وجود

... loading ...

وجود

ریلوے میں بڑے پیمانے پر چھانٹیوں کا خطرہ ‘ ایشیائی ترقیاتی بینک سے نیا قرضہ لے لیا گیا

جمعرات 29 جون 2017 ریلوے میں بڑے پیمانے پر چھانٹیوں کا خطرہ ‘ ایشیائی ترقیاتی بینک سے نیا قرضہ لے لیا گیا


پاکستان نے انتہائی خاموشی کے ساتھ ایشیائی ترقیاتی بینک سے 30 کروڑ ڈالر کے ایک نئے قرض کے حصول کیلئے معاہدے پر دستخط کردیے ہیں گزشتہ 8 دن کے اندر ایشیائی ترقیاتی بینک سے قرض کا یہ دوسرا بڑا معاہدہ ہے۔ قرض کے ان معاہدوں پر ایشیائی ترقیاتی بینک کے کنٹری ڈائریکٹر ژیائو ہونگ یانگ اور پاکستان کے اقتصادی امور ڈویژن کے سیکریٹری طارق پاشا نے دستخط کیے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق جون کی 21 تاریخ کو طے پانے والے اس معاہدے کے تحت ایشیائی ترقیاتی بینک سے ملنے والے قرض کی یہ رقم پاکستان کی ادائیوں کے توازن کے بڑھتے ہوئے فرق کو کم کرنے،بجٹ کے خسارے کو پورا یاکم کرنے اور زرمبادلہ کے کم ہوتے ہوئے ذخائر کو سہارا دینے کے لیے ہے جو اطلاعات کے مطابق کم ہوکرگزشتہ ہفتے کے اختتام پر صرف 15.4 بلین یعنی 15ا رب 40 کروڑ ڈالر رہ گئے تھے۔
مذکورہ رقم پاکستان ریلویز کے عملے کو فعال بنانے اور حکومت کے زیر انتظام اداروں میں بہتر کارپوریٹ طریقہ کار رائج کرنے کے اقدامات پر خرچ کی جائے گی۔جبکہ اس قرض کے حوالے سے ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے جاری کردہ ہینڈ آئوٹ کے مطابق قرض کی یہ رقم پاکستانی حکومت کے زیر انتظام چلنے والے اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے ،ان میں شفافیت پیدا کرنے اور ان کومضبوط ومستحکم کرنے اور اصلاحات کیلئے فراہم کی جارہی ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کے جاری کردہ ہینڈ آئوٹ میں یہ بھی کہاگیاہے کہ پاکستان میں حکومت کے زیر انتظام بیشتر اداروںجن میں مجموعی طورپر کم وبیش 4 لاکھ افراد ملازم ہیںکی مالی حالت گزشتہ چند برسوں کے دوران حکومت کی جانب سے فراہم کی جانی والی وافر امداد کے باوجود انتہائی خستہ ہوچکی ہے،اور ان اداروں کو مستحکم بنیادوں پر کھڑا کرنے اوران کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے ان میں اصلاحات ضروری ہوچکی ہیں۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کے مطابق قرض کی اس رقم سے حکومت کو اصلاحات کیلئے مالی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی ، اس سے یہ نتیجہ بھی اخذ کیاجاسکتاہے کہ ایشیائی ترقیاتی بینک سے یہ قرض حکومت کے زیر انتظام اداروں میں موجود ضرورت سے زائد ملازمین کو فارغ کرنے کے کسی پروگرام کے تحت حاصل کیاجارہاہے تاکہ حکومت کے زیر انتظام اداروںپر فاضل ملازمین کے بوجھ کو ختم کرکے ان کو مالی طورپر خود کفیل بنایا جاسکے ۔اگر ایسا ہے جس کا قوی امکان ہے تو اس کے نتیجے میں ملک میں جہاں پہلے ہی بیروزگاری کی شرح اس خطے کے دیگر بیشتر ملکوں سے زیادہ ہے بیروزگاری میں مزید اضافہ ہوگا جس سے غربت میں کمی کے منصوبوں کو دھچکالگے گا اور فاقہ کش لوگوں کی موجودہ فوج ظفر موج میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔ایشیائی بینک سے قرض کے حصول کا یہ تازہ ترین معاہدہ گزشتہ 8 دن کے دوران اس بینک سے قرض کے حصول کا یہ دوسرا بڑا معاہدہ ہے کیونکہ حکومت ایک ہفتہ قبل ہی ایشیائی ترقیاتی بینک سے توانائی کے شعبے میں اصلاحات نافذ کرنے کے نام پر30 کروڑ ڈالر کے قرض کے ایک معاہدے پر دستخط کرچکی ہے۔پاکستان نے ایشیائی ترقیاتی بینک کے ساتھ نئے قرضوں پر جس جلد بازی میں دستخط کیے ہیں ان سے ظاہرہوتاہے کہ پاکستان رواں مالی سال کے اختتام سے قبل ہی قرض کی یہ رقم حاصل کرنے کا متمنی ہے۔
ایشیائی ترقیاتی بینک نے گزشتہ سال جون میں بھی پاکستان کو اس وعدے پر 600 ملین ڈالر یعنی 60 کروڑ ڈالر کا قرض فراہم کیاتھا کہ پاکستان مالیاتی شعبے میں نجکاری کے عمل کو انتہائی جدید تر بنائے گا،اور پاکستان میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں ،پاکستان اسٹیل ملز، اور پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز میں ضروری اصلاحات کرنے کے علاوہ ان کو سہارا دینے کیلئے ان میں مناسب سرمایہ کاری کو یقینی بنائے گا۔ ایشیائی ترقیاتی بینک نے اس رقم کا نصف حصہ یعنی 30کروڑ ڈالرگزشتہ سال جون میں ہی جاری کردیاتھا ۔ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے حکومت کے زیر انتظام جن اداروں میں اصلاحات کے نام پر نیا قرض حاصل کیاہے، ان میں پاکستان ریلویز سرفہرست ہے ۔ یہ وہ ادارہ ہے حکومت نے جس کی نجکاری کے حوالے سے ابھی کسی عندیئے کا اظہار نہیں کیاہے اور اس ادارے کو مستحکم بنیادوں پر استوار کرنے کی باتیں کی جارہی ہیں ۔ایشیائی ترقیاتی بینک کے جائزے کے مطابق پاکستان ریلویز کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے گزشتہ کئی برسوں کے دوران کوئی کوشش نہیں کی گئی جس کے باعث اس ادارے کا تمام کام عمومی افرادی قو ت کے ذریعے چلایاجارہاہے جن کی تعداد اب بڑھتے بڑھتے 78 ہزار تک پہنچ چکی ہے جس کی وجہ سے اس ادارے کو اپنے ملازمین کو تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی کیلئے سالانہ کم وبیش 375 ملین ڈالر یعنی کم وبیش 37 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی ضرورت ہوتی ہے،اس طرح اس ادارے کی آمدنی کا70 فیصد سے زیادہ حصہ ملازمین کی تنخواہوں پنشن اور دیگر مراعات میں خرچ ہوجاتاہے،ایشیائی ترقیاتی بینک کاموقف یہ ہے کہ پاکستان ریلویز میں ملازم 78 ہزار افراد اس ادارے کانظام چلانے کیلئے درکار افرادی قوت سے بہت زیادہ ہے۔ اس جائزے کے ساتھ پاکستان ریلوے کی تنظیم نو اور اس ادارے میں اصلاحات کیلئے مزید 300 ملین ڈالر کا قرض فراہم کرنے پر ایشیائی ترقیاتی بینک کی رضامندی سے صاف ظاہرہوتاہے کہ ایشیائی ترقیات بینک نے یہ رقم ادارے میں موجود فاضل ملازمین کو فارغ کرکے اس ادارے کو مالی طورپر مستحکم کرنے کی یقین دہانی پر ہی دی ہے۔
وزارت خزانہ کے ذرائع نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ حکومت نے پاکستان ریلوے کی تنظیم نو اور اس کیلئے درکار افرادی قوت کے حوالے سے ابتدائی خاکہ یا منصوبہ تیار کرلیا ہے اور غالب امکان ہے کہ ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے قرض کی رقم جاری کیے جانے کے فوری بعد حکومت ریلویز سے فاضل ملازمین کی چھانٹی کے کسی بڑے پروگرام کا اعلان کردے گی اور اگر ملازمین نے بخوشی سبکدوشی کاپیکیج قبول نہیں کیاتو انھیں زبردستی سبکدوش کرنے کے انتظامات کیے جائیں گے۔پاکستان ریلویز کے ایک ذریعے نے بتایا کہ حکومت نے پاکستان ریلویز میں نفری کم کرنے کے ایک غیر اعلانیہ پروگرام پر پہلے ہی سے عمل شروع کررکھاہے ،اور اب ریٹائر ہوجانے یا فوت ہوجانے والی ملازمین کی جگہ نئی بھرتیاں بالکل بند کردی گئی ہیںاور اب ایشیائی ترقیاتی بینک سے قرض کی رقم ملتے ہیں پاکستان ریلوے میں بڑے پیمانے پرچھانٹیوں اورفاضل ملازمین کوفارغ کرنے کاسلسلہ شروع کردیاجائے گا۔جبکہ ایک اور اطلاع کے مطابق حکومت کے قریبی حلقوں نے حکومت کو یہ مشورہ دیاہے کہ پاکستان ریلویز سے فوری طور پر فاضل ملازمین کو فارغ کرنے کا سلسلہ شروع نہ کیاجائے کیونکہ اس وقت جبکہ حکومت پہلے ہی مختلف مسائل میں گھری ہونے کی وجہ سے شدید دبائو میں ہے وہ ریلوے ورکرز کی کسی احتجاجی تحریک کو برداشت کرنے کی متحمل نہیں ہوسکتی۔واقف حال حلقوں کے مطابق حکومت کے قریبی حلقوں نے وزیر اعظم کو یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ اگر ریلوے کے فاضل ملازمین کو جبری فارغ کرنے کی کوشش کی تو وہ لازما ً اس فیصلے کی مزاحمت کریں گے اور دیگر سرکاری اداروںجن میں پی آئی اے سر فہرست ہے کہ ملازمین بھی ان کی حمایت میں سڑکوں پر آنے میں دیر نہیں لگائیں گے اوراپوزیشن جماعتوں کو جنھیں حکومت کے خلاف لوگوں کو سڑکوں پر لانے میں دشواریوں کاسامنا ہے اس صورت حال سے فائدہ اٹھانے کیلئے فوری طورپر ان کی حمایت کااعلان کردیں گی۔ اس طرح سڑکوں پر اور اسمبلی کے ایوانوں دونوں جگہ حکومت کو انتہائی نازک صورت حال کا سامنا کرنے پرمجبور ہونا پڑے گا جس سے پہلے ہی سے ڈانواڈول اس حکومت کیلئے اپنا وجود قائم رکھنا مشکل ہوجائے گا۔
ایشیائی ترقیاتی بینک ، آئی ایم ایف یا عالمی بینک سے قرض کا حصول کوئی انوکھی بات نہیں ہے دنیا کے تمام ترقی پزیر کم وسیلہ ممالک اپنے عوام کو سہولتوں کی فراہمی اور مختلف شعبوں کی کارکردگی بہتر بناکر ان کی کارکردگی بڑھانے کیلئے قرض حاصل کرتے رہتے ہیں لیکن اصل تشویش اس بات پر ہے کہ ہماری موجودہ حکومت جس تیزی سے قرض پر قرض حاصل کررہی ہے اس کی ادائیگی کس طرح کی جائے گی اور اس قرض پر محض سود اور سروس چارجز وغیرہ ادا کرنے کیلئے ہمیں اپنی مجموعی ملکی پیداوار کاکتنے فیصد حصہ مختص کرنا پڑے گا اور مجموعی ملکی پیداوار کا ایک بڑا حصہ قرضوں پر سود اور سروس چارجز وغیرہ کی ادائیگی پر خرچ کرنے کے بعد عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی کیلئے رقم کہاں سے آئے گی اور قرض پر قرض حاصل کرنے کا یہ سلسلہ کہاں جا کر رکے گا۔یہاں سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کے محدود وسائل اس طرح بے تحاشا بھاری قرضوں کا بوجھ برداشت کرنے کیلئے کافی ہیں،کیا ہمارے ملک میں ایسی کچھ چیزیں تیار ہورہی ہیں جن کی بیرون ملک زبردست مانگ ہے اور ہم ان کی پیداوار میں اضافہ کرکے قرضوں پر واجب الادا سود ادا کرسکیں گے۔


متعلقہ خبریں


ایران کی مزید ناکہ بندی،نیا بحری بیڑا پہنچنے والا ہے،امریکاکا اعلان وجود - هفته 25 اپریل 2026

ایران اب کبھی جوہری ہتھیار نہیں بنا سکتا،یہ امریکی جنگ نہیں، آبنائے ہرمز سے بڑا فائدہ ایشیا اور یورپی ممالک کو ہے،بحری جہاز اب ہماری شرائط پر ہی گزریں گے،امریکی وزیر دفاع ایران کے ساتھ کسی معاہدے میں جلد بازی نہیں، معاہدہ نہیں کیا تو اس کے خلاف فوری طور پر دوبارہ جنگ شروع کرنے ...

ایران کی مزید ناکہ بندی،نیا بحری بیڑا پہنچنے والا ہے،امریکاکا اعلان

دہشت گرد ہماری امن کوششوں کو کمزور کرنا چاہتے ہیں،صدرمملکت، وزیراعظم وجود - هفته 25 اپریل 2026

دہشت گردی کے ناسور کیخلاف سکیورٹی فورسز کیقربانیاں قابلِ فخر ہیں، وزیر داخلہ ضلع خیبر میںخوارج کی ہلاکتوں اور اسلحے کی برآمدگی پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ضلع خیبر میں مشترکہ انٹیلی جنس آپریشن میں22 دہشت گردوں کی ہلاکت اور اسلحے کی برآمدگی...

دہشت گرد ہماری امن کوششوں کو کمزور کرنا چاہتے ہیں،صدرمملکت، وزیراعظم

پی ٹی آئی کے ساتھ امتیازی سلوک جاری رہا تو ہر قسم کی مصالحت ختم کردیں گے، سہیل آفریدی وجود - هفته 25 اپریل 2026

پاکستان کو امن اور مذاکرات کے کردار پر عالمی پذیرائی ملی، عمران خان 24 سال سے اسی پالیسی کے داعی رہے ہیں قومی مفاد کو مقدم رکھا ، ذمہ دار سیاسی رویے کا مظاہرہ کیاوفاقی حکومت کے اجلاس میں شرکت کی، اجلاس سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ اگر ملک ک...

پی ٹی آئی کے ساتھ امتیازی سلوک جاری رہا تو ہر قسم کی مصالحت ختم کردیں گے، سہیل آفریدی

آئی ایم ایف بورڈ سے قرض کیلئے اگلی قسط کی منظوری متوقع وجود - هفته 25 اپریل 2026

عالمی مالیاتی ادارہ نے 4 مئی کیلئے اپنے ایگزیکٹو بورڈ اجلاس کا شیڈول جاری کر دیا پاکستان کیلئے 1۔2 ارب ڈالر کی اگلی قسط کی منظوری دی جائے گی،وزارت خزانہ حکام وفاقی وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) بورڈ سے مئی کے پہلے ہفتے میں پاکستان کے لیے قرض کی ا...

آئی ایم ایف بورڈ سے قرض کیلئے اگلی قسط کی منظوری متوقع

آبنائے ہرمز ،بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں کو اڑا دیں،ڈونلڈ ٹرمپ کاا مریکی نیوی کو حکم وجود - جمعه 24 اپریل 2026

امریکی بحریہ میرے حکم پر عمل میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ نہ دکھائے، امریکاکی اجازت کے بغیر کوئی جہاز آسکتا ہے نہ جاسکتا ہے، ایران کے معاہدہ کرنے تک آبنائے ہرمز مکمل بند،سخت ناکابندی جاری رہے گی کارروائیاں 3 گنا بڑھانے کا حکم، اس معاملے میں کوئی تاخیر یا نرمی برداشت نہیں کی جائے گی،...

آبنائے ہرمز ،بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں کو اڑا دیں،ڈونلڈ ٹرمپ کاا مریکی نیوی کو حکم

ریڈلائن منصوبے پر کام دوبارہ شروع کرنے کی کوششیں وجود - جمعه 24 اپریل 2026

ایشیائی ترقیاتی بینک کی مشاورت کے ساتھ ہی ہم نے یہ قدم اٹھایا،شرجیل میمن حکومت اس کوریڈور کو جلد از جلد مکمل کرنا چاہتی ہے،سینئروزیرکی خصوصی گفتگو سندھ کے سینئروزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ 48 گھنٹے میں ریڈلائن منصوبے پر کام دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔خصوصی گفتگو کرتے ...

ریڈلائن منصوبے پر کام دوبارہ شروع کرنے کی کوششیں

ایران میں موجود صمد کاٹھیاواڑی گینگ کوجلد گرفتار کرلیا جائیگا، آئی جی سندھ وجود - جمعه 24 اپریل 2026

ملائشیا سے بھتا گینگ آپریٹ کرنیوالے 3سرغنوں کیخلاف ریڈ وارنٹ جاری ہوچکے ہیں کراچی میں اسٹریٹ کرائم پر مجموعی طور پر قابو پا لیا گیا ہے،صنعت کاروں سے خطاب آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا ہے کہ ایران میں موجود صمد کاٹھیاواڑی سمیت ملائشیا سے بھتہ گینگ آپریٹ کرنے والے 3سرغنوں...

ایران میں موجود صمد کاٹھیاواڑی گینگ کوجلد گرفتار کرلیا جائیگا، آئی جی سندھ

فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا ایران امن مذاکرات بچانے کیلئے سرگرم وجود - جمعه 24 اپریل 2026

چیف آف ڈیفنس فورسزمذاکرات کو ٹوٹنے سے بچانے اور رابطہ کاری کی کوشش کر رہے ہیں، فنانشل ٹائمز دونوں ممالک میں اعتماد کی کمی، پابندیوں ،فوجی کشیدگی کے باعث امن مذاکرات مشکل صورتحال کا شکار ہیں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا ایران مذاکرات کو مکمل طور پر ٹوٹنے سے...

فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا ایران امن مذاکرات بچانے کیلئے سرگرم

کراچی میں ترقیاتی منصوبے نا اہلی و کرپشن کا شاہکار،حافظ نعیم وجود - جمعه 24 اپریل 2026

بلاول کی سیاست محض دعوؤں تک محدود ہے، ریڈ لائن منصوبہ عالمی سطح پر مذاق بن چکا ہے پاکستانی سفارتی کوششیں قابل ستائش،آبنائے ہرمز کا گھیراؤ ختم کیے بغیر معاہدہ ممکن نہیں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ایران و امریکہ مذاکرات کے حوالے سے ایران کے مؤقف...

کراچی میں ترقیاتی منصوبے نا اہلی و کرپشن کا شاہکار،حافظ نعیم

صیہونی فوج کا جنوبی لبنان پر حملہ، صحافی سمیت5افراد شہید وجود - جمعه 24 اپریل 2026

اسرائیلی فوج کیجنوبی لبنان کے قصبے ال خیام سمیت مختلف علاقوں میں منظم بمباری توپ خانے کا استعمال، رہائشی عمارتیںبلڈوزر کے ذریعے مسمار ، مساجد کو بھی نشانہ بنایا صیہونی فوج کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، جنوبی لبنان پر حملہ کرکے صحافی سمیت 5 افراد کو موت کی وادی ...

صیہونی فوج کا جنوبی لبنان پر حملہ، صحافی سمیت5افراد شہید

ایران سے مذاکرات کا دوسرا دور جمعہ کو ہوسکتا ہے، امریکی صدر وجود - جمعرات 23 اپریل 2026

ناکہ بندی جاری رکھی جائے اور ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار رہے،جنگ بندی کو اس وقت تک بڑھایا جا رہا ہے جب تک ایران اپنی تجاویز پیش نہیں کر دیتا،فوج کو ہدایت اسلام آباد میں ایران کے ساتھ مذاکرات اگلے تین روز میں کسی بھی وقت شروع ہوسکتے ہیں،امریکی صدر نے ٹیکسٹ پیغام میں جواب...

ایران سے مذاکرات کا دوسرا دور جمعہ کو ہوسکتا ہے، امریکی صدر

سندھ حکومت نے بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیر کا ٹھیکہ منسوخ کر دیا وجود - جمعرات 23 اپریل 2026

غیر تسلی بخش کارکردگی اور عالمی معیار کی خلاف ورزی پر کنٹریکٹرز کا معاہدہ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا کارروائی شہریوں کو درپیش شدید مشکلات اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے تحفظات کے بعد عمل میں لائی گئی سندھ حکومت نے بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیر کا ٹھیکہ منسوخ کر دیا اور کہا حکومت ا...

سندھ حکومت نے بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیر کا ٹھیکہ منسوخ کر دیا

مضامین
پہلگام واقعہ میں بھارتی جھوٹ وجود هفته 25 اپریل 2026
پہلگام واقعہ میں بھارتی جھوٹ

امریکا ٹوٹ جائے گا۔۔۔ وجود هفته 25 اپریل 2026
امریکا ٹوٹ جائے گا۔۔۔

علامہ اقبال اک فکری معمار اور روحانی مصلح وجود هفته 25 اپریل 2026
علامہ اقبال اک فکری معمار اور روحانی مصلح

پاکستان میں امریکی مہرے اور ان کی چالبازیاں وجود جمعه 24 اپریل 2026
پاکستان میں امریکی مہرے اور ان کی چالبازیاں

ایران جنگ میں بھارتی تنہائی وجود جمعه 24 اپریل 2026
ایران جنگ میں بھارتی تنہائی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر