگریزی اخبار میں ’’خصوصی مضمون‘‘ چھپوانے کی ضرورت پڑتی تو ان کی خدمات حاصل کی جاتیں۔

آپ کہہ سکتے ہیں کہ ’’گھوسٹ رائٹنگ‘‘ تو جدید دور کے تحریری کلچر کا لازمی حصہ ہے۔ بڑے بڑے نامور لوگوں کے نام سے جو کتابیں اور مضامین چھپتے ہیں، انہیں لکھنے والے پس چلمن بیٹھے ہوتے ہیں۔ کبھی کبھار تو مصنف اپنا مدعا لکھنے والے کے روبرو بول دیتا ہے۔ وہ اسے لکھ لیتا ہے اور بعد میں مرتب کرکے کتابی شکل دے دیتا ہے، جیسے کہ فیلڈ مارشل ایوب خان نے اپنی کتاب ’’فرینڈز ناٹ ماسٹرز‘‘ املا کرا دی تھی، اور ان املا شدہ صفحات کا حجم بہت زیادہ تھا، جنہیں بعد میں الطاف گوہر نے ایڈٹ کرکے اپنی خوبصورت زبان میں لکھ دیا۔ اس طرح بہت سے نامور مصنفین بھی یہ طریق کار اختیار کرتے ہیں۔ مولانا ابوالکلام آزاد اردو زبان کے سب سے بڑے انشاپرداز تھے اور ان کے بارے میں ایک بار بھارتی صدر ڈاکٹر ذاکر حسین نے کہا تھا کہ اردو زبان ہمیشہ اس بات پر فخر کرتی رہے گی کہ وہ ابوالکلام کے قلم سے لکھی اور ان کی زبان سے بولی گئی اس ابوالکلام نے بھی اپنی سیاسی خود نوشت اپنے ایک رفیق کار پروفیسر ہمایوں کبیر کو املا کرائی تھی۔ طریق کار یہ تھا کہ مولانا اردو بولتے جاتے اور ہمایوں کبیر اس کے نوٹس انگریزی میں بناتے جاتے۔ پھر ایک ایک باب کا مسودہ لکھ کر مولانا کو پیش کرتے جو بار بار کی تصحیح و تدوین کے بعد حتمی شکل اختیار کرتا۔ یہ کتاب ’’انڈیا ونز فریڈم‘‘ کے نام سے مولانا آزاد کی وفات کے چند ماہ بعد چھپی، لیکن بعض مصنف ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ جو کچھ ان کے نام سے چھپ رہا ہے، اس میں لکھا کیا ہے۔

بات ہو رہی تھی فرحت اللہ بابر کی انگریزی مضمون نگاری کی، جن حضرات کو اوپر والے دو پیراگراف غیر متعلقہ نظر آئیں، ان سے پیشگی معذرت، بتانا یہ تھا کہ فرحت اللہ بابر کی تمام تر خدمات کو ایک ہی لمحے میں بھلا دیا گیا اور ترجمان کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا۔ غالباً یہ محسوس کیا گیا ہوگا کہ جس شخص کے خیالات عالیہ وہ ہیں جس کا اظہار اس نے سینیٹ کے الوداعی خطاب میں کیا ہے۔ وہ پارٹی ترجمان رہنے کا حق نہیں رکھتا، جو پارٹی بلوچستان میں ایک بھی رکن اسمبلی نہ رکھنے کے باوجود صوبے کے آزاد ارکان کے تعاون سے سلیم مانڈوی والا کو چیئرمین بنانے کے لیے پاپڑ بیل رہی ہے اور پرامید بھی ہے خدا لگتی کہیئے کہ فرحت اللہ بابر جیسا آدمی اس کے لیے بیکار محض ہے کہ نہیں، جس کا خطاب بنا بنایا کھیل بگاڑ بھی سکتا ہے۔ پارٹی کی اتنی مہربانی کیا کم ہے کہ اس نے رضا ربانی کو دوبارہ سینیٹ کارکن بنوا دیا۔ اب اگر کوئی انہیں دوبارہ چیئرمین بنانے کی سوچ رکھتا ہے تو پیپلز پارٹی اس سے بری الذمہ ہے، کیونکہ رضا ربانی نے بھی دوچار بار پارٹی کو مشکل میں ڈال دیا تھا۔ یاد پڑتا ہے اس وقت بھی پارٹی نے رضا ربانی کے خیالات سے لاتعلقی ظاہر کر دی تھی۔ اب انہیں دوبارہ چیئرمین بنوانے سے توبہ کرلی ہے، ان کے سر سے شفقت کا ہاتھ اٹھا لیا ہے۔ غالباً اسی لیے رضا ربانی نے کل ہی ایک خطاب میں کہہ دیا تھا کہ ان کی زبان بند تھی، اب وہ کھل کر بولیں گے۔ لیکن بعید نہیں کل کو رضا ربانی کے خیالات سے بھی پارٹی دستبردار ہو جائے۔


