وجود

... loading ...

وجود

قطر بحران کا سب سے زیادہ فائدہ ایران کو ہوا

هفته 15 جولائی 2017 قطر بحران کا سب سے زیادہ فائدہ ایران کو ہوا

امریکا، برطانیا اور کویت نے ایک دفعہ پھر خلیجِ فارس میں جاری سفارتی بحران کے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ جلد از جلد مذاکرات کے ذریعے اپنے اختلافات حل کریں۔ان تینوں ملکوں کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی وزیرِ خارجہ ریکس ٹلرسن اور برطانیا کے قومی سلامتی کے مشیر مارک سیڈول کویت کے دورے پر ہیں جو قطر اور اتحادی عرب ملکوں کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا اور برطانیا جیسے طاقت ور کرداروں کی جانب سے اس بیان کا بظاہر مخاطب سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک ہیں جو قطر کی جانب سے ان کی پیش کردہ شرائط تسلیم کرنے تک مذاکرات سے انکاری ہیں۔امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق خطے کے اپنے چار روزہ دورے کے دوران ریکس ٹلرسن کویت کے علاوہ قطر اور سعودی عرب کی قیادت سے بھی بات چیت کریں گے۔ کویت میں اپنے قیام کے دوران امریکی وزیرِ خارجہ نے پیر کی شام امیرِ کویت شیخ صباح الاحمد الصباح اور دیگر اعلیٰ کویتی حکام سے ملاقاتیں کیں جن میں خلیجی ملکوں کے درمیان جاری تنازع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔سعودی عرب اور اس کے اتحادی ملکوں متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے گزشتہ ماہ دہشت گردی کی حمایت کا الزام عائد کرتے ہوئے قطر کے ساتھ تمام تعلقات منقطع کرلیے تھے۔بعد ازاں ان ملکوں نے قطر کو 13 مطالبات کی فہرست پیش کرتے ہوئے قطر کے ساتھ تنازع کے حل کے لیے مذاکرات کے آغاز کو ان مطالبات کی منظوری سے مشروط کیا تھا۔
قطر اتحادی عرب ملکوں کے الزامات رد کرچکا ہے اور اس کا موقف ہے کہ ان ملکوں کے مطالبات قطر کی خود مختاری پر سمجھوتے کے مترادف ہیں۔تنازع کے تمام فریقین خطے میں امریکا کے اہم اتحادی ہیں اور امریکی حکام کو خدشہ ہے کہ ان کے باہمی اختلافات مشرقِ وسطیٰ میں امریکی مفادات اور انسدادِ دہشت گردی کے خلاف اس کی کوششوں پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے حالیہ تنازع کے دوران کئی بار سعودی عرب کے موقف کی حمایت کی ہے البتہ امریکی محکمہ خارجہ اور دفاع نسبتاً محتاط موقف اپنائے ہوئے ہیں اور تمام فریقین سے مذاکرات کا مطالبہ کرتے آئے ہیں۔امریکا تنازع کے حل کے لیے امیرِ کویت کی ثالثی کی کوششوں کی بھی حمایت کر رہا ہے۔
سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک نے قطر پر سے پابندیاں ہٹانے کے لیے جو شرائط رکھی ہیں ان میں پہلی شرط ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرنا اور دوحہ میں ایرانی سفارت خانے کو بند کرنا ہے۔عرب دنیا پر نظر رکھنے والے بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اور قطر کے درمیان لڑائی کی سب سے بڑی وجہ ایران ہے۔ اگرچہ الجزیرہ چینل کی سرگرمیاں اور اخوان المسلمین کے ساتھ قطر کے تعلقات بھی وجوہات میں شامل ہیں۔سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے قطر کی سرحدوں اور ہوائی راستوں پر پابندی لگا رکھی ہے۔خیال رہے کہ تا حال قطر ایئرویز کا شماردنیا کی بہترین ایئر لائنز میں ہوتا ہے اور اب اسے مجبوری میں قدرے طویل راستوں سے اپنا سفر مکمل کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ اس پر پابندی ہے کہ اس کے طیارے عرب ممالک کی فضائی حدود میں داخل نہیں ہو سکتے۔اس صورت حال کی وجہ سے قطر کے غیرملکی کارکن مستقبل کے بارے میں خدشات کا شکار ہیں۔قطر کے لیے ایک اور بحران یہ ہے کہ دنیا کی منڈیوں میں اس کی کریڈٹ ریٹنگ کم کر دی گئی ہے۔
تازہ اطلاعات کے مطابق قطر کو خلیج فارس کارپوریشن سے بھی ہٹایا جا سکتا ہے۔ اس تنظیم میں خلیج فارس سے منسلک چھ ممالک شامل ہیں۔سعودی عرب نے یہاں تک کہا ہے کہ مطالبات تسلیم نہ کیے جانے کی صورت میں بحران حل کرنے کے سفارتی راستے بند ہو چکے ہیں۔ دوسری طرف مخالف ممالک کی جانب سے پابندیوں کے بعد قطر کو ایران کی جانب سے تعاون حاصل ہوا ہے۔صدر حسن روحانی نے 37 سالہ امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ایران کے سمندر، زمین اور ہوائی راستے قطر کے لیے کھلے ہیں۔پابندیوں کے آغاز سے ایران فضائی اور سمندری راستوں سے قطر کو کھانے کا سامان پہنچا رہا ہے جبکہ قطر ایئرویز ایران کی فضائی حدود سے گزر کر یورپ کے لیے پرواز کر رہی ہے۔
تاہم قطر کے خلاف سعودی عرب کی مہم بدستور جاری ہے۔ اپنے مطالبات کو درست قرار دیے جانے کے لیے اس نے بین الاقوامی برادری کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔سعودی عرب کا کہنا ہے کہ قطر ان تنظیموں کی بھی حمایت کرتا ہے جنھیں اقوام متحدہ شدت پسند قرار دے چکا ہے۔بہرحال کچھ ہی دنوں پہلے برطانوی تھنک ٹینک ہنری جیکسن سوسائٹی نے اپنی ایک رپورٹ میں سعودی عرب کو انتہا پسندی کو فروغ دینے والا ایک اہم ملک قرار دیا تھا۔تھنک ٹینک کے مطابق خلیجی ممالک اور ایران انتہا پسندی کو فروغ دینے کے ذمہ دار ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ سعودی عرب اس میں سرفہرست ہے۔ایک ایسے ملک میں جہاں ماضی میں اقتدار حاصل کرنے کے لیے بغاوت اور تختہ الٹنے کا سہارا لیا جاتا رہا ہے، وہاں سعودی عرب کے سامنے جھکنے کا مطلب ایک اور بغاوت ہوسکتا ہے۔
ظاہر ہے قطر کے امیر اس قدر کمزور پڑ جائیں گے کہ ان کے لیے اقتدار سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔ایران کے صدر روحانی نے قطر کو تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔یہ ایران کے لیے ایک بہت بڑی جیت ہے کیونکہ عرب ممالک کی ایران کے خلاف ایک متحدہ محاذ قائم کرنے کی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔دوسری طرف، ایران کے خلاف علاقائی اتحاد بنانے کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا منصوبہ بھی ناکام ہوتا نظر آرہا ہے۔
قطر کے لیے ایران کے ساتھ اچھے تعلقات قائم رکھنے کی بنیادی طور پر اقتصادی وجوہات ہیں۔ دونوں ممالک کے پاس خلیج فارس میں گیس کا بہت بڑا خزانہ ہے۔روس کے بعد ایران اور قطر کے پاس دنیا کا دوسرا اور تیسرا سب سے بڑا گیس کا ذخیرہ ہے۔ایران کے متعلق جارحانہ رویہ رکھنا قطر کے لیے کبھی بھی آسان نہیں تھا۔ اس کے گیس سپلائی کے راستے ایران سے گزرتے ہیں اور ایران سے جھگڑا قطر کے لیے سمجھداری نہیں ہو سکتی۔
قطر میں 2022 میں فیفا کا ورلڈ کپ منعقد ہونا ہے۔اس کے علاوہ قطر کے موجودہ بحران نے ایران کے لیے اقتصادی فوائد کے راستے بھی کھول دیے ہیں۔ 2022 کے فیفا ورلڈ کپ سے منسلک پروجیکٹ کو وقت پر مکمل کرنے کے لیے قطر ایران کی مدد حاصل کر سکتا ہے۔ایسوسی ایشن آف ایران ایکسپورٹرز کے سربراہ محمد رضا انصاری کا کہنا ہے کہ تکنیکی اور انجینئرنگ کی خدمات کے بدلے ایران کو دو ارب ڈالر حاصل ہو سکتے ہیں اور مستقبل میں یہ رقم 25 ارب ڈالر سالانہ ہو سکتی ہے۔قطر کو ہدف بنانے کی سعودی عرب کی حکمت عملی سے ایران کو سیاسی اور اقتصادی دونوں فوائد حاصل ہو رہے ہیں۔
تہمینہ حیات نقوی


متعلقہ خبریں


امریکا کی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی،قریب آنے والے جہازوں کو تباہ کرنے کی دھمکی وجود - منگل 14 اپریل 2026

آبنائے ہرمز سے گزرنے والے اُن جہازوں کو نہیں روکا جائے گا جو ایرانی بندرگاہوں کے بجائے دیگر ممالک کی جانب جا رہے ہوں، ٹرمپ کا 158 جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ ناکہ بندی کے دوران مزاحمت ایران کیلئے دانشمندانہ اقدام ثابت نہیں ہوگا، فضائی حدود ہماری مکمل گرفت میں ہے، ٹرمپ ایران کو مکمل ...

امریکا کی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی،قریب آنے والے جہازوں کو تباہ کرنے کی دھمکی

عمران خان کی ہدایت، تحریک انصاف کا19 اپریل کو جلسہ عام کا اعلان، کارکنان کو ملک بھر میں متحرک کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 14 اپریل 2026

مردان ریلوے گراؤنڈ میں سہ پہر 3 بجے جلسہ ہوگا، مخالفین خصوصاً ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ٹاؤٹس جلسے کو ناکام بنانے کیلئے منفی پروپیگنڈا کر رہے ہیں،وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا قوم آج بھی عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے، دنیا کو دکھائیں گے بانی جیل میں ہونے کے باوجود بڑی سیاسی سرگرمی کر سکتے ہیں،...

عمران خان کی ہدایت، تحریک انصاف کا19 اپریل کو جلسہ عام کا اعلان، کارکنان کو ملک بھر میں متحرک کرنے کا فیصلہ

عدالت کا سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم وجود - منگل 14 اپریل 2026

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی عدم حاضری پر ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کردیے ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات کے کیس کی سماعتسینئر سول جج عباس شاہ نے کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے وزیر اعلی کے پی کے سہیل آفریدی کے خلاف ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات اور ساکھ متاثر کرنے کے...

عدالت کا سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

پاکستان امریکا ایران مذاکرات میں مثبت پیشرفت کیلئے پُرامید وجود - منگل 14 اپریل 2026

دونوں فریقین کے درمیان اٹکے ہوئے معاملات حل کروانے کی کوششیں کررہے ہیں، شہباز شریف وزیراعظم کا کابینہ اراکین سے خطاب، فیلڈ مارشل اور نائب وزیراعظم کو شاندار خراج تحسین پیش کیا وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ تاریخ گواہ ہے جنگ کروانے اور امن قائم کرنے میں کئی سال لگتے ہیں، پا...

پاکستان امریکا ایران مذاکرات میں مثبت پیشرفت کیلئے پُرامید

امریکا، ایران میں معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری وجود - منگل 14 اپریل 2026

واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی حل کیلئے رابطے جاری ہیں، امریکی عہدیدار مستقبل میں امریکی اور ایرانی وفود کی ملاقات کا امکان تاحال غیر واضح ہے، بیان امریکا اور ایران کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری ہیں۔ایک امریکی عہدیدار کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیا...

امریکا، ایران میں معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی، ایران کو ٹول دینے والے جہازوں کو گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی، ٹرمپ وجود - پیر 13 اپریل 2026

ایران کے ساتھ ملاقات اچھی رہی ، جوہری معاملے کے علاوہ اکثر نکات پر اتفاق ہوا،امریکی بحریہ آبنائے ہرمز سے آنے جانیوالے بحری جہازوں کو روکنے کا عمل فوری شروع کر دے گی یہ عالمی بھتا خوری ہے امریکا کبھی بھتا نہیں دے گاجو کوئی غیر قانونی ٹول دے گا اسے محفوظ بحری راستا نہیں ملے گا، ای...

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی، ایران کو ٹول دینے والے جہازوں کو گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی، ٹرمپ

پاکستان کی کامیاب سفارت کاری پر بھارت میں صف ماتم وجود - پیر 13 اپریل 2026

اسلام آباد میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات بھارت پر بجلی بن کرگرے ہیں بھارت کی سفارتی ناکامی پر کانگریس نے نام نہاد وشوا گرو مودی کو آڑے ہاتھوں لے لیا پاکستان میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات بھارت پر بجلی بن کرگرے ہیں۔ مودی کو ہرطرف سے تنقید کا سامنا ہے۔خلیجی جنگ کے تناظر...

پاکستان کی کامیاب سفارت کاری پر بھارت میں صف ماتم

ترک صدر کی اسرائیل پر حملے کی دھمکی ،نیتن یاہو آج کا ہٹلر ہے،طیب اردگان وجود - پیر 13 اپریل 2026

مذاکرات ناکام ہوئے توہم اسرائیل میں ایسے ہی گھُس سکتے ہیں جیسے لیبیا اور کاراباخ میں داخل ہوئے تھے، اسرائیل نے سیزفائر کے دن بھی سیکڑوں لبنانی قتل کیے اسرائیل کو اس کی جگہ دکھائیں گے، فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دینے کا اسرائیلی فیصلہ اور ہٹلر کی یہودی مخالف پالیسیوں میں کوئی فر...

ترک صدر کی اسرائیل پر حملے کی دھمکی ،نیتن یاہو آج کا ہٹلر ہے،طیب اردگان

اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل وجود - اتوار 12 اپریل 2026

اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل،فریقین محتاط،پرامید،کاغزات کا تبادلہ ،ٹیکنیکی گفتگو آج مذاکرات کے پہلے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں ہوئیں، دوسرے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان براہِ ر...

اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل

امارات کو رقم کی واپسی، سعودی عرب، قطر کی پاکستان کو 5 ارب ڈالر کی مالی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ وجود - اتوار 12 اپریل 2026

سعودی وزیر خزانہ کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات، مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی وجہ سے بڑھتے ہوئے بیرونی دباؤ اور اخراجات کے پیش نظر پاکستان کو مالی مدد کا یقین دلایا پاکستان کی سعودی عرب سے مزید مالی امداد کی درخواست ، نقد ڈپازٹس میں اضافہ اور تیل کی سہولت کی مدت میں توسیع شا...

امارات کو رقم کی واپسی، سعودی عرب، قطر کی پاکستان کو 5 ارب ڈالر کی مالی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ

عمران خان جمہوری تاریخ کی بدترین سیاسی انتقامی کارروائی کا نشانہ ہے، سہیل آفریدی وجود - اتوار 12 اپریل 2026

علاقائی کشیدگی میں کمی کیلئے سفارتی کوششیں مثبت پیشرفت ہیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اسلام آباد مذاکرات پائیدار امن علاقائی استحکام کیلئے تعمیری کردار ہے، اجلاس سے خطاب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے حالیہ سفارتی کوششوں کو علاقائی کشیدگی میں کمی، پائیدار امن اور ع...

عمران خان جمہوری تاریخ کی بدترین سیاسی انتقامی کارروائی کا نشانہ ہے، سہیل آفریدی

اسرائیل کی ایران جنگ کے دوران غزہ پر بمباری ،107فلسطینی شہید، 342 زخمی وجود - اتوار 12 اپریل 2026

اسرائیل نے گزشتہ 40دنوں میں سے 36دن غزہ پر بمباری کی،عرب میڈیا 23ہزار 400امدادی ٹرکوں میں سے 4ہزار 999ٹرکوں کو داخلے کی اجازت ایران جنگ کے دوران اسرائیل نے گزشتہ 40 دنوں میں سے 36 دن غزہ پر بمباری کی۔عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 107 فلسطینی شہید او...

اسرائیل کی ایران جنگ کے دوران غزہ پر بمباری ،107فلسطینی شہید، 342 زخمی

مضامین
اسلام آباد مذاکرات ، خطہ پھر بے یقینی کے سائے میں وجود منگل 14 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات ، خطہ پھر بے یقینی کے سائے میں

اسلام آباد مذاکرات:اسرائیل دودھ میں مکھی کی طرح باہر وجود منگل 14 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات:اسرائیل دودھ میں مکھی کی طرح باہر

اسلام آباد مذاکرات بے نتیجہ، جنگ بندی اور مستقبل غیر یقینی وجود منگل 14 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات بے نتیجہ، جنگ بندی اور مستقبل غیر یقینی

بھارت کی جارحانہ حکمت عملی وجود منگل 14 اپریل 2026
بھارت کی جارحانہ حکمت عملی

مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کی تعیناتی وجود پیر 13 اپریل 2026
مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کی تعیناتی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر