وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

بٹ کوائن سے خطرہ

بدھ 07 مارچ 2018 بٹ کوائن سے خطرہ

بٹ کوئن ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے۔ بٹ کوئن کمانے یا حاصل کرنے میں کسی شخص یا کسی بینک کا کوئی اختیار نہیں۔ یہ مکمل آزاد کر نسی ہے، جس کو ہم اپنے کمپیوٹر کی مدد سے بھی خود بنا سکتے ہیں۔ بٹ کوئن کرنسی کا دیگر رائج کرنسیوں مثلاً ڈالر اور یورو سے موازنہ کیا جاسکتا ہے، لیکن رائج کرنسیوں اور بٹ کوئن میں کچھ فرق ہے۔ سب سے اہم فرق یہ ہے کہ بٹ کوئن مکمل طور پر ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے جس کا وجود محض انٹرنیٹ تک محدود ہے، خارجی طور پر اس کا کوئی جسمانی وجود نہیں۔ اسی طرح بٹ کوئن کرنسی کے پیچھے کوئی طاقتور مرکزی ادارہ مثلاً مرکزی بینک نہیں ہے۔ ریاست ہائے متحدہ امریکا کی وزارت خزانہ نے اسے غیر مرکزی کرنسی قرار دیا ہے ،کیونکہ اس کرنسی کو ایک شخص براہ راست دوسرے شخص کو منتقل کر سکتا ہے، اس کے لیے کسی بینک یا حکومتی ادارہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ تاہم انٹرنیٹ کے ذریعہ بٹ کوئن کو دیگر رائج کرنسیوں کی طرح ہی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

سال 2008 میں پیش ہونے والی اور 2009 میں دنیا کے سامنے آنے والی ڈیجیٹل کرنسی بٹ کوائن نے بہت جلد ہی دنیا بھر کو اپنی جانب متوجہ کرلیا اور آہستہ آہستہ یہ کرنسی دنیا میں اتنی مقبولیت حاصل کر گئی کہ سال 2017 میں اس کے ایک سکے کی قیمت ہزاروں امریکی ڈالر ہو گئی، اس وقت اسکے ایک سکے کی قیمت اتنی ہے کہ لاکھوں پاکستانی روپے بنتے ہیں۔ بٹ کوائن کی زبردست مقبولیت دیکھتے ہوئے دنیا میں اور بھی بہت ساری ڈیجیٹل کرنسی کی قسمیں متعارف کروائی گئی ہیں۔ دنیا کے تقریباً تمام ممالک میں یہ کرنسی ’’قانونی‘‘ تو ہے مگر عموماً ٹیکس نیٹ ورک میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہے اس وجہ سے اس کرنسی کو بہت سارے ایسے افراد بھی حاصل کرنے کے لیے پاگل ہو رہے ہیں جن کے کاروبار غیر قانونی ہیں اور وہ اپنی غیر قانونی کاروبار سے بنائی گئی رقم اداروں اور حکومتوں سے چھپانا چاہتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ ڈیجیٹل کرنسیوں کی مانگ بہت بڑھ چکی ہے۔ تقریباً تمام اقسام کی ڈیجیٹل کرنسی کو جس عمل سے حاصل کیا جاتا ہے اسے مائننگ کہا جاتا ہے بٹ کوائن کو مائننگ کے عمل سے حاصل کرنے کے لیے بہت سے طاقتور کمپیوٹرز کو جوڑ کر ان سے خاص قسم کی ریاضیاتی مساواتوں کو حل کروایا جاتا ہے۔ یوں ایک خاص عرصے بعد آپ ایک ستوشی جو بٹ کوائن کی سب سے چھوٹی اکائی ہے، بنا لیتے ہیں اور دس کروڑ ستوشی کا ایک مکمل بِٹ کوائن ہوتا ہے۔ جیسے جیسے بٹ کوائن کی مانگ میں اضافہ ہوتا گیا اسی طرح بٹ کوائن مائننگ کے لیے طاقتور سے طاقتور کمپیوٹرز بنانے کا عمل بھی زور پکڑ گیا۔ بٹ کوائن مائننگ کے عمل میں بہت زیادہ بجلی استعمال ہوتی ہے اسی وجہ سے اس پر اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں۔ معروف جریدے اکانومسٹ نے 2015ء میں اندازہ لگایا کہ اگر تمام مائنرز جدید سہولیات استعمال کریں،تو ان کی مشترکہ خرچ کی جانے والی بجلی 166.7 میگا واٹس ہوگی۔ 2017 کے اختتام تک، عالمی سطح پر بٹ کوائن کی مائننگ سرگرمی کے بارے میں اندازہ لگایا گیا کہ اس سے ایک سے چار گیگاواٹس بجلی خرچ ہو رہی ہے۔ (نو سے 35ٹیٹراواٹ آور سالانہ)۔ اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ بٹ کوائن مائننگ کے لیے کس قدر بجلی استعمال ہو رہی ہے۔

اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ بٹ کوائن مائننگ چین میں ہو رہی ہے جس کی وجہ وہاں دستیاب بجلی کے ریٹس دنیا میں کسی بھی ترقی یافتہ ملک کے ریٹس سے کم ہیں، مگر ماہرین کے مطابق بٹ کوائن مائننگ نہ صرف دنیا کی معیشت پر تیزی سے اثر انداز ہو رہی ہے بلکہ یہ آنے والے دنوں میں دنیا کے ماحول کے لیے شدید خطرے کا باعث بن جائے گی۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اس استعمال ہونے والی بجلی کا بہت سا حصہ روایتی طریقوں یعنی تیل یا کوئلہ سے بنایا جاتا ہے جو کہ ماحول دوست نہیں ہے اور ان طریقوں سے بننے والا ہر یونٹ ماحول پر برا اثر چھوڑ رہا ہے آئندہ دنوں میں بجلی کا یہ استعمال اور بھی بڑھنے والا ہے اور اس کا مطلب ماحول اور بھی ڈسٹرب ہونے والا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتیں اس طرف سنجیدگی سے توجہ دیں اور اس سے پہلے کہ یہ مسئلہ عفریت بن کر ابھر آئے بجلی بنانے کے ماحول دوست طریقوں کو زیادہ سے زیادہ فروغ دیا جائے تاکہ آنے والے دنوں میں بجلی کی زیادہ کھپت ماحول پر اثر انداز ہو کر دنیا کی تباہی کا باعث نہ بن جائے۔


متعلقہ خبریں


مسجد نبویؐ کوعام نمازیوں کیلئے کھولنے کی اجازت وجود - اتوار 31 مئی 2020

خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کورونا لاک ڈاؤن کے باعث گزشتہ دو ماہ سے بند مسجد بنوی کو عام نمازیوں کے لیے کھولنے کی اجازت دیدی۔سعودی میڈیا کے مطابق مسجد نبوی میں 31 مئی سے عام نمازیوں کے داخلے کی اجازت ہوگی اور خادمین الحرمین الشریفین نے اس فیصلے کی منظوری بھی دیدی ہے۔سعودی حکام کے مطابق احتیاطی تدابیرکے ساتھ مسجد نبوی کو عام نمازیوں کے لیے کھولنے کے احکامات دئیے گئے ۔ مسجد نبوی میں 40 فیصد نمازیوں کو ابتدائی دنوں میں داخلے کی اجازت ہو گی اور حکام کی جانب س...

مسجد نبویؐ کوعام نمازیوں کیلئے کھولنے کی اجازت

لداخ بھارت کے ہاتھ سے نکلنے لگا ، چین کا واپس جانے سے انکار وجود - اتوار 31 مئی 2020

لداخ بھارت کے ہاتھ سے نکلنے لگا ، چین نے واپس جانے سے انکار کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق لائن آف کنٹرول سے 8 کلو میٹر اندر تک چین نے اپنا کیمپ قائم کر دیا ہے۔ جبکہ چین نے واپس جانے سے انکار کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ یہ جگہ بھارت کی نہیں ہے۔ دوسری جانب بھارتی حکومت اور میڈیا بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔بھارت کی فوج کے دو ٹینکر پہلے ہی پہنچ چکے ہیں تاہم چینی فوج کے قریب جانے کی بھی ہمت نہیں رکھتے۔ یہ بات بھی قابل غور رہے کہ بھارت اور چین کے درمیان کشیدہ حالات کے باعث طے شدہ دوروں کے...

لداخ بھارت کے ہاتھ سے نکلنے لگا ، چین کا واپس جانے سے انکار

عالمی ادارہ صحت، 37 ممالک کا وائرس کیخلاف جنگ میں اتحاد کا فیصلہ وجود - اتوار 31 مئی 2020

عالمی ادارہ صحت اور 37 ممالک نے کورونا وائرس وبا سے لڑنے کے لیے ویکسین، ادویات اور تشخیصی آلات کی عام ملکیت کی اپیل کی اور کہا کہ پیٹنٹ قوانین اس اہم ترین اشیا کی سپلائی میں رکاوٹ ڈال سکتا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ترقی پذیر ممالک کے اس اقدام کو زیادہ زیادہ تر تنظیموں بشمول ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز کی جانب سے پذیرائی ملی۔ترقی پذیر اور چند چھوٹے ممالک کو خدشہ ہے کہ امیر ممالک کو ویکسین کی تلاش میں وسائل صرف کر رہے ہیں، کامیابی کے بعد اس قطار میں سب سے آگے کھڑے ہوجائیں گے۔کوسٹا ر...

عالمی ادارہ صحت، 37 ممالک کا وائرس کیخلاف جنگ میں اتحاد کا فیصلہ

لاک ڈائون بھارت میں لوگ مردار جانور کا گوشت کھانے پر مجبور وجود - اتوار 31 مئی 2020

بھارت میں لاک ڈاؤن کے دوران بھوک و افلاس کا عالم دیکھ کر انسانیت شرما گئی، کوئی ننگے پیر سیکڑوں میل پیدل سفر کرکے گھر پہنچا تو کسی کو بھوک نے مردار کھانے پر مجبور کر دیا۔بھارتی میڈیارپورٹس کے مطابق چلچلاتی دھوپ، تپتی زمین اور ننگے پیر میلوں کا سفر، ایسے میں عورتوں اور بچوں کا بھی ساتھ ہو تو غربت کا کیا عالم ہوگا، لاک ڈاؤن میں مودی کی ناکام منصوبہ بندی نے غریبوں کو دربدر رلنے پر مجبور کر دیا۔ اس تمام تر صورتحال کے باوجود مودی سرکار غریبوں کی پروا کے بجائے ہندوتوا کے پرچار او...

لاک ڈائون بھارت میں لوگ مردار جانور کا گوشت کھانے پر مجبور

مودی سرکار کا پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے کشمیر میں جعلی آپریشن کا منصوبہ وجود - اتوار 31 مئی 2020

بھارت نے لداخ میں چین کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانے کے بعد پاکستان کے خلاف مکروہ منصوبہ بنانا لیا، مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں فالس فلیگ آپریشن کا ڈرامہ رچا کر پاکستان کو بدنام کرنے کی منصوبہ بندی کرلی، وزیر اعظم عمران خان، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بارہا عالمی برادری کو بھارتی عزائم بارے کئی مرتبہ خبردار کر چکے۔ذرائع کے مطابق بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں فالس فلیگ آپریشن کرنے اور اس کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی مکروہ منصوبہ بندی کر لی ہے، یہ سب ...

مودی سرکار کا پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے کشمیر میں جعلی آپریشن کا منصوبہ

اجیت دوول کی پالیسی ناکام،بھارتی ملٹری قیادت اور دوول گروپ میں اختلافات وجود - هفته 30 مئی 2020

بھارت میں اجیت دوول کی پالیسی ناکام،بھارتی ملٹری قیادت اور دوول گروپ میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے ،دوول کی غلط پالیسیوں نے بھارت کو بند گلی میں لا کھڑا کیا۔میڈیارپورٹ کے مطابق چائنا پالیسی اور جھوٹ پر جھوٹ نے بھارت کی بْنیادیں ہلا دیں،بھارت اقوامِ عالم میں تنہا ہو گیا،پہلے پلوامہ ڈرامے میں اپنے 40سپاہی مروائے ۔رپورٹ کے مطابق بالاکوٹ میں ہزیمت اْٹھانا پڑی،بھارتی ائیر فورس کی ناکامی سے بھارتی خواب چکنا چور ہو گئے ،کشمیر پالیسی بْری طرح ناکام،چائنہ نے بھارتی ملٹری کو بے نقاب ک...

اجیت دوول کی پالیسی ناکام،بھارتی ملٹری قیادت اور دوول گروپ میں اختلافات

ہانگ کانگ کے معاملے پر برطانیہ، امریکا مداخلت سے باز رہیں، چین وجود - هفته 30 مئی 2020

چین نے ہانگ کانگ میں نیشنل سیکیورٹی بل کے معاملے میں امریکا پر اقوام متحدہ کو یرغمال بنانے کا الزام عائد کردیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق بیجنگ نے مغربی ممالک کو خبردار کیا کہ وہ چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کریں۔واضح رہے کہ امریکا، برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا نے نیشنل سیکیورٹی بل پر کڑی تنقید کی ہے جس کے تحت چین کی سیکیورٹی ایجنسیاں ہانگ کانگ میں کھلے عام کارروائیاں کرسکیں گی۔چاروں ممالک کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا تھا کہ بیجنگ کا نیشنل سیکیورٹی کا قانون...

ہانگ کانگ کے معاملے پر برطانیہ، امریکا مداخلت سے باز رہیں، چین

لداخ میں غیرقانونی بھارتی تعمیرات، چین نے فوجی قوت مزید بڑھا دی وجود - هفته 30 مئی 2020

لداخ میں غیر قانونی تعمیرات پربھارت کو لینے کے دینے پڑ گئے ، چین نے کشمیر کے علاقے اکسائے چن پر بھی فوجی قوت بڑھا دی۔بھارتی میڈیا کے مطابق لداخ میں صورتحال بدستور کشیدہ ہے ، چین لداخ میں متنازع سڑک پر پل کی تعمیر روکنا چاہتا ہے ، چین نے ائیرپورٹ پر ملٹری قوت میں اضافہ کر لیا۔لداخ میں بھارتی فوجیوں کی تعداد میں بھی اضافہ کر دیا گیا، گولوان وادی کے تین پوائنٹس اور پینگانگ جھیل پر بھارتی اور چینی فوجی آمنے سامنے ہیں۔واضح رہے کہ لداخ کے علاقے میں بھارت اور چین تنازع شروع ہوئے ایک...

لداخ میں غیرقانونی بھارتی تعمیرات، چین نے فوجی قوت مزید بڑھا دی

تمباکو کمپنیاں بچوں کو راغب کرنے کے لیے خطرناک ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہیں، ڈبلیو ایچ او وجود - هفته 30 مئی 2020

عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ تمباکو کمپنیاں بچوں کو تمباکو نوشی کی طرف راغب کرنے کے لیے خطرناک اور جان لیوا ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ڈبلیو ایچ او نے بتایاکہ یہ حیرانی کی بات نہیں کہ سگریٹ نوشی شروع کرنے والے زیادہ تر افراد کی عمر اٹھارہ برس سے بھی کم ہوتی ہے ۔ اس ادارے نے مزید بتایا کہ تیرہ سے پندرہ برس تک کی عمر کے درمیان چوالیس ملین بچے اس وقت سگریٹ نوشی کے عادی ہیں۔ اس بارے میں عالمی ادارہ صحت نے اپنی ایک رپورٹ اتوار اکتیس مئی کو منا...

تمباکو کمپنیاں بچوں کو راغب کرنے کے لیے خطرناک ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہیں، ڈبلیو ایچ او

کورونا وائرس، ذیابیطس کے مریضوں کے لیے خطرے کی گھنٹی وجود - هفته 30 مئی 2020

ذیابیطس کا ہر دس میں سے ایک مریض کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کی صورت میں ہسپتال جانے کے سات دن بعد ہی اپنی زندگی کی بازی ہار سکتا ہے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یہ انکشاف ایک تازہ سائنسی مطالعے کے نتائج میں کیا گیا ہے ، جو جمعے کے روز ایک جریدے میں شائع ہوئے ۔ اس مطالعے کے دوران ذیابیطس کے تیرہ سو مریضوں کا جائزہ لیا گیا۔ پچھتر برس سے زائد عمر کے مریضوں میں پچپن برس سے کم عمر کے مریضوں کے مقابلے میں شرح اموات چودہ فیصد زیادہ رہی۔ دل، بلڈ پریشر اور پھیپھڑوں کے امراض میں مب...

کورونا وائرس، ذیابیطس کے مریضوں کے لیے خطرے کی گھنٹی

کورونا وائرس کے کیسز اور اموات، بھارت چین سے آگے نکل گیا وجود - هفته 30 مئی 2020

بھارت میں نئے کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد چین میں اسی وائرس کے باعث اموات سے زیادہ ہو گئی ہے ۔ پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران بھارت میں مزید 175 افراد ہلاک ہو گئے اور یوں ایسی اموات کی مجموعی تعداد 4,706 ہو گئی۔ بھارت میں نئے کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 165,799 ہو گئی ہے ۔ مہاراشٹر سب سے زیادہ متاثرہ ریاست ہے ۔ دوسری جانب چین میں جمعے کو کووڈ انیس کا کوئی ایک بھی نیا مریض سامنے نہیں آیا اور نہ ہی اس بیماری کے باعث کوئی موت ہوئی۔ چین میں متاثرین کی تعداد 82,995 ...

کورونا وائرس کے کیسز اور اموات، بھارت چین سے آگے نکل گیا

ملائیشین سابق وزیراعظم مہاتیر محمد کو ان کی اپنی سیاسی جماعت سے نکال دیا گیا وجود - هفته 30 مئی 2020

ملائیشیا کی سیاسی جماعت یونائیٹڈ پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم مہاتیر محمد کو انہی کی پارٹی سے نکال دیا گیا۔عرب خبر رساں ادارے کے مطابق پارٹی چیئرمین مہاتیر محمد نے اپنی ہی جماعت کی پالیسیوں کی خلاف ورزی کی اور وہ 18 مئی کو ہونے والے پارلیمنٹ کے اجلاس میں اپوزیشن بینچوں پر بیٹھے تھے ۔ملائیشیا کی یونائیٹڈ پارٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مہاتیر محمد کی پارٹی رکنیت کو فوری طور پر منسوخ کردیا گیا ہے ۔عرب میڈیا کا بتانا ہیکہ پارٹی چیئرمین مہاتیر محمد کو ان کی اپن...

ملائیشین سابق وزیراعظم مہاتیر محمد کو ان کی اپنی سیاسی جماعت سے نکال دیا گیا