وجود

... loading ...

وجود

ڈان لیکس پر متفقہ رپورٹ میں ردوبدل سوالیہ نشان ۔۔!!

منگل 02 مئی 2017 ڈان لیکس پر متفقہ رپورٹ میں ردوبدل سوالیہ نشان ۔۔!!

رپورٹ وزیراعظم کو پیش کیے جانے سے پہلے ہی اس کے کچھ مندرجات لیک ہو کر میڈیا تک کیسے پہنچنا شروع ہو گئے، ناقدین ‘ اب یہ ضروری ہو گیا ہے کہ انکوائری کمیٹی کی رپورٹ من وعن پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا پر جاری کرکے عوام کے روبرو پیش کردی جائے

وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کے اجلاس میں گزشتہ روز ڈان لیکس کی انکوائری رپورٹ اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال سمیت اہم امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔اطلاعات کے مطابق اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، وزیر داخلہ چوہدری نثار، وزیر خزانہ اسحاق ڈار، حمزہ شہباز اورفواد حسن فواد نے شرکت کی۔ اجلاس میں ڈان لیکس پر حکومت کی انکوائری رپورٹ اور پاک فوج کی جانب سے رپورٹ مسترد کیے جانے سمیت ملکی سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا جب کہ اجلاس میں ڈان لیکس رپورٹ کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کو خوش اسلوبی سے حل کرنے پر بھی غورکیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں ڈان لیکس کے معاملے پر پاک فوج کے تحفظات دور کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
ڈھائی گھنٹے جاری رہنے والے اجلاس میں عمران خان کی جانب سے 10ارب روپے کی آفر کے خلاف وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے عدالت جانے کے حوالے سے بھی معاملات زیر غور آئے جب کہ اجلاس میں ملک بھر میں سی پیک کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں، نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردی کے خاتمے پر بھی غور کیا گیا۔واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم کے پرسنل سیکرٹری فواد حسن فواد کی جانب سے ڈان لیکس کے حکومتی نوٹی فکیشن کو پاک فوج نے ٹویٹر پیغام کے ذریعے مسترد کر دیا تھا جب کہ وزیر داخلہ نے ٹویٹر کے ذریعے اداروں کے درمیان روابط کو جمہوریت کے لیے زہر قاتل قرار دیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق وزیراعظم نوازشریف نے ڈان لیکس انکوائری کمیٹی کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد پیداہونے والی صورتحال پر اپنے رفقا سے تفصیلی صلاح ومشورے کے بعداس حوالے سے پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کوافہام وتفہیم کے ساتھ دور کرنے اور متفقہ رپورٹ پر پوری طرح عملدرآمد کرنے کافیصلہ کیا ہے ،تاہم اب تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ عمران خان کی جانب سے 10ارب روپے رشوت کی پیشکش کے جواب میںکیا منصوبہ بندی کی گئی، عمران خان کو عدالت میں بلانے کے حوالے سے اجلاس میں کیے جانے والے فیصلے کے بارے میں ابھی تک کچھ سامنے نہیں آسکاہے ۔واضح رہے کہ اس سے قبل وزیراعظم نواز شریف نے ڈان لیکس سے متعلق رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد اس کی سفارشات کی روشنی میں اپنے معاون خصوصی برائے خارجہ امور طارق فاطمی کو ان کے منصب سے برطرف اور پرنسپل انفارمیشن افسر رائو تحسین کیخلاف ایفی شینسی اینڈ ڈسپلن رولز مجریہ 1973ء کے تحت محکمانہ کارروائی کا حکم دیا تھا۔ اس سلسلہ میں وزیراعظم کے ایما پر ان کے پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد نے گزشتہ روزباقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کردیا تھا جس میں بتایاگیا تھا کہ وزیراعظم نے انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کے پیرا 18 میں موجود سفارشات کی منظوری دی ہے اور اس کے تحت روزنامہ ڈان کے ایڈیٹر مظہرعباس اور رپورٹر سرل المائڈہ کیخلاف انضباطی کارروائی کا معاملہ اے پی این ایس کو بھجوایا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اے پی این ایس سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ قومی سلامتی سے متعلقہ مواد کی تشہیر ادارتی و صحافتی اخلاقیات سے ہم آہنگ کی جائے اور اس بارے میں پرنٹ میڈیا کے لیے ضابطہ اخلاق مرتب کیا جائے۔ سید طارق فاطمی سے امور خارجہ کی ذمہ داری واپس لینے کا نوٹیفکیشن فوری طور پر جاری کرنے کی ہدایت بھی کی گئی تھی۔
وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری کی جانب سے متذکرہ نوٹیفکیشن کے اجرا کے کچھ ہی لمحے بعد پاک فوج کے ترجمان ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے اپنا ایک میسج ٹویٹ کیا تھا جس میں وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ نوٹیفکیشن انکوائری کمیٹی کی سفارشات کے مطابق نہیں ہے اور نامکمل ہے اس لیے پاک فوج اس نوٹیفکیشن کو مسترد کرتی ہے۔ انگریزی اخبار ڈان میں شائع کی گئی سرل المائڈہ کی خصوصی رپورٹ میں وزیراعظم کی زیرصدارت قومی سلامتی سے متعلق منعقد ہونیوالے ایک اعلیٰ سطح اجلاس کی اندرونی کہانی افشا کی گئی تھی ‘ ڈان میں شائع ہونے والی اس رپورٹ میں اس اجلاس، جس میں وفاقی کابینہ کے ارکان اور معاونین خصوصی کے علاوہ آرمی چیف اور عسکری اداروں کے دوسرے سربراہان بھی شریک تھے‘ دہشت گردوں کیخلاف جاری سیکورٹی فورسز کے آپریشن سے متعلق سول اور عسکری قیادتوں کے مابین مبینہ طور پر ہونیوالی تلخ گفتگو کے مندرجات دیے گئے تھے جس کا اس وقت کی عسکری قیادت کی جانب سے سخت نوٹس لیا گیا تھا،جس پر وزیراعظم نے اس معاملے کی تحقیقات کا حکم دیاتھاکہ اعلیٰ سطح کے خفیہ اجلاس میں ہونیوالی گفتگو کیسے لیک ہو گئی‘ جسٹس (ر) عامر رضا اے خان کی سربراہی میں انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی تھی اور اطلاعات کے مطابق اس میں پاک فوج کے اداروں کو بھی مؤثر نمائندگی دی گئی جبکہ وزیراعظم نے اس انکوائری کمیٹی کی کارروائی کے آغاز ہی میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید کو ان کے منصب سے ہٹا دیا تھا۔ انکوائری کمیٹی کی رپورٹ پیر 24 اپریل کو وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے وزیراعظم کو پیش کی گئی جو وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خاں کے بقول انکوائری کمیٹی کے تمام ارکان کے اتفاق رائے سے مرتب کی گئی تھی۔
اب یہاں سوال یہ بھی پیدا ہوتاہے کہ یہ رپورٹ وزیراعظم کو پیش کیے جانے سے پہلے ہی اس کے کچھ مندرجات لیک ہو کر میڈیا تک کیسے پہنچنا شروع ہو گئے اور یہ بات سامنے آچکی تھی کہ پہلے ہی طارق فاطمی اور رائو تحسین کو قربانی کابکرا بنا کر ان کے مناصب سے فارغ کرنے کی باتیں منظرعام پر آنا شروع ہو گئی تھیں جس پر اس وقت پاک فوج کے ترجمان کی جانب سے کسی قسم کا کوئی پیغام ٹویٹ کرنے کی ضرورت محسوس نہیںکی گئی جبکہ اب وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری کی جانب سے وزیراعظم کے ایما پر نوٹیفکیشن کے اجرا کے ایک گھنٹے بعد ہی ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے تین سطور پر مبنی ایک ٹویٹر میسج بریکنگ نیوز کے انداز میں سوشل میڈیا پر جاری کیا گیاہے۔ اس پیغام میں جس سخت لب و لہجے کے ساتھ انکوائری رپورٹ پر وزیراعظم کی جانب سے کی گئی کارروائی کو انکوائری رپورٹ کے مطابق نہ ہونے کا کہہ کر مسترد کرنے کی بات کی گئی‘ وفاقی حکومت کے کسی ماتحت ادارے کی جانب سے وزیر اعظم کی منظوری سے جاری کی جانے والی رپورٹ پراس طرح عدم اعتماد کا اظہار اور اسے مسترد کیاجانا وزیر اعظم کے لیے لمحۂ فکریہ ہے ۔
حکومت کی جانب سے یہ دعویٰ کیاجاتارہاہے کہ ڈان لیکس کے ایشو پر وزیراعظم کی قائم کردہ انکوائری کمیٹی میں عسکری قیادتوں کو مطمئن کرنے کے لیے ہی پاک فوج کے اداروں کو مؤثر نمائندگی دی گئی تھی تاکہ اس ایشو پر صحیح معنوں میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی
ہوسکے۔ انکوائری کمیٹی نے اپنی تحقیقات مکمل کرکے جو رپورٹ مرتب کی اس کے بارے میں وفاقی وزیر داخلہ نے خود اعلان کیا کہ یہ کمیٹی کے تمام ارکان کے اتفاق رائے سے مرتب ہوئی ہے اور پاک فوج کے ترجمان کے ٹویٹر پیغام سے بھی بادی النظر میں یہی تاثر ملتا ہے کہ پاک فوج کو متذکرہ رپورٹ پر کوئی اعتراض نہیں جبکہ حکومت کی جانب سے اس رپورٹ میں درج سفارشات کی روشنی میں ہی نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔اس صورت میں اگر ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے متعلقہ نوٹیفکیشن کو مسترد کرنے کا اعلان کیا گیا ہے تو اس سے یقیناً یہ تاثر دینا مقصود ہے کہ رپورٹ کے مندرجات کچھ اور ہیں جس سے خود نواز شریف کی جانب سے اپنے بعض رفقا کوبچانے کے لیے رپورٹ میں ردوبدل کیے جانے کاتاثر پیداہوتاہے اور کسی منتخب وزیر اعظم کے بارے میں اس طرح کاتاثر کسی بھی حال میں مناسب نہیں معلوم ہوتا۔
اب یہاں یہ سوال بھی پیداہوتاہے کہ اگر عسکری قیادتوں کو متذکرہ نوٹیفکیشن پر کسی قسم کا اعتراض تھا تو ان کی جانب سے متعلقہ حکومتی اداروں سے رابطہ کرکے اپنے تحفظات کا اظہار کیا جا ناچاہیے تھا مگر ٹویٹ میں نوٹیفکیشن کو مسترد کرنے کا اعلان کر نا یا نوٹی فیکشن پر عدم اعتماد کا اظہار کیے جانے سے حکومت کے ایک اہم ادارے کے درمیان موجود عدم اعتماد کی سنگین صورت حال کی عکاسی ہوتی ہے جو کسی بھی طرح مناسب نہیں ہے ۔اس صورت حال کا تقاضہ ہے کہ وزیر اعظم اگر خود انکوائری رپورٹ میں ردوبدل میں ملوث نہیں ہیں تو اس میں ردوبدل کرکے حکومت کے دو اہم ستونوں کے درمیان عدم اعتماد کا ماحول پیدا کرنے والے افسران اور عناصر کا پتہ چلا کرمتعلقہ شخصیت کو فوری طورپربرطرف کردیں یا اپنے آئینی اختیارات کے استعمال میں بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے خود اپنے منصب سے مستعفی ہو جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اب یہ ضروری ہو گیا ہے کہ انکوائری کمیٹی کی رپورٹ من وعن جاری کرکے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا اور پارلیمنٹ کے ذریعے پبلک کے روبرو پیش کردی جائے تاکہ قوم کو علم ہوسکے کہ آیا انکوائری رپورٹ اور اس کی روشنی میں جاری کیے گئے حکومتی نوٹیفکیشن میں کسی قسم کا تضاد ہے یا نہیں۔ جہاں تک حکومتی نوٹیفکیشن میں ڈان لیکس کے حوالے سے اس اخبار کے ایڈیٹر اور رپورٹر کیخلاف انضباطی کارروائی کا معاملہ اخباری مالکان کی تنظیم اے پی این ایس کو بھجوانے اور اس ادارے سے قومی سلامتی سے متعلق مواد کی تشہیر ایک ضابطہ اخلاق کے ذریعے ادارتی و صحافتی اخلاقیات سے ہم آہنگ کرنے کے تقاضے کا تعلق ہے تو اس بارے میں حکومت کو علم و ادراک ہونا چاہیے کہ اے پی این ایس کی حیثیت محض ایک کلیئرنگ باڈی کی ہے جبکہ خبر یا کسی دوسرے مواد کی اشاعت کے معاملہ میں ہر اخبار کا اپنا اپنا ضابطہ اخلاق ہے جس کے مطابق اس کو فیصلہ کرنا ہوتا ہے اور آزادی صحافت کے تقاضوں کے تحت کوئی حکومتی فیصلہ کسی اخباری ادارے پر مسلط نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم یہ طے شدہ امر ہے کہ ہمارا قومی میڈیا ملکی اور قومی مفادات کے معاملہ میں اپنی ذمہ داریوں سے مکمل آگاہ ہے اس لیے ضابطہ اخلاق کے معاملہ میں کسی کی جانب سے میڈیا کو ڈکٹیشن دینے کی قطعاً ضرورت نہیں۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر