وجود

... loading ...

وجود

سہیل انور سیال مستقبل کے وزیراعلیٰ ۔۔۔؟؟

اتوار 28 مئی 2017 سہیل انور سیال مستقبل کے وزیراعلیٰ ۔۔۔؟؟

آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ سے جنگ کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت نے بڑے غور وخوص کے بعد ہما لاڑکانہ سے تعلق رکھنے والے سہیل انور سیال کے سر پر رکھ دی، سہیل انور سیال تحصیل ڈوکری ضلع لاڑکانہ سے رکن سندھ اسمبلی منتخب ہوئے حالانکہ 2001ء کے بلدیاتی الیکشن میں سہیل انور سیال یونین کونسل کے ناظم کا الیکشن ہار گئے تھے۔ 2013ء کے عام انتخابات میں سہیل انور سیال کو پی پی کا ٹکٹ نہیں مل سکا تھا لیکن ان کی انتخابی مہم آصف زرداری، فریال تالپور نے چلائی تھی کیونکہ پارٹی ٹکٹ لینے والے امیدوار حاجی الطاف حسین انڑ نے پارٹی سے بغاوت کردی تھی لیکن پارٹی قیادت کی مخالفت کے باوجود الطاف حسین انڑ جیت گئے تھے۔اور آصف علی زرداری، فریال تالپور کی بھرپور حمایت کے باوجود سہیل انور سیال کو شکست فاش ہوئی۔ سہیل انور سیال کو بعدازاں الطاف حسین انڑ کے انتقال کے بعد ضمنی الیکشن میں بلامقابلہ کامیاب کرایا گیا۔یہ بھی ایک عجب معاملہ ہے کہ وہاں جو امیدوارتھے بابو سرور سیال تو فریال تالپورنے سہیل انور سیال کے ساتھ پٹھان گوٹھ آکر بابو سرور سیال کو منایا اور بابو سرور سیال نے گھر آنے والوں کو عزت بخشتے ہوئے دستبرداری کا اعلان کیا۔لیکن سہیل انور سیال نے ایم پی اے اور وزیر بننے کے بعد اُسی پٹھان گوٹھ پر مسلح افراد اور پولیس کے ساتھ مل کر حملہ کرایا جس میں بابو سرور سیال کا بھانجا قتل ہوگیا۔ پھر مکافات عمل سامنے آیا، 90 ارب روپے کے ٹھیکے میں مالی بے قاعدگی کرنے والے ٹھیکیدار اسد کھرل کو جب نیب، حساس اداروں اور رینجرز نے مشترکہ چھاپے میںگرفتار کیا تو سہیل انور سیال نے فوری طورپر فریال تالپور کو اطلاع دی۔ فریال تالپور نے حکم دیا کہ فوری طورپر اسد کھرل کو چھڑوایا جائے، پھر کیا تھا سہیل انور سیال نے اپنے بھائی طارق سیال کو حکم دیا، طارق سہیل نے درجنوں مسلح افراد لے کر چھاپہ مارکر سرکاری ٹیم کوگھیرے میں لے لیا اور ان کو تھانہ جانے پر مجبور کیا اور پھر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو تھانے میں چار گھنٹوں تک یرغمال بنائے رکھا اور بالآخر اسلحہ کے زور پر اسد کھرل کو چھڑالیا گیا، ان کو سہیل انور سیال اور فریال تالپور کی رہائش گاہ پر رکھا گیا، پھر ان ہی دنوں چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ سید سجاد علی شاہ کے بیٹے بیرسٹر اویس شاہ کو اغواء کرلیا گیا تو پھر اسد کھرل اور چیف جسٹس کے بیٹے کو بازیاب کرانے کے لیے لاڑکانہ میں رینجرز نے آپریشن کیا ،حتیٰ کہ وزیر داخلہ سہیل انور سیال کے گائوں اور لاڑکانہ کی رہائش گاہ پر بھی پکٹ لگاکر آنے جانے والوں کی تلاشی لی گئی۔ بابو سرور سیال نے پریس بیان جاری کرکے تہلکہ مچادیا کہ چیف جسٹس کے بیٹے بیرسٹر اویس شاہ کو سہیل انور سیال نے اغواء کرایا ہے پھر تو ہنگامہ کھڑا ہوگیا۔ بلاآخر چیف جسٹس کے بیٹے کو خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک سے اس وقت بازیاب کرالیا گیا جب مغوی کو افغانستان منتقل کیا جارہا تھا۔ اس کے بعد قومی سلامتی کے ادارے سہیل انور سیال سے ناراض ہوگئے ،پھر حکومت سندھ نے رینجرز کی مدت بڑھانے پر تنازع کھڑا کیا، چند روز تک سندھ اسمبلی کا اجلاس جاری رہا روزانہ ایجنڈا میں رینجرز کی مدت اور اختیارات میں توسیع کا معاملہ شامل کیا گیا لیکن اس قرارداد کو آخری روز منظور کیا گیا۔ اس کے بعد حکومت سندھ میں تبدیلی ہوئی مراد علی شاہ کو نیا وزیراعلیٰ بنایا گیا، ان کی کابینہ میں سہیل انور سیال کو وزیر آبپاشی اور وزیر زراعت بنایا گیا۔ حالانکہ ان کو سیکورٹی کلیئرنس نہیں دی گئی تھی مگر چونکہ سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی سادہ اکثریت رکھتی ہے، اس لئے سیکورٹی کلیئرنس کی پروا
نہیں کی ۔سہیل انور سیال نے اسد کھرل کے توسط سے کراچی، دبئی، ملیشیا میں اربوں روپے کے کاروبار شروع کرلیے ہیں اور یہ سب فریال تالپور کی ملکیت ہیں، تاہم سہیل انور سیال اور اسد کھرل نے درمیان میں ڈنڈی بھی ماری ہے اور اپنے بھی خفیہ کاروبار شروع کررکھے ہیں۔ مگر ان کی پی پی کی قیادت میں کتنی اہمیت اور عزت سے اس کا ثبوت دو فوٹو گراف ہیں جس میں ایک طرف وہ فریال تالپور کا دورہ گھوٹکی کے دوران پرس اٹھاکرچل رہے ہیں تو دوسری جانب وہ ایک نجی اسپتال میں آصف علی زرداری کی آمد پر ان کو پائوں پڑکر مل رہے ہیں۔ جب وہ اقتدار کے حصول کے لئے اتنا کرسکتے ہیں تو پھر ان سے کچھ بھی توقع کی جاسکتی ہے۔ پچھلے چند روز سے آصف علی زرداری کی ہدایت پر حکومت سندھ نے آئی جی سندھ سے نئی جنگ شروع کر رکھی ہے، پہلی جنگ 19 دسمبر 2016ء کو شروع کی تھی جس میں حکومت سندھ کو منہ کی کھانی پڑی تھی تو دوسری جنگ مارچ میں شروع کی جو تاحال جاری ہے جس میں بھی حکومت سندھ کو ناکامی ہوئی ہے اب تمام تیر چلانے کے بعد جب آئی جی سندھ کو نہیں ہٹایا گیا تو آئی جی سندھ پولیس نے خود سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور حکم امتناعی ختم کرنے اور وفاقی حکومت جانے کی استدعا کی تو سندھ ہائی کوٹ نے یہ استدعا مسترد کردی تب ،حکومت سندھ اور پی پی کی کیمپوں میں صف ماتم بچھ گئی اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ کو وزیراعلیٰ ہائوس بلالیا اور پھر کیا ہوا؟ ایک طوفان کھڑا کردیا گیا، وزیرعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ پر پارٹی قیادت یعنی آصف علی زرداری اور فریال تالپور نے عدم اعتماد کا اظہار کیا اور اپنے وفادار سہیل انور سیال کو فوری طورپر آئی جی سندھ پولیس سے نئی جنگ کے لئے تیار کیا گیا ۔وہ تابعدار ملازم کی طرح سرتسلیم خم کرکے میدان میں کود پڑے اور براہ راست پولیس افسران سے رابطے کیے کہ ان کی صدارت میں اجلاس بلایا گیا ہے۔ اس پر آئی جی نے پولیس افسران کو روکا تو ایڈیشنل آئی جی ٹریفک خادم حسین بھٹی نے آئی جی کو لیٹر لکھ کر اجازت طلب کرلی کہ انہیں وزیر داخلہ کے اجلاس میں بلایا گیا ہے ان کو بتایا جائے کہ وہ جائیں یا نہ جائیں؟ پھر تو میڈیا میں ہنگامہ کھڑا ہوگیا اور جب وزیر داخلہ کا اجلاس ہوا تو لاڑکانہ، سکھر، نوابشاہ اور حیدر آباد کے ڈی آئی جیز شریک ہوئے مگر کراچی کا کوئی ڈی آئی جی شریک نہ ہوا حتیٰ کہ ایڈیشنل آئی جیز بھی اجلاس میں شریک نہیں ہوئے ۔اس کے اگلے روز آئی جی سندھ پولیس نے امن وامان اور ماہ رمضان المبارک کی سیکورٹی کے لئے اجلاس بلایا تو اس اجلاس میں پورے صوبے کے ڈی آئی جیز اور ایڈیشنل آئی جیز شریک ہوئے یوں پولیس افسران نے آئی جی کی قیادت پر اعتماد کیا لیکن وزیر داخلہ سہیل انور سیال کو پارٹی قیادت سے شاباش ملی اور اب پارٹی قیادت صلاح مشورے کررہی ہے کہ موجودہ حکومت میں سہیل انور سیال کو نائب وزیراعلیٰ بنایا جائے یا پھر آئندہ عام الیکشن میں ان کو وزیراعلیٰ بنایا جائے اس لئے ان سے ایسے گھنائونے کام لیے جارہے ہیں۔


متعلقہ خبریں


مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت وجود - جمعه 06 نومبر 2026

میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز وجود - جمعه 06 نومبر 2026

چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی

میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے وجود - جمعه 06 نومبر 2026

ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...

میٹا  نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں وجود - جمعه 06 نومبر 2026

خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر وجود - جمعه 06 نومبر 2026

گوشوارے جمع کروانا الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 137 کے تحت ایک لازمی قانونی تقاضا ہے،الیکشن کمیشن اراکینِ پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی کے لیے مالی سال 26ـ2025 کے اثاثہ جات و واجبات کے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقررکردی گئی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے کہاگیاہے کہ مالی سال ...

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

مضامین
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ وجود جمعه 06 نومبر 2026
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ

نقاب کے پیچھے دفن انسان وجود جمعه 06 نومبر 2026
نقاب کے پیچھے دفن انسان

فضائی آلودگی کا عذاب وجود جمعه 06 نومبر 2026
فضائی آلودگی کا عذاب

ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر