وجود

... loading ...

وجود

ماہ رمضان کی آمد سے قبل ذخیرہ اندوزوں کی حکمت عملی تیار

منگل 02 مئی 2017 ماہ رمضان کی آمد سے قبل ذخیرہ اندوزوں کی حکمت عملی تیار

کمشنرز‘ ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کے دفاتر میں ’’غیر رسمی‘‘ ملاقاتیں شروع،ذخیرہ اندوزوں نے درجنوں سرکاری افسران کو عمرے کی خوشخبری بھی سنادی ‘ ایک مخصوص کاروباری حلقے نے کراچی کے39بڑے گودام کرائے پر لے لیے ،سندھ میں40سے45ارب روپے کمانے کی منصوبہ بندی مکمل ،حکومت خاموش

پوری دنیا میں یہ اصول ہے کہ اہم مذہبی تہواروں پر اشیائے خوردونوش اور اشیائے صرف کی قیمتوں میں کمی کردی جاتی ہے۔ پورے یورپی ممالک میں25دسمبر کو کرسمس کے موقع پر تمام اشیائے صرف کی قیمتوں میں کمی کردی جاتی ہے۔ نچلا اور متوسط طبقہ گھریلو اشیاء‘ کپڑے‘ جوتے‘ بیلٹ‘ کوٹ‘ پینٹ‘ شرٹ‘ ٹائیاں اور دیگر اشیاء اسی دن خریدلیتے ہیں اور پھر پورا سال اس کو استعمال کرتے ہیں۔ عرب ممالک میں بھی رمضان المبارک کے مقدس ماہ میں جگہ جگہ مفت میں سحری وافطاری کرائی جاتی ہے۔ کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں کمی کردی جاتی ہے۔ عیدین کے موقع پر بھی کپڑے‘ پرفیوم‘ جوتے وغیرہ سستے کردییجاتے ہیں لیکن پیارے پاکستان میں یہ سب الٹا ہوتا ہے۔ عام مہینوں میں دکاندار کچھ نہ کچھ رعایت کردیتا ہے لیکن ماہ رمضان المبارک میں رعایت کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ جنرل (ر) پرویزمشرف کی جانب سے حکومت پر قبضہ کرنے سے قبل ریونیو افسران اسسٹنٹ کمشنرز‘ ڈپٹی کمشنرز اور کمشنرز کو مجسٹریٹ کے اختیارات تھے جس کے باعث کچھ کام تو ریونیوافسران کرجاتے تھے لیکن جیسے ہی ریونیوافسران سے مجسٹریٹ کے اختیارات ختم ہوئے ذخیرہ اندوزوں کی چاندی ہوگئی اور انہوں نے اپنی مرضی سے گوشت‘ مرغی‘ چاول‘ آٹے‘ دال‘ چنے‘ لوبیا‘ سبزیوں‘ فروٹ‘ کھجور‘ شربت کے اپنی مرضی سے نرخ مقرر کردیے جس کے باعث عوام بیچارے مجبور ہوکر مہنگی چیزیں خرید رہے ہیں۔ کہیں حکومت، مجسٹریٹ‘ پولیس یا کوئی سرکاری ادارہ موجود نہیں ہے جو ان ذخیرہ اندوزوں سے پوچھے کہ وہ کس حساب سے یہ نرخ مقرر کررہے ہیں اور کس نے اس کی منظوری دی ہے؟ اگر کسی نے کچھ اعتراض کیا تو اس سے کہہ دیا گیا کہ جائو جہاں جانا ہے چلے جائو۔مارکیٹ سے آنے والی رپورٹوں کے مطابق رمضان کے استقبال کے لیے ذخیرہ اندوزوں نے ایک بار پھر کمر کس لی ہے اور صرف صوبہ سندھ میں40سے45ارب روپے کمانے کی منصوبہ کرلی گئی ہے اور اس میں سے چار پانچ ارب روپے ’’اوپر‘‘ دینے کے لیے رکھ دیے گئے ہیں جس میں ڈسٹرکٹ پولیس‘ ٹریفک پولیس‘ اسپیشل برانچ‘ ریونیو افسران اور کچھ اعلیٰ افسران اور حکومتی شخصیات کے حصے شامل ہیں، جب سب کو ان کا حصہ مل جائے گا تو پھر وہ کیوں چھاپے ماریں گے؟ وہ کیوں ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کریں گے؟ ذرائع کے مطابق ایک مخصوص کاروباری حلقے نے کراچی کے39بڑے گودام کرائے پر لے لیے ہیں اور شہر میں16کولڈ اسٹوریج فروٹ سے بھردیے گئے ہیں جبکہ 39 گوداموں میں دیگر اشیائے خوردونوش رکھ دی گئی ہیں،440ٹرکیں‘ شہروز منی ٹرکیں بھی کرائے پر لے لی گئی ہیں اور ریونیو افسران‘ ڈسٹرکٹ پولیس‘ ٹریفک پولیس سے بھی ’’ڈیلنگ ‘‘مکمل کرلی گئی ہے۔خدشات یہ ہیں کہ ماہ رمضان المبارک کے آتے ہی مہنگائی کا سیلاب آجائے گا۔واقفانِ حال کہتے ہیں کمشنر سے لے کر مختارکار تک سب مہنگائی کی مذمت کریں گے اور عوام‘ میڈیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے روزانہ پانچ سے آٹھ چھاپے مارے جائیں گے اور ان چھاپوں میں30سے45ہزار روپے جرمانے بھی عائد کیے جائیں گے لیکن مہنگائی جوں کی توں قائم ودوائم رہے گی اور ہر ایک کو اپنا حصہ ملتا رہے گا۔ گوشت ایسوسی ایشن‘ مچھلی کے بیوپاری‘ سبزیوں کے بیوپاری‘ پھلوںکے تاجر‘ شربت فروخت کرنے والے ڈیلر‘ بیسن‘ چاٹ فروخت کرنے والے دکاندار ابھی سے رمضان میں مصنوعی مہنگائی کرنے کی منصوبہ بندی کرچکے ہیں۔ دودھ فروش اس ماہ40ہزارلیٹر اضافی دودھ اورڈھائی ہزارکلو دہی اضافی فروخت کریں گے۔ دودھ میں حسب معمول پانی‘ کیمیکل‘ کھاد‘ خشک دودھ ڈالیں گے لیکن ان کو کوئی بھی ادارہ کچھ نہیں کہے گا۔ گوشت فروخت کرنے والوں کا بھی یہی حال ہوگا۔ 13لاکھ بیمار جانور بھینس کالونی میں لائے گئے ہیں تاکہ وہ رمضان المبارک کے مہینے میں ذبح کرکے فروخت کیے جاسکیں ۔اسی طرح پشاور‘ کوئٹہ اور ملک کے مختلف اضلاع سے سبزیاں‘ فروٹ روزانہ سڑکوں پر لائی جارہی ہیں۔ کمشنرز‘ ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کے دفاتر میں ابھی سے ’’غیر رسمی‘‘ ملاقاتیں شروع ہوگئی ہیں۔ ذخیرہ اندوزوں نے48سے زائد سرکاری ملازمین کو تحفہ کے طور پر عمرے پر بھیجنے کی خوشخبری سنادی ہے۔ باقی تحفے تحائف بھی دیے گئے ہیں تاکہ رمضان المبارک سے قبل سرکاری افسران کی ’’اچھی‘‘ عید ہوجائے۔ حکومتی سطح پر15شعبان کے بعد ایک دو اجلاس بلاکر مصنوعی مہنگائی کو روکنے کے احکامات دے دیے جائیں گے لیکن سوال یہ ہے کہ اس پر عمل کون کرائے گا؟ جب حکومتی مشینری اور پولیس پہلے ہی اپناحصہ لے چکی ہیں تو وہ پاگل ہیں کہ نمک حرامی کریں؟ عوام کا اللہ ہی حافظ ہے، رمضان کی آمد سے قبل سرکاری افسران کی عید بھی ہوگئی ہے ،عوام کو پیشگی عید مبارک ہو۔


متعلقہ خبریں


امریکا نے ایران کی نئی تجاویز مسترد کردیں وجود - هفته 02 مئی 2026

ایران کی تازہ تجاویز سے مطمئن نہیں،فیصلہ کرنا ہے کہ تہران کیخلاف طاقت استعمال کریں یا مذاکرات کیے جائیں، ٹرمپ کا دو ٹوک اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی تازہ ترین تجاویز سے مطمئن نہیں ہیں۔ واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایرانی ق...

امریکا نے ایران کی نئی تجاویز مسترد کردیں

مہنگائی کی شرح ایک بار پھر ڈبل ڈیجٹ میں داخل وجود - هفته 02 مئی 2026

وزارت خزانہ کے تخمینے غلط ثابت، مہنگائی 21 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی مہنگائی کی سالانہ شرح 10.89فیصد تک جاپہنچی، وفاقی ادارہ شماریات وفاقی ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ماہانہ رپورٹ جاری کر دی۔وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق مارچ کے مقابلے اپریل میں مہنگائی ک...

مہنگائی کی شرح ایک بار پھر ڈبل ڈیجٹ میں داخل

گلوبل صمود فلوٹیلا کے گرفتار ارکان کو یونان بھیجنے کا فیصلہ وجود - هفته 02 مئی 2026

اسرائیلی اقدامات سے معاملے پر سفارتی اور انسانی حقوق کے حلقوں میں تشویش بڑھ گئی اسرائیلی حکام نے ابتدائی طور پر 175 گرفتار افراد کو اسرائیل منتقل کرنے کا عندیہ دیا تھا اسرائیل نے غزہ کیلئے امداد لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کے گرفتار ارکان کو یونان بھیجنے کا فیصلہ کر لیا۔ ...

گلوبل صمود فلوٹیلا کے گرفتار ارکان کو یونان بھیجنے کا فیصلہ

پاک-افغان سرحد پر دراندازی کی 2کوششیں ناکام، 13 دہشت گرد ہلاک وجود - جمعه 01 مئی 2026

سیکیورٹی فورسز نے سرحد کے راستے دراندازی کی کوشش کرنیوالے دہشت گردوں کے ایک گروہ کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا اور بروقت کارروائی کرتے ہوئے خوارج کو نشانہ بنایا 28 اور 29 اپریل کوخیبر پختونخوا میں شدید فائرنگ کے تبادلے میںضلع مہمند میں 8 اور شمالی وزیرستان میں 5 فتنۃ الخوارج کے دہ...

پاک-افغان سرحد پر دراندازی کی 2کوششیں ناکام، 13 دہشت گرد ہلاک

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ،پیٹرول کی فی لیٹر نئی قیمت 399 روپے 86 پیسے ہو گئی وجود - جمعه 01 مئی 2026

ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 19 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافہ، نئی قیمت 399 روپے 58 پیسے مقرر،آبنائے ہرمز کا معاملہ فوری حل نہ ہوا تو 9 مئی کو قیمتوں میں مزید بڑا اضافہ ہوگا، ذرائع وزیراعظم کاموٹر سائیکل سواروں، پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ کو ملنے والی سبسڈی میں ایک ماہ کی توسیع کا فیصل...

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ،پیٹرول کی فی لیٹر نئی قیمت 399 روپے 86 پیسے ہو گئی

پی ٹی آئی سینیٹ گروپ میں اختلافات ،شدیدتلخ کلامی وجود - جمعه 01 مئی 2026

سینیٹر مشعال یوسفزئی کے مبینہ وائس نوٹ نے گروپ میں ہلچل مچا دی فلک ناز چترالی سمیت خواتین سینیٹرز نے مشعال کو آڑے ہاتھوں لے لیا اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹ گروپ کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آ گئے اورسینیٹرز کے درمیان شدید تلخ کلامی دیکھنے میں آئی ہے۔ذرائع...

پی ٹی آئی سینیٹ گروپ میں اختلافات ،شدیدتلخ کلامی

امریکا آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے نیا عالمی اتحاد بنانے کیلئے سرگرم وجود - جمعه 01 مئی 2026

متعلقہ ممالک کو نئے معاہدے کیلئے راغب کریں،محکمہ خار جہ کا امریکی سفارتخانوں کو پیغام معاہدے کا نام میری ٹائم فریڈم کنسٹرکٹ رکھا گیا ہے،ہرمز