... loading ...
پاکستان اس وقت گوناگوں مسائل کا شکار ہے، کہیں ڈینگی نے قیامت برپا کررکھی ہے تو کہیں دست وقے کی بیماریوں نے لوگوں کوہلکان کررکھا ہے، دل کی بیماریوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ،ذیابیطس کامرض ہمارے ملک میں ایک وبا کی شکل اختیار کرچکاہے، 40سے زیادہ عمر کے افراد کی بڑی تعداد گھٹنوں کے درد کی شکایت کرتا اورمسجد میں کھڑے ہوکر نماز ادا کرنے کے بجائے کرسی پر بیٹھ کر یہ فریضہ ادا کرتی نظر آتی ہے۔غرض جس طرف نظر ڈالیں ہر طرف ایک افراتفری اور پریشانی کاعالم نظر آتا ہے۔ چند دہائیاں قبل تک معمولی سی تنخواہ پر مطمئن زندگی گزارنے والے اب بھاری تنخواہیں وصول کرنے کے باوجود پریشان اور گھریلو اخراجات پورے کرنے میں ناکام نظر آنے لگے ہیں ،جو اس بات کاواضح ثبوت ہے کہ ہماری روزی سے برکت اٹھتی جارہی ہے،لیکن آج کوئی بھی یہاں تک کہ ہمارے علمائے کرام بھی پوری پاکستانی قوم پر چھائی ہوئی اس نحوست اور مصائب وآلائم کا سبب تلاش کرنے اور قوم کو اس سے آگاہ کرنے کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے نظر نہیں آتے۔آج اس مضمون کا محرک سپریم کورٹ کے ایک محترم جسٹس دوست محمد خان کے وہ ریمارکس ہیں جو انھوں نے گزشتہ دنوں لڑائی جھگڑے کے ایک کیس کی سماعت کے دوران میں دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم ہر چیز میں اسلامائزیشن کو شامل کرنے کے شوقین ہیں لیکن اصل معاملات زندگی میں اسلامائزیشن نہیں لائی جاتی۔ تعزیرات پاکستان میں ترامیم کر کے بیڑا غرق کر دیا گیا ہے، ملک میں قانونی کام بھی غیر قانونی طریقے سے کیے جاتے ہیں ، حلف پر جھوٹ بولے جاتے ہیں جس کی وجہ سے ڈینگی، دھماکوں اور دہشت گردی کی صورت میں عذاب کا سامنا ہے۔
جسٹس دوست محمد خان نے اپنے ریمارکس میں ہماری معاشرتی صورتحال کی بالکل صحیح عکاسی کی ہے اورہمارے علما ئے کرام اور مذہبی جماعتوں کو ان کے ان ریمارکس کو آگے بڑھاتے ہوئے اس ملک کے عوام کو بتانا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی کا پوری قوم کو کس طرح خمیازہ بھگتنا پڑ رہاہے ۔اس امرمیں کوئی شک نہیں ہے کہ ہم قومی سطح پر اسلامائزیشن کی بات پورے شدومد کے ساتھ کرتے ہیں لیکن معاشرتی ماحول میں اسلامی احکام و قوانین پر عمل کی طرف توجہ نہیں دی جاتی اور نہ ہی اسلامائزیشن کے معاشرتی تقاضوں کو کوئی اہمیت دی جاتی ہے، جبکہ ریاستی ادارے اور قومی طبقات اس حوالے سے ہم آہنگ ہونے کی بجائے باہمی محاذ آرائی کا منظر پیش کر رہے ہیں ، مثلاپارلیمنٹ نے بہت سے اسلامی قوانین کو ملک میں نافذ کر رکھا ہے مگر عدالتی نظام میں ان پر عملدرآمد کیلئے مناسب ماحول مہیا نہیں کیا جا رہا۔
حکومت ملک کے تعلیمی نظام اسلامی قوانین کی تعلیم اور ان کے عملی نفاذ کے لیے تربیت یافتہ عملہ اور جج صاحبان کی فراہمی سے مسلسل گریزاں ہے۔ میڈیا کے کم و بیش تمام ذرائع ملک میں اسلامی احکام و قوانین کی پاسداری اور عملداری میں تعاون کرنے کی بجائے معاشرتی ماحول کو اسلامی تعلیمات اور احکام سے دور کرنے میں مصروف ہیں ۔ علما ئے کرام اور دینی حلقے عوام کو اسلامائزیشن کے تقاضوں ، شرعی احکام اور اسلامی اخلاقیات و اقدار کی تعلیم و تربیت دینے میں اپنا کردار موثر طور پر ادا نہیں کر پا رہے۔ بین الاقوامی سیکولر ادارے اور ملک میں کام کرنے والی این جی اوز کی غالب اکثریت عوام کو اسلامی معاشرت اور اقدار و روایات سے دور کرنے کے لیے منظم مہم جاری رکھے ہوئے ہے۔ انٹرنیٹ کے ذریعے خلاف اسلام عقائد و نظریات نئی نسل میں سرایت کررہے ہیں اور اس طرح خاموش ارتداد کا ذریعہ بن رہے ہیں جبکہ ہمارے دینی حلقے سماجی بنیادوں پر ان کے سدباب کے بجائے روایتی طریقوں پر انحصار کر رہے ہیں جو کہ آج کی نسل کے لیے اجنبی ہیں ۔
ہم آزادی کے 70 سال گزر جانے کے بعد بھی ہندو ثقافت کے لوازمات سے نجات حاصل نہیں کر سکے ہیں جبکہ مغربی ثقافت کی یلغار بھی عروج پر ہے جو ہمارے خیال میں پاکستان میں عوامی سطح پر نفاذ اسلام کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامائزیشن کی خواہش اور کوشش کسی خلائی جہاز کی طرح گزشتہ 70 برس سے خلا میں ہی چکر کاٹ رہی ہے اور اسے معاشرتی ماحول میں اترنے کی کوئی جگہ میسر نہیں آرہی۔ جسٹس دوست محمد خان نے یہ بات درست فرمائی ہے کہ ہماری دوعملی اور بدعملی کی وجہ سے ڈینگی، دہشت گردی اور دھماکوں جیسے عذاب ہم پر مسلط ہیں کیونکہ کوئی مصیبت اور عذاب بھی بلاوجہ نہیں ہوتا۔ اللہ تعالی نے سور ۃالشوری آیت 30 میں واضح طور پر فرمایا ہے کہ تم پر جو مصیبت بھی آتی ہے وہ تمہارے ہاتھوں کی کمائی یعنی تمہارے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہے۔ شخصی یا اجتماعی طور پر آنے والی کسی بھی مصیبت کا سبب ہم خود ہوتے ہیں ، یہ اسباب ظاہری بھی ہوتے ہیں اور باطنی بھی۔ جیسا کہ ظاہری طور پر دیکھا جائے کہ آج ہمیں امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکیوں کا سامنا ہے تو اس کا سبب وہ خارجہ پالیسی ہے جو ہم نے قیام پاکستان کے بعد سے مسلسل اختیار کر رکھی ہے۔ امریکا کی ہر خواہش کے سامنے سر جھکانے اور روس کے خلاف سرد جنگ میں بے پناہ قربانیوں کے ذریعے امریکا کو کامیابی دلوانے کے باوجود آج اس کے سامنے مجرم کی طرح کھڑے ہیں ، اور امریکا روایتی جاگیرداروں کی طرح ہم سے مزید قربانیوں کا تقاضا بھی کر رہا ہے اور ساتھ ہی دھمکیاں بھی دیے جا رہا ہے۔ یہ صرف ایک مثال ہے ورنہ سیاسی، معاشرتی، تہذیبی اور قانونی دنیا میں ہمارے جتنے بھی موجودہ مصائب ہیں ان کی پشت پر خود ہماری اسی طرح کی پالیسیاں کارفرما ہیں ۔ جبکہ قومی مصائب کے کچھ باطنی اسباب بھی ہوتے ہیں جس کا ذکر قرآن کریم میں اللہ تعالی نے فرعون کے تکبر اور اس کی قوم کی مسلسل نافرمانیوں کی وجہ سے لوگوں پر جو عذاب نازل فرمائے، قرآن کریم کی سور الاعراف آیت 133 میں ان میں سے بعض کا ذکر کیا گیا ہے کہ طوفان، ٹڈی، جوئیں ، مینڈک اور خون کی صورت میں ان پر عذاب نازل کیا گیا۔ جبکہ بائبل کی کتاب خروج میں ان عذابوں کا تذکرہ اس طرح کیا گیا ہے کہ دریاؤں کا پانی خون کی شکل اختیار کر لے گا، ہر طرف مینڈک ہی مینڈک گھومتے پھریں گے، ٹڈی دل کے لشکر فصلوں کو تباہ کر دیں گے، اور مچھروں کی یلغار سے لوگ پریشان ہو جائیں گے، وغیرہ۔ جسٹس دوست محمد خان نے ڈینگی کو خدا کا عذاب کہا ہے اور یہ بات درست ہے۔
اس پس منظر میں ہمیں بحیثیت قوم اپنی موجودہ صورتحال اور قومی مصائب و آلام کا ان کے اسباب کے حوالے سے جائزہ لینا ہوگا جو ظاہری بھی ہیں اور باطنی بھی۔قوم کے ہر طبقہ کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے کردار کا جائزہ لے کہ ہماری کون سی حرکتوں اور بداعمالیوں کے نتیجے میں پوری قوم کو اس عذاب کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس حوالے سے حضرت عبد اللہ بن عباس کا ایک ارشاد گرامی یاد رکھنے کا ہے کہ جس قوم میں کرپشن عام ہو جائے اللہ تعالیٰ اس کے دلوں پر دشمن کا رعب طاری کر دیتا ہے، جس قوم میں زنا پھیل جائے اس میں موت کی کثرت ہو جاتی ہے، جس قوم میں ناپ تول میں کمی کا رجحان بڑھ جائے اللہ تعالی اس کے رزق سے برکت اٹھا لیتے ہیں ، جس قوم میں ناحق فیصلے ہونے لگیں اس میں باہمی خونریزی بڑھ جاتی ہے اور جو قوم عہد شکنی اختیار کر لے اس پر دشمن کو مسلط کر دیا جاتا ہے۔لیکن کیا عدالت عظمیٰ کے ایک معزز جج کی نشاندہی پر ہم اپنے مصائب کے باطنی اسباب کا جائزہ لینے کو تیار بھی ہوں گے؟ یہ وہ سوال ہے ہمارے حکمرانوں کو جس کاجواب تلاش کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اس کے ساتھ ہی ہمارے ملک کی مذہبی جماعتوں پر بھی یہ فرض عاید ہوتاہے کہ وہ اس حوالے سے قوم میں شعور وآگہی بیدار کرنے پر توجہ دیں ،اورمحض سیاسی فوائد کے لیے کرپشن میں ملوث سیاستدانوں کی چاپلوسی کرنے کے بجائے ان کے اصل چہرے عوام کے سامنے بے نقاب کریں تاکہ عوام میں اپنے ووٹ صحیح طورپر استعمال کرنے کاشعور آسکے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...
سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...
روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...
سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...
20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...
ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...
اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...
مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...
رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...
حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...
احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...
شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...