وجود

... loading ...

وجود

سردار رحیم نے مسلم لیگ فنکشنل کو متحرک کر دیا

جمعه 25 اگست 2017 سردار رحیم نے مسلم لیگ فنکشنل کو متحرک کر دیا

1997 کے عام انتخابات یوں تو کئی لحاظ سے اہم تھے کیونکہ ان انتخابات میں ایم کیو ایم نے قومی اسمبلی کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا اور صوبائی انتخابات میں حصہ لے کر کراچی، حیدر آباد، نواب شاہ سے زبردست کامیابی حاصل کی تھی۔ لیکن انہی انتخابات کے دوران میں سندھ اسمبلی میں چار ایسے بھاری بھرکم ارکان منتخب ہوئے تھے جن کو دیکھ کر کہا جاسکتا تھا کہ وہ سیاستدان نہیں پہلوان ارکان ہیں ۔چھ فٹ سے زیادہ قد، بھرا ہوا جسم دیکھ کر ایسا لگتا تھا کہ سندھ میں واقعی خوراک کا کوئی بحران نہیں ہے۔ ان ارکان میں سردار رحیم ، سلیم ضیاء مقبول شیخ اور حاجی الطاف حسین انٹر شامل تھے۔ چاروں ارکان پہلی مرتبہ مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے تھے ۔ ان میں سردار رحیم اور سلیم ضیاء کراچی سے ، مقبول شیخ شکار پور سے اور حاجی الطاف حسین انڑ لاڑکانہ سے منتخب ہوئے تھے۔ سلیم ضیاء مقبول شیخ اور الطاف حسین انڑ کو تو وزارتیں دی گئیں لیکن سردار رحیم کو وزارت نہیں ملی۔ مگر اس وقت سردار رحیم کم گو مگر سنجیدہ نظر آئے۔ وہ اسمبلی ساڑھے تین سال تک چل سکی۔ لیکن سردار رحیم نے پارٹی سے اپنا رشتہ مضبوط بنالیا۔
پھر 99 میں کراچی میں حکیم محمد سعید کو شہید کر دیا گیا اور وفاقی حکومت نے لیاقت جتوئی کی حکومت معطل کرکے غوث علی شاہ کو مشیر اعلیٰ مقرر کر دیا جن کا عہدہ وزیراعلیٰ کے برابر تھا اور پھر آگے چل کر جب 12 اکتوبر 1999 کو اس وقت کے فوجی سربراہ جنرل پرویز مشرف نے حکومت کا تختہ الٹ دیا تو نواز شریف، شہباز شریف، غوث علی شاہ، رانا مقبول اور شاہد خاقان عباسی گرفتار کر لیے گئے۔ اس دور میں مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے بھاؤ لگتے تھے۔ روزانہ ایک منڈی لگتی تھی اور مسلم لیگی رہنما اس منڈی میں اپنا ضمیر فروخت کرتے تھے۔ کراچی میں یوں بھی مسلم لیگ (ن) مضبوط نہ تھی، اوپر سے اقتدار ختم ہوا تو مسلم لیگ ڈگمگانے لگی اور کئی سرکردہ رہنما زیر زمین چلے گئے۔
سردار رحیم ایک فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ کے مالک تھے۔ انہوں نے قریبی ساتھیوں سے صلاح مشورے کیے۔ کسی نے ان کو مشورہ دیا کہ وہ خاموش ہو کر گھر بیٹھ جائیں ۔ کسی نے ان سے کہا کہ وہ وفاداری تبدیل کرکے پرویز مشرف کے کیمپ میں چلے جائیں اور بہت تھوڑے دوستوں نے کہا کہ جو ہوگا دیکھا جائے گا لیکن وہ پارٹی نہ چھوڑیں ۔ سردار رحیم کا سرگرم سیاست میں یہ پہلا موقع تھا اور ان کا تعارف بھی نیا تھا اس لیے انہوں نے گوشہ نشینی اختیار کرنے یا وفاداری تبدیل کرنے کے بجائے چٹان بن کر کھڑے ہونے کو ترجیح دی اور مسلم لیگ (ن) کے ساتھ کھڑے ہوگئے ،ان کو تکالیف دی گئیں ان کے فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ کو آئے دن مسمار کرنے کی کوششیں کی جاتی رہیں ، کبھی فٹ پاتھ توڑ دیا جاتا، کبھی روڈبلاک کر دی جاتی۔ کبھی کوئی راستا بند کر دیا جاتا، کبھی بجلی کا بھاری بل بھیجا جاتا ، کبھی گیس کاٹ دی جاتی، یوں ان کو حراساں کرنے ، جھکانے کے لیے ہرحربہ استعمال کیا گیا۔
سیاست میں نووارد سردار رحیم کے لیے یہ مصیبتیں نئی تھیں ۔ کئی وہم وسوسے آئے مگر انہوں نے جم کر مقابلہ کرنے کو ترجیح دی اور کاروبار کا نقصان ضرور اٹھایا ۔یہیں سے ان کا تابناک سیاسی سفر شروع ہوا۔ پھر طیارہ اغوا کیس میں وہ عدالتوں میں اپنے رہنماؤں کے لیے کھانے ، پانی، جوس، میوہ اور دیگر اشیائے خوردو نوش لے جاتے اور پیشی کے وقت ان کے ساتھ اتنا سامان جاتا کہ پولیس اہلکار بھی ’’فیض یاب‘‘ ہوتے۔ سردار رحیم نے جان لیاتھا کہ ایک جگہ ٹک کر کھڑے ہونے سے سیاسی فائدہ ہوتا ہے، وہ آگے بڑھتے رہے۔ پھر نواز شریف اہل خانہ سمیت سعودی عرب چلے گئے۔ مگر سردار رحیم نے پارٹی کی سیاست بھی جاری رکھی اور سعودی عرب، لندن جاکر میاں نوازشریف سے ملتے بھی رہے۔ جب میثاق جمہوریت پر لندن میں دستخط کیے گئے تو اس وقت کراچی سے دو درجن صحافی لندن لے جانے کی ذمہ داری بھی سردار رحیم کے کندھوں پر ڈال دی گئی۔ اور انہوں نے پارٹی کی ہر ذمہ داری بخوبی انجام دی۔
مگر جب نواز شریف واپس آئے تو انہوں نے ایسے فیصلے کیے جس میں سردار رحیم کو مکمل نظر انداز کیا گیا۔ ان سے صلاح مشورے تک نہ کیے گئے۔ وہ جو فوجی آمریت میں چٹان بن کر کھڑے ہوئے وہ اب اپنی پارٹی کے قائد کے سوتیلی ماں والے سلوک سے بددل ہوگئے۔ اندر سے ٹوٹ گئے۔ ان کو صدمہ تھا کہ جس پارٹی کے لیے وہ آمریت کے خلاف 9 سال تک جواں مردی کے ساتھ کھڑے رہے اس پارٹی نے ان کی یہ قدر بھی نہ کی کہ ان کو اہمیت دی جاتی ۔وہ صدمہ میں کافی وقت تک گوشہ نشینی میں رہے لیکن جب سید صبغت اللہ شاہ راشدی پیر پگارا کو علم ہوا تو انہوں نے سردار رحیم سے رابطہ کیا۔ ان کو مسلم لیگ فنکشنل میں آنے کی دعوت دی۔ ان کے اعزاز میں کنگری ہاؤس میں پارٹی اجلاس بلایا اور پھر باقاعدہ الیکشن کرایا گیا۔ سردار رحیم کے مقابلہ میں کسی نے بھی فارم نہیں بھرا ۔یوں سردار رحیم بلا مقابلہ صوبائی جنرل سیکریٹری منتخب ہوئے ۔اپنے پہلے خطاب میں انہوں نے پارٹی کے لیے اپنے تن، من ،دھن کی قربانی کا عزم کیا۔ پیر پگارا اور صدر الدین شاہ نے ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ان سے بہت سی امیدیں وابستہ کرلیں ۔ پارٹی کا عہدہ سنبھالتے ہی سردار رحیم پرانے وقت کی طرح سرگرم ہوگئے ہیں اور پارٹی کو ایک مرتبہ پھر فعال بنانے میں مصروف ہوگئے ہیں ۔
سردار رحیم کی سیاسی زندگی اور سیاسی سفر کو دیکھ کر سیاسی جماعتوں کے اندرونی حالات کا پوری طرح اندازا کیا جاسکتا ہے۔ مسلم لیگ نون اور نوازشریف کے طرزِ فکر کا بھی پوری طرح پتہ چلتا ہے کہ کس طرح پارٹی قیادتیں افراد کی ذاتی قربانیوں کو نظر انداز کرکے سیاسی فوائد سمیٹتی ہے اور اُنہیں اپنے اپنے وقتوں پر استعمال کرکے کسی کونے کھڈرے میں دھکیل دیتی ہے۔ سردار رحیم ایسے لوگ اپنے بل بوتے پر اپنے سیاسی مقام کا تحفظ کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں مگر ان جیتے جاگتے لوگوں کے قبرستان میں بہت سے تھکے ہارے لوگوں کی روحیں بھٹکتی پھرتی ہیں اور اُنہیں کوئی پوچھتا تک نہیں ۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

تہران اجلاس ۔۔ نئی صف بندی یا امن کی کوشش وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
تہران اجلاس ۔۔ نئی صف بندی یا امن کی کوشش

تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر