... loading ...
حکومت کے زیر انتظام چلنے والی بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے صارفین سے لوٹ مار شروع کردی ہے ، اطلاعات کے مطابق صارفین سے ہر ماہ فیول چارجز کی مد میں ایڈوانس بلنگ کے نام پر دگنی رقم وصول کی جاتی ہے اور اس کے بعد ریگولیٹرز نیپرا کے حکم پران کو اس میں سے صرف نصف رقم واپس کی جاتی ہے۔اس طرح ایک اندازے کے مطابق یہ کمپنیاں بجلی کے صارفین سے ہر سال 120 ارب روپے زیادہ وصول کررہی ہیں ۔اس بات کاانکشاف گزشتہ روز بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے بلز کے حوالے سے ایک عام سماعت کے دوران ہوا، جب نیشنل الیکٹرک پاورریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو صارفین سے جولائی کے مہینے کے دوران زیادہ بلنگ کے ذریعہ وصول کردہ رقم صارفین کو 1.71 روپے فی یونٹ کی شرح سے مجموعی طورپر 20 ارب روپے واپس کرنے کاحکم دیا۔نیپرا کے حکم کے مطابق یہ رقم صارفین کے اگلے مہینے کے بل میں ایڈجسٹ کرلی جائے گی۔
معاملے کی سماعت مکمل کرتے ہوئے نیپرا کے چیئرمین سیف اللہ چٹھہ نے جب سینٹرل پاؤر پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) اور نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) سے سوال کیا کہ چھوٹے صارفین کو مدنظر رکھتے ہوئے جنھیں حکومت کی پالیسی کے مطابق فیول کی لاگت کے اعتبار سے ریلیف نہیں دیاجاتاکتنی رقم ادا کرناہوگی تو سی پی پی اے اوراین ٹی ڈی سی کے سربراہان محمد ریحان اور محمد الیاس نے بتایا کہ اس کاا نحصار اس بات پر ہوگا کہ صارفین کتنے عرصے سے بجلی استعمال کررہے ہیں اور ماہ بہ ماہ اس میں کمی بیشی بھی ہوگی۔نیپرا کے ایک افسر نے بتایا کہ صارفین سے جتنی زیادہ رقم وصول کی جاتی ہے اس کے مقابلے میں ان کو نصف رقم واپس کی جاتی ہے،انھوں نے بتایا کہ تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے بجلی کمپنیوں کومجموعی طورپر 17.6 ارب روپے کی بچت ہوئی جبکہ گیس کی فراہمی بہتر ہونے کی وجہ سے بھی بجلی تیار کرنے والی کمپنیوں کو اندازے سے2.3 ارب روپے زیادہ کی بچت ہوئی۔ایک اور افسر نے بتایا کہ بجلی استعمال کرنے والے.70 67 فیصد سے زیادہ صارفین 300 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والوں کے زمرے میں آتے ہیں ۔ عام طورپر بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں صارفین سے فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کی مد میں زیادہ رقم وصول کرتی ہیں ۔جبکہ اگلے ماہ یہ زیادہ رقم نیپرا کی منظوری سے بل میں ایڈجسٹ کردی جاتی ہے اس طرح بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں صارفین سے اربوں روپے ایڈوانس وصول کرلیتی ہیں جس سے ان کی کیش کی ضروریات پوری ہوتی ہیں اور اس پر انھیں صارفین کوکوئی مارک اپ یا منافع ادا نہیں کرناہوتا۔
یہ بھی بتایا گیا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے 300 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے غریب گھریلو صارفین اور زرعی مقاصد کے لیے بجلی استعمال کرنے والوں کو بجلی کی نرخ میں رعایت نہ دینے کی پالیسی اختیار کی ہے اور اس حوالے سے منطق یہ بتائی جاتی ہے کہ کم بجلی استعمال کرنے والوں کو پہلے ہی رعایتی قیمت پر بجلی فراہم کی جاتی ہے اس لیے وہ مزید کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں ۔
جہاں تک ملک میں بجلی کی تیاری کاتعلق ہے تو ایک اندازے کے مطابق ہمارے ملک میں تیار ہونے والی بجلی کا 41 فیصد حصہ پن بجلی سے حاصل ہونا چاہئے جبکہ34 فیصد حصہ فرنس آئل کے استعمال کے ذریعے حاصل کیاجاناچاہئے لیکن ایک اندازے کے مطا بق پن بجلی کے ذریعے اس وقت ہماری ضرورت کی صرف 30 فیصد اور فرنس آئل کے ذریعے 26 فیصد بجلی پیداکی جاتی ہے۔جبکہ بجلی کی بقیہ ضرورت ایٹمی بجلی گھروں اورکوئلے اور گیس سے تیار کی جانے والی بجلی سے پوری کی جاتی ہے۔
سی پی پی اے کے مطابق نیپرا نے جولائی کے مہینے میں صارفین سے 6.49 روپے فی یونٹ کی شرح سے وصولی کی منظوری دی تھی لیکن بجلی کی تیاری پر فیول کاخرچ صرف 4.78 روپے فی یونٹ رہا اس طرح صارفین سے اضافی وصول کی جانے والی 1.71 فی یونٹ کی شرح سے رقم ان کو واپس کی جانی ہے۔
ایک اندازے کے مطابق جولائی کے دوران بجلی تیار کرنے والی کمپنیوں نے مجموعی طورپر 12.267 گیگاواٹ بجلی تیار کی اور اس میں 1.73 فیصد بجلی لائن لاسز کی مد میں ضائع ہوگئی جس کی وجہ سے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کومجموعی طورپر11.496 گیگاواٹ بجلی فراہم کی جاسکی،اطلاعات کے مطابق جولائی کے دوران بجلی30.8فیصد پن بجلی حاصل کی گئی جوکہ بجلی تیار کرنے کا ارزاں ترین ذریعہ ہے ۔ جولائی کے دوران پن بجلی کی پیداوار جون کے مقابلے میں 0.3 فیصد زیادہ رہی،پانی کے ذریعے حاصل کی جانے والی بجلی کی تیاری پر کوئی خرچ نہیں آتااسی طرح ہوا اور شمسی توانائی کے ذریعے حاصل ہونے والی بجلی بھی بالکل مفت ہوتی ہے۔ان ذرائع سے مجموعی طورپر ملکی ضرورت کی 2.3 فیصد بجلی حاصل کی گئی اس طرح بجلی کی تیار ی پر آنے والے اخراجات میں مجموعی اعتبار سے نمایاں کمی آئی تاہم گزشتہ ماہ کے دوران بجلی کی طلب زیادہ ہونے کی وجہ سے فرنس آئل کے ذریعے مجموعی طورپر 22.34 فیصد کے بجائے 25.6 فیصد بجلی حاصل کی گئی لیکن تیل کی قیمتوں میں کی کی وجہ سے فرنس آئل کے ذریعے پیداکی جانے والی بجلی کی لاگت بھی 9.5 روپے فی یونٹ سے کم ہوکر 9.36 روپے یونٹ رہ گئی جبکہ جولائی کے دوران گیس کے ذریعہ ملک کی مجموعی ضرورت کی 17.17 فیصد بجلی گیس سے تیار کی گئی جس کی لاگت 4.36 روپے فی یونٹ ہوتی ہے۔ایل این جی سے 12.12 فیصد بجلی تیار کی گئی جس کی لاگت7.52 روپے فی یونٹ ہے۔جولائی کے دوران کوئلے کے ذریعے مجموعی طورپر 2.95 فیصد بجلی حاصل کی گئی جس کی لاگت4.3 روپے فی یونٹ بنتی ہے۔ملک میں تیار ہونے والی سب سے مہنگی بجلی ہائی اسپیڈ ڈیزل سے تیار ہونے والی بجلی جس کی لاگت 14.4 روپے فی یونٹ ہے ، تاہم اب کوشش کی جارہی ہے کہ ہوا اور شمسی توانائی کے ذریعے بجلی کی پیداوار میں اضافہ کیاجائے جبکہ پانی جمع کرنے کے نئے ذخائر کی تعمیرکی صورت میں پن بجلی کی شرح میں بھی اضافہ ہوگا جس سے بجلی تیار کرنے کی لاگت میں کمی ہوگی لیکن اب دیکھنایہ ہے کہ حکومت اس کے کتنے فوائد عام صارف تک منتقل کرنے پرتیار ہوتی ہے۔
فضائی کارروائی کے دوران ننگرہار میں چار، پکتیکا میں دو اور خوست میں ایک ٹھکانہ تباہ، بہسود میں ایک ہی گھر کے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مارے گئے خوارجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، سیکیورٹی ذرائع ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، افغان طالبان کی وزارت...
یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے،جماعت اسلامی قرارداد کی حمایت سے شریک جرم ، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟ ہمارے ہوتے ہوئیسندھو دیش کا خواب خواب ہی رہیگا، سندھو دیش نہیں بن سکتا،جو سب ٹیکس دے اس کو کو...
حکومت ناکام نظر آرہی ہے ،دہشت گردی کیخلاف حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسی پر شدید تشویش کا اظہار بورڈ آف پیس میں ہم ڈھٹائی سے وہاں پہنچے اور کسی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا،مصطفیٰ نواز کھوکھر کی پریس کانفرنس اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں نے دہشت گردی کے ...
خالد مقبول اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس آئین سے ناواقفیت کی واضح علامت ہے وفاقی وزیر کے بیانات سے سوال پیدا ہوتا ہیکیایہ وفاقی حکومت کی پالیسی ہے؟ ردعمل سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس ان کی کم علمی اور آئ...
یہاں کچھ لوگ سیاسی فیکٹریاں لگائے بیٹھے ہیں، کسی بھی معاملے کو سیاسی بنا دیتے ہیں کوشش کامیاب ہوتی ہے سازش کبھی نہیں ہوتی ، ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے،خطاب گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے۔گورنر ہاؤس کراچی میں افطار عشائیے...
عمران خان کی صرف ایک آنکھ کا مسئلہ نہیں بلکہ ان کی زندگی خطرے میں ہے ، وہ ہمارا بھائی ہے ہمیں ان کی فکر ہے اور ہم اپنے بھائی کیلئے ہر حد پر لڑیں گے سابق وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ کا کہنا ہے کہ عمران خان کی صرف ایک آنکھ کا مسئلہ نہیں بلکہ ان کی زندگی خطرے میں ہے، وہ ہمارا...
آپ باہر نکلیں ہم آپکو دیکھ لیں، شوکت راجپوت کو ایم پی اے شارق جمال کی دھمکی، متعلقہ پولیس اسٹیشن کومقدمہ درج کرنے کا کہا جائے،میرے تحفظ کو یقینی بنایا جائے،شوکت راجپوت کی اسپیکر سے استدعا ایم این اے اقبال محسود مسلح افراد کے ساتھ دفتر میں آئے اور تالے توڑے ،تنازع کے باعث ایس ...
ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور تناؤ کے دوران امریکی بحریہ کا دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز ایو ایس ایس گیرالڈ آر فورڈ بحیرۂ روم میں داخل ہوگیا، اس وقت آبنائے جبل الطارق عبور کر رہا ہے دونوں ممالک کے درمیان جوہری مذاکرات تاحال کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ، طیارہ بردار...
میرپورخاص میں سائلہ خاتون نے 22 اکتوبر کو میر خادم حسین ٹالپور پر جنسی زیادتی کا الزام عائد کیا تھا پولیس افسر نے جرم کا اعتراف کرلیا، مراسلہ میںفیصلے کے خلاف 30 روز میں اپیل کا حق دے دیا میرپورخاص میں سابق ایس ایچ او مہران تھانے کے خلاف سنگین الزامات سائلہ خاتون سے جنسی زیاد...
ایئرپورٹ سیمسافروں کو رشوت لے کر غیر قانونی طور پر بیرون ملک بھیجنیکا انکشاف اے ایس آئی محمد عالم، ایف سی انضمام الحق اور ہیڈ کانسٹیبل محمد اسماعیل شامل ہیں ،ذرائع نیو اسلام آباد ایئرپورٹ سے رشوت لے کر غیر قانونی طور پر شہریوں کو رشوت لے کر بیرون ممالک اور یورپ بھیجنے والے ...
شہباز شریف نیویارک میں موجود ہیں اور غزہ بورڈ آف پیس اجلاس میں شرکت کریں گے، غزہ میں امن کیلئے کردار ادا کیا جائے گا، امیدیں وابستہ ہیں غزہ کی صورتحال بہتر ہوگی، ترجمان دفتر خارجہ پاکستان کسی گروپ یا تنظیم کیخلاف کسی فیصلے کا حصہ نہیں ہے،پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک کی اسرائیل کے ...
ریاض احمدچودھری سمیوکت کسان مورچہ (SKM) اور ملک کی بڑی مرکزی ٹریڈ یونینوں نے بھارت بند کی کال دی ہے۔ یونینوں نے اس ہڑتال کی کال مرکزی حکومت کی مختلف اقتصادی پالیسیوں کے خلاف دی ہے جس میں بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے اور نئے لیبر قوانین شامل ہیں۔سنیوکت کسان مورچہ او...