وجود

... loading ...

وجود

سپریم کورٹ سندھ میں بد انتظامی پرشدید برہم اربوں روپے خرچ کردیے گئے کام کچھ نہیں ہوا۔۔90 فیصد رقم ضائع ہورہی ہے، ریمارکس

جمعرات 10 اگست 2017 سپریم کورٹ سندھ میں بد انتظامی پرشدید برہم اربوں روپے خرچ کردیے گئے کام کچھ نہیں ہوا۔۔90 فیصد رقم ضائع ہورہی ہے، ریمارکس

سپریم کورٹ نے گزشتہ روز منچھر جھیل کے پانی میں آلودگی کے حوالے سے مقدمے کی سماعت کے دوران سندھ کے سرکاری اداروں میں بد انتظامی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اربوں روپے ادھر ادھر کئے جارہے ہیں لیکن عملاً کوئی کام نظر نہیں آرہا ہے۔مقدمے کی سماعت کرنے والی دو رکنی بنچ کے سربراہ جسٹس گلزار احمد نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ 100 روپے میں سے90 روپے ادھر ادھر ہوجاتے ہیں ،معزز جج نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اگر کم از کم60 فیصد فنڈز بھی خرچ کیے جائیں تو کچھ کام نظر آتاہے۔انھوں نے یہ ریمارکس محکمہ آبپاشی کے سیکریٹری کی جانب سے اس اعتراف کے بعد دئے جس میں انھوں نے کہا کہ ماہی گیروں کو صاف پانی کی فراہمی کیلئے پانی صاف کرنے کے دوریورس اوسموسس پلانٹس لگائے گئے تھے لیکن اب دونوں ناکارہ پڑے ہیں ۔اس موقع پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اب وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے آر بی او ڈی کے ون ٹو اور تھری پراجیکٹس کو مکمل کرنے پر اتفاق کرلیاہے اور اس پر جلد کام شروع کردیاجائے گا۔سیکریٹری آبپاشی نے عدالت کوبتایا کہ وفاقی حکومت نے اس پراجیکٹ کی منظوری دی تھی اورخیال کیاجاتاتھا کہ وفاق اس مقصد کے لیے جلد رقم جاری کردے گا جس سے یہ تاثر پیداہوا کہ حکومت سندھ کو اس پراجیکٹ کے لیے وفاق سے فنڈز مل رہے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں سندھ کی حکومت کا کوئی کردار نہیں ہے ہمارا کام صرف وفاق سے فنڈز وصول کرکے متعلقہ حلقوں کواس کی ادائیگی کردینا ہے۔اس موقع پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو یقین دلایا کہ سندھ کی حکومت اس معاملے کو حل کرنے کی کوشش کررہی ہے اورجلد ہی یہ معاملہ حل کرلیاجائے گا۔سپریم کورٹ کے معزز جج جسٹس احمد نے ایک دفعہ پھر یہ واضح کیا کہ صرف فنڈ وصول کرنے سے یہ معاملہ حل نہیں ہوسکتا بلکہ جو فنڈز خرچ کئے جارہے ہیں ان سے کام ہوتاہوا نظر آنا چاہئے،سیکریٹری آبپاشی نے عدالت کے سامنے تسلیم کیا کہ منچھر لیک کے گرد رہنے والے باشندوں نے آلودہ پانی کی فراہمی کی شکایت کی تھی اور آلودہ پانی فراہم کیے جانے کی وجہ سے علاقے کے لوگ ہیپا ٹائٹس اوردیگر بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہیں لیکن ان کو صاف پانی کی فراہمی کے لیے منچھر جھیل میں صاف پانی نہیں چھوڑا جاسکا۔
منچھر جھیل کے اطراف آبادیوں کو آلودہ پانی کی فراہمی سے پیدا ہونے والی سنگین صورت حال پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے جسٹس احمد نے محکمہ آبپاشی کے افسران کو یہ مسئلہ جلد حل کرنے کی تلقین کرتے ہوئے متعلقہ افسران کو تنبیہ کی کہ اگر علاقے میں پانی کی آلودگی کی وجہ سے پھیلنے والی بیماریوں ٹائیفائیڈ،ہیپاٹائٹس اور دیگر بیماریوں کی وجہ سے اگر کوئی ایک بھی موت واقع ہوئی تو متعلقہ افسران کے خلاف مقدمہ درج کیاجائے گا۔انھوں نے کہا کہ ہر افسر کے خلاف مقدمات درج کئے جانے چاہئیں کیونکہ اس مسئلے کایہی ایک حل رہ گیاہے۔جس پر سیکریٹری آبپاشی نے عدالت کو یقین دلایا کہ سکھر بیراج میں پانی کی سطح تیزی سے بلند ہورہی ہے اور چند روز میں صاف پانی منچھر جھیل میں چھوڑ دیاجائے گا جس سے پانی کی آلودگی کامسئلہ حل ہوجائے گا۔
سپریم کورٹ کے جج صاحبان نے سیکریٹری آبپاشی کو ہدایت کی کہ منچھر جھیل کے قریب مچھیروں کی آبادی کو پانی فراہم کرنے والے خراب آر ااو پلانٹس کی مرمت کرکے ان کو فعال بنایاجائے اور ایک ماہ کے اندر اس کی رپورٹ پیش کی جائے۔انھوں نے علاقے کے لوگوں کوہدایت کی کہ اگر صوبائی انتظامیہ اپنے فرائض انجام دینے میں کوتاہی کرے تو وہ متعلقہ افسران کے خلاف مقدمات درج کرائیں ۔
ایک اور عدالت نے بھی گزشتہ روز حکومت کی 24 ایکڑ اراضی پر قبضے کے حوالے سے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران بھی صوبائی انتظامیہ کی کارکردگی پر شدید سوال اٹھائے اور اٹارنی جنرل کو حکم دیا کہ وزیر اعلیٰ سندھ کو لینڈ یوٹیلائیزیشن کے سیکریٹری کے نامناسب رویئے اور افسوسناک کارکردگی سے آگاہ کریں ۔
ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے جج صاحبان کی جانب سے سندھ حکومت کی کارکردگی پر اٹھائے جانے والے سوالات حقائق پر مبنی ہیں اور یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ سرکاری طورپر مختلف منصوبوں پر جن میں عوامی مفاد سے متعلق منصوبے شامل ہیں کروڑوں روپے خرچ کرنے کے اعلانات کیے جاتے ہیں لیکن عملا کہیں بھی کوئی کام نظر نہیں آتا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عوام کے مسائل میں اضافہ ہوتاجارہاہے جبکہ اخبارات اور میڈیا میں اس حوالے سے ہونے والی تنقید کا بھی کوئی سنجیدگی سے جائزہ لینے اور معاملات سدھارنے کی کوشش کرنے کو تیار نظر نہیں آتا جس کا واحد سبب سرکاری فنڈز کی مبینہ طورپر بندر بانٹ ہے جس کے نتیجے میں جیسا کہ جج حضرات نے اپنے ریمارکس میں کہاہے کہ 90 فیصد فنڈ ز ادھر ادھر ہوجاتے ہیں یعنی خورد برد ہوجاتے ہیں اور صرف 10 فیصد فنڈز ہی لگائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے مسائل کے حل کی کوئی راہ نہیں نکل پاتی ۔ جج حضرات کی آبزرویشن سے یہ بات ا ب کھل کر سامنے آگئی ہے کہ سندھ انتظامیہ کے اعلیٰ افسران اب دو ،چار اور ٹین پرسنٹ کے بجائے 90 پرسنٹ پر اتر آئے ہیں اور ترقیاتی کاموں کے لیے مختص فنڈز جو کہ عوام کے خون پسینے کی کمائی سے بطورپر ٹیکس جمع کیے جاتے ہیں لوگوں کی جیبوں میں جارہے ہیں جس کی وجہ سے سندھ انتظامیہ کا کم وبیش ہر ملازم اپنی آمدنی سے زیادہ خرچ کرتا نظر آتاہے ان کی املاک میں دن بہ دن اضافہ ہورہاہے جبکہ دوسری جانب سندھ کے عوام کی بدحالی میں اضافہ ہوتاجارہاہے اور وہ سرکاری افسران کی نااہلی اور کرپشن کی وجہ سے مختلف امراض اور دیگر مسائل کا شکار ہورہے ہیں ۔
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو جو اب تک خود کو مسٹر کلین ظاہرکرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں اس صورت حال پر توجہ دینی چاہئے، اور انھیں سمجھنا چاہئے کہ سندھ انتظامیہ کے بارے میں ملک کی اعلیٰ ترین عدالتوں کے جج حضرات کے یہ ریمارکس پوری سندھ انتظامیہ کے لیے شرمنا ک ہیں ، انھیں جج حضرات کے ان ریمارکس کی روشنی میں حالات کو سدھارنے کے لیے فوری عملی اقدامات کرنے چاہئیں اور فرائض سے غفلت برتنے اور نااہل اور کام چور اعلیٰ افسران کو فوری طورپر ہٹاکر ایماندار افسران کو آگے لانے کی کوشش کرنی چاہئے اور صوبے کے تمام چھوٹے بڑے منصوبوں کی خود نگرانی کرنی چاہئے اور ان کی تکمیل کے دوران اچانک دورے کرکے کام کی رفتار اور کام کی انجام دہی کے دوران استعمال کیے جانے والے میٹریل کا معائنہ کرکے معیارکو یقینی بنانے کی کوشش کرنی چاہئے تاکہ سندھ کی حکومت پر بد انتظامی اور کرپشن کاداغ مٹایاجاسکے۔


متعلقہ خبریں


حکومت بجٹ کو چھپانے لگی،ٹیکس رعایتوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے سے انکار وجود - بدھ 17 جون 2026

حکومت کی جانب سے بجٹ کے حوالے سے آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کی کوششیں ، دونوں فریقین میںمذاکرات کا جاری ، ممکنہ خسارے کے ازالے کیلئے متبادل ریونیو اقدامات پر مشاورت حکومت کا فنانس بل میں شامل مختلف ٹیکس رعایتوں کی مکمل تفصیلات جاری کرنے سے گریز، تنخواہ دار طبقے کو دیے گئے ٹیکس ر...

حکومت بجٹ کو چھپانے لگی،ٹیکس رعایتوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے سے انکار

عمران خان سے ملاقات تک خیبر پختونخوا کا حتمی بجٹ ملتوی، صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپرمنظور ہوگا وجود - بدھ 17 جون 2026

میری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے بات ہوگئی ہے،صوبائی حکومت صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپر پاس کرے گی، آئین کا آرٹیکل 125 اجازت دیتا ہے، آپ 3 ماہ کا بجٹ پیپر پیش کرسکتے ہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک حتمی بجٹ پیش نہیں ہوگا،30 جون تک بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو خیبر پختونخوا...

عمران خان سے ملاقات تک خیبر پختونخوا کا حتمی بجٹ ملتوی، صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپرمنظور ہوگا

منشیات کیس ،پنکی کیخلاف بڑے نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشافات وجود - بدھ 17 جون 2026

ملزمہ سادہ کوکین 20ہزار فی گرام جبکہ گولڈن اسٹف40ہزار فی گرام فروخت کرتی تھی مقدمے میں نامزد پانچ ملزمان مفرور قرار ،پولیس نے گرفتاری کیلئے کارروائیاں تیز کر دی کراچی میں منشیات فروشی کے مبینہ بڑے نیٹ ورک کی مرکزی ملزمہ انمول عرف پنکی اور دیگر کے خلاف منشیات کے مقدمے کا عبوری...

منشیات کیس ،پنکی کیخلاف بڑے نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشافات

کراچی میں پنکی کے بعد ایک اور منشیات گینگ بے نقاب وجود - بدھ 17 جون 2026

منشیات کی ترسیل کے لیے انڈوں کے خول استعمال کیے جاتے تھے،ملزم شاہ فہد سہراب گوٹھ سے مختلف رائیڈرز کے ذریعے مختلف علاقوں میں سپلائی کیا جاتا تھا کراچی سائوتھ زون پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے منشیات سپلائی کرنے والے ایک اور مبینہ منظم نیٹ ورک کا سراغ لگانے کا دعوی کیا ہے۔ گرفتار...

کراچی میں پنکی کے بعد ایک اور منشیات گینگ بے نقاب

سندھ حکومت کا مزید ڈبل ڈیکر اور ای وی بسیں لانے کا اعلان وجود - بدھ 17 جون 2026

رواں سال ڈبل ڈیکر اور جدید الیکٹرک بسوں کی بڑی تعداد کراچی پہنچ جائے گی،شرجیل میمن نئی ڈبل ڈیکر اور ماحول دوست ای وی بسیں مرحلہ وار مختلف روٹس پر چلائی جائیں گی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی کے شہریوں کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کا ا...

سندھ حکومت کا مزید ڈبل ڈیکر اور ای وی بسیں لانے کا اعلان

عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت وجود - منگل 16 جون 2026

ایک شخص کی وجہ سے ملکی تناؤ ہے تو اسے باہر نکالیں، مجھے کہا جاتا ہے آپ تو عمران خان کیخلاف تھے، مخالف جیل میں ہاتھ پاؤں بندھا پڑا ہو تو اس کیخلاف بات نہیں کرتے،سربراہ جے یو آئی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈروں کی تقریروں کو بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے، ہم نے کشمیریوں کی ماؤں بہنوں کی...

عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ وجود - منگل 16 جون 2026

81ہزار ٹن خریداری ہدف سے کم، مقامی مارکیٹ اور پاسکو سے مزید گندم خریدنے کا فیصلہ ہاریوں کو مقررہ امدادی قیمت کی ادائیگی ہر صورت یقینی بنائی جائے،اجلاس میں تفصیلی جائزہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلی ہاؤس میں محکمہ خوراک اور محکمہ زراعت کا مشترکہ اجلاس ...

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ

کراچی کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں ہے،شرجیل میمن وجود - منگل 16 جون 2026

عوام بخوبی جانتے ہیں کہ کس نے اسے بوری بند لاشوں کے تحفے دیے،سینئر صوبائی وزیر کراچی ملک کا معاشی حب اور سندھ کا دارالخلافہ ہے، خالد مقبول کے بیان پر سخت ردعمل سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا خالد مقبول صدیقی کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کراچی کے عوام بخوبی جانتے ہیں ...

کراچی کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں ہے،شرجیل میمن

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان وجود - پیر 15 جون 2026

تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے وجود - پیر 15 جون 2026

پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم وجود - اتوار 14 جون 2026

حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران وجود - اتوار 14 جون 2026

امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران

مضامین
مقبوضہ وادی میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی بھارتی سازش وجود بدھ 17 جون 2026
مقبوضہ وادی میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی بھارتی سازش

علم، اعتدال اور اصلاحِ معاشرہ کا روشن باب وجود بدھ 17 جون 2026
علم، اعتدال اور اصلاحِ معاشرہ کا روشن باب

ایک تقریب ملتوی ہوگئی!! وجود منگل 16 جون 2026
ایک تقریب ملتوی ہوگئی!!

جھوٹ ہمیشہ اعتماد کا قاتل ہوتا ہے! وجود منگل 16 جون 2026
جھوٹ ہمیشہ اعتماد کا قاتل ہوتا ہے!

کب تک ؟ وجود منگل 16 جون 2026
کب تک ؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر