وجود

... loading ...

وجود

پاکستان میں داعش کے خطرات میں اضافہ

جمعرات 20 جولائی 2017 پاکستان میں داعش کے خطرات میں اضافہ

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفورنے گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی کے ہیڈ کوارٹر پاڑا چنار سے گرفتار ہونے والوں کا تعلق شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے ثابت ہوا ہے جو سرحد پار افغانستان کے علاقے میں مضبوط ہو رہی ہے۔ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاکستان میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کا باقاعدہ تنظیمی ڈھانچہ موجود نہیں لیکن تحریک طالبان پاکستان کے چند منحرف گروپ اُن کی جانب مائل ہیں اور دہشت گردی کی کارروائیوں کی ذمہ داری لیتے ہیں۔
میجر جنرل آصف غفور نے بتایاکہ ان کے خلاف آج سے پاکستانی فوج نے آپریشن ردالفساد کے تحت خیبر ایجنسی کی وادی راجگال میں خیبر فور کے نام سے ایک زمینی آپریشن شروع کیا ہے۔اْنہوں نے آپریشن خیبر فور کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ یہ مشکل ترین علاقوں میں شامل ہے جو 250 مربع کلومیٹر پر مشتمل ہے اور 12 سے 14 ہزار فٹ کی بلند پہاڑی چوٹیاں اِس علاقے میں موجود ہیں۔اِس آپریشن کی اہمیت کے بارے میں اْن کا کہنا تھا کہ یہ اِس لیے بھی بہت اہم ہے کہ افغانستان میں مضبوط ہوتی ہوئی شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کا پاکستانی علاقے میں اثر روکا جا سکے۔
آئی ایس پی آر کے سربراہ نے فوجی عدالتوں کے بارے میں بتایا کہ فوجی عدالتوں میں پاڑا چنار سے گرفتار ہونے والے 17 ملزمان کے مقدمات بھی فوجی عدالتوں میں تیزی سے چلائے جائیں گے۔اْن کے مطابق ‘ فوجی عدالتوں کی پچھلی مدت کے دوران کل 274 ملزمان کو مختلف سزائیں دی گئیں جن میں سے 161 کو سزائے موت سنائی گئی تھی اور 53 پر عمل درآمد ہو چکا ہے، فی الحال 40 مختلف مقدمات فوجی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔میجر جنرل آصف غفور نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جن امریکی ممبران کانگریس نے ایوان زیریں میں پاکستان کی امداد کو مشروط کرنے کا بل پیش کیا اور منظور کرایا ہے اْن کی تاریخ بتاتی ہے کہ وہ بھارت کے زیرِ اثر ہیں اور ایسے بل پہلے بھی پیش کر چکے ہیں لیکن اِس کی حتمی منظوری میں ابھی کافی مراحل موجود ہیں۔
پاکستان کی فوج نے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کے سرحدی علاقے وادی راجگال میں سرحد پار سے دولت اسلامیہ کا اثر رسوخ روکنے کے لیے ‘خیبر فور’ کے نام سے ایک نئے آپریشن کا آغاز ایسے وقت کیا ہے جب ملک کے مختلف علاقوں بالخصوص فاٹا میں دولتِ اسلامیہ کے حملوں میں نہ صرف اضافہ ہوتا جا رہا ہے بلکہ خیبر پختونخوا میں بھی تنظیم کی جانب سے اثر و رسوخ پیدا کرنے کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے دو دن پہلے بریفنگ میں تصدیق کی تھی کہ رواں سال کرم ایجنسی کے صدر مقام پاڑہ چنار میں ہونے والے حملوں میں سرحد پار سے بعض تنظیموں کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔پاکستان کی سرحد سے متصل افغان صوبوں میں کچھ عرصے سے دولتِ اسلامیہ کا اثر و رسوخ نہ صرف بڑھا ہے بلکہ ان کی جانب سے بعض علاقوں پر قبضہ بھی کیا گیا ہے جس سے سرحد کے اس پار تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔
بعض غیر ملکی اخبارات کے مطابق دولتِ اسلامیہ نے پاکستانی سرحد سے ملحق افغان صوبہ ننگرہار کے پہاڑی علاقے تورہ بورہ پر قابض ہونے کا دعویٰ کیا ہے جو ماضی میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کا مسکن رہا ہے۔شدت پسندی پر نظر رکھنے والے سینئر تحقیق کار عامر رانا کا کہنا ہے کہ پاکستان میں دولت اسلامیہ کا اثر و رسوخ ضرور موجود ہے لیکن وہ اس حد تک نہیں کہ جس طرح دیگر کالعدم تنظیموں کا ہے۔انھوں نے کہا کہ ریاست یہ سمجھتی ہے کہ پاکستان میں دولت اسلامیہ کا دیگر شدت پسند تنظیموں کے ساتھ الحاق ہے لیکن مشرق وسطیٰ کے ایک الگ گروپ کی صورت میں اس کا کوئی وجود نہیں ہے۔
عامر رانا کے مطابق ‘پاکستان میں دولتِ اسلامیہ ایک مقامی گروپ کی شکل میں موجود ہے، اسے اس تنظیم کی شکل میں نہیں لیا جاتا جو شام اور عراق میں سرگرم ہے بلکہ یہاں کے بعض جنگجو کمانڈروں نے پاکستانی تنظیموں سے تعلق بنا لیا ہے اور وہ ان کے ساتھ مل کر حملے کر رہے ہیں۔’ان کے بقول دولتِ اسلامیہ نے حال ہی میں دیگر تنظیموں سے شامل ہونے والے جنگجوؤں کے لیے بعض مسلکی شرائط رکھی ہیں جس سے اس تنظیم کی عددی اکثریت کم ہوتی جا رہی ہے۔پاکستان کی سرحد سے متصل افغان صوبوں میں کچھ عرصے سے دولتِ اسلامیہ کا اثر و رسوخ بڑھا ہے۔
ادھر وادی راجگال میں فوج کی جانب سے شروع کیے جانے والے آپریشن ‘خیبر فور’ کا اعلان ذرائع ابلاغ کے ذریعے سے کیا گیا ہے جس سے یہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ اس طرح کے اعلانات دہشت گردوں کے لیے سرحد پار فرار کا موقع بھی فراہم کر سکتے ہیں۔دفاعی امور کے تجزیہ نگار بریگیڈیئر ریٹائرڈ سعد محمد اس سے اتفاق نہیں کرتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ آپریشن کا اعلان تو ایک خانہ پری ہوتی ہے اور اس کے لیے تمام تر منصوبہ بندی پہلے سے مکمل ہو چکی ہوتی ہے۔انھوں نے کہا کہ کسی بھی آپریشن کو شروع کرنے سے پہلے اس کی تیاری میں کئی ماہ لگتے ہیں اور بعض اوقات تو کچھ غیر اعلانیہ کارروائیاں بھی کی جاتی ہیں تاہم اس کا باقاعدہ اعلان بعد میں کیا جاتا ہے۔بریگیڈیئر ریٹائرڈ سعد محمد نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب سے پہلے گومگو کی صورت حال تھی کہ آپریشن کیا جائے یا نہیں جس سے اہم کمانڈروں کو علاقے سے فرار ہونے کا موقع ملا تھا۔پاکستان میں دولتِ اسلامیہ کی موجودگی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ اس شدت پسند تنظیم کا پاکستان میں کوئی باقاعدہ مرکز نہیں ہے لیکن سرحد پار ان کے مضبوط ٹھکانے موجود ہیں۔
ایک طرف انتہاپسند تنظیموں کے خلاف فوجی کارروائی کی جارہی ہے اورپاک فوج ان کے خاتمے کی پیہم کوششیںکررہی ہے اور دوسری طرف صورت حال یہ ہے کہ اطلاعات کے مطابق پاکستان کے مختلف علاقوں میں کالعدم تنظیموں کی جانب سے چندہ مہم دوبارہ شروع کر دی گئی ہے اور اس مہم میں کہا جا رہا ہے کہ مجاہدین افغانستان اور دیگر علاقوں میں جہاد جاری رکھے ہوئے ہیں اور انھیں مدد کی ضرورت ہے۔
خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر مشتاق غنی نے صوبے میں کالعدم تنظیموں کی جانب سے چندہ مہم شروع کرنے کی تردید کرتے ہوئے گزشتہ روز دعویٰ کیاتھاکہ صوبے کی سطح پر ایسے واقعات کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔لیکن کالعدم تنظیموںکے بعض ایسے ویڈیو کلپس اور ایسے پمفلٹ یا خطوط سامنے آئے ہیں جن میں لوگوں سے کہا گیا ہے کہ مجاہدین کی مدد کی جائے۔بظاہر ایک ویڈیو کلپ کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ یہ خیبر پختونخوا کے کسی دور افتادہ علاقے کی ایک مسجد میں لیا گیا ہے جس میں جہاد کی دعوت دی جا رہی ہے اور کہا گیا ہے کہ مجاہدین کی مدد کی جائے۔سوشل میڈیا پر ایک خط بھی سامنے آیا ہے جس میں افغانستان میں طالبان کی مدد کی اپیل گئی ہے۔یہ خط بلوچستان کے ضلع ژوب کی ایک مسجد کے لیے ہے جس میں جمعہ کو مجاہدین کے لیے چندہ جمع کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔اس مسجد کے امام کے مطابق مجاہدین کی مدد کے لیے چندہ جمع کیا جاتا ہے۔تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ایک عرصے کے بعد اس طرح کی سرگرمیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔
شدت پسندی کے موضوع پر تحقیق کرنے والے تجزیہ کار پروفیسر خادم حسین کے مطابق پاکستان کے مختلف علاقوں سے کالعدم تنظیموں کی جانب سے یہ مہم شروع کی گئی ہے۔پروفیسر خادم حسین نے بتایا کہ اس مہم کے ذریعے چندہ جمع کرنے اور لوگوں کو اپنی تنظیموں کی جانب راغب کرنے کے لیے کام کیا جاتا ہے جبکہ حکومت کی جانب سے اس کی روک تھام کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نظر نہیں آ رہے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے تمام متعلقہ اداروں کو ضروری اقدامات کرنا ہوں گے کیونکہ کالعدم تنظیمیں خطے میں واقع مختلف ممالک میں متحد ہونے کی کوششیں کر رہی ہیں اور اگر یہ کامیاب ہوتے ہیں تو پھر اس کے اثرات پورے خطے پر ہوں گے۔یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس مہم میں وہ اپنی مالی مشکلات کا ذکر کر رہے ہیں تو کیا اس سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ پاکستان میں جاری آپریشن ضرب عضب اور آپریشن ردالفساد کے نتیجے میں کالعدم تنظیموں کے وسائل میں کمی واقع ہوئی ہے؟تجزیہ نگاروں کے مطابق فوج نے اپنے اہداف حاصل کر لیے لیکن سول اداروں کی کمی محسوس ہوئی ہے۔
پروفیسر خادم حسین کا کہنا تھا ان آپریشنز کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سول اداروں کی کمی محسوس ہو رہی ہے کیونکہ فوج نے تو اپنے اہداف حاصل کیے ہیں لیکن ان تنظیموں سے وابستہ افراد عام شہری آبادیوں میں گھل مل جاتے ہیں۔اس بارے میں تجزیہ کار بریگیڈیر ریٹائرڈ محمود شاہ سے رابطہ کیاگیا تو ان کا کہنا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ حکومت کا ہاتھ ڈھیلا پڑ گیا ہے جس کی وجہ سے یہ سرگرمیاں ایک مرتبہ پھر شروع ہو گئی ہیں۔انھوں نے کہا کہ’کچھ عرصہ پہلے پشاور اور دیگر بڑے شہروں میں بھی یہ چندہ مہم دیکھی جاتی تھی لیکن حکومت کی کارروائیوں کے بعد یہ سرگرمیاں ختم ہو گئی تھیں۔مبصرین کا کہنا ہے کہ چندہ جمع کرنے اور دیگر سرگرمیوں کا قلع قمع کرنے کے لیے فوجی اہداف کے حصول کے بعد سول اداروں کو متحرک کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان تنظیموں سے وابستہ عناصر پھر سے اپنی سر نہ اٹھا سکیں اور عام شہریوں میں گھل مل نہ جائیں جبکہ اس کے لیے نیشنل ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کو فعال کرنے کی ضرورت ہے۔
تہمینہ حیات نقوی


متعلقہ خبریں


امریکا نے ایران کی نئی تجاویز مسترد کردیں وجود - هفته 02 مئی 2026

ایران کی تازہ تجاویز سے مطمئن نہیں،فیصلہ کرنا ہے کہ تہران کیخلاف طاقت استعمال کریں یا مذاکرات کیے جائیں، ٹرمپ کا دو ٹوک اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی تازہ ترین تجاویز سے مطمئن نہیں ہیں۔ واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایرانی ق...

امریکا نے ایران کی نئی تجاویز مسترد کردیں

مہنگائی کی شرح ایک بار پھر ڈبل ڈیجٹ میں داخل وجود - هفته 02 مئی 2026

وزارت خزانہ کے تخمینے غلط ثابت، مہنگائی 21 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی مہنگائی کی سالانہ شرح 10.89فیصد تک جاپہنچی، وفاقی ادارہ شماریات وفاقی ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ماہانہ رپورٹ جاری کر دی۔وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق مارچ کے مقابلے اپریل میں مہنگائی ک...

مہنگائی کی شرح ایک بار پھر ڈبل ڈیجٹ میں داخل

گلوبل صمود فلوٹیلا کے گرفتار ارکان کو یونان بھیجنے کا فیصلہ وجود - هفته 02 مئی 2026

اسرائیلی اقدامات سے معاملے پر سفارتی اور انسانی حقوق کے حلقوں میں تشویش بڑھ گئی اسرائیلی حکام نے ابتدائی طور پر 175 گرفتار افراد کو اسرائیل منتقل کرنے کا عندیہ دیا تھا اسرائیل نے غزہ کیلئے امداد لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کے گرفتار ارکان کو یونان بھیجنے کا فیصلہ کر لیا۔ ...

گلوبل صمود فلوٹیلا کے گرفتار ارکان کو یونان بھیجنے کا فیصلہ

پاک-افغان سرحد پر دراندازی کی 2کوششیں ناکام، 13 دہشت گرد ہلاک وجود - جمعه 01 مئی 2026

سیکیورٹی فورسز نے سرحد کے راستے دراندازی کی کوشش کرنیوالے دہشت گردوں کے ایک گروہ کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا اور بروقت کارروائی کرتے ہوئے خوارج کو نشانہ بنایا 28 اور 29 اپریل کوخیبر پختونخوا میں شدید فائرنگ کے تبادلے میںضلع مہمند میں 8 اور شمالی وزیرستان میں 5 فتنۃ الخوارج کے دہ...

پاک-افغان سرحد پر دراندازی کی 2کوششیں ناکام، 13 دہشت گرد ہلاک

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ،پیٹرول کی فی لیٹر نئی قیمت 399 روپے 86 پیسے ہو گئی وجود - جمعه 01 مئی 2026

ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 19 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافہ، نئی قیمت 399 روپے 58 پیسے مقرر،آبنائے ہرمز کا معاملہ فوری حل نہ ہوا تو 9 مئی کو قیمتوں میں مزید بڑا اضافہ ہوگا، ذرائع وزیراعظم کاموٹر سائیکل سواروں، پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ کو ملنے والی سبسڈی میں ایک ماہ کی توسیع کا فیصل...

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ،پیٹرول کی فی لیٹر نئی قیمت 399 روپے 86 پیسے ہو گئی

پی ٹی آئی سینیٹ گروپ میں اختلافات ،شدیدتلخ کلامی وجود - جمعه 01 مئی 2026

سینیٹر مشعال یوسفزئی کے مبینہ وائس نوٹ نے گروپ میں ہلچل مچا دی فلک ناز چترالی سمیت خواتین سینیٹرز نے مشعال کو آڑے ہاتھوں لے لیا اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹ گروپ کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آ گئے اورسینیٹرز کے درمیان شدید تلخ کلامی دیکھنے میں آئی ہے۔ذرائع...

پی ٹی آئی سینیٹ گروپ میں اختلافات ،شدیدتلخ کلامی

امریکا آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے نیا عالمی اتحاد بنانے کیلئے سرگرم وجود - جمعه 01 مئی 2026

متعلقہ ممالک کو نئے معاہدے کیلئے راغب کریں،محکمہ خار جہ کا امریکی سفارتخانوں کو پیغام معاہدے کا نام میری ٹائم فریڈم کنسٹرکٹ رکھا گیا ہے،ہرمز کاروبار کیلئے تیار ، ٹرمپ کا دعویٰ امریکہ نے آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے نیا عالمی اتحاد بنانے کی کوششیں تیز کر دیں۔غیرملکی میڈیارپورٹ ک...

امریکا آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے نیا عالمی اتحاد بنانے کیلئے سرگرم

ملک ریاض،علی ریاض کے انٹرپول سے ریڈ وارنٹ جاری وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

بحریہ ٹاؤن کراچی منی لانڈرنگ کیس میںدونوں ملزمان کوواپس لانے کیلئے امارات کی حکومت سے رابطہ کر لیا، جلد گرفتار کر کے پاکستان لاکرمقدمات کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے، چیئرمین نیب ریڈ وارنٹ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں کرپشن کے مقدمات پر جاری ہوئے، 900 ارب سے زائد کے مقدمات کی تحقیقات م...

ملک ریاض،علی ریاض کے انٹرپول سے ریڈ وارنٹ جاری

امریکی فوج کا ایران کیخلاف مختصر، طاقتورحملوں کا منصوبہ تیار وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

ممکنہ حملوں میں ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، امریکا ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے اور زیادہ لچک دکھانے پر زور دے گا، سینٹرل کمانڈ ٹرمپ نے ایران کی پیشکش مسترد کردی، امریکا کے خدشات دور کیے جائیں اس وقت تک ایران پر بحری ناکہ بندی برقرار رکھی جائے گی،...

امریکی فوج کا ایران کیخلاف مختصر، طاقتورحملوں کا منصوبہ تیار

پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال فائرنگ،پاک فوج کا بھرپورجواب وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

چمن سیکٹر میں بلا اشتعال جارحیت پرافغان طالبان کی متعدد چوکیاں،گاڑیوں کو درستگی سے نشانہ بنا کر تباہ پاک فوج کی موثر کارروائیوں نے افغان طالبان اور دہشتگردوںکو پسپائی پر مجبور کر دیا ہے،سکیورٹی ذرائع پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت کا پاک فوج نے بھرپور جوا...

پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال فائرنگ،پاک فوج کا بھرپورجواب

امن مشن جاری، معاشی چیلنجز پر قابو پانے کا عزم( وزیراعظم) وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

کابینہ اجلاس سے خطاب میں کفایت شعاری اقدامات جاری رکھنے کا اعلان مسائل پہاڑ بن کر سامنے کھڑے ہیں لیکن مشکل وقت سے سرخرو ہوکر نکلیں گے وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی اور قیام امن کیلئے متواتر کوششیں کیں جو ہنوز جاری ہیں، جنگ کی وجہ سے...

امن مشن جاری، معاشی چیلنجز پر قابو پانے کا عزم( وزیراعظم)

سندھ پولیس پروفیشنل فورس ،بد نامی برداشت نہیں کرینگے ،جاوید عالم اوڈھو وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

جو اہلکار مجرمانہ سرگرمی میں ملوث ہوا اسے B کمپنی کا مکین بنایا جائے گا، آئی جی سندھ اسٹریٹ کرائم اور آرگنائز کرائم پر زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں کی جا رہی ہیں (کرائم رپورٹر؍ اسد رضا) جو اہلکار و افسران ڈیپارٹمنٹ کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں ان تمام عناصر کے خلاف ...

سندھ پولیس پروفیشنل فورس ،بد نامی برداشت نہیں کرینگے ،جاوید عالم اوڈھو

مضامین
آؤ ! اپنے اندر جھانکیں! وجود هفته 02 مئی 2026
آؤ ! اپنے اندر جھانکیں!

بھارت میں مذہبی آزادی ناپید وجود هفته 02 مئی 2026
بھارت میں مذہبی آزادی ناپید

گمشدہ مسافر وجود جمعه 01 مئی 2026
گمشدہ مسافر

دنیا کا نظام پلٹ رہا ہے ! وجود جمعه 01 مئی 2026
دنیا کا نظام پلٹ رہا ہے !

سوگ وجود جمعه 01 مئی 2026
سوگ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر