وجود

... loading ...

وجود
منگل 21 اپریل 2026

بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی لوٹ مار‘صارفین سے 120 روپے زیادہ وصول کرلیے گئے

پیر 28 اگست 2017 بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی لوٹ مار‘صارفین سے 120 روپے زیادہ وصول کرلیے گئے

حکومت کے زیر انتظام چلنے والی بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے صارفین سے لوٹ مار شروع کردی ہے ، اطلاعات کے مطابق صارفین سے ہر ماہ فیول چارجز کی مد میں ایڈوانس بلنگ کے نام پر دگنی رقم وصول کی جاتی ہے اور اس کے بعد ریگولیٹرز نیپرا کے حکم پران کو اس میں سے صرف نصف رقم واپس کی جاتی ہے۔اس طرح ایک اندازے کے مطابق یہ کمپنیاں بجلی کے صارفین سے ہر سال 120 ارب روپے زیادہ وصول کررہی ہیں ۔اس بات کاانکشاف گزشتہ روز بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے بلز کے حوالے سے ایک عام سماعت کے دوران ہوا، جب نیشنل الیکٹرک پاورریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو صارفین سے جولائی کے مہینے کے دوران زیادہ بلنگ کے ذریعہ وصول کردہ رقم صارفین کو 1.71 روپے فی یونٹ کی شرح سے مجموعی طورپر 20 ارب روپے واپس کرنے کاحکم دیا۔نیپرا کے حکم کے مطابق یہ رقم صارفین کے اگلے مہینے کے بل میں ایڈجسٹ کرلی جائے گی۔
معاملے کی سماعت مکمل کرتے ہوئے نیپرا کے چیئرمین سیف اللہ چٹھہ نے جب سینٹرل پاؤر پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) اور نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) سے سوال کیا کہ چھوٹے صارفین کو مدنظر رکھتے ہوئے جنھیں حکومت کی پالیسی کے مطابق فیول کی لاگت کے اعتبار سے ریلیف نہیں دیاجاتاکتنی رقم ادا کرناہوگی تو سی پی پی اے اوراین ٹی ڈی سی کے سربراہان محمد ریحان اور محمد الیاس نے بتایا کہ اس کاا نحصار اس بات پر ہوگا کہ صارفین کتنے عرصے سے بجلی استعمال کررہے ہیں اور ماہ بہ ماہ اس میں کمی بیشی بھی ہوگی۔نیپرا کے ایک افسر نے بتایا کہ صارفین سے جتنی زیادہ رقم وصول کی جاتی ہے اس کے مقابلے میں ان کو نصف رقم واپس کی جاتی ہے،انھوں نے بتایا کہ تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے بجلی کمپنیوں کومجموعی طورپر 17.6 ارب روپے کی بچت ہوئی جبکہ گیس کی فراہمی بہتر ہونے کی وجہ سے بھی بجلی تیار کرنے والی کمپنیوں کو اندازے سے2.3 ارب روپے زیادہ کی بچت ہوئی۔ایک اور افسر نے بتایا کہ بجلی استعمال کرنے والے.70 67 فیصد سے زیادہ صارفین 300 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والوں کے زمرے میں آتے ہیں ۔ عام طورپر بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں صارفین سے فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کی مد میں زیادہ رقم وصول کرتی ہیں ۔جبکہ اگلے ماہ یہ زیادہ رقم نیپرا کی منظوری سے بل میں ایڈجسٹ کردی جاتی ہے اس طرح بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں صارفین سے اربوں روپے ایڈوانس وصول کرلیتی ہیں جس سے ان کی کیش کی ضروریات پوری ہوتی ہیں اور اس پر انھیں صارفین کوکوئی مارک اپ یا منافع ادا نہیں کرناہوتا۔
یہ بھی بتایا گیا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے 300 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے غریب گھریلو صارفین اور زرعی مقاصد کے لیے بجلی استعمال کرنے والوں کو بجلی کی نرخ میں رعایت نہ دینے کی پالیسی اختیار کی ہے اور اس حوالے سے منطق یہ بتائی جاتی ہے کہ کم بجلی استعمال کرنے والوں کو پہلے ہی رعایتی قیمت پر بجلی فراہم کی جاتی ہے اس لیے وہ مزید کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں ۔
جہاں تک ملک میں بجلی کی تیاری کاتعلق ہے تو ایک اندازے کے مطابق ہمارے ملک میں تیار ہونے والی بجلی کا 41 فیصد حصہ پن بجلی سے حاصل ہونا چاہئے جبکہ34 فیصد حصہ فرنس آئل کے استعمال کے ذریعے حاصل کیاجاناچاہئے لیکن ایک اندازے کے مطا بق پن بجلی کے ذریعے اس وقت ہماری ضرورت کی صرف 30 فیصد اور فرنس آئل کے ذریعے 26 فیصد بجلی پیداکی جاتی ہے۔جبکہ بجلی کی بقیہ ضرورت ایٹمی بجلی گھروں اورکوئلے اور گیس سے تیار کی جانے والی بجلی سے پوری کی جاتی ہے۔
سی پی پی اے کے مطابق نیپرا نے جولائی کے مہینے میں صارفین سے 6.49 روپے فی یونٹ کی شرح سے وصولی کی منظوری دی تھی لیکن بجلی کی تیاری پر فیول کاخرچ صرف 4.78 روپے فی یونٹ رہا اس طرح صارفین سے اضافی وصول کی جانے والی 1.71 فی یونٹ کی شرح سے رقم ان کو واپس کی جانی ہے۔
ایک اندازے کے مطابق جولائی کے دوران بجلی تیار کرنے والی کمپنیوں نے مجموعی طورپر 12.267 گیگاواٹ بجلی تیار کی اور اس میں 1.73 فیصد بجلی لائن لاسز کی مد میں ضائع ہوگئی جس کی وجہ سے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کومجموعی طورپر11.496 گیگاواٹ بجلی فراہم کی جاسکی،اطلاعات کے مطابق جولائی کے دوران بجلی30.8فیصد پن بجلی حاصل کی گئی جوکہ بجلی تیار کرنے کا ارزاں ترین ذریعہ ہے ۔ جولائی کے دوران پن بجلی کی پیداوار جون کے مقابلے میں 0.3 فیصد زیادہ رہی،پانی کے ذریعے حاصل کی جانے والی بجلی کی تیاری پر کوئی خرچ نہیں آتااسی طرح ہوا اور شمسی توانائی کے ذریعے حاصل ہونے والی بجلی بھی بالکل مفت ہوتی ہے۔ان ذرائع سے مجموعی طورپر ملکی ضرورت کی 2.3 فیصد بجلی حاصل کی گئی اس طرح بجلی کی تیار ی پر آنے والے اخراجات میں مجموعی اعتبار سے نمایاں کمی آئی تاہم گزشتہ ماہ کے دوران بجلی کی طلب زیادہ ہونے کی وجہ سے فرنس آئل کے ذریعے مجموعی طورپر 22.34 فیصد کے بجائے 25.6 فیصد بجلی حاصل کی گئی لیکن تیل کی قیمتوں میں کی کی وجہ سے فرنس آئل کے ذریعے پیداکی جانے والی بجلی کی لاگت بھی 9.5 روپے فی یونٹ سے کم ہوکر 9.36 روپے یونٹ رہ گئی جبکہ جولائی کے دوران گیس کے ذریعہ ملک کی مجموعی ضرورت کی 17.17 فیصد بجلی گیس سے تیار کی گئی جس کی لاگت 4.36 روپے فی یونٹ ہوتی ہے۔ایل این جی سے 12.12 فیصد بجلی تیار کی گئی جس کی لاگت7.52 روپے فی یونٹ ہے۔جولائی کے دوران کوئلے کے ذریعے مجموعی طورپر 2.95 فیصد بجلی حاصل کی گئی جس کی لاگت4.3 روپے فی یونٹ بنتی ہے۔ملک میں تیار ہونے والی سب سے مہنگی بجلی ہائی اسپیڈ ڈیزل سے تیار ہونے والی بجلی جس کی لاگت 14.4 روپے فی یونٹ ہے ، تاہم اب کوشش کی جارہی ہے کہ ہوا اور شمسی توانائی کے ذریعے بجلی کی پیداوار میں اضافہ کیاجائے جبکہ پانی جمع کرنے کے نئے ذخائر کی تعمیرکی صورت میں پن بجلی کی شرح میں بھی اضافہ ہوگا جس سے بجلی تیار کرنے کی لاگت میں کمی ہوگی لیکن اب دیکھنایہ ہے کہ حکومت اس کے کتنے فوائد عام صارف تک منتقل کرنے پرتیار ہوتی ہے۔


متعلقہ خبریں


جنگ بندی مذاکرات ،ایران کا انکار، امریکا تیار، مذاکرات کامیاب ہوئے تو ایرانی قیادت سے ملوں گا،ٹرمپ وجود - منگل 21 اپریل 2026

ڈیڈ لائن سے پہلے ڈیل نہ ہوئی تو تب بھی وہ نہ تو جنگ بندی میں توسیع کریں گے اور نہ ہی ایرانی سمندروں کی ناکہ بندی ختم کریں گے، ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کا منصوبہ ختم کرے،امریکی صدر تہران کا وفد امریکا سے مذاکرات کیلئے اسلام آباد نہیں جا رہا ،صدرٹرمپ سنجیدہ نہیں ، دھمکیوں سے باز ...

جنگ بندی مذاکرات ،ایران کا انکار، امریکا تیار، مذاکرات کامیاب ہوئے تو ایرانی قیادت سے ملوں گا،ٹرمپ

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی امریکا ایرانمذاکرات میں رکاوٹ ہے، فیلڈ مارشل کی ٹرمپ سے گفتگو وجود - منگل 21 اپریل 2026

صورتحال اگر یہی برقرار رہی تو امن کی کوششیں آگے نہیں بڑھ سکیں گی،عاصم منیر کے مشورے پر غور کروں گا( امریکی صدر) دونوں رہنماؤں میں خطے میں جاری کشیدگی پرگفتگو آبنائے ہرمز، عالمی تیل کی ترسیل کاراستہ ، کشیدگی کا مرکز بنی ہوئی ہے،ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کا تسلسل امن...

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی امریکا ایرانمذاکرات میں رکاوٹ ہے، فیلڈ مارشل کی ٹرمپ سے گفتگو

سندھ حکومت کا بڑا فیصلہ،گندم فروخت کی حد ختم، آبادگاروں کو مکمل ریلیف وجود - منگل 21 اپریل 2026

وزیراعلیٰ سندھ نے گندم خریداری مہم تیز کرنے اور آبادگاروں کو فوری ادائیگیاں یقینی بنانے کی ہدایت کردی فی ایکڑ پانچ بوری کی شرط ختم کرنے سے ہاریوں کو بڑا ریلیف ملے گا،مراد علی شاہ کی زیر صدارت اجلاس وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گندم فروخت کی حد ختم کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے گ...

سندھ حکومت کا بڑا فیصلہ،گندم فروخت کی حد ختم، آبادگاروں کو مکمل ریلیف

امریکی دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے، ایران سرنڈر نہیں کریگا،صدر پزشکیان وجود - منگل 21 اپریل 2026

عہد کی پاسداری ہی بامعنی مکالمے کی بنیاد ہے، ایرانی عوام جبر کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے ایران میں امریکا کی حکومتی کارکردگی کے پس منظر میں گہرا تاریخی عدم اعتماد موجود ہے،ایرانی صدر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہاہے کہ امریکہ ایران سے سرنڈر کرانا چاہتا ہے، تاہم ایرانی عوام ک...

امریکی دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے، ایران سرنڈر نہیں کریگا،صدر پزشکیان

فیلڈ مارشل ٹرمپ رابطہ ،ایران امریکا مذاکرات کی تیاریاں، وفود کی آمد شروع وجود - پیر 20 اپریل 2026

مذاکرات کا دوسرا مرحلہ جمعہ سے پہلے متوقع، اسلام آباد کے ہوٹلز کو مہمانوں سے خالی کروانے کا فیصلہ ، کسی نئی بکنگ کی اجازت نہیں، ریڈ زون کی سڑکیں عارضی طور پر بند، ذرائع ایران سے ایک یا دو دن میں معاہدہ طے پانے کا امکان ، میرے نمائندے آج اسلام آباد پہنچ جائیں گے، میں شاید بعد م...

فیلڈ مارشل ٹرمپ رابطہ ،ایران امریکا مذاکرات کی تیاریاں، وفود کی آمد شروع

مصنوعی مینڈیٹ نے ملک کو مفلوج کر دیا، حکومت بیساکھیوں پر کھڑی ہے، مولانا فضل الرحمان وجود - پیر 20 اپریل 2026

پاکستان ہمارا گھر، کسی جاگیردار یا بیوروکریٹس کی ملکیت نہیں، امریکی صدرٹرمپ کی سفارتکاری دیکھیں ایسا لگتا ہے کوئی بدمعاش ہے، الفاظ اور لہجہ مذاکرات والا نہیں،سربراہ جے یو آئی جب تک فارم 47 کی غیرفطری حکمرانی رہے گی، تب تک نہ تو مہنگائی کم ہوگی اور نہ ہی حقیقی استحکام آئے گا، غ...

مصنوعی مینڈیٹ نے ملک کو مفلوج کر دیا، حکومت بیساکھیوں پر کھڑی ہے، مولانا فضل الرحمان

مخصوص دکانوں سے کتابیں ، یونیفارم، اسٹیشنری کی فروخت پر پابندی وجود - پیر 20 اپریل 2026

محکمہ تعلیم سندھ نے مخصوص مونوگرام یا لوگو والی نوٹ بکس خریدنے کی شرط بھی غیر قانونی قرار دیدی اسکول کے اندر کسی قسم کا اسٹال یا دکان لگا کر اشیا بیچنا اب قانونا جرم ہو گا،محکمہ تعلیم کا نوٹیفکیشن جاری نجی اسکولوں میں پڑھنے والے طلبا کے والدین کو بڑا ریلیف مل گیا،اسکول انتظام...

مخصوص دکانوں سے کتابیں ، یونیفارم، اسٹیشنری کی فروخت پر پابندی

ایران، پاکستان کے تعلقات آئندہ مزید مستحکم ہوں گے، ایرانی صدر وجود - پیر 20 اپریل 2026

شہباز شریف سے فون پر گفتگو،وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی امن کوششوں پر اظہار تشکر خوشگوار گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں کا خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال وزیراعظم شہباز شریف کا صدرِ اسلامی جمہوریہ ایران سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آج شام اسلا...

ایران، پاکستان کے تعلقات آئندہ مزید مستحکم ہوں گے، ایرانی صدر

بشریٰ بی بی کی رہائی کیلئے کوششیں شروع ، بیرسٹر گوہر نے عمران خان کی فیملی کو مذاکرات ،لچک کا مظاہرہ کرنے پرقائل کرلیا وجود - هفته 18 اپریل 2026

چیئرمین پی ٹی آئی نے اعتماد سازی کیلئے بانی کی فیملی، کوٹ لکھپت جیل میں اسیر رہنماؤں سے ملاقاتیں شروع کردیں،بانی پی ٹی آئی کی فیملی جیل کے باہر متنازع گفتگو نہ کرنے پر راضی ہوگئی پارٹی بشریٰ بی بی کے ایشو کو لیکر کوئی متنازع پریس کانفرنس نہیں کرے گی، سوشل میڈیا پیغامات جاری ن...

بشریٰ بی بی کی رہائی کیلئے کوششیں شروع ، بیرسٹر گوہر نے عمران خان کی فیملی کو مذاکرات ،لچک کا مظاہرہ کرنے پرقائل کرلیا

امریکی دباؤ نے بھارتی عوام کونئی مصیبت میں دھکیل دیا وجود - هفته 18 اپریل 2026

عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرامریکی دبائو کومودی سرکار نے سرتسلیم خم کرلیا بھارت کی خارجہ پالیسی واشنگٹن کے رحم وکرم پرہے، بھارتی چینلاین ڈی ٹی وی عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرامریکی دباؤ کیسامنے مودی سرکار نے سرتسلیم خم کردیا ہے۔ بھارتی چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق امریکہ ن...

امریکی دباؤ نے بھارتی عوام کونئی مصیبت میں دھکیل دیا

حق دو کراچی کے بینرزچھاپنے والوں کو دھمکیاں وجود - هفته 18 اپریل 2026

سندھ حکومت فسطائیت بند کرے، کراچی والے اپنا حق مانگتے رہیں گے تو کیا کل شہریوں کو یہ نعرہ لگانے پر گرفتار بھی کیا جائے گا، حافظ نعیم الرحمن امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کراچی میں حق دو کراچی کے بینرز چھاپنے پر دکانیں سیل کرنے کی دھمکی دے ...

حق دو کراچی کے بینرزچھاپنے والوں کو دھمکیاں

وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں وجود - هفته 18 اپریل 2026

رجب طیب ایردوان ودیگر سے عالمی سطح اور خطے کی کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال وزیرِ اعظم شہبازشریف نے ترک صدر رجب طیب ایردوان، میر قطر شیخ تمیم بن حمد آلثانی قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف، آذربائیجان کے صدر الہام علیئف، شامی صدر احمد الشرح سے ملاقاتیں کیں۔وزیر اعظم کی قطر ک...

وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں

مضامین
بھارتی فوجی بدترین ذہنی دباؤ کا شکار وجود منگل 21 اپریل 2026
بھارتی فوجی بدترین ذہنی دباؤ کا شکار

انسان ہونا آسان نہیں! وجود منگل 21 اپریل 2026
انسان ہونا آسان نہیں!

مشرقِ وسطیٰ عالمی معیشت اور توانائی کی جنگ وجود منگل 21 اپریل 2026
مشرقِ وسطیٰ عالمی معیشت اور توانائی کی جنگ

آبرومندانہ صلح کی امریکی خواہش وجود پیر 20 اپریل 2026
آبرومندانہ صلح کی امریکی خواہش

مقبوضہ کشمیر میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد وجود پیر 20 اپریل 2026
مقبوضہ کشمیر میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر