... loading ...
پاکستان کے وزیر دفاع اور حکمران مسلم لیگ نون کے سرکردہ رہنما خواجہ محمد آصف ایک ٹویٹ میں تحریک انصاف کی خواتین رہنماؤں کے بارے میں غیر مناسب الفاظ کے استعمال کے حوالے سے ایک دفعہ پھر شدید تنقید کی زد میں ہیںاور اس حوالے سے ہر حلقے کی جانب سے ان پر لعن طعن کاسلسلہ جاری ہے، پیپلز پارٹی کی رہنما شرمیلا فاروقی کا کہنا تھا کہ ‘اگر خواجہ آصف کو اپنی مخالف پارٹی پر کوئی اعتراض ہے تو دلائل دیں، ان کی پارٹی کی خواتین کو نشانہ بنا کر وہ کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟’ پاکستان کے وزیر دفاع اور حکمران مسلم لیگ نون کے سرکردہ رہنما خواجہ محمد آصف ایک ٹویٹ میں تحریک انصاف کی خواتین رہنماؤں کے بارے میں غیر مناسب الفاظ کے استعمال کے حوالے سے ایک دفعہ پھر شدید تنقید کی زد میں ہیںاور اس حوالے سے ہر حلقے کی جانب سے ان پر لعن طعن کاسلسلہ جاری ہے، پیپلز پارٹی کی رہنما شرمیلا فاروقی کا کہنا تھا کہ ‘اگر خواجہ آصف کو اپنی مخالف پارٹی پر کوئی اعتراض ہے تو دلائل دیں، ان کی پارٹی کی خواتین کو نشانہ بنا کر وہ کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟’
اس ٹویٹ کے بعد سے خواجہ آصف کو شدید تنقید کا سامنا ہے اور بیشتر سیاسی جماعتیں اور صحافی ان کے خلاف کارروائی کے مطالبے کے ساتھ ساتھ ان سے معافی کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں جب خواجہ آصف نے خواتین رکن پارلیمان کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کیے ہوں۔ انہوں نے گزشتہ برس بھی ایسا ہی کیا تھا اور وہ بھی پارلیمینٹ کے اندر۔ انہوں نے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران تحریک انصاف کی مرکزی رہنما شیریں مزاری کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کیے تھے جس کے بعد حزب اختلاف کی جماعتیں، خواتین رکن پارلیمان اور سوشل میڈیا نے یکجا ہو کر خواجہ آصف سے معافی طلب کی تھی۔دباؤ میں آکر خواجہ آصف نے اسمبلی میں معافی نامہ جمع تو کرایا مگر شیریں مزاری اور دیگر ارکان پارلیمان کا اعتراض تھا کہ انہوں نے شیریں مزاری سے براہ راست معافی نہیں مانگی بلکہ انھیں مخاطب کیے بغیر معافی مانگی ہے۔
انہوں نے تازہ ٹویٹ میں بھی ایسے ہی الفاظ استعمال کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف پر تنقید کی۔ انہوں نے کسی کا نام نہیں لیا بلکہ اشارتاً تنقید کی، جس کے بعد ایک مرتبہ پھر سوشل میڈیا پر بیشتر افراد خواجہ آصف کو ان کے عہدے کا تقدس یاد دلا رہے ہیں اور خواتین سے عزت کے ساتھ پیش آنے کی تلقین کر رہے ہیں۔ انہوں نے تازہ ٹویٹ میں بھی ایسے ہی الفاظ استعمال کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف پر تنقید کی۔ انہوں نے کسی کا نام نہیں لیا بلکہ اشارتاً تنقید کی، جس کے بعد ایک مرتبہ پھر سوشل میڈیا پر بیشتر افراد خواجہ آصف کو ان کے عہدے کا تقدس یاد دلا رہے ہیں اور خواتین سے عزت کے ساتھ پیش آنے کی تلقین کر رہے ہیں۔
پیپلز پارٹی کی شرمیلا فاروقی نے برطانوی خبررساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا: ‘صاف ظاہر ہے کہ خواجہ آصف اپنی ساتھی خاتون کی بے عزتی کر کے شرمندہ نہیں۔ اور اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ جب گزشتہ سال انہوں نے ایسی حرکت کی تو ان کی پارٹی نے ان کی سرزنش نہیں کی۔ ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ ایسا بار بار ہو رہا ہے۔’ پیپلز پارٹی کی شرمیلا فاروقی نے برطانوی خبررساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا: ‘صاف ظاہر ہے کہ خواجہ آصف اپنی ساتھی خاتون کی بے عزتی کر کے شرمندہ نہیں۔ اور اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ جب گزشتہ سال انہوں نے ایسی حرکت کی تو ان کی پارٹی نے ان کی سرزنش نہیں کی۔ ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ ایسا بار بار ہو رہا ہے۔’
اس سلسلے میں ماروی سرمد نے کہا کہ ‘مسلم لیگ نون کے اندر خواتین کی تضحیک کا کلچر ہے۔ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ ایسے معاملات میں ان کی جماعت کی خواتین بھی اپنے مرد لیڈروں کا دفاع کر رہی ہوتی ہیں جس کی وجہ سے یہ کلچر مزید زور پکڑتا ہے۔’
انہوں نے سندھ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برس سندھ اسمبلی میں پیپلزپارٹی کے ایک صوبائی رکن نے ایسی حرکت کی تو انہیں معافی مانگنا پڑی کیونکہ تمام جماعتوں کی خواتین اکٹھی تھیں۔ اس نازیبا ٹویٹ پر بھی خواتین کو چاہیے کہ وہ اکٹھی ہو جائیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ‘پارلیمان میں خواتین اپنی پارٹی لائن سے بالاتر ہوں اور یہ طے کریں کہ آیا خواتین اکٹھی ہیں یا نہیں۔ کمیٹی کو چاہیے کہ خواجہ آصف سے معافی طلب کرے۔ گزشتہ برس تو وہ شیریں مزاری سے براہِ راست معافی مانگنے سے بچ گئے مگر اس مرتبہ انھیں نہ چھوڑا جائے۔ اور وہ جلد از جلد اپنی ٹویٹ بھی ڈیلیٹ کریں۔’ انہوں نے سندھ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برس سندھ اسمبلی میں پیپلزپارٹی کے ایک صوبائی رکن نے ایسی حرکت کی تو انہیں معافی مانگنا پڑی کیونکہ تمام جماعتوں کی خواتین اکٹھی تھیں۔ اس نازیبا ٹویٹ پر بھی خواتین کو چاہیے کہ وہ اکٹھی ہو جائیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ‘پارلیمان میں خواتین اپنی پارٹی لائن سے بالاتر ہوں اور یہ طے کریں کہ آیا خواتین اکٹھی ہیں یا نہیں۔ کمیٹی کو چاہیے کہ خواجہ آصف سے معافی طلب کرے۔ گزشتہ برس تو وہ شیریں مزاری سے براہِ راست معافی مانگنے سے بچ گئے مگر اس مرتبہ انھیں نہ چھوڑا جائے۔ اور وہ جلد از جلد اپنی ٹویٹ بھی ڈیلیٹ کریں۔’
تاہم حکمران جماعت کی جانب سے اس سلسلے میں کوئی ردعمل سامنے نہ آنے پر شرمیلا فاروقی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ‘خواجہ آصف نے فخر کے ساتھ پارلیمان میں جس نام سے پی ٹی آئی کی خاتون کو بلایا وہی لفظ انہوں نے ٹویٹ میں بھی استعمال کیا، ایک اور خاتون کو نیا نام دیا، لیکن وزیر اعظم کے خاندان کی خواتین خاموش ہیں۔’مرد رکن پارلیمان کی جانب سے ساتھی خواتین کو کمتر اور کمزور سمجھنے اور ان سے بد تمیزی کے متعدد واقعات قومی اور صوبائی اسمبلی میں پیش آ چکے ہیں۔ اسّی کی دہائی ہو یا نوّے کی، خواتین رکن پارلیمان کو مردوں کے نازیبا رویوں کا سامنا ہمیشہ سے رہا ہے۔
اس سلسلے میں اکثر سیاستدان بینظیر بھٹو کی مثال دیتے ہیں جنہیں مسلم لیگ ن کے کارکن ایسے القابات سے نوازتے تھے جن کی اجازت کوئی بھی مہذب معاشرہ نہیں دیتا۔ لیکن اس وقت اتنا شور نہیں ہوتا تھا۔
ماہرین کے خیال میں اب سوشل میڈیا کی آمد سے سیاستدان اس طرح کی جنسی تفریق یا بداخلاقی سے بچ کے نہیں جا سکتے۔ اور حکومت کو چاہیے وہ اس سلسلے میں قانون سازی کرے تاکہ خواتین کی عزت کرنا لازم بنایا جاسکے۔
خواجہ آصف اِس حرکت میں اکیلے نہیں جو باہر سے بے عِزتی کروا کر، خندہ پیشانی کے ساتھ گالیاں کھا کر واپس گھر لوٹتے ہیں تو دہلیز پار کرتے ہی چھوٹے موٹے فرعون بن جاتے ہیں۔توقع یہ رکھتے ہیں کہ جو مردانگی گھر سے باہر لٹوا کر آئے ہیں عورت اْسے کِسی طرح بحال کرے۔ خواجہ آصف بھی گذشتہ دِنوں فوج کے ہیڈ کوارٹر سے ایک میٹنگ کر کے آئے تھے، وہاں نجانے کیا اچھا بْرا ہوا آتے ہی اسمبلی میں اسپیکر صاحب سے کہنے لگے کہ شیریں مزاری کی آواز کو زنانہ بنایا جائے۔کچھ حسِ مزاح رکھنے والے لوگوں نے تبصرہ کیا کہ خواجہ آصف خود تو مرد بن نہ سکے اب چلے ہیں شیریں مزاری کو عورت بنانے ۔
خواجہ آصف کے شیریں مزاری سے معافی نہ مانگنے پر اپوزیشن نے قومی اسمبلی سے واک آؤٹ کیا۔اِس نظریے کا بنیادی اصول یہی ہے کہ اچھی عورت وہی ہے جو خاموش رہے یا مر جائے۔ ملالہ زندہ ہے اور خاموش بھی نہیں رہتی تو وْہ پوری عورت نہیں ہے۔ مختاراں مائی بھی بولنے سے باز نہیں آتی، برْی عورت۔ بینظیر بھٹو نے بھی آخر اِسی بات کی سزا پائی کہ وہ پوری عورت نہیں تھیں لیکن چونکہ وہ مر گئیںتو اْن خواجہ آصف کے شیریں مزاری سے معافی نہ مانگنے پر اپوزیشن نے قومی اسمبلی سے واک آؤٹ کیا۔اِس نظریے کا بنیادی اصول یہی ہے کہ اچھی عورت وہی ہے جو خاموش رہے یا مر جائے۔ ملالہ زندہ ہے اور خاموش بھی نہیں رہتی تو وْہ پوری عورت نہیں ہے۔ مختاراں مائی بھی بولنے سے باز نہیں آتی، برْی عورت۔ بینظیر بھٹو نے بھی آخر اِسی بات کی سزا پائی کہ وہ پوری عورت نہیں تھیں لیکن چونکہ وہ مر گئیںتو اْن کے حِصے میں کچھ گالیاں کم آتی ہیں۔خواجہ آصف جیسے لوگوں کا خیال ہے کہ اگرعورت کو زندہ رہنا ہی ہے، بولنا ہی ہے، اسمبلی میں بھی آ گئیں تو کم از کم عورتوں کی طرح تو بات کرو، ہماری مجروح مردانگی کا تو کچھ خیال کرو۔سابق وفاقی وزیر اور حال ہی میں تحریک انصاف جوائن کرنے والی خاتون رہنماڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے خواجہ آصف کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ گٹرلیگ کا گندا کیڑا ہے جسے خواتین سے بات کرنے کاسلیقہ ہی نہیں،میں اس سے نہیں ڈرنے والی ۔مجھے ڈمپر کہنے والا خواجہ آصف مت بھولے کہ 2018انتخابات میں یہ ڈمپر ن لیگ کے سارے روڑے کچل دے گا۔فردوس عاشق اعوان نے خواجہ آصف کی جانب سے ٹویٹ کے ذریعے ان پر ذاتی حملے کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ گندی نسل سے جن کا تعلق ہو وہ ایسی ہی باتیں کرتے ہیں ،کیا خواجہ آصف کے اپنے گھر میں ماں ،بہن اور بیٹی نہیں ،اسے تمیز ہی نہیں کہ خواتین سے کیسے بات کرنی ہے ،اصل میں خواجہ آصف نے اپنا چھوٹا پن دکھایا ہے ۔
تہمینہ نقوی
نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...
ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...
تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...
ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...
بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...
صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...
ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...
مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...
سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...
سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...
گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...
سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...