وجود

... loading ...

وجود

عدلیہ کے خلاف مہم جوئی سے نوازشریف کے وکلا پریشان

اتوار 13 اگست 2017 عدلیہ کے خلاف مہم جوئی سے نوازشریف کے وکلا پریشان


سپریم کورٹ کی جانب سے نواز شریف کو نااہل قرار دئے جانے کے فیصلے کے بعد بظاہر اس فیصلے کو قبول کرنے کااعلان کرتے ہوئے اقتدار سے علیحدہ ہوجانے کے بعد نواز شریف نے ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے فیصلے کوجس طرح متنازع بنانے اور اعلیٰ ترین عدلیہ کے معزز جج صاحبان کو مطعون کرنے کی مہم شروع کی ہے اس نے نہ صرف یہ کہ خود ان کی اپنی پارٹی کے سنجیدہ رہنماؤں ، دیرینہ ساتھیوں اور پارٹی کے صف اول کے رہنماؤں کو تذبذب میں مبتلا کردیاہے،بلکہ ان کے وکلا کی ٹیم بھی پریشان ہے،اطلاعات کے مطابق نواز شریف کے وکلا کی ٹیم نے ان کی نااہلی کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیل تیار کرلی ہے لیکن اب وہ یہ اپیل پیش کرنے سے گریزاں اور ایک دوسرے سے یہ سوال کرتے نظر آرہے ہیں کہ عدلیہ کے خلاف نواز شریف کی بڑھتی ہوئی ہرزہ سرائی کے ہوتے ہوئے وہ کس منہ سے عدالت کے سامنے کھڑے ہوں گے اور جج صاحبان کے سوالات کے کیاجواب دیں گے۔
نواز شریف کے وکلا کے پینل کے ایک سینئر وکیل نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ موجودہ صورت حال کے سبب ہم نے فیصلہ کیاہے کہ نظر ثانی کی اپیل فوری طورپر دائر کرنے کے بجائے نواز شریف کی مہم جوئی ختم ہونے کاانتظار کیاجائے اور نظرثانی کی اپیل کم از کم ایک ہفتہ تاخیر سے دائر کی جائے تاکہ نواز شریف کی جانب سے شروع کردہ مہم جوئی سے فضا میں پیدا ہونے والا بوجھل پن کچھ کم ہوسکے اور گرد کچھ بیٹھ جائے اور معاملات کسی حد پرسکون ہوجائیں ، جبکہ ایک دوسرے وکیل کاخیال تھا کہ نواز شریف چھن جانے کی وجہ سے سخت اضطراب میں ہیں اور یہ ممکن نظر نہیں آتا کہ وہ نچلے بیٹھ جائیں بلکہ اندیشہ یہی ہے کہ وہ عدلیہ کو مسلسل نشانہ بناتے رہیں اور اس صورت حال میں ان کاحق وفاداری نبھانے والے ٹی وی چینلز اور اینکر ز اس جلتی پر مزید تیل چھڑکتے رہیں گے جس کی وجہ سے یہ آگ جلد ٹھنڈی ہوتی نظر نہیں آتی۔نواز شریف کے وکلا کی اکثریت کا خیال ہے کہ نواز شریف نے عدلیہ کے خلاف مہم جوئی کے لیے بہت غلط وقت کا انتخاب کیا انھیں اقتدار سے فوری علیحدگی کے بعد کم از کم نظر ثانی کی اپیل کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہئے تھاتاکہ ان کادفاع کرنے والے وکلا عدلیہ کو یہ باور کراسکتے کہ نواز شریف عدلیہ کا بے حد احترام کرتے ہیں اور عدلیہ کے فیصلے کے بعد انھوں نے اقتدار سے علیحدگی اختیار کرکے عدلیہ کے احترام کا ثبوت دیاہے اس لئے عدالت اب انھیں کچھ ریلیف فراہم کرسکے ،جبکہ موجودہ صورت حال میں عدلیہ کے سامنے یہ موقف اختیار نہیں کیاجاسکتااور پے درپے ہر جگہ اپنی تقریروں میں نواز شریف نے جس طرح عدلیہ کو نشانہ بنایا ہے اور مسلسل بنارہے ہیں اس کے پیش نظر ان کی باتوں کو غیر ارادی اور جذباتی قرار دے کر بھی ان کے لئے نرم گوشہ پیدا کرنا ممکن نہیں ہوسکتا جبکہ نواز شریف کی اس مہم جوئی کے نتیجے میں عدلیہ دباؤ میں نہیں آئے گی اوراگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ عدلیہ دباؤ میں آکر اپنا فیصلہ تبدیل کردے گی تو یہ ان کی خام خیالی ہے کیونکہ اس طرح کی مہم جوئی سے عدلیہ کو اپنے فیصلے پرقائم رہنے کی شہہ ملے گی کیونکہ اگر عدلیہ اس طرح سیاسی دباؤ پر اپنے فیصلے تبدیل کرنے لگی تو ہر طالع آزما چند ہزار کرائے کے ٹٹو جمع کرکے عدلیہ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرنے لگے گا، اور انصاف عدلیہ کی دہلیز پر ہی دم توڑ دے گا۔
یہ بھی معلوم ہواہے کہ اب نواز شریف کے وکلا موجودہ صورت حال میں نظر ثانی کی اپیل میں کامیابی سے ناامید ہونے کے بعد نظر ثانی اپیل کے ساتھ ہی اس فیصلے کے خلاف بھی ایک اپیل دائر کرنے پر سوچ رہے ہیں ،تاہم ماہرین قانون کا کہناہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے پانامہ اسکینڈل کے حوالے سے آئین کی دفعہ184(3) کے تحت دئے گئے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہے۔
دوسری جانب نواز شریف کی پارٹی کے وہ سینئر ارکان جو آئین وقانون کی بھی کچھ سمجھ رکھتے ہیں کاکہناہے کہ نواز شریف اور ان کے وکلا نے ابتدا ہی سے سپریم کورٹ کی تشکیل کردہ جے آئی ٹی کے ارکان اس کے طریقہ کار اور سپریم کورٹ کے رجسٹرار کی جانب سے واٹس اپ کالز وغیرہ کوجس طرح اسکینڈلائز کرنے کی کوشش کی اس سے ان کی پوزیشن پہلے ہی کمزور بلکہ خراب ہوچکی ہے ،اور6 رکنی جے آئی ٹی کی تشکیل کے بعد ہی سے نواز شریف اور سپریم کورٹ کے درمیان تلخی کاشکار ہیں ۔نواز شریف نے پانامہ کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کے خلاف ابتدا ہی سے جس طرح میڈیا میں مہم چلانے کی کوشش کی اور اس معاملے کو جس طرح سے توڑ مروڑ کر اور حقائق کو مسخ کرکے عوام کے سامنے پیش کی اس نے اعلیٰ عدلیہ کو پریشان کردیاتھاجس کا اندازہ مقدمے کی سماعت کے دوران ان کی جانب سے دئے جانے والے ریمارکس سے اچھی طرح لگایاجاسکتاہے۔اور فیصلے سے قبل بھی سپریم کورٹ کے جج حضرات نے 8 افراد کی نشاندہی کی تھی جو مبینہ طورپر عدلیہ اور جج حضرات کونشانہ بنانے کی کوشش کررہے تھے۔
اس پوری صورت حال کے باوجود نواز شریف کے وکلا کے پینل کے سربراہ صادق اعوان کااب بھی یہ خیال ہے کہ عدلیہ کے فیصلے پر برہمی کااظہار کرکے اور اس پر تنقید کرکے نواز شریف نے کوئی جرم نہیں کیا ہے ان کاکہناہے کہ عدالتی فیصلے عوامی امانت ہوتے ہیں اور ان پر تنقید کرنا ہر شہری کاحق ہے ،انھوں نے نواز شریف کی برطرفی اورنااہلی کے فیصلے کو حیران کن قرار دیا،صادق اعوان کاکہناتھا کہ مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے وکلا نے ان جج حضرات کی بحالی کے لیے بڑی قربانیاں دی تھیں لیکن یہ فیصلہ دیکھ کر انھیں مایوسی ہوئی ہے۔انھوں نے کہا کہ اس فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل کی سماعت کے لیے لارجر بینچ بنائی جانی چاہئے اور نواز شریف کے خلاف فیصلہ دینے والے ان ججوں کو اس بینچ میں شامل نہیں کیاجانا چاہئے۔
ایک طرف نواز شریف کے وکلا کے پینل کے سربراہ کے یہ خیالات ہیں دوسری جانب سپریم کورٹ بار کے ارکان نے عدالتی فیصلے
کے خلاف نواز شریف کی مہم جوئی پر انتہائی شدید غصے اور برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے اپیل کی ہے کہ عدالتی فیصلے پر اس طرح تنقید پر نواز شریف اور ان کے دیگر ساتھیوں کے خلاف توہین عدالت کے مقدمات قائم کئے جائیں اور انھیں اس پر فوری طورپر سخت سزائیں دی جائیں سینئروکلا کا کہناہے کہ اگر اس معاملے پرسپریم کورٹ نے فوری نوٹس نہ لیا تو عدلیہ کے فیصلوں کومذاق بنالیاجائے گا اور اس پر کیچڑ اچھالنا ایک فیشن بن جائے گا اس لئے عدلیہ کے تقدس کا تقاضا ہے کہ اس معاملے پر فوری کارروائی کی جائے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ نواز شریف کے وکلا نظر ثانی اپیل دائر کرنے کے حوالے سے کیافیصلہ کرتے ہیں اور اس مقدمے کو کس انداز میں لڑنے کی حکمت عملی اختیار کرتے ہیں اور سپریم کورٹ کے جج صاحبان اپنے فیصلوں پر اس طرح تنقید کو نظر انداز کرتے ہیں یا اس پر نواز شریف سمیت دیگر متعلقہ افراد کو توہین عدالت کے الزام میں حاضر عدالت ہونے پر مجبور کرتے ہیں ۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر