وجود

... loading ...

وجود

بارشوں کے دوران وبائی امراض پھیلنے کا خطرہ ،بچائو کے انتظامات ناپید

هفته 15 جولائی 2017 بارشوں کے دوران وبائی امراض پھیلنے کا خطرہ ،بچائو کے انتظامات ناپید

محکمہ موسمیات نے جولائی سے ستمبر کے دوران ملک بھر میں بارشوں کی پیش گوئی کی ہے اور اس پیش گوئی کے مطابق کراچی سمیت ملک کے طول وعرض میں بارشوں کاسلسلہ نہ صرف شروع ہوچکا ہے بلکہ اس کے جاری رہنے کی بھی پوری توقع ہے۔
بارشوں کے آغاز کے ساتھ ہی ملک کے مختلف علاقوں میں پیدا ہونے والی سیلابی کیفیت ، کرنٹ لگنے اور دیگر حادثات کے نتیجے میں اب تک دو درجن سے زیادہ افراد کی ہلاکتوں کی اطلاعات موصول ہوچکی ہیں جبکہ بارشوں کے ساتھ ہی اس طرح کے واقعات پیش آتے رہنے کے خدشات کو نظر انداز نہیں کیاجاسکتا ۔بارشوں میں ہونے والی حادثاتی اموات کے علاوہ اس وقت سب سے بڑا خطرہ بارشوں کے باعث سیلن سے پیداہونے والے جراثیم ، حشرات الارض ، مکھیوں اور مچھروں کی وجہ سے پھیلنے والے وبائی امراض کا ہے ۔اصولی طورپر محکمہ موسمیات کی جانب سے بارشوں کی پیش گوئی سے قبل ہی بارشوں کا موسم شروع ہونے سے بہت پہلے ہی حکومت کو اس طرح کے وبائی امراض سے نمٹنے کے خصوصی انتظامات کے ساتھ ہی لوگوں کو ان وبائی امراض سے محفوظ رکھنے کے لیے احتیاطی انتظامات شروع کردینے چاہئے تھے جن میں لوگوں کو خاص طورپر شہر وں کے نواحی اور پسماندہ علاقوں کے علاوہ دیہات میں احتیاطی ویکسین لگانے کے ابتدائی انتظامات شامل ہیں۔اس کے لیے شہروں اور دیہی علاقوں کے ہسپتالوں اور صحت مراکز میں ممکنہ اور متوقع وبائی امراض کی ویکسین اور دیگر ضروری ادویہ کی وافر مقدار میں فراہمی کے علاوہ ہسپتالوں اور صحت مراکز میں ان وبائی امراض کا شکار ہونے والے لوگوں کے علاج معالجے کی مناسب سہولتوں کا انتظام شامل ہے لیکن دیہی اور پسماندہ علاقے تو کجا اب تک سندھ کی حکومت نے شہروں کے بڑے ہسپتالوں میں بھی اس حوالے سے کوئی انتظامات نہیں کیے ہیں جس کی وجہ سے کسی بھی وبائی مرض کے پھیلنے کی صورت میں مریضوں کو علاج کی سہولتوں کی فراہمی میں مشکلات پیش آنے کے خدشات کو رد نہیں کیاجاسکتا۔
اطلاعات کے مطابق نیشنل ہیلتھ انسٹی ٹیوٹ نے بھی متعلقہ اداروں کو اس حوالے سے ضروری انتظامات کرنے اورپانی اور اشیائے خوراک کو آلودگی سے محفوظ رکھنے کے حوالے سے اقدامات کی ہدایت کی تھی لیکن اس کے باوجود اب تک اس حوالے سے کوئی پیش رفت نظر نہیں آسکی ہے۔ نیشنل ہیلتھ انسٹی ٹیوٹ نے یہ بھی متنبہ کیاتھا کہ بارشوں کے دوران ذرا سی بے احتیاطی سے امراض بڑی تیزی سے پھیلتے ہیں اور پیشگی انتظامات نہ کیے جانے کی صورت میں ان پر قابو پانا مشکل ہوجاتاہے جس سے بڑی تعداد میں انسانی جانیں ضائع ہونے کے خدشات کو نظر انداز نہیں کیاجاسکتا۔ نیشنل ہیلتھ انسٹی ٹیوٹ نے متنبہ کیاتھا کہ اس موسم میں آنتوں میں انفیکشن، گیسڑو انٹریٹیز ، ٹائیفائیڈاور میعادی بخار وغیرہ قسم کے امراض تیزی سے پھیلتے ہیں۔اس لیے اس موسم میں شہریوں کو فراہم کیے جانے والے پانی میں کلورین کی مناسب مقدارکی آمیزش کو یقینی بنانے کے ساتھ ہی پانی میں کسی بھی طرح کی آلودگی کی روک تھام اور گندے پانی کی فوری اور بلاتعطل نکاسی کو یقینی بنانے کے علاوہ سڑکوں اورگلیوں میں موجود گڑھوں میں پانی بھرنے سے بچائو کے لیے ان گڑھوں کو فوری طور پر بھرنا ضروری ہے،اس کے علاوہ کھلی ہوئی کھانے پینے کی اشیا کی فروخت روکنے اور گلے سڑے پھلوں کے استعمال کو روکنے کے لیے ان کو فوری طورپر ٹھکانے لگانے اور عوام میں بھرپور آگہی مہم چلانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیاتھا۔
نیشنل ہیلتھ انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی تھی کہ وبائی امراض سے بچائو کے لیے کیے جانے والے انتظامات کی باقاعدگی سے مانیٹرنگ کرنے اور حالات کے مطابق انھیں اپ ڈیٹ کرنے کے بھی انتظامات کیے جانے چاہئیں۔ نیشنل ہیلتھ انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ نے یہ بھی ہدایت کی تھی کہ کسی بھی علاقے سے پیٹ کی بیماریوں دست قے، یابخارکا کوئی ایک بھی مریض سامنے آنے پر اس کے اسباب کی فوری طورپر چھان بین کی جانی چاہئے تاکہ اس کے اسباب کا فوری اور بروقت سدباب کیاجاسکے۔انھوں نے اس حوالے سے ضلعی ہیلتھ ٹیموں کو فوری طورپر فعال کرنے اور ان کے کاموں کو بہتر انداز میں مانیٹرنگ کرنے کی بھی ہدایت کی تھی۔انھوں نے اس حوالے سے خاص طورپر یہ نشاندہی کی تھی کہ شہروں اوردیہی علاقوں میں خاص طورپر گنجان آباد بستیاں اور تنگ گلیاںاس طرح کے وبائی امراض کا اصل گڑھ ثابت ہوتی ہیں۔ اس لیے ان کی صفائی کے ساتھ ہی ان علاقوں میں رہنے والوں کو حفاظتی ویکسین لگانے کے خصوصی انتظامات کیے جانے چاہئیںلیکن ایسا محسوس ہوتاہے کہ نیشنل ہیلتھ انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے اس بروقت بلکہ قبل از وقت انتباہ کا سندھ کے محکمہ صحت نے کوئی نوٹس نہیں لیا ہے اور اسے بھی معمول کی خط وکتابت تصور کرتے ہوئے داخل دفتر کردیاہے۔جس کااندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ سرکاری ہسپتالوں اور مراکز صحت میں ابھی تک بارش کی وجہ سے پیداہونے والی غیر متوقع ہنگامی حالت سے نمٹنے کے لیے انتظامات کے فقدان دوائوں کی نایابی اور عملے کی عدم دستیابی سے لگایاجاسکتاہے ، دوسری جانب سڑکوں پر لگے ہوئے کچرے کے ڈھیر اور جگہ جگہ بہتے سیوریج کے پانی سے اٹھتے ہوئے تعفن سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے حکام بالا کو اب بھی حالات کی سنگینی کاکوئی احساس نہیں ہے ۔
توقع کی جاتی ہے حکومت سندھ حالات کی سنگینی کااحساس کرے گی اور کسی بھی متوقع وبائی مرض کے پھیلنے کے خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے نیشنل ہیلتھ انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ کی ہدایت کے مطابق ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے محکمہ سندھ کے حکام کو اپنی ذمہ داریاں احسن طور پر انجام دینے واٹر اور سیوریج بورڈ کے حکام کو شہریوں کو صاف اور کلورین ملا پانی فراہم کرنے اور گندے پانی کی جلد از جلد نکاسی اور کچرے کے ڈھیر صاف کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات اُٹھانے پر مجبور کرنے کے لیے مناسب حکمت عملی اختیار کرنے کی کوشش کرے گی، تاکہ بارشوں کایہ موسم عوام کی مشکلات اور مصائب میں اضافے اور حکومت کی جگ ہنسائی کاذریعے نہ بن سکے اور صوبے کے تمام علاقوں کے لوگ موسم کی تباہ کاریوں سے محفوظ رہتے ہوئے اس کی رنگینیوں سے لطف اندوز ہوسکیں ۔


متعلقہ خبریں


حکومت بجٹ کو چھپانے لگی،ٹیکس رعایتوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے سے انکار وجود - بدھ 17 جون 2026

حکومت کی جانب سے بجٹ کے حوالے سے آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کی کوششیں ، دونوں فریقین میںمذاکرات کا جاری ، ممکنہ خسارے کے ازالے کیلئے متبادل ریونیو اقدامات پر مشاورت حکومت کا فنانس بل میں شامل مختلف ٹیکس رعایتوں کی مکمل تفصیلات جاری کرنے سے گریز، تنخواہ دار طبقے کو دیے گئے ٹیکس ر...

حکومت بجٹ کو چھپانے لگی،ٹیکس رعایتوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے سے انکار

عمران خان سے ملاقات تک خیبر پختونخوا کا حتمی بجٹ ملتوی، صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپرمنظور ہوگا وجود - بدھ 17 جون 2026

میری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے بات ہوگئی ہے،صوبائی حکومت صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپر پاس کرے گی، آئین کا آرٹیکل 125 اجازت دیتا ہے، آپ 3 ماہ کا بجٹ پیپر پیش کرسکتے ہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک حتمی بجٹ پیش نہیں ہوگا،30 جون تک بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو خیبر پختونخوا...

عمران خان سے ملاقات تک خیبر پختونخوا کا حتمی بجٹ ملتوی، صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپرمنظور ہوگا

منشیات کیس ،پنکی کیخلاف بڑے نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشافات وجود - بدھ 17 جون 2026

ملزمہ سادہ کوکین 20ہزار فی گرام جبکہ گولڈن اسٹف40ہزار فی گرام فروخت کرتی تھی مقدمے میں نامزد پانچ ملزمان مفرور قرار ،پولیس نے گرفتاری کیلئے کارروائیاں تیز کر دی کراچی میں منشیات فروشی کے مبینہ بڑے نیٹ ورک کی مرکزی ملزمہ انمول عرف پنکی اور دیگر کے خلاف منشیات کے مقدمے کا عبوری...

منشیات کیس ،پنکی کیخلاف بڑے نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشافات

کراچی میں پنکی کے بعد ایک اور منشیات گینگ بے نقاب وجود - بدھ 17 جون 2026

منشیات کی ترسیل کے لیے انڈوں کے خول استعمال کیے جاتے تھے،ملزم شاہ فہد سہراب گوٹھ سے مختلف رائیڈرز کے ذریعے مختلف علاقوں میں سپلائی کیا جاتا تھا کراچی سائوتھ زون پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے منشیات سپلائی کرنے والے ایک اور مبینہ منظم نیٹ ورک کا سراغ لگانے کا دعوی کیا ہے۔ گرفتار...

کراچی میں پنکی کے بعد ایک اور منشیات گینگ بے نقاب

سندھ حکومت کا مزید ڈبل ڈیکر اور ای وی بسیں لانے کا اعلان وجود - بدھ 17 جون 2026

رواں سال ڈبل ڈیکر اور جدید الیکٹرک بسوں کی بڑی تعداد کراچی پہنچ جائے گی،شرجیل میمن نئی ڈبل ڈیکر اور ماحول دوست ای وی بسیں مرحلہ وار مختلف روٹس پر چلائی جائیں گی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی کے شہریوں کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کا ا...

سندھ حکومت کا مزید ڈبل ڈیکر اور ای وی بسیں لانے کا اعلان

عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت وجود - منگل 16 جون 2026

ایک شخص کی وجہ سے ملکی تناؤ ہے تو اسے باہر نکالیں، مجھے کہا جاتا ہے آپ تو عمران خان کیخلاف تھے، مخالف جیل میں ہاتھ پاؤں بندھا پڑا ہو تو اس کیخلاف بات نہیں کرتے،سربراہ جے یو آئی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈروں کی تقریروں کو بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے، ہم نے کشمیریوں کی ماؤں بہنوں کی...

عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ وجود - منگل 16 جون 2026

81ہزار ٹن خریداری ہدف سے کم، مقامی مارکیٹ اور پاسکو سے مزید گندم خریدنے کا فیصلہ ہاریوں کو مقررہ امدادی قیمت کی ادائیگی ہر صورت یقینی بنائی جائے،اجلاس میں تفصیلی جائزہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلی ہاؤس میں محکمہ خوراک اور محکمہ زراعت کا مشترکہ اجلاس ...

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ

کراچی کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں ہے،شرجیل میمن وجود - منگل 16 جون 2026

عوام بخوبی جانتے ہیں کہ کس نے اسے بوری بند لاشوں کے تحفے دیے،سینئر صوبائی وزیر کراچی ملک کا معاشی حب اور سندھ کا دارالخلافہ ہے، خالد مقبول کے بیان پر سخت ردعمل سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا خالد مقبول صدیقی کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کراچی کے عوام بخوبی جانتے ہیں ...

کراچی کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں ہے،شرجیل میمن

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان وجود - پیر 15 جون 2026

تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے وجود - پیر 15 جون 2026

پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم وجود - اتوار 14 جون 2026

حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران وجود - اتوار 14 جون 2026

امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران

مضامین
مقبوضہ وادی میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی بھارتی سازش وجود بدھ 17 جون 2026
مقبوضہ وادی میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی بھارتی سازش

علم، اعتدال اور اصلاحِ معاشرہ کا روشن باب وجود بدھ 17 جون 2026
علم، اعتدال اور اصلاحِ معاشرہ کا روشن باب

ایک تقریب ملتوی ہوگئی!! وجود منگل 16 جون 2026
ایک تقریب ملتوی ہوگئی!!

جھوٹ ہمیشہ اعتماد کا قاتل ہوتا ہے! وجود منگل 16 جون 2026
جھوٹ ہمیشہ اعتماد کا قاتل ہوتا ہے!

کب تک ؟ وجود منگل 16 جون 2026
کب تک ؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر