... loading ...
دنیا میں کروڑوں انسان دماغی، ذہنی، اعصابی، اور نفسیاتی امراض کا شکار ہیں۔ غربت کی شرح میں کمی اور ہمہ جہت ترقی کے دعووں کے باوجود ایسے افراد کی تعداد میں روز افزوں ہوتا اضافہ اس حد تک پریشان کن بن چکا ہے کہ ہر سال ان امراض کی روک تھام کا شعور پیدا کرنے کے لئے ذہنی بیماریوں کے موضوع پر عالمی دن منایا جاتا ہے۔ دنیا کی بہت بڑی آبادی کسی نہ کسی ذہنی مرض میں مبتلا ہے، جن میں بڑی تعداد اضمحلال وافسردگی (ڈپریشن)، نسیان (الزائمر)، فتورِ دماغ اور مرگی کے مریضوں کی ہے، جب کہ شیزو فرینیا (پراگندہ ذہنی)جیسے ذہنی مرض میں گرفتار افراد کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے۔ پاکستان میں ان مریضوں کے درست اعدادو شمار نہیں ہیں، کیوں کہ ایسے افراد کا سروے اس صورت میں ممکن ہے، جب وہ خود، ان کے گھر والے یاعزیز واقارب خصوصی ماہرین و معالجین یا مراکز سے رابطہ کریں، تاہم پاکستان کے نفسیاتی معالجین متفق ہیں کہ ملک میں ایسے مریضوں کی تعداد مغربی ممالک میں موجود مریضوں کے برابر پہنچ چکی ہے۔ شہروں کے علاوہ پاکستان کے دیہات میں بھی تشدد کی برھتی ہوئی وارداتوں کے باعث ذہنی مریضوں کی کثیر تعداد اس کا ثبوت ہے۔ کراچی جیسے بڑے شہروں میں درپیش معاشی، سماجی اور اخلاقی مسائل اور ان سے پیدا شدہ مشکلات کی وجہ سے ایسے افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ نوجوان نسل کی جرائم کی طرف رغبت اور غیر ممالک ہجرت کرنے کے شوق نے ان کے بوڑھے ماں باپ کو شدید ذہنی کرب میں مبتلا کررکھا ہے۔ بڑھتی ہوئی ہوش رُبا مہنگائی، بے روزگاری، قتل وغارت گری، لوٹ مار، خودکشی ، غیر معیاری تعلیم، قابلیت وصلاحیت کی پامالی ، عصمت دری،ہم جنس پرستی، اخلاقی ومذہبی اقدار کی روز افزوں پامالی ، غیر مساویانہ سلوک، عصبیت پرستی، انصاف کی عدم فراہمی، رشوت خوری، شراب نوشی اور ان مسائل کے ضمن میں صحیح قیادت کے فقدان نے نوجوان نسل کو ذہنی امراض میں مبتلا کردیا ہے۔جدید طرز کی بُودوباش ، پُر تعیش زندگی کی جھوٹی جھکا چوند اور ” جو بڑھ کر اٹھالے ہاتھ میں مینا اُسی ہے“ کے اندرز فکر وعمل نے نئی نسل کے ذہن وضمیر کو پراگندا کردیا ہے۔ برطانوی دور (1912ء) میں ذہنی امراض کے ضمن میں پہلی مرتبہ قانون نافذ کیا گیا تھا۔ طویل ترین عرصے میں مذکورہ مسائل پچیدہ ترین ہوتے چلے گئے، لیکن پاکستان میں ان سے نمٹنے کے لئے اسی محدود اور ناکافی قانون کا بدستور سہارا لیا جارہا ہے۔ 1962ء سے اس کی جگہ ایک جدید قانون کے نفاذ کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے، لیکن موجودہ بانجھ نظام اس میں بہت بڑی رکاٹ ہے۔ ان نظام کا خاتمہ کیسے ہوگا اور کون کرے گا؟ثناخوان تقدیسِ مشرق کہاں ہیں؟ دیہی علاقوں میں ذہنی ونفسیاتی مریض مست وملنگ قرار دے کر کسی مزار ودرگاہ یا پھر کسی عامل کے رحم وکرم پر چھوڑ دیے جاتے ہیں۔ اس کا ایک اہم سبب شعور کے فقدان کے علاوہ ملک میں قابل ماہرینِ نفسیات کی کمی بھی ہے۔ پورے ملک میں ذہنی امراض کے اسپتالوں کی تعداد بھی بہت کم ہے ۔ معاشرے میں ہرروز انسان اور اس کے حقوق کی پامالی کی جارہی ہے۔ اس معاشرے میں تہذیب وشعور کون پیدا کرے گا؟ کیا یہ ذمے داری سرکاری اداروں کی ہے یا سماجی تنظیموں کی؟ یا اساتذہ اس کے ذمے دار ہیں؟ آخر کون ہے، جو اس ذمے داری کو قبول کرے؟ تھوڑی دیر کے لئے تمام مسائل سے صرف نظر کرتے ہوئے صرف صحت کے مسئلے کو ہی لے لیجئے۔ اچھی صحت کس طرح حاصل ہوگی؟ اچھی صحت کے لئے کون سے عوامل ضروری ہیں؟ اچھی صحت کی معاشرے میں کیا اہمیت ہے؟ کیا اچھی صحت کے لئے خالص غذائیں کھانی چاہییں؟ لیکن اس معاشرے میں کون سے غذاخالص ہے اور کہاں ملتی ہے؟ ہر ترقی یافتہ ملک میں عوام کی صحت ، جان ومال کی حفاظت کی جاتی ہے اور اچھی صحت کا مطلب ہے اچھی ذہنی صحت، لیکن کیا ہم ذہنی طور پر صحت مند ہیں؟ اس سوال کا جواب شاید کسی کے پاس نہ ہو۔
امریکی بحریہ میرے حکم پر عمل میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ نہ دکھائے، امریکاکی اجازت کے بغیر کوئی جہاز آسکتا ہے نہ جاسکتا ہے، ایران کے معاہدہ کرنے تک آبنائے ہرمز مکمل بند،سخت ناکابندی جاری رہے گی کارروائیاں 3 گنا بڑھانے کا حکم، اس معاملے میں کوئی تاخیر یا نرمی برداشت نہیں کی جائے گی،...
ایشیائی ترقیاتی بینک کی مشاورت کے ساتھ ہی ہم نے یہ قدم اٹھایا،شرجیل میمن حکومت اس کوریڈور کو جلد از جلد مکمل کرنا چاہتی ہے،سینئروزیرکی خصوصی گفتگو سندھ کے سینئروزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ 48 گھنٹے میں ریڈلائن منصوبے پر کام دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔خصوصی گفتگو کرتے ...
ملائشیا سے بھتا گینگ آپریٹ کرنیوالے 3سرغنوں کیخلاف ریڈ وارنٹ جاری ہوچکے ہیں کراچی میں اسٹریٹ کرائم پر مجموعی طور پر قابو پا لیا گیا ہے،صنعت کاروں سے خطاب آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا ہے کہ ایران میں موجود صمد کاٹھیاواڑی سمیت ملائشیا سے بھتہ گینگ آپریٹ کرنے والے 3سرغنوں...
چیف آف ڈیفنس فورسزمذاکرات کو ٹوٹنے سے بچانے اور رابطہ کاری کی کوشش کر رہے ہیں، فنانشل ٹائمز دونوں ممالک میں اعتماد کی کمی، پابندیوں ،فوجی کشیدگی کے باعث امن مذاکرات مشکل صورتحال کا شکار ہیں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا ایران مذاکرات کو مکمل طور پر ٹوٹنے سے...
بلاول کی سیاست محض دعوؤں تک محدود ہے، ریڈ لائن منصوبہ عالمی سطح پر مذاق بن چکا ہے پاکستانی سفارتی کوششیں قابل ستائش،آبنائے ہرمز کا گھیراؤ ختم کیے بغیر معاہدہ ممکن نہیں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ایران و امریکہ مذاکرات کے حوالے سے ایران کے مؤقف...
اسرائیلی فوج کیجنوبی لبنان کے قصبے ال خیام سمیت مختلف علاقوں میں منظم بمباری توپ خانے کا استعمال، رہائشی عمارتیںبلڈوزر کے ذریعے مسمار ، مساجد کو بھی نشانہ بنایا صیہونی فوج کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، جنوبی لبنان پر حملہ کرکے صحافی سمیت 5 افراد کو موت کی وادی ...
ناکہ بندی جاری رکھی جائے اور ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار رہے،جنگ بندی کو اس وقت تک بڑھایا جا رہا ہے جب تک ایران اپنی تجاویز پیش نہیں کر دیتا،فوج کو ہدایت اسلام آباد میں ایران کے ساتھ مذاکرات اگلے تین روز میں کسی بھی وقت شروع ہوسکتے ہیں،امریکی صدر نے ٹیکسٹ پیغام میں جواب...
غیر تسلی بخش کارکردگی اور عالمی معیار کی خلاف ورزی پر کنٹریکٹرز کا معاہدہ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا کارروائی شہریوں کو درپیش شدید مشکلات اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے تحفظات کے بعد عمل میں لائی گئی سندھ حکومت نے بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیر کا ٹھیکہ منسوخ کر دیا اور کہا حکومت ا...
فروخت میں ملوث ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پیجز کیخلاف کریک ڈاؤن جنسی صحت، وزن میں کمی، ذہنی امراض ادویات کی آن لائن فروخت غیر قانونی قرار پی ٹی اے نے آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے ادویات کی آن لائن تشہیر اور غیر قانونی فروخت کرنے والوں کے خلاف ایکشن لے لیا۔غیر رجسٹرڈ ادویات ک...
جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی قرار، حکومت کی سخت الفاظ میں مذمت شہری دریائے لیطانی، وادی السلوقی اور السلھانی کے علاقوں سے دور رہیں لبنان کے جنوبی علاقے میں ایک چلتی ہوئی کار پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق ہوگئے جسے حکومت نے جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے...
امریکی افواج بے تاب ، گن لوڈڈ ہیں،حکم ملتے ہی ایران پر حملہ کردیں گی، مجھے یقین ہے ایران کے پاس معاہدہ کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا ،ہمارے پاس بہت زیادہ اسلحہ اور وسائل موجود ہیں پوری امید ہے ایران کے ساتھ جنگ ایک عظیم ڈیل پر ختم ہوگی،2 ہفتوں کی جنگ بندی کو اپنی تیاری بڑھانے ...
ثالثی کی کوششوںسے حکمرانوں کو ملنے والا عروج عارضی ہے، موجودہ حالات عالمی جنگ کا باعث بن سکتے ہیں، اگر یہ صورتحال جاری رہی تو دوسری بڑی طاقتیں جنگ کا حصہ بن جائیں گی خلیجی ممالک کو سمجھنا ہوگا امریکی اڈے اُن کے لیے نقصان کا باعث ہیں، مدارس کی رجسٹریشن ہو رہی ہے ا ور نہ ہی اکاؤن...