متعلقہ خبریں


مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

میر رضا قتل کیس، جے آئی ٹی سمیت تین تحقیقاتی کمیٹیاں تشکیل وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

ڈی آئی جی عرفان علی بلوچ جے آئی ٹی کے سربراہ مقرر، آئی ایس آئی، آئی بی، رینجرز اور این سی سی آئی اے کے نمائندے شامل  جوڈیشل کمیشن کی سفارشات پر پولیس افسران اور اہلکاروں کے کردار کا تعین، ڈاکٹر اسامہ شیخ کی تربیت سے متعلق سفارش بھی ارسال سندھ حکومت نے نوجوان تاجر میر رضا عل...

میر رضا قتل کیس، جے آئی ٹی سمیت تین تحقیقاتی کمیٹیاں تشکیل

امیتابھ بچن کی رہائش گاہ کو بم سے نشانہ بنانے کی دھمکی، پولیس کی تحقیقات شروع وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

دھمکی آمیز پیغام میں امیتابھ بچن کے جوہو میں واقع بنگلے جلسہ کا ذکر کیا گیا ہے، رپورٹس بالی ووڈ کے سینئر اداکار امیتابھ بچن کی رہائش گاہ کو بم دھماکے سے نشانہ بنانے کی دھمکی سے متعلق ای میل سامنے آنے کے بعد ممبئی پولیس نے تحقیقات شروع کردی ہیں۔ یہ ای میل شہر کے باندرہ کرلا ...

امیتابھ بچن کی رہائش گاہ کو بم سے نشانہ بنانے کی دھمکی، پولیس کی تحقیقات شروع

مکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کا بل ترک پارلیمنٹ میں پیش وجود - جمعرات 22 اکتوبر 2026

ترکیہ، پاکستان اور سعودیہ میں سے کسی پربھی حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا، ذرائع ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کا بل ترک پارلیمنٹ میں پیش کردیا گیا۔ذرائع کے مطابق معاہدے کے مسودے میں کہا گیا ہے کہ اتحاد مستقل نوعیت کا ہوگا اور کوئی...

مکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کا بل ترک پارلیمنٹ میں پیش

سعودی عرب میں آئل فیلڈ پر ڈرون حملے میں 2 غیر ملکی ہلاک ،2زخمی وجود - جمعرات 22 اکتوبر 2026

سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں چار ڈرونز کو تباہ کر دیا،ترجمان اتحادی فوج سعودی عرب میں تعینات امریکی حکومت کے غیرہنگامی عملے اور ان کے اہلِ خانہ کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم سعودی عرب نے حوثیوں کی جانب سے آئل فیلڈ پر داغے گئے ڈرونز کو فضا میں تباہ کرنے کا دعوی کیا ہے۔ جبکہ سعودی ف...

سعودی عرب میں آئل فیلڈ پر ڈرون حملے میں 2 غیر ملکی ہلاک ،2زخمی

مضامین
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

قیمتی یا ضروری؟ وجود اتوار 25 اکتوبر 2026
قیمتی یا ضروری؟

عالمی طاقتوں پر بھارت کو کمزورکرنے کا الزام وجود اتوار 25 اکتوبر 2026
عالمی طاقتوں پر بھارت کو کمزورکرنے کا الزام

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر