... loading ...
ٹیپو سلطان کا نام اور اس عظیم ہستی کی تاریخی مذہبی رواداری اور اس کی طرزِ حکمرانی کی داستان پاکستان میں شاید صرف نصابی کتب تک ہی محدود رہ گئی ہے۔ تاریخ گوئی اور تاریخ سے سبق و رموز کی واقفیت ہمارے نوجوانوں اور خاص کر نئی پود (نسل) کیلئے بہت سود مند اور ضروری ہے، مگر شاید ہم اس کی جستجو نہیں رکھتے حالانکہ اس کی ضرورت کل بھی تھی اور آج بھی ہے۔ ٹیپو سلطان کو اس سے بہترین خراجِ عقیدت اور کیا دیا جا سکتا ہے کہ ان کی شخصیت کے شاندار اور خوبصورت پہلوئوں کو اجاگر کیا جائے اور دنیا کو بھی حقیقتِ حال سے روشناس کرایا جائے۔ اس نے برصغیر کو انگریزوں کی غلامی سے بچانے کیلئے نہ صرف اپنی حکومت کی قربانی دی بلکہ خود بھی قربان ہوگیا۔ یہ عظیم سپوت انگریزوں سے لڑائی لڑتے لڑتے آخر 04 مئی 1799ء کو شہادت کے درجے پر فائز ہوگیا۔ حالانکہ اس کے پاس اپنی جان اور اپنی حکومت بچانے کے مواقع موجود تھے۔ آپ کے ذہنوں کو تازہ کرنے کیلئے یہاں برصغیر کے اس عظیم سپوت کے حوالے سے چند ضروری اطلاعات بھی قرطاسِ قلم کرتا چلوں تاکہ جنہوں نے اس کو بھلا دیا ہے اس کے ذہنوں میں یاد تازہ ہو جائے۔ ٹیپو سلطان نومبر 1750ء کو کولار کے شمالی مغربی علاقے بنگلور میں دیون بلی نامی قصبہ میں پیدا ہوا۔ ٹیپو سلطان نے جب اس خوبصورت دنیا میں آنکھ کھولی تو انگریز وں کی حکومت اپنے بامِ عروج کو چھو ر ہی تھی اور ان کے ناپاک عزائم بھی تیزی سے ریاستوں کو روندتے چلے جا رہے تھے۔ ایک ایک کرکے انگریزوں نے مرہٹوں، آرکاٹ اور نظام حیدرآباد کی حکومتوں کو اپنے فریبی جال میں پھنسا لیا تھا۔ صرف ریاست میسور ہی ان کے ناپاک عزائم کی راہ میں رکاوٹ تھی، یوں ٹیپو سلطان کی پوری زندگی جنگ کے میدان میں گزری اور وہ بھی انگریزوں کے خلاف سر بکف رہتے ہوئے۔ انگریزوں نے اپنی مکاری، عیاری اور دغا بازی کے متعدد فارمولوں کو استعمال کرتے ہوئے ان کی شخصیت کو ایسا مسخ کر دیا کہ سفید کی جگہ سیاہ نظر آنے لگا۔ اور یوں ایک نہایت قابل اور عادل حکمران ظالم، ایماندار حکمران بے ایمان اور پاک صاف حکمران عیاش قرار دے دیا گیا۔ فہرستِ سلاطین میں سرِفہرست ٹیپو سلطان کا نام بھی آتا ہے۔ لکھاری حضرات جن میں کچھ نئے اور کچھ پرانے بھی شامل ہیں ، نے غلط طور پر ٹیپو سلطان کو ایک بے رحم، خون آشام، ستم شعار، آمر اور جنونی قرار دیا ہے لیکن راقم کے نزدیک حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ کیونکہ (تاریخ کے کئی کتابوں میں اس کا حوالہ ملتا ہے) کہ وہ کوئی متعصب یا شدت پسند نہیں تھا، وہ ایک متقی مسلمان تھا مگر اس نے کبھی اپنی ہندو رعایا کا مذہب تبدیل کرنے کی کوئی جبری و اجتماعی کوشش نہیں کی تھی مگر پھر بھی ہندو اس عظیم سپوت کے کارناموں سے اورمذہبِ اسلام سے اس کی دلی لگائو کو دیکھتے ہوئے اتنی زیادہ تعداد میں مسلمان ہوئے کہ انگریز دنگ رہ گئے۔ اور یوں ایک انگریز مو?رخ نے لکھا تھا کہ سلطان نے صرف کورگ شہر میں 70 ہزار لوگوں کو مسلمان بنایا تھا۔ لیکن شاید یہ اعداد و شمار ٹھیک نہیں ہیں۔ ان میں کچھ کمی بیشی ہوسکتی ہے۔ یہ تو بالکل سچ ہے کہ شہید ٹیپو سلطان نے سیاسی، فوجی، معاشی اور انتظامی اصلاحات کے ساتھ ساتھ اخلاقی اور مذہبی اصلاحات بھی اپنے تئیں (خود) کیں ، اس نے تو اپنے دورِ حکمرانی میں مسلم عوام الناس میں پھیلی ہوئی بہت سی بدعات اور خرافات پر پابندی عائد کی۔ ذات پات کے فرق کو بھی اپنے دور میں گھٹانے کی جستجو کی اور اس میں بھی اسے خاطر خواہ کامیابی ہوئی۔ جمعہ کے خطبے کی اہمیت پر زور دیا گیا تاکہ عوام میں اس کی مفید اثر انگیز ی رہے۔ اپنی پوری سلطنت میں شرعی عدالتوں کا قیام عمل میں لایا، تاریخی کتب کی کتب بینی سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اس نے ہر شہر اور ہر قریہ میں پنچائت مقرر کر رکھی تھی۔ قدیم دستور کے مطابق ہر گائوں میں معمولی تنازعات کا فیصلہ یہی پنچائیت والے کر دیا کرتے تھے۔ اگر سامنے والے کو ان کے فیصلے سے تشفی نہ ہوتی تو مقدمہ عدالت اور اس کے بعد سلطان تک پہنچایا جاتا تھا۔ اورنگزیب عالمگیر کا دور اس کی وفات کے بعد ختم ہوا تو اس کے ساتھ ہی ہندوستان میں مسلمانوں کا جیسے زوال ہونا شروع ہو گیا تھا، کیونکہ مغلیہ سلطنت ختم ہوگئی تھی اور مسلم شان و شوکت کا خاتمہ تقریباً یقینی ہو گیا تھا، اتحاد کی دولت سے محروم اور تفرقے کے شکار مسلمان لاچار ہو گئے تھے۔ ایسے میں انگریزوں کی چالوں کو بھانپ کر سلطنتِ میسور کے فرمانرواں حیدر علی اور اس کے بیٹے ٹیپو سلطان نے انگریزوں کے خلاف جہاد کیا اور مسلمانوں کی شان و شوکت کو بحال کرنے کی شروعات کی، حیدر علی نے برطانوی افواج پر کئی کامیاب حملے کیے اور اپنی فتوحات کا سلسلہ جاری رکھا مگر جب حیدر علی کا انتقال ہوگیا تو اس کے بعد شیرِ میسور نے افواجِ میسور کی قیادت سنبھال لی۔ سلطان کی تلوار اسلامی سلطنت کے احیاء اور وہاں سے انگریز وں کے انخلاء میں معاون رہی۔ سلطان ٹیپو کی پے در پے چالوں نے انگریزی سپہ سالاروں کو چکرا کر رکھ دیا، ان کی رسد کو کاٹنے میں اپنی ہر تدبیر آزمائی اور کامیاب بھی ہوئے اور یوں میسور کو فتح کرنے کا خواب دیکھنے والے فوج کی حالت غیر ہونا شروع ہو گئی اور میسور کی دہلیز برطانوی فوج کے لئے قبرستان بن گئی۔
گلگت بلتستان میں 22 امیدوار میدان میں تھے،پوری جمع تفریق کے بعد 15 نشستوں پر جیتے ہیں،ہمیں دو نشستیں دے کر ہماری 13 نشستیں کسی اور کو دیں گے تو ہم اس کو نہیں مانتے، بیرسٹر گوہر بجٹ سیشن میں شریک ہوں نہ ہوں عوام کو ریلیف ملنا چاہیے، کشمیر پر ہمارا واضح مؤقف ہے، مسائل کو افہام و ...
28ویں ترمیم کا شوشہ چھوڑ کر سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کے لیے کام کر رہی ہیں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے، عوامی مسائل بدستور حل طلب ہیں، پریس کانفرنس امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی حکومتوں کو مکمل بااختیار بنایا جائے اور آئندہ و...
خیبرپختونخواہ میں 40 کے قریب ناراض تحریک انصاف ارکان کا بڑا فارورڈ بلاک تشکیل پانے کا دعویٰ کردیا گیا بانی کی رہائی کیلئے قرآن پر حلف نہیں لیا جاتا، صوبائی بجٹ پاس نہیں ہونے دینگے، ایم پی اے ٰ کی نجی ٹی وی سے گفتگو خیبر پختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات ا...
طائر شہر میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، شہری جبری نقل مکانی پر مجبور ہو گئے شرکیہ میں حملے کیے، کئی افراد زخمی ہو گئے،اسرائیلی فوج کی انخلا کی وارننگ جاری اسرائیل نے ہٹ دھرمی برقرار رکھتے ہوئے لبنان پر وحشیانہ حملے تیز کر دیٔے، مزید 8 لبنانی شہری شہید ہو گئے۔لبنانی می...
تحریک انصاف اس وقت 70 فیصد حلقوں پر لیڈ کررہی ہے،8 فروری کا ری پلے شروع ہو چکا، آخری محاذ بھی عمران خان کے نام ہوگا، گلگت بلتستان الیکشن پر شفیع جان کا دعویٰ غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری، پی پی 3، آزاد امیدوار ایک نشست پر کامیاب ،نون لیگ ،اسلامی تحریک پاکستان...
حکومتی وفد اور پیپلزپارٹی میں بجٹ سے ہنگامی اجلاس ، ڈیڈ لاک ختم کرنیکیلئے دونوں اطراف سے کوشش جاری ،پیپلزپارٹی کو صوبوں سے اضافی سبسڈیز اور ترقیاتی بجٹ سے متعلق تحفظات ہیں کے فور منصوبہ، ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز نہ ملنا، سکھر کراچی موٹر ویز کا منصوبہ ڈیڈ لاک کی وجوہات ہیں،حکومت ...
گلگت، بلتستان کے عوام نے بھاری اکثریت کے ساتھ میڈنٹ دلوایا تو جیالا وزیراعلیٰ آنے کے بعد عوام کو زمین کا مالک بنادیں گے، پہلے مرحلے میں 28 ہزار مربع میل کا مالک بنوائیں گے پی ٹی آئی والے کے پی میں کام نہیں کرتے، وہ کہتے ہیں ہمیں قیدی نمبر 420 کو چھڑوانا ہے، پنجاب والے گلگت بلت...
یکم جولائی سے اسٹیشنری آئٹمز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہونے سے کاپیاں، رجسٹر، قلم، پینسل سمیت تعلیمی سامان مہنگا ہونے کا امکان،آئی ایم ایف کی اسٹیشنری پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کی منظوری سیلز ٹیکس بڑھنے سے تعلیمی اور دفتری اخراجات میں اضافے کا خدشہ،حکومت بجٹ کا ٹیکس استثنا محدود کر...
ملک بھرمیں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ، کراچی کے شہری مہنگا ترین آٹا خریدنے پر مجبورہیں حیدرآباد 2600 ،پشاور 2750 ، اسلام آباد 2733، راولپنڈی میں 2707روپے تک پہنچ گئی ملک میں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے اور 20کلو آٹے کے تھیلے کی زیادہ سے زیادہ قیمت 2800 روپے تک پہنچ...
اسٹریٹجک ذخائر کو مضبوط بنایا جائے اور عوام کو مناسب قیمت پر آٹے کی فراہمی یقینی بنائی جائے،وزیراعلیٰ سندھ اس سال گندم خریداری کا ہدف 10لاکھ میٹرک ٹن تھا مگر محکمہ خوراک ایک لاکھ ٹن بھی نہیں خرید سکا، اجلاس میںبریفنگ وزیراعلی سندھ نے گندم کی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی کو...
سیلاب، خشک سالی اور گلیشیٔرز کا تیزی سے پگھلنا موسمیاتی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں پاکستان ماحول کے تحفظ کیلئے عالمی برادری کے ساتھ کھڑا ہے،عالمی یومِ ماحولیات پر پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان م...
جو لوگ اپنے ذاتی حلقے ہار گئے، وہ گلگت بلتستان میں ووٹ مانگنے وہاں پہنچ چکے ہیں، موجودہ حکمرانوں کی کی کارکردگی صرف یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو روکو تاکہ یہ الیکشن نہ جیت سکیں، بیرسٹر گوہر گلگت بلتستان کے انتخابی دنگل میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے ، عوام اب ان کے کسی بھی دھوکے...