وجود

... loading ...

وجود

بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی لوٹ مار‘صارفین سے 120 روپے زیادہ وصول کرلیے گئے

پیر 28 اگست 2017 بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی لوٹ مار‘صارفین سے 120 روپے زیادہ وصول کرلیے گئے

حکومت کے زیر انتظام چلنے والی بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے صارفین سے لوٹ مار شروع کردی ہے ، اطلاعات کے مطابق صارفین سے ہر ماہ فیول چارجز کی مد میں ایڈوانس بلنگ کے نام پر دگنی رقم وصول کی جاتی ہے اور اس کے بعد ریگولیٹرز نیپرا کے حکم پران کو اس میں سے صرف نصف رقم واپس کی جاتی ہے۔اس طرح ایک اندازے کے مطابق یہ کمپنیاں بجلی کے صارفین سے ہر سال 120 ارب روپے زیادہ وصول کررہی ہیں ۔اس بات کاانکشاف گزشتہ روز بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے بلز کے حوالے سے ایک عام سماعت کے دوران ہوا، جب نیشنل الیکٹرک پاورریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو صارفین سے جولائی کے مہینے کے دوران زیادہ بلنگ کے ذریعہ وصول کردہ رقم صارفین کو 1.71 روپے فی یونٹ کی شرح سے مجموعی طورپر 20 ارب روپے واپس کرنے کاحکم دیا۔نیپرا کے حکم کے مطابق یہ رقم صارفین کے اگلے مہینے کے بل میں ایڈجسٹ کرلی جائے گی۔
معاملے کی سماعت مکمل کرتے ہوئے نیپرا کے چیئرمین سیف اللہ چٹھہ نے جب سینٹرل پاؤر پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) اور نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) سے سوال کیا کہ چھوٹے صارفین کو مدنظر رکھتے ہوئے جنھیں حکومت کی پالیسی کے مطابق فیول کی لاگت کے اعتبار سے ریلیف نہیں دیاجاتاکتنی رقم ادا کرناہوگی تو سی پی پی اے اوراین ٹی ڈی سی کے سربراہان محمد ریحان اور محمد الیاس نے بتایا کہ اس کاا نحصار اس بات پر ہوگا کہ صارفین کتنے عرصے سے بجلی استعمال کررہے ہیں اور ماہ بہ ماہ اس میں کمی بیشی بھی ہوگی۔نیپرا کے ایک افسر نے بتایا کہ صارفین سے جتنی زیادہ رقم وصول کی جاتی ہے اس کے مقابلے میں ان کو نصف رقم واپس کی جاتی ہے،انھوں نے بتایا کہ تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے بجلی کمپنیوں کومجموعی طورپر 17.6 ارب روپے کی بچت ہوئی جبکہ گیس کی فراہمی بہتر ہونے کی وجہ سے بھی بجلی تیار کرنے والی کمپنیوں کو اندازے سے2.3 ارب روپے زیادہ کی بچت ہوئی۔ایک اور افسر نے بتایا کہ بجلی استعمال کرنے والے.70 67 فیصد سے زیادہ صارفین 300 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والوں کے زمرے میں آتے ہیں ۔ عام طورپر بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں صارفین سے فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کی مد میں زیادہ رقم وصول کرتی ہیں ۔جبکہ اگلے ماہ یہ زیادہ رقم نیپرا کی منظوری سے بل میں ایڈجسٹ کردی جاتی ہے اس طرح بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں صارفین سے اربوں روپے ایڈوانس وصول کرلیتی ہیں جس سے ان کی کیش کی ضروریات پوری ہوتی ہیں اور اس پر انھیں صارفین کوکوئی مارک اپ یا منافع ادا نہیں کرناہوتا۔
یہ بھی بتایا گیا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے 300 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے غریب گھریلو صارفین اور زرعی مقاصد کے لیے بجلی استعمال کرنے والوں کو بجلی کی نرخ میں رعایت نہ دینے کی پالیسی اختیار کی ہے اور اس حوالے سے منطق یہ بتائی جاتی ہے کہ کم بجلی استعمال کرنے والوں کو پہلے ہی رعایتی قیمت پر بجلی فراہم کی جاتی ہے اس لیے وہ مزید کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں ۔
جہاں تک ملک میں بجلی کی تیاری کاتعلق ہے تو ایک اندازے کے مطابق ہمارے ملک میں تیار ہونے والی بجلی کا 41 فیصد حصہ پن بجلی سے حاصل ہونا چاہئے جبکہ34 فیصد حصہ فرنس آئل کے استعمال کے ذریعے حاصل کیاجاناچاہئے لیکن ایک اندازے کے مطا بق پن بجلی کے ذریعے اس وقت ہماری ضرورت کی صرف 30 فیصد اور فرنس آئل کے ذریعے 26 فیصد بجلی پیداکی جاتی ہے۔جبکہ بجلی کی بقیہ ضرورت ایٹمی بجلی گھروں اورکوئلے اور گیس سے تیار کی جانے والی بجلی سے پوری کی جاتی ہے۔
سی پی پی اے کے مطابق نیپرا نے جولائی کے مہینے میں صارفین سے 6.49 روپے فی یونٹ کی شرح سے وصولی کی منظوری دی تھی لیکن بجلی کی تیاری پر فیول کاخرچ صرف 4.78 روپے فی یونٹ رہا اس طرح صارفین سے اضافی وصول کی جانے والی 1.71 فی یونٹ کی شرح سے رقم ان کو واپس کی جانی ہے۔
ایک اندازے کے مطابق جولائی کے دوران بجلی تیار کرنے والی کمپنیوں نے مجموعی طورپر 12.267 گیگاواٹ بجلی تیار کی اور اس میں 1.73 فیصد بجلی لائن لاسز کی مد میں ضائع ہوگئی جس کی وجہ سے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کومجموعی طورپر11.496 گیگاواٹ بجلی فراہم کی جاسکی،اطلاعات کے مطابق جولائی کے دوران بجلی30.8فیصد پن بجلی حاصل کی گئی جوکہ بجلی تیار کرنے کا ارزاں ترین ذریعہ ہے ۔ جولائی کے دوران پن بجلی کی پیداوار جون کے مقابلے میں 0.3 فیصد زیادہ رہی،پانی کے ذریعے حاصل کی جانے والی بجلی کی تیاری پر کوئی خرچ نہیں آتااسی طرح ہوا اور شمسی توانائی کے ذریعے حاصل ہونے والی بجلی بھی بالکل مفت ہوتی ہے۔ان ذرائع سے مجموعی طورپر ملکی ضرورت کی 2.3 فیصد بجلی حاصل کی گئی اس طرح بجلی کی تیار ی پر آنے والے اخراجات میں مجموعی اعتبار سے نمایاں کمی آئی تاہم گزشتہ ماہ کے دوران بجلی کی طلب زیادہ ہونے کی وجہ سے فرنس آئل کے ذریعے مجموعی طورپر 22.34 فیصد کے بجائے 25.6 فیصد بجلی حاصل کی گئی لیکن تیل کی قیمتوں میں کی کی وجہ سے فرنس آئل کے ذریعے پیداکی جانے والی بجلی کی لاگت بھی 9.5 روپے فی یونٹ سے کم ہوکر 9.36 روپے یونٹ رہ گئی جبکہ جولائی کے دوران گیس کے ذریعہ ملک کی مجموعی ضرورت کی 17.17 فیصد بجلی گیس سے تیار کی گئی جس کی لاگت 4.36 روپے فی یونٹ ہوتی ہے۔ایل این جی سے 12.12 فیصد بجلی تیار کی گئی جس کی لاگت7.52 روپے فی یونٹ ہے۔جولائی کے دوران کوئلے کے ذریعے مجموعی طورپر 2.95 فیصد بجلی حاصل کی گئی جس کی لاگت4.3 روپے فی یونٹ بنتی ہے۔ملک میں تیار ہونے والی سب سے مہنگی بجلی ہائی اسپیڈ ڈیزل سے تیار ہونے والی بجلی جس کی لاگت 14.4 روپے فی یونٹ ہے ، تاہم اب کوشش کی جارہی ہے کہ ہوا اور شمسی توانائی کے ذریعے بجلی کی پیداوار میں اضافہ کیاجائے جبکہ پانی جمع کرنے کے نئے ذخائر کی تعمیرکی صورت میں پن بجلی کی شرح میں بھی اضافہ ہوگا جس سے بجلی تیار کرنے کی لاگت میں کمی ہوگی لیکن اب دیکھنایہ ہے کہ حکومت اس کے کتنے فوائد عام صارف تک منتقل کرنے پرتیار ہوتی ہے۔


متعلقہ خبریں


حکومت بجٹ کو چھپانے لگی،ٹیکس رعایتوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے سے انکار وجود - بدھ 17 جون 2026

حکومت کی جانب سے بجٹ کے حوالے سے آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کی کوششیں ، دونوں فریقین میںمذاکرات کا جاری ، ممکنہ خسارے کے ازالے کیلئے متبادل ریونیو اقدامات پر مشاورت حکومت کا فنانس بل میں شامل مختلف ٹیکس رعایتوں کی مکمل تفصیلات جاری کرنے سے گریز، تنخواہ دار طبقے کو دیے گئے ٹیکس ر...

حکومت بجٹ کو چھپانے لگی،ٹیکس رعایتوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے سے انکار

عمران خان سے ملاقات تک خیبر پختونخوا کا حتمی بجٹ ملتوی، صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپرمنظور ہوگا وجود - بدھ 17 جون 2026

میری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے بات ہوگئی ہے،صوبائی حکومت صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپر پاس کرے گی، آئین کا آرٹیکل 125 اجازت دیتا ہے، آپ 3 ماہ کا بجٹ پیپر پیش کرسکتے ہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک حتمی بجٹ پیش نہیں ہوگا،30 جون تک بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو خیبر پختونخوا...

عمران خان سے ملاقات تک خیبر پختونخوا کا حتمی بجٹ ملتوی، صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپرمنظور ہوگا

منشیات کیس ،پنکی کیخلاف بڑے نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشافات وجود - بدھ 17 جون 2026

ملزمہ سادہ کوکین 20ہزار فی گرام جبکہ گولڈن اسٹف40ہزار فی گرام فروخت کرتی تھی مقدمے میں نامزد پانچ ملزمان مفرور قرار ،پولیس نے گرفتاری کیلئے کارروائیاں تیز کر دی کراچی میں منشیات فروشی کے مبینہ بڑے نیٹ ورک کی مرکزی ملزمہ انمول عرف پنکی اور دیگر کے خلاف منشیات کے مقدمے کا عبوری...

منشیات کیس ،پنکی کیخلاف بڑے نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشافات

کراچی میں پنکی کے بعد ایک اور منشیات گینگ بے نقاب وجود - بدھ 17 جون 2026

منشیات کی ترسیل کے لیے انڈوں کے خول استعمال کیے جاتے تھے،ملزم شاہ فہد سہراب گوٹھ سے مختلف رائیڈرز کے ذریعے مختلف علاقوں میں سپلائی کیا جاتا تھا کراچی سائوتھ زون پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے منشیات سپلائی کرنے والے ایک اور مبینہ منظم نیٹ ورک کا سراغ لگانے کا دعوی کیا ہے۔ گرفتار...

کراچی میں پنکی کے بعد ایک اور منشیات گینگ بے نقاب

سندھ حکومت کا مزید ڈبل ڈیکر اور ای وی بسیں لانے کا اعلان وجود - بدھ 17 جون 2026

رواں سال ڈبل ڈیکر اور جدید الیکٹرک بسوں کی بڑی تعداد کراچی پہنچ جائے گی،شرجیل میمن نئی ڈبل ڈیکر اور ماحول دوست ای وی بسیں مرحلہ وار مختلف روٹس پر چلائی جائیں گی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی کے شہریوں کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کا ا...

سندھ حکومت کا مزید ڈبل ڈیکر اور ای وی بسیں لانے کا اعلان

عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت وجود - منگل 16 جون 2026

ایک شخص کی وجہ سے ملکی تناؤ ہے تو اسے باہر نکالیں، مجھے کہا جاتا ہے آپ تو عمران خان کیخلاف تھے، مخالف جیل میں ہاتھ پاؤں بندھا پڑا ہو تو اس کیخلاف بات نہیں کرتے،سربراہ جے یو آئی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈروں کی تقریروں کو بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے، ہم نے کشمیریوں کی ماؤں بہنوں کی...

عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ وجود - منگل 16 جون 2026

81ہزار ٹن خریداری ہدف سے کم، مقامی مارکیٹ اور پاسکو سے مزید گندم خریدنے کا فیصلہ ہاریوں کو مقررہ امدادی قیمت کی ادائیگی ہر صورت یقینی بنائی جائے،اجلاس میں تفصیلی جائزہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلی ہاؤس میں محکمہ خوراک اور محکمہ زراعت کا مشترکہ اجلاس ...

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ

کراچی کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں ہے،شرجیل میمن وجود - منگل 16 جون 2026

عوام بخوبی جانتے ہیں کہ کس نے اسے بوری بند لاشوں کے تحفے دیے،سینئر صوبائی وزیر کراچی ملک کا معاشی حب اور سندھ کا دارالخلافہ ہے، خالد مقبول کے بیان پر سخت ردعمل سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا خالد مقبول صدیقی کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کراچی کے عوام بخوبی جانتے ہیں ...

کراچی کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں ہے،شرجیل میمن

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان وجود - پیر 15 جون 2026

تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے وجود - پیر 15 جون 2026

پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم وجود - اتوار 14 جون 2026

حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران وجود - اتوار 14 جون 2026

امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران

مضامین
مقبوضہ وادی میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی بھارتی سازش وجود بدھ 17 جون 2026
مقبوضہ وادی میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی بھارتی سازش

علم، اعتدال اور اصلاحِ معاشرہ کا روشن باب وجود بدھ 17 جون 2026
علم، اعتدال اور اصلاحِ معاشرہ کا روشن باب

ایک تقریب ملتوی ہوگئی!! وجود منگل 16 جون 2026
ایک تقریب ملتوی ہوگئی!!

جھوٹ ہمیشہ اعتماد کا قاتل ہوتا ہے! وجود منگل 16 جون 2026
جھوٹ ہمیشہ اعتماد کا قاتل ہوتا ہے!

کب تک ؟ وجود منگل 16 جون 2026
کب تک ؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر