وجود

... loading ...

وجود

پیپلز پارٹی کواندرونی خلفشار کاسامنا کئی اہم خاندان الوداع کرنے کے لیے تیار

جمعه 12 مئی 2017 پیپلز پارٹی کواندرونی خلفشار کاسامنا کئی اہم خاندان الوداع کرنے کے لیے تیار

گھوٹکی اور سکھر سے تعلق رکھنے والا مہر گروپ اس وقت ناراض ہے کیونکہ ان کے سیاسی مخالفین خالد لوند اور دیگر کو پارٹی میں شامل کرلیا گیا ہے،ن لیگ اور پی ٹی آئی سے خفیہ رابطے ،خورشید شاہ بھی ناراض ، لاڑکانہ میں سہیل انور سیال کو لفٹ ملی ہوئی ہے لیکن نثار کھوڑو اور ایاز سومرو کو لفٹ نہیں مل رہی ، شہداد کوٹ میں میر نادر مگسی اور چانڈیو قبیلے کو زیادہ اہمیت نہیں مل رہی،قائم علی شاہ کے حمایتی بھی مکمل نظرانداز

اس وقت سندھ میں سیاسی تماشہ لگا ہوا ہے، سیاسی مداری ڈگڈگی بجا کر سیاسی پرندوں کو اکھٹا کررہے ہیں اور ایک مجمع لگا ہوا ہے‘ پیپلز پارٹی نے پھر با اثر جاگیردار اور وڈیروں کو اپنے ساتھ ملانے کا عمل شروع کردیا ہے لیکن کہتے ہیں کہ عقلمند کوا دونوں ٹانگوں سے پھنستا ہے، یہی حال پی پی کی قیادت کا ہے وہ بڑی عقلمندی دکھا رہے ہیں اور دنیا کوبتا رہے ہیں کہ دیکھا کس طرح آصف زرداری نے اپنی جادوگری دکھا دی اور سب کو اپنے ساتھ ملا لیا؟؟ لیکن آنے والے کل کے بارے میں کسی کو کیا پتہ ؟ اس وقت جو صورتحال سامنے آرہی ہے وہ پی پی کے لیے کوئی بہتر صورت نہیں ہے۔ کیونکہ اس وقت سب کو اکٹھا کیا گیا ہے تو پھر کوئی راضی‘ دوسرا ناراض والی پوزیشن تو رہے گی۔ اب گھوٹکی اور سکھر سے تعلق رکھنے والا مہر گروپ ناراض ہوگیا ہے‘ کیونکہ ان کے سیاسی مخالفین خالد لوند اور دیگر کو پارٹی میں شامل تو کیا گیا ہے لیکن مہر گروپ کو اعتماد میں نہیں لیا گیا‘ اب مہر خاندان نے مسلم لیگ(ن) اور پاکستان تحریک انصاف کی قیادت سے خفیہ رابطے شروع کردیتے ہیں‘ دوسری جانب سید خورشید شاہ بھی پارٹی سے ناراض ہیں کیونکہ پارٹی الیکشن اور بلدیاتی الیکشن میں انہیں کارنر کیا گیا ہے۔ اس طرح سید قائم علی شاہ کو ضلع خیر پور کی سیاست سے آئوٹ کردیا گیا ہے اور ضلع کونسل اور پارٹی الیکشن میں ان کا ایک بھی حمایتی آگے نہیں آیا۔ ضلع کونسل کے چیئرمین شہریار وسان بنے ہیں جو منظور وسان کے بھانجے ہیں‘ اس طرح ضلع لاڑکانہ میں سہیل انور سیال کو لفٹ ملی ہوئی ہے ،نثار کھوڑو اور ایاز سومرو کو لفٹ نہیں مل رہی ہے ضلع شہداد کوٹ میں میر نادر مگسی کو مکمل نظر انداز کیا گیا ہے اور چانڈیو قبیلہ کو بھی زیادہ اہمیت نہیں مل رہی ہے ضلع نوشہروفیروز میں سب سے زیادہ اہمیت صوبائی وزیر قانون ضیاء الحسن لنجار کو دی جارہی ہے دیگر ارکان سندھ اسمبلی ناراض ہیں۔ ضلع شکار پور میں آغا سراج درانی کو بھی زیادہ لفٹ نہیں مل رہی ہے ،ضلع کونسل کے الیکشن اور پارٹی الیکشن میں ان کے حامیوں کو نظر انداز کیا گیا ہے‘ ضلع سانگھڑ میں جام مدد علی کو زیادہ توجہ مل رہی ہے باقی رہنمائوں کو بھی پیچھے دھکیلا جارہا ہے‘ ضلع ٹنڈوالہیار سے علی نواز شاہ کو نظر انداز کیا جارہا ہے حالانکہ وہ کئی مرتبہ وزیر بھی رہے ہیں اور وہ مالی بے قاعدگیوں میں بھی کبھی ملوث نہیں پائے گئے۔ضلع حیدرآباد میں سب سے زیادہ توجہ شرجیل میمن اور جام خان شورو کو مل رہی ہے اور سینئر رہنمائوں کو نظر انداز کیا جارہا ہے ‘ ضلع دادو میں لیاقت جتوئی جب سے پاکستان تحریک انصاف میں گئے ہیں پی پی کے کئی سینئر رہنما ان سے رابطے میں آگئے ہیں‘ ضلع میر پور خاص میں آفتاب شاہ جیلانی کو نظر انداز کیا جارہا ہے‘ ضلع کشمور میں سلیم جان مزاری ناراض ہیں ان کو زیادہ اہمیت نہیں مل رہی ہے‘ ضلع جیکب آباد میں اعجاز جکھرانی کو زیادہ لفٹ ملنے سے دیگر رہنما ناراض بیٹھے ہیں‘ نواب شاہ میں تو کسی کو لفٹ نہیں ہے‘ اس طرح مختلف اضلاع میں ان افراد کو نوازا جارہا ہے جو ماضی میں پی پی پی کے مخالف رہے ہیں۔ اس صورتحال میں پارٹی کے سینئر رہنما ناراض بیٹھے ہیں اور انہوں نے جس طرح خاموشی اختیار کی ہے وہ نئے سیاسی طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے‘ اور پیپلز پارٹی کو اس کا اندازشاید ا بھی نہیں ہوگا کہ عام الیکشن کے وقت کون کون سے رہنما پارٹی کے ساتھ کھڑے ہوں گے؟ اور کون کون پارٹی کو چھوڑ جائے گا۔ اس طوفان سے پہلے گھٹن کا پیپلز پارٹی کی قیادت کو اندازا نہیں ہے ۔لیکن ذرائع بتاتے ہیں کہ خفیہ ملاقاتوں اوردرون پردہ رابطوں کا بھی آغاز کردیا گیا ہے‘ ضلع بدین میں اسماعیل راہو نے جب سے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی ہے، وہاں با اثر چانگ خاندان ناراض ہوگیا ہے کیونکہ اسماعیل راہو کے والد شہید فاضل راہو کے قتل کیس میں چانگ قبیلے کے تین افراد کو پھانسی دی گئی تھی ،انہوں نے پھانسی رکوانے کی بڑی کوشش کی تھی لیکن راہو خاندان نے معاف کرنے سے انکار کردیا تھا۔ اب ذوالفقار مرزا بھی خاموش بیٹھے ہیں اور کسی بھی وقت سیاسی دھماکا کرسکتے ہیں ،قیاس ہے کہ وہ عنقریب بدین میں بڑا جلسہ کرکے نیا سیاسی سفر شروع کریں گے۔ سندھ میں مسلم لیگ فنکشنل‘ مسلم لیگ (ن)‘ عوامی تحریک‘ مسلم لیگ(ق)‘ پاکستان تحریک انصاف اور دیگر با اثر افراد مل کر نئی سیاسی پارٹی بنانے یا پھر نیا سیاسی اتحاد قائم کرنے کی بھر پور کوشش کررہے ہیں، اس ضمن میں ایاز لطیف پلیجو سرگرم ہوگئے ہیں جبکہ درجنوں ناراض خاندانوں نے نئے مجوزہ اتحاد میں شمولیت کی حامی بھری ہے‘ اور اس مرتبہ پولیس بھی عام انتخابات میں بے گار کے طور پر استعمال نہیں ہوگی‘ یہی وجہ ہے کہ پچھلے دو الیکشنز میں دھاندلی کرنے کے باوجود پی پی پی اس مرتبہ دھاندلی کرنے کی منصوبہ بندی کرنے سے قبل مسلم لیگ ن اور وفاقی حکومت پر قبل از وقت دھاندلی کرنے کا الزام لگا کر جگ ہنسائی کا سامناکررہی ہے اور عام الیکشن کے قریب آتے ہی بہت سے چہرے دوسری پارٹیوں میں چلے جائیں گے اور پھر ایک نیا سیاسی محاذ ہوگا‘ نئے سیاسی کھلاڑی سیاسی میدان میں مقابلہ کریں گے۔


متعلقہ خبریں


ملک ریاض،علی ریاض کے انٹرپول سے ریڈ وارنٹ جاری وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

بحریہ ٹاؤن کراچی منی لانڈرنگ کیس میںدونوں ملزمان کوواپس لانے کیلئے امارات کی حکومت سے رابطہ کر لیا، جلد گرفتار کر کے پاکستان لاکرمقدمات کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے، چیئرمین نیب ریڈ وارنٹ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں کرپشن کے مقدمات پر جاری ہوئے، 900 ارب سے زائد کے مقدمات کی تحقیقات م...

ملک ریاض،علی ریاض کے انٹرپول سے ریڈ وارنٹ جاری

امریکی فوج کا ایران کیخلاف مختصر، طاقتورحملوں کا منصوبہ تیار وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

ممکنہ حملوں میں ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، امریکا ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے اور زیادہ لچک دکھانے پر زور دے گا، سینٹرل کمانڈ ٹرمپ نے ایران کی پیشکش مسترد کردی، امریکا کے خدشات دور کیے جائیں اس وقت تک ایران پر بحری ناکہ بندی برقرار رکھی جائے گی،...

امریکی فوج کا ایران کیخلاف مختصر، طاقتورحملوں کا منصوبہ تیار

پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال فائرنگ،پاک فوج کا بھرپورجواب وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

چمن سیکٹر میں بلا اشتعال جارحیت پرافغان طالبان کی متعدد چوکیاں،گاڑیوں کو درستگی سے نشانہ بنا کر تباہ پاک فوج کی موثر کارروائیوں نے افغان طالبان اور دہشتگردوںکو پسپائی پر مجبور کر دیا ہے،سکیورٹی ذرائع پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت کا پاک فوج نے بھرپور جوا...

پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال فائرنگ،پاک فوج کا بھرپورجواب

امن مشن جاری، معاشی چیلنجز پر قابو پانے کا عزم( وزیراعظم) وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

کابینہ اجلاس سے خطاب میں کفایت شعاری اقدامات جاری رکھنے کا اعلان مسائل پہاڑ بن کر سامنے کھڑے ہیں لیکن مشکل وقت سے سرخرو ہوکر نکلیں گے وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی اور قیام امن کیلئے متواتر کوششیں کیں جو ہنوز جاری ہیں، جنگ کی وجہ سے...

امن مشن جاری، معاشی چیلنجز پر قابو پانے کا عزم( وزیراعظم)

سندھ پولیس پروفیشنل فورس ،بد نامی برداشت نہیں کرینگے ،جاوید عالم اوڈھو وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

جو اہلکار مجرمانہ سرگرمی میں ملوث ہوا اسے B کمپنی کا مکین بنایا جائے گا، آئی جی سندھ اسٹریٹ کرائم اور آرگنائز کرائم پر زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں کی جا رہی ہیں (کرائم رپورٹر؍ اسد رضا) جو اہلکار و افسران ڈیپارٹمنٹ کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں ان تمام عناصر کے خلاف ...

سندھ پولیس پروفیشنل فورس ،بد نامی برداشت نہیں کرینگے ،جاوید عالم اوڈھو

جوڈیشل کمیشن کا اجلاس،تین ججوں کے تبادلوں کی منظوری وجود - بدھ 29 اپریل 2026

جسٹس محسن اختر کیانی لاہور،جسٹس بابر ستار پشاور ہائیکورٹ ،جسٹس ثمن رفعت امتیاز کا سندھ ہائیکورٹ تبادلہ 9 ارکان نے حق میں ووٹ دیاجبکہ تبادلے کیخلاف 3 ووٹ سامنے آئے،ذرائع چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرصدارت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے اجلاس میں ہائیکورٹ کورٹ ججوں ک...

جوڈیشل کمیشن کا اجلاس،تین ججوں کے تبادلوں کی منظوری

ججز تبادلے ،پی ٹی آئی کی شدید تنقید، آزاد عدلیہ پر حملہ قرار وجود - بدھ 29 اپریل 2026

آزاد عدلیہ کیلئے افسوس ناک دن ، ججوں کے تبادلے کی کوئی وجہ ہونا چاہیے(سینیٹر علی ظفر) عدلیہ پر تیز وارکیا گیا، ججز کا تبادلہ کسی فرد کا کام نہیں، فیصلہ عدلیہ کو تقسیم کرنے کے مترادف ، بیرسٹر گوہر پاکستان تحریک انصاف کے چیٔرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور رہنما بیرسٹر علی ظفر نے ...

ججز تبادلے ،پی ٹی آئی کی شدید تنقید، آزاد عدلیہ پر حملہ قرار

متحدہ عرب امارات کا تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک سے علیحدگی کا اعلان وجود - بدھ 29 اپریل 2026

امارات کا اوپیک سے نکلنے کا فیصلہ رکن ملکوں اور سعودی عرب کیلئے بڑا دھچکا، پالیسی فیصلہ تیل کی پیداوار کی موجودہ اور مستقبل کی ضرورتوں کو مدنظر رکھ کر کیا،اماراتی وزیرتوانائی کا جاری بیان یکم مئی سے اوپیک اور اوپیک پلس جس میں روس جیسے اتحادی شامل ہیں دونوں کو چھوڑ دے گا، یو اے ا...

متحدہ عرب امارات کا تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک سے علیحدگی کا اعلان

پاکستان کا جدید ترین فتح ٹو میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ وجود - بدھ 29 اپریل 2026

یہ میزائل سسٹم جدید ایویونکس اور جدید ترین نیوی گیشنل آلات سے لیس ہے،آئی ایس پی آر تجربہ کا مشاہدہ اسٹریٹجک پلانز ڈویژن، آرمی راکٹ فورس کمانڈ،پاک فوج کے افسران نے کیا آرمی راکٹ فورس کمانڈ نے مقامی طور پر تیار کردہ فتح ٹو میزائل سسٹم کا کامیاب تربیتی تجربہ کرلیا، جو جدید ...

پاکستان کا جدید ترین فتح ٹو میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ

2050 تک پاکستان کی آبادی 50 کروڑ تک پہنچنے کا خدشہ وجود - بدھ 29 اپریل 2026

آبادی کے سیلاب کے سامنے بند نہ باندھا تو آنے والے برسوں میں ملکی وسائل کو مزید تیزی سے بہا کر لے جائے گا ہر سال 60لاکھ بچے پیدا ہوتے ہیں، بچوں کی پیدائش میں وقفہ ماں اور پورے خاندان کیلئے ضروری، وزیر مملکت صحت وزیر مملکت برائے صحت مختار احمد بھرتھ نے 2050تک پاکستان کی آباد...

2050 تک پاکستان کی آبادی 50 کروڑ تک پہنچنے کا خدشہ

ٹرمپ کی درخواست ، مذاکرات کریں،عباس عراقچی کا دعویٰ وجود - منگل 28 اپریل 2026

ایران مذاکرات کی پیش کش پر غورکیلئے آمادہ ہوگیا،امریکا جنگ کے دوران اپنا ایک بھی ہدف حاصل نہیں کر سکا،اسی لیے جنگ بندی کی پیش کش کی جا رہی ہے، ایرانی وزیر خارجہ ہم نے پوری دنیا کو دکھا دیا ایرانی عوام اپنی مزاحمت اور بہادری کے ذریعے امریکی حملوں کا مقابلہ کرسکتے ہیں اور اس مشکل...

ٹرمپ کی درخواست ، مذاکرات کریں،عباس عراقچی کا دعویٰ

جنوبی وزیرستان میں افغان طالبان کی دراندازی کی کوشش ناکام، پاک فوج کی کارروائی ، متعدد پوسٹیں تباہ وجود - منگل 28 اپریل 2026

فتنہ الخوارج کی تشکیل کی دراندازی میں ناکامی کے بعد افغان طالبان نے سول آبادی کو نشانہ بنایا، فائرنگ کے نتیجے میں 2 خواتین سمیت 3 شہری زخمی وانا ہسپتال منتقل،سکیورٹی ذرائع اہل علاقہ کا افغان طالبان کی فائرنگ کے واقعہ کی مذمت ،پاک فوج سے جوابی کارروائی کا مطالبہ،وفاقی وزیرداخلہ ...

جنوبی وزیرستان میں افغان طالبان کی دراندازی کی کوشش ناکام، پاک فوج کی کارروائی ، متعدد پوسٹیں تباہ

مضامین
گمشدہ مسافر وجود جمعه 01 مئی 2026
گمشدہ مسافر

دنیا کا نظام پلٹ رہا ہے ! وجود جمعه 01 مئی 2026
دنیا کا نظام پلٹ رہا ہے !

سوگ وجود جمعه 01 مئی 2026
سوگ

مزدور کے حقوق اور سماجی انصاف وجود جمعه 01 مئی 2026
مزدور کے حقوق اور سماجی انصاف

پاکستانی سماج کا بڑا لمیہ احساس کا مرجانا ہے! وجود جمعرات 30 اپریل 2026
پاکستانی سماج کا بڑا لمیہ احساس کا مرجانا ہے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر