وجود

... loading ...

وجود

بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی لوٹ مار‘صارفین سے 120 روپے زیادہ وصول کرلیے گئے

پیر 28 اگست 2017 بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی لوٹ مار‘صارفین سے 120 روپے زیادہ وصول کرلیے گئے

حکومت کے زیر انتظام چلنے والی بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے صارفین سے لوٹ مار شروع کردی ہے ، اطلاعات کے مطابق صارفین سے ہر ماہ فیول چارجز کی مد میں ایڈوانس بلنگ کے نام پر دگنی رقم وصول کی جاتی ہے اور اس کے بعد ریگولیٹرز نیپرا کے حکم پران کو اس میں سے صرف نصف رقم واپس کی جاتی ہے۔اس طرح ایک اندازے کے مطابق یہ کمپنیاں بجلی کے صارفین سے ہر سال 120 ارب روپے زیادہ وصول کررہی ہیں ۔اس بات کاانکشاف گزشتہ روز بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے بلز کے حوالے سے ایک عام سماعت کے دوران ہوا، جب نیشنل الیکٹرک پاورریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو صارفین سے جولائی کے مہینے کے دوران زیادہ بلنگ کے ذریعہ وصول کردہ رقم صارفین کو 1.71 روپے فی یونٹ کی شرح سے مجموعی طورپر 20 ارب روپے واپس کرنے کاحکم دیا۔نیپرا کے حکم کے مطابق یہ رقم صارفین کے اگلے مہینے کے بل میں ایڈجسٹ کرلی جائے گی۔
معاملے کی سماعت مکمل کرتے ہوئے نیپرا کے چیئرمین سیف اللہ چٹھہ نے جب سینٹرل پاؤر پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) اور نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) سے سوال کیا کہ چھوٹے صارفین کو مدنظر رکھتے ہوئے جنھیں حکومت کی پالیسی کے مطابق فیول کی لاگت کے اعتبار سے ریلیف نہیں دیاجاتاکتنی رقم ادا کرناہوگی تو سی پی پی اے اوراین ٹی ڈی سی کے سربراہان محمد ریحان اور محمد الیاس نے بتایا کہ اس کاا نحصار اس بات پر ہوگا کہ صارفین کتنے عرصے سے بجلی استعمال کررہے ہیں اور ماہ بہ ماہ اس میں کمی بیشی بھی ہوگی۔نیپرا کے ایک افسر نے بتایا کہ صارفین سے جتنی زیادہ رقم وصول کی جاتی ہے اس کے مقابلے میں ان کو نصف رقم واپس کی جاتی ہے،انھوں نے بتایا کہ تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے بجلی کمپنیوں کومجموعی طورپر 17.6 ارب روپے کی بچت ہوئی جبکہ گیس کی فراہمی بہتر ہونے کی وجہ سے بھی بجلی تیار کرنے والی کمپنیوں کو اندازے سے2.3 ارب روپے زیادہ کی بچت ہوئی۔ایک اور افسر نے بتایا کہ بجلی استعمال کرنے والے.70 67 فیصد سے زیادہ صارفین 300 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والوں کے زمرے میں آتے ہیں ۔ عام طورپر بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں صارفین سے فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کی مد میں زیادہ رقم وصول کرتی ہیں ۔جبکہ اگلے ماہ یہ زیادہ رقم نیپرا کی منظوری سے بل میں ایڈجسٹ کردی جاتی ہے اس طرح بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں صارفین سے اربوں روپے ایڈوانس وصول کرلیتی ہیں جس سے ان کی کیش کی ضروریات پوری ہوتی ہیں اور اس پر انھیں صارفین کوکوئی مارک اپ یا منافع ادا نہیں کرناہوتا۔
یہ بھی بتایا گیا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے 300 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے غریب گھریلو صارفین اور زرعی مقاصد کے لیے بجلی استعمال کرنے والوں کو بجلی کی نرخ میں رعایت نہ دینے کی پالیسی اختیار کی ہے اور اس حوالے سے منطق یہ بتائی جاتی ہے کہ کم بجلی استعمال کرنے والوں کو پہلے ہی رعایتی قیمت پر بجلی فراہم کی جاتی ہے اس لیے وہ مزید کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں ۔
جہاں تک ملک میں بجلی کی تیاری کاتعلق ہے تو ایک اندازے کے مطابق ہمارے ملک میں تیار ہونے والی بجلی کا 41 فیصد حصہ پن بجلی سے حاصل ہونا چاہئے جبکہ34 فیصد حصہ فرنس آئل کے استعمال کے ذریعے حاصل کیاجاناچاہئے لیکن ایک اندازے کے مطا بق پن بجلی کے ذریعے اس وقت ہماری ضرورت کی صرف 30 فیصد اور فرنس آئل کے ذریعے 26 فیصد بجلی پیداکی جاتی ہے۔جبکہ بجلی کی بقیہ ضرورت ایٹمی بجلی گھروں اورکوئلے اور گیس سے تیار کی جانے والی بجلی سے پوری کی جاتی ہے۔
سی پی پی اے کے مطابق نیپرا نے جولائی کے مہینے میں صارفین سے 6.49 روپے فی یونٹ کی شرح سے وصولی کی منظوری دی تھی لیکن بجلی کی تیاری پر فیول کاخرچ صرف 4.78 روپے فی یونٹ رہا اس طرح صارفین سے اضافی وصول کی جانے والی 1.71 فی یونٹ کی شرح سے رقم ان کو واپس کی جانی ہے۔
ایک اندازے کے مطابق جولائی کے دوران بجلی تیار کرنے والی کمپنیوں نے مجموعی طورپر 12.267 گیگاواٹ بجلی تیار کی اور اس میں 1.73 فیصد بجلی لائن لاسز کی مد میں ضائع ہوگئی جس کی وجہ سے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کومجموعی طورپر11.496 گیگاواٹ بجلی فراہم کی جاسکی،اطلاعات کے مطابق جولائی کے دوران بجلی30.8فیصد پن بجلی حاصل کی گئی جوکہ بجلی تیار کرنے کا ارزاں ترین ذریعہ ہے ۔ جولائی کے دوران پن بجلی کی پیداوار جون کے مقابلے میں 0.3 فیصد زیادہ رہی،پانی کے ذریعے حاصل کی جانے والی بجلی کی تیاری پر کوئی خرچ نہیں آتااسی طرح ہوا اور شمسی توانائی کے ذریعے حاصل ہونے والی بجلی بھی بالکل مفت ہوتی ہے۔ان ذرائع سے مجموعی طورپر ملکی ضرورت کی 2.3 فیصد بجلی حاصل کی گئی اس طرح بجلی کی تیار ی پر آنے والے اخراجات میں مجموعی اعتبار سے نمایاں کمی آئی تاہم گزشتہ ماہ کے دوران بجلی کی طلب زیادہ ہونے کی وجہ سے فرنس آئل کے ذریعے مجموعی طورپر 22.34 فیصد کے بجائے 25.6 فیصد بجلی حاصل کی گئی لیکن تیل کی قیمتوں میں کی کی وجہ سے فرنس آئل کے ذریعے پیداکی جانے والی بجلی کی لاگت بھی 9.5 روپے فی یونٹ سے کم ہوکر 9.36 روپے یونٹ رہ گئی جبکہ جولائی کے دوران گیس کے ذریعہ ملک کی مجموعی ضرورت کی 17.17 فیصد بجلی گیس سے تیار کی گئی جس کی لاگت 4.36 روپے فی یونٹ ہوتی ہے۔ایل این جی سے 12.12 فیصد بجلی تیار کی گئی جس کی لاگت7.52 روپے فی یونٹ ہے۔جولائی کے دوران کوئلے کے ذریعے مجموعی طورپر 2.95 فیصد بجلی حاصل کی گئی جس کی لاگت4.3 روپے فی یونٹ بنتی ہے۔ملک میں تیار ہونے والی سب سے مہنگی بجلی ہائی اسپیڈ ڈیزل سے تیار ہونے والی بجلی جس کی لاگت 14.4 روپے فی یونٹ ہے ، تاہم اب کوشش کی جارہی ہے کہ ہوا اور شمسی توانائی کے ذریعے بجلی کی پیداوار میں اضافہ کیاجائے جبکہ پانی جمع کرنے کے نئے ذخائر کی تعمیرکی صورت میں پن بجلی کی شرح میں بھی اضافہ ہوگا جس سے بجلی تیار کرنے کی لاگت میں کمی ہوگی لیکن اب دیکھنایہ ہے کہ حکومت اس کے کتنے فوائد عام صارف تک منتقل کرنے پرتیار ہوتی ہے۔


متعلقہ خبریں


گل پلازہ کی ایک ہی دُکان سے 30 لاشیں برآمد،اموات کی تعداد 61 ہوگئی وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

  لاپتا شہریوں کی تعداد 86 ہوگئی،دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی، 30 لاشیں کراکری کی دکان سے ملیں،ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن اسی جگہ کی آئی تھی،ڈی آئی جی ساؤتھ لاشوں کی باقیات سرچ آپریشن کے دوران ملیں،ملبہ ہٹانے کا کام روک دیا گیا ہ...

گل پلازہ کی ایک ہی دُکان سے 30 لاشیں برآمد،اموات کی تعداد 61 ہوگئی

آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی عبدالقادر پٹیل کا لہجہ بدل گیا وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

ایم کیو ایم پر برستے برستے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کرکام کرنے کی دعوت قومی اسمبلی اجلاس میں تقریر کے دوران ایم کیو ایم پر شدید تنقید کر رہے تھے قومی اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کے دوران آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی عبد القادر پٹیل کا لہجہ بدل گ...

آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی عبدالقادر پٹیل کا لہجہ بدل گیا

مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں،وزیراعظم وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے کامیابی حاصل ہو گی،پاکستان مشکلات سے باہر آ چکاہے شہباز شریف کی ڈیوس میں پاکستان پویلین میں بریک فاسٹ میں شرکت،شرکاء سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں، اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے...

مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں،وزیراعظم

ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت مسترد ،حافظ نعیم وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

غزہ کا بورڈ آف پیس نوآبادیاتی نظام کی نئی شکل، ٹونی بلیئر جیسے مجرم موجود ہیں فلسطینیوں کے وسائل اور زمینوں پر قبضے کانیانظام ہے، ایکس پر جاری بیان جماعت اسلامی پاکستان کے حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے غزہ کے لیے قائم بورڈ آف پیس میں شمولیت کے لیے امر...

ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت مسترد ،حافظ نعیم

سپریم کورٹ، سزائے موت کی زیر التوا ء اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

چیف جسٹس کی زیر صدارت ماہانہ اصلاحات ایکشن پلان اجلاس،بار کے صدر، سیکریٹری دیگر حکام کی شرکت کیس کیٹیگرائزیشن کا عمل دوماہ میں مکمل ہو گا،سزائے موت ، فوجداری مقدمات کی جیل اپیلوں کا جائزہ،اعلامیہ سپریم کورٹ نے سزائے موت کی تمام زیر التوا اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ کر ...

سپریم کورٹ، سزائے موت کی زیر التوا ء اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ

اسرائیل کا جنوبی غزہ میں فلسطینیوں کو انخلاء کا حکم وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

جنگ بندی کے بعد پہلا بڑا اقدام،گھروں اور خیمہ بستیوں سے نکلنے کے احکامات جاری اسرائیلی فوج نے پمفلٹس گرائے ،اس میںلکھا تھا علاقہ اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہے اسرائیلی فوج نے اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد پہلی بار جنوبی غزہ میں فلسطینی خاندانوں کو اپنے گھروں اور خیمہ ب...

اسرائیل کا جنوبی غزہ میں فلسطینیوں کو انخلاء کا حکم

سانحہ گل پلازہ پر حکمران اتحاد آمنے سامنے(نون لیگ ، پیپلزپارٹی ،ایم کیو ایم کے قومی اسمبلی میں ایک دوسرے پر الزامات) وجود - بدھ 21 جنوری 2026

18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی اس کے نتیجے میں زیادہ تر اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع ہو گئے ہیں( خواجہ آصف)یہ آگ ہے، ہوجاتا ہے،شہلا رضا کا گل پلازہ آتشزدگی پر تبصرہ الطاف حسین کے گن مین گوگا نے ایک دکان کو دو میں تقسیم کیا( عبدالقادر پٹیل)جب گوگا پلازہ بنوا رہا تھا ی...

سانحہ گل پلازہ پر حکمران اتحاد آمنے سامنے(نون لیگ ، پیپلزپارٹی ،ایم کیو ایم کے قومی اسمبلی میں ایک دوسرے پر الزامات)

گل پلازہ کے دو فلور کلیئر، 28 افرادجاں بحق، 85 لاپتا،ملبہ ہٹانے، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری وجود - بدھ 21 جنوری 2026

27 افراد کا پوسٹ مارٹم مکمل ،گلے میں پہنے لاکٹ کی مدد سے خاتون کو مصباح کے نام سے شناخت کر لیا ، تاجر تعاون کریں، ریڈ زون سے دور رہیں، دیگر حصے انتہائی کمزورہیں،ماہرین ایس بی سی اے ریسکیو اہلکاروں کو کوئی لاش نہیں ملی البتہ شک ہیعمارت کی بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوں گی،وہاں راستہ ...

گل پلازہ کے دو فلور کلیئر، 28 افرادجاں بحق، 85 لاپتا،ملبہ ہٹانے، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری

پختونخوا کو 800 ارب دیے ، ترقی نظر نہیں آتی، وزیراعظم وجود - بدھ 21 جنوری 2026

صوبے میں وہ ترقی نظر نہیں آتی جو دیگر صوبوں میں دکھائی دیتی ہے، شہباز شریف وفاق اور صوبے میںسرد جنگ کا تاثر درست نہیں،قومی ورکشاپ میں خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے گزشتہ 15 برس میں 800 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں، تاہم صوبے میں وہ ترقی نظر نہی...

پختونخوا کو 800 ارب دیے ، ترقی نظر نہیں آتی، وزیراعظم

مضبوط اورعوام دوست پولیس داخلی سلامتی کیلئے ناگزیر ہے،فیلڈ مارشل وجود - بدھ 21 جنوری 2026

داخلی سلامتی، قانون کی حکمرانی کیلئے مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پولیس ناگزیر ہے چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیشنل پولیس اکیڈمی، اسلام آباد کا دورہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیرچیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے کہا ہے کہ مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پ...

مضبوط اورعوام دوست پولیس داخلی سلامتی کیلئے ناگزیر ہے،فیلڈ مارشل

آگ گل پلازہ میں نہیں، ہرشہری کے دل میں لگی ہے وجود - بدھ 21 جنوری 2026

گل پلازہ آتشزدگی کوسانحہ قراردیاجائے، ہم چاہتے ہیں صوبائی حکومت کیساتھ تعاون کریں آئیے ملکرکراچی کو ممدانی کانیویارک بنائیں یا صادق خان کا لندن بنائیں،ایم کیو ایم رہنما ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ گل پلازہ میں نہیں کراچی کے ہرشہری کے دل میں آگ لگی ...

آگ گل پلازہ میں نہیں، ہرشہری کے دل میں لگی ہے

تحقیقات سے واضح ہوگا ذمہ داری کس پرعائد ہوتی ہے،شرجیل میمن وجود - بدھ 21 جنوری 2026

پورے ملک کی 90فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے، سینئر وزیر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی کمیٹی تمام جائزے لے کر اپنی رپورٹ دے گی، خصوصی گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ پورے ملک کی 90 فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے۔کراچی...

تحقیقات سے واضح ہوگا ذمہ داری کس پرعائد ہوتی ہے،شرجیل میمن

مضامین
عوام میں دولت تقسیم کرنے کا آسان نسخہ وجود جمعرات 22 جنوری 2026
عوام میں دولت تقسیم کرنے کا آسان نسخہ

ملک مبشر احمد خان اورتاریخ کا استثنیٰ وجود بدھ 21 جنوری 2026
ملک مبشر احمد خان اورتاریخ کا استثنیٰ

انسان اپنے اندر کے خوف، گناہ اور خو اہشات کا قید ی ہے ! وجود بدھ 21 جنوری 2026
انسان اپنے اندر کے خوف، گناہ اور خو اہشات کا قید ی ہے !

بھارت میں ہجومی تشدد وجود بدھ 21 جنوری 2026
بھارت میں ہجومی تشدد

دہلی واشنگٹن تعلقات تناؤ کا شکار وجود منگل 20 جنوری 2026
دہلی واشنگٹن تعلقات تناؤ کا شکار

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر