وجود

... loading ...

وجود

وزیر دفاع اور خواتین میں جارحانہ لفظی جنگ جاری

جمعه 16 جون 2017 وزیر دفاع اور خواتین میں جارحانہ لفظی جنگ جاری

پاکستان کے وزیر دفاع اور حکمران مسلم لیگ نون کے سرکردہ رہنما خواجہ محمد آصف ایک ٹویٹ میں تحریک انصاف کی خواتین رہنماؤں کے بارے میں غیر مناسب الفاظ کے استعمال کے حوالے سے ایک دفعہ پھر شدید تنقید کی زد میں ہیںاور اس حوالے سے ہر حلقے کی جانب سے ان پر لعن طعن کاسلسلہ جاری ہے، پیپلز پارٹی کی رہنما شرمیلا فاروقی کا کہنا تھا کہ ‘اگر خواجہ آصف کو اپنی مخالف پارٹی پر کوئی اعتراض ہے تو دلائل دیں، ان کی پارٹی کی خواتین کو نشانہ بنا کر وہ کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟’ پاکستان کے وزیر دفاع اور حکمران مسلم لیگ نون کے سرکردہ رہنما خواجہ محمد آصف ایک ٹویٹ میں تحریک انصاف کی خواتین رہنماؤں کے بارے میں غیر مناسب الفاظ کے استعمال کے حوالے سے ایک دفعہ پھر شدید تنقید کی زد میں ہیںاور اس حوالے سے ہر حلقے کی جانب سے ان پر لعن طعن کاسلسلہ جاری ہے، پیپلز پارٹی کی رہنما شرمیلا فاروقی کا کہنا تھا کہ ‘اگر خواجہ آصف کو اپنی مخالف پارٹی پر کوئی اعتراض ہے تو دلائل دیں، ان کی پارٹی کی خواتین کو نشانہ بنا کر وہ کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟’

اس ٹویٹ کے بعد سے خواجہ آصف کو شدید تنقید کا سامنا ہے اور بیشتر سیاسی جماعتیں اور صحافی ان کے خلاف کارروائی کے مطالبے کے ساتھ ساتھ ان سے معافی کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔

یہ پہلا موقع نہیں جب خواجہ آصف نے خواتین رکن پارلیمان کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کیے ہوں۔ انہوں نے گزشتہ برس بھی ایسا ہی کیا تھا اور وہ بھی پارلیمینٹ کے اندر۔ انہوں نے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران تحریک انصاف کی مرکزی رہنما شیریں مزاری کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کیے تھے جس کے بعد حزب اختلاف کی جماعتیں، خواتین رکن پارلیمان اور سوشل میڈیا نے یکجا ہو کر خواجہ آصف سے معافی طلب کی تھی۔دباؤ میں آکر خواجہ آصف نے اسمبلی میں معافی نامہ جمع تو کرایا مگر شیریں مزاری اور دیگر ارکان پارلیمان کا اعتراض تھا کہ انہوں نے شیریں مزاری سے براہ راست معافی نہیں مانگی بلکہ انھیں مخاطب کیے بغیر معافی مانگی ہے۔

انہوں نے تازہ ٹویٹ میں بھی ایسے ہی الفاظ استعمال کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف پر تنقید کی۔ انہوں نے کسی کا نام نہیں لیا بلکہ اشارتاً تنقید کی، جس کے بعد ایک مرتبہ پھر سوشل میڈیا پر بیشتر افراد خواجہ آصف کو ان کے عہدے کا تقدس یاد دلا رہے ہیں اور خواتین سے عزت کے ساتھ پیش آنے کی تلقین کر رہے ہیں۔ انہوں نے تازہ ٹویٹ میں بھی ایسے ہی الفاظ استعمال کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف پر تنقید کی۔ انہوں نے کسی کا نام نہیں لیا بلکہ اشارتاً تنقید کی، جس کے بعد ایک مرتبہ پھر سوشل میڈیا پر بیشتر افراد خواجہ آصف کو ان کے عہدے کا تقدس یاد دلا رہے ہیں اور خواتین سے عزت کے ساتھ پیش آنے کی تلقین کر رہے ہیں۔

پیپلز پارٹی کی شرمیلا فاروقی نے برطانوی خبررساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا: ‘صاف ظاہر ہے کہ خواجہ آصف اپنی ساتھی خاتون کی بے عزتی کر کے شرمندہ نہیں۔ اور اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ جب گزشتہ سال انہوں نے ایسی حرکت کی تو ان کی پارٹی نے ان کی سرزنش نہیں کی۔ ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ ایسا بار بار ہو رہا ہے۔’ پیپلز پارٹی کی شرمیلا فاروقی نے برطانوی خبررساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا: ‘صاف ظاہر ہے کہ خواجہ آصف اپنی ساتھی خاتون کی بے عزتی کر کے شرمندہ نہیں۔ اور اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ جب گزشتہ سال انہوں نے ایسی حرکت کی تو ان کی پارٹی نے ان کی سرزنش نہیں کی۔ ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ ایسا بار بار ہو رہا ہے۔’

اس سلسلے میں ماروی سرمد نے کہا کہ ‘مسلم لیگ نون کے اندر خواتین کی تضحیک کا کلچر ہے۔ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ ایسے معاملات میں ان کی جماعت کی خواتین بھی اپنے مرد لیڈروں کا دفاع کر رہی ہوتی ہیں جس کی وجہ سے یہ کلچر مزید زور پکڑتا ہے۔’

انہوں نے سندھ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برس سندھ اسمبلی میں پیپلزپارٹی کے ایک صوبائی رکن نے ایسی حرکت کی تو انہیں معافی مانگنا پڑی کیونکہ تمام جماعتوں کی خواتین اکٹھی تھیں۔ اس نازیبا ٹویٹ پر بھی خواتین کو چاہیے کہ وہ اکٹھی ہو جائیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ‘پارلیمان میں خواتین اپنی پارٹی لائن سے بالاتر ہوں اور یہ طے کریں کہ آیا خواتین اکٹھی ہیں یا نہیں۔ کمیٹی کو چاہیے کہ خواجہ آصف سے معافی طلب کرے۔ گزشتہ برس تو وہ شیریں مزاری سے براہِ راست معافی مانگنے سے بچ گئے مگر اس مرتبہ انھیں نہ چھوڑا جائے۔ اور وہ جلد از جلد اپنی ٹویٹ بھی ڈیلیٹ کریں۔’ انہوں نے سندھ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برس سندھ اسمبلی میں پیپلزپارٹی کے ایک صوبائی رکن نے ایسی حرکت کی تو انہیں معافی مانگنا پڑی کیونکہ تمام جماعتوں کی خواتین اکٹھی تھیں۔ اس نازیبا ٹویٹ پر بھی خواتین کو چاہیے کہ وہ اکٹھی ہو جائیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ‘پارلیمان میں خواتین اپنی پارٹی لائن سے بالاتر ہوں اور یہ طے کریں کہ آیا خواتین اکٹھی ہیں یا نہیں۔ کمیٹی کو چاہیے کہ خواجہ آصف سے معافی طلب کرے۔ گزشتہ برس تو وہ شیریں مزاری سے براہِ راست معافی مانگنے سے بچ گئے مگر اس مرتبہ انھیں نہ چھوڑا جائے۔ اور وہ جلد از جلد اپنی ٹویٹ بھی ڈیلیٹ کریں۔’

تاہم حکمران جماعت کی جانب سے اس سلسلے میں کوئی ردعمل سامنے نہ آنے پر شرمیلا فاروقی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ‘خواجہ آصف نے فخر کے ساتھ پارلیمان میں جس نام سے پی ٹی آئی کی خاتون کو بلایا وہی لفظ انہوں نے ٹویٹ میں بھی استعمال کیا، ایک اور خاتون کو نیا نام دیا، لیکن وزیر اعظم کے خاندان کی خواتین خاموش ہیں۔’مرد رکن پارلیمان کی جانب سے ساتھی خواتین کو کمتر اور کمزور سمجھنے اور ان سے بد تمیزی کے متعدد واقعات قومی اور صوبائی اسمبلی میں پیش آ چکے ہیں۔ اسّی کی دہائی ہو یا نوّے کی، خواتین رکن پارلیمان کو مردوں کے نازیبا رویوں کا سامنا ہمیشہ سے رہا ہے۔

اس سلسلے میں اکثر سیاستدان بینظیر بھٹو کی مثال دیتے ہیں جنہیں مسلم لیگ ن کے کارکن ایسے القابات سے نوازتے تھے جن کی اجازت کوئی بھی مہذب معاشرہ نہیں دیتا۔ لیکن اس وقت اتنا شور نہیں ہوتا تھا۔

ماہرین کے خیال میں اب سوشل میڈیا کی آمد سے سیاستدان اس طرح کی جنسی تفریق یا بداخلاقی سے بچ کے نہیں جا سکتے۔ اور حکومت کو چاہیے وہ اس سلسلے میں قانون سازی کرے تاکہ خواتین کی عزت کرنا لازم بنایا جاسکے۔

خواجہ آصف اِس حرکت میں اکیلے نہیں جو باہر سے بے عِزتی کروا کر، خندہ پیشانی کے ساتھ گالیاں کھا کر واپس گھر لوٹتے ہیں تو دہلیز پار کرتے ہی چھوٹے موٹے فرعون بن جاتے ہیں۔توقع یہ رکھتے ہیں کہ جو مردانگی گھر سے باہر لٹوا کر آئے ہیں عورت اْسے کِسی طرح بحال کرے۔ خواجہ آصف بھی گذشتہ دِنوں فوج کے ہیڈ کوارٹر سے ایک میٹنگ کر کے آئے تھے، وہاں نجانے کیا اچھا بْرا ہوا آتے ہی اسمبلی میں اسپیکر صاحب سے کہنے لگے کہ شیریں مزاری کی آواز کو زنانہ بنایا جائے۔کچھ حسِ مزاح رکھنے والے لوگوں نے تبصرہ کیا کہ خواجہ آصف خود تو مرد بن نہ سکے اب چلے ہیں شیریں مزاری کو عورت بنانے ۔

خواجہ آصف کے شیریں مزاری سے معافی نہ مانگنے پر اپوزیشن نے قومی اسمبلی سے واک آؤٹ کیا۔اِس نظریے کا بنیادی اصول یہی ہے کہ اچھی عورت وہی ہے جو خاموش رہے یا مر جائے۔ ملالہ زندہ ہے اور خاموش بھی نہیں رہتی تو وْہ پوری عورت نہیں ہے۔ مختاراں مائی بھی بولنے سے باز نہیں آتی، برْی عورت۔ بینظیر بھٹو نے بھی آخر اِسی بات کی سزا پائی کہ وہ پوری عورت نہیں تھیں لیکن چونکہ وہ مر گئیںتو اْن خواجہ آصف کے شیریں مزاری سے معافی نہ مانگنے پر اپوزیشن نے قومی اسمبلی سے واک آؤٹ کیا۔اِس نظریے کا بنیادی اصول یہی ہے کہ اچھی عورت وہی ہے جو خاموش رہے یا مر جائے۔ ملالہ زندہ ہے اور خاموش بھی نہیں رہتی تو وْہ پوری عورت نہیں ہے۔ مختاراں مائی بھی بولنے سے باز نہیں آتی، برْی عورت۔ بینظیر بھٹو نے بھی آخر اِسی بات کی سزا پائی کہ وہ پوری عورت نہیں تھیں لیکن چونکہ وہ مر گئیںتو اْن کے حِصے میں کچھ گالیاں کم آتی ہیں۔خواجہ آصف جیسے لوگوں کا خیال ہے کہ اگرعورت کو زندہ رہنا ہی ہے، بولنا ہی ہے، اسمبلی میں بھی آ گئیں تو کم از کم عورتوں کی طرح تو بات کرو، ہماری مجروح مردانگی کا تو کچھ خیال کرو۔سابق وفاقی وزیر اور حال ہی میں تحریک انصاف جوائن کرنے والی خاتون رہنماڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے خواجہ آصف کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ گٹرلیگ کا گندا کیڑا ہے جسے خواتین سے بات کرنے کاسلیقہ ہی نہیں،میں اس سے نہیں ڈرنے والی ۔مجھے ڈمپر کہنے والا خواجہ آصف مت بھولے کہ 2018انتخابات میں یہ ڈمپر ن لیگ کے سارے روڑے کچل دے گا۔فردوس عاشق اعوان نے خواجہ آصف کی جانب سے ٹویٹ کے ذریعے ان پر ذاتی حملے کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ گندی نسل سے جن کا تعلق ہو وہ ایسی ہی باتیں کرتے ہیں ،کیا خواجہ آصف کے اپنے گھر میں ماں ،بہن اور بیٹی نہیں ،اسے تمیز ہی نہیں کہ خواتین سے کیسے بات کرنی ہے ،اصل میں خواجہ آصف نے اپنا چھوٹا پن دکھایا ہے ۔

تہمینہ نقوی


متعلقہ خبریں


مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر