وجود

... loading ...

وجود

سپریم کورٹ سندھ میں بد انتظامی پرشدید برہم اربوں روپے خرچ کردیے گئے کام کچھ نہیں ہوا۔۔90 فیصد رقم ضائع ہورہی ہے، ریمارکس

جمعرات 10 اگست 2017 سپریم کورٹ سندھ میں بد انتظامی پرشدید برہم اربوں روپے خرچ کردیے گئے کام کچھ نہیں ہوا۔۔90 فیصد رقم ضائع ہورہی ہے، ریمارکس

سپریم کورٹ نے گزشتہ روز منچھر جھیل کے پانی میں آلودگی کے حوالے سے مقدمے کی سماعت کے دوران سندھ کے سرکاری اداروں میں بد انتظامی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اربوں روپے ادھر ادھر کئے جارہے ہیں لیکن عملاً کوئی کام نظر نہیں آرہا ہے۔مقدمے کی سماعت کرنے والی دو رکنی بنچ کے سربراہ جسٹس گلزار احمد نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ 100 روپے میں سے90 روپے ادھر ادھر ہوجاتے ہیں ،معزز جج نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اگر کم از کم60 فیصد فنڈز بھی خرچ کیے جائیں تو کچھ کام نظر آتاہے۔انھوں نے یہ ریمارکس محکمہ آبپاشی کے سیکریٹری کی جانب سے اس اعتراف کے بعد دئے جس میں انھوں نے کہا کہ ماہی گیروں کو صاف پانی کی فراہمی کیلئے پانی صاف کرنے کے دوریورس اوسموسس پلانٹس لگائے گئے تھے لیکن اب دونوں ناکارہ پڑے ہیں ۔اس موقع پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اب وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے آر بی او ڈی کے ون ٹو اور تھری پراجیکٹس کو مکمل کرنے پر اتفاق کرلیاہے اور اس پر جلد کام شروع کردیاجائے گا۔سیکریٹری آبپاشی نے عدالت کوبتایا کہ وفاقی حکومت نے اس پراجیکٹ کی منظوری دی تھی اورخیال کیاجاتاتھا کہ وفاق اس مقصد کے لیے جلد رقم جاری کردے گا جس سے یہ تاثر پیداہوا کہ حکومت سندھ کو اس پراجیکٹ کے لیے وفاق سے فنڈز مل رہے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں سندھ کی حکومت کا کوئی کردار نہیں ہے ہمارا کام صرف وفاق سے فنڈز وصول کرکے متعلقہ حلقوں کواس کی ادائیگی کردینا ہے۔اس موقع پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو یقین دلایا کہ سندھ کی حکومت اس معاملے کو حل کرنے کی کوشش کررہی ہے اورجلد ہی یہ معاملہ حل کرلیاجائے گا۔سپریم کورٹ کے معزز جج جسٹس احمد نے ایک دفعہ پھر یہ واضح کیا کہ صرف فنڈ وصول کرنے سے یہ معاملہ حل نہیں ہوسکتا بلکہ جو فنڈز خرچ کئے جارہے ہیں ان سے کام ہوتاہوا نظر آنا چاہئے،سیکریٹری آبپاشی نے عدالت کے سامنے تسلیم کیا کہ منچھر لیک کے گرد رہنے والے باشندوں نے آلودہ پانی کی فراہمی کی شکایت کی تھی اور آلودہ پانی فراہم کیے جانے کی وجہ سے علاقے کے لوگ ہیپا ٹائٹس اوردیگر بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہیں لیکن ان کو صاف پانی کی فراہمی کے لیے منچھر جھیل میں صاف پانی نہیں چھوڑا جاسکا۔
منچھر جھیل کے اطراف آبادیوں کو آلودہ پانی کی فراہمی سے پیدا ہونے والی سنگین صورت حال پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے جسٹس احمد نے محکمہ آبپاشی کے افسران کو یہ مسئلہ جلد حل کرنے کی تلقین کرتے ہوئے متعلقہ افسران کو تنبیہ کی کہ اگر علاقے میں پانی کی آلودگی کی وجہ سے پھیلنے والی بیماریوں ٹائیفائیڈ،ہیپاٹائٹس اور دیگر بیماریوں کی وجہ سے اگر کوئی ایک بھی موت واقع ہوئی تو متعلقہ افسران کے خلاف مقدمہ درج کیاجائے گا۔انھوں نے کہا کہ ہر افسر کے خلاف مقدمات درج کئے جانے چاہئیں کیونکہ اس مسئلے کایہی ایک حل رہ گیاہے۔جس پر سیکریٹری آبپاشی نے عدالت کو یقین دلایا کہ سکھر بیراج میں پانی کی سطح تیزی سے بلند ہورہی ہے اور چند روز میں صاف پانی منچھر جھیل میں چھوڑ دیاجائے گا جس سے پانی کی آلودگی کامسئلہ حل ہوجائے گا۔
سپریم کورٹ کے جج صاحبان نے سیکریٹری آبپاشی کو ہدایت کی کہ منچھر جھیل کے قریب مچھیروں کی آبادی کو پانی فراہم کرنے والے خراب آر ااو پلانٹس کی مرمت کرکے ان کو فعال بنایاجائے اور ایک ماہ کے اندر اس کی رپورٹ پیش کی جائے۔انھوں نے علاقے کے لوگوں کوہدایت کی کہ اگر صوبائی انتظامیہ اپنے فرائض انجام دینے میں کوتاہی کرے تو وہ متعلقہ افسران کے خلاف مقدمات درج کرائیں ۔
ایک اور عدالت نے بھی گزشتہ روز حکومت کی 24 ایکڑ اراضی پر قبضے کے حوالے سے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران بھی صوبائی انتظامیہ کی کارکردگی پر شدید سوال اٹھائے اور اٹارنی جنرل کو حکم دیا کہ وزیر اعلیٰ سندھ کو لینڈ یوٹیلائیزیشن کے سیکریٹری کے نامناسب رویئے اور افسوسناک کارکردگی سے آگاہ کریں ۔
ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے جج صاحبان کی جانب سے سندھ حکومت کی کارکردگی پر اٹھائے جانے والے سوالات حقائق پر مبنی ہیں اور یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ سرکاری طورپر مختلف منصوبوں پر جن میں عوامی مفاد سے متعلق منصوبے شامل ہیں کروڑوں روپے خرچ کرنے کے اعلانات کیے جاتے ہیں لیکن عملا کہیں بھی کوئی کام نظر نہیں آتا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عوام کے مسائل میں اضافہ ہوتاجارہاہے جبکہ اخبارات اور میڈیا میں اس حوالے سے ہونے والی تنقید کا بھی کوئی سنجیدگی سے جائزہ لینے اور معاملات سدھارنے کی کوشش کرنے کو تیار نظر نہیں آتا جس کا واحد سبب سرکاری فنڈز کی مبینہ طورپر بندر بانٹ ہے جس کے نتیجے میں جیسا کہ جج حضرات نے اپنے ریمارکس میں کہاہے کہ 90 فیصد فنڈ ز ادھر ادھر ہوجاتے ہیں یعنی خورد برد ہوجاتے ہیں اور صرف 10 فیصد فنڈز ہی لگائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے مسائل کے حل کی کوئی راہ نہیں نکل پاتی ۔ جج حضرات کی آبزرویشن سے یہ بات ا ب کھل کر سامنے آگئی ہے کہ سندھ انتظامیہ کے اعلیٰ افسران اب دو ،چار اور ٹین پرسنٹ کے بجائے 90 پرسنٹ پر اتر آئے ہیں اور ترقیاتی کاموں کے لیے مختص فنڈز جو کہ عوام کے خون پسینے کی کمائی سے بطورپر ٹیکس جمع کیے جاتے ہیں لوگوں کی جیبوں میں جارہے ہیں جس کی وجہ سے سندھ انتظامیہ کا کم وبیش ہر ملازم اپنی آمدنی سے زیادہ خرچ کرتا نظر آتاہے ان کی املاک میں دن بہ دن اضافہ ہورہاہے جبکہ دوسری جانب سندھ کے عوام کی بدحالی میں اضافہ ہوتاجارہاہے اور وہ سرکاری افسران کی نااہلی اور کرپشن کی وجہ سے مختلف امراض اور دیگر مسائل کا شکار ہورہے ہیں ۔
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو جو اب تک خود کو مسٹر کلین ظاہرکرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں اس صورت حال پر توجہ دینی چاہئے، اور انھیں سمجھنا چاہئے کہ سندھ انتظامیہ کے بارے میں ملک کی اعلیٰ ترین عدالتوں کے جج حضرات کے یہ ریمارکس پوری سندھ انتظامیہ کے لیے شرمنا ک ہیں ، انھیں جج حضرات کے ان ریمارکس کی روشنی میں حالات کو سدھارنے کے لیے فوری عملی اقدامات کرنے چاہئیں اور فرائض سے غفلت برتنے اور نااہل اور کام چور اعلیٰ افسران کو فوری طورپر ہٹاکر ایماندار افسران کو آگے لانے کی کوشش کرنی چاہئے اور صوبے کے تمام چھوٹے بڑے منصوبوں کی خود نگرانی کرنی چاہئے اور ان کی تکمیل کے دوران اچانک دورے کرکے کام کی رفتار اور کام کی انجام دہی کے دوران استعمال کیے جانے والے میٹریل کا معائنہ کرکے معیارکو یقینی بنانے کی کوشش کرنی چاہئے تاکہ سندھ کی حکومت پر بد انتظامی اور کرپشن کاداغ مٹایاجاسکے۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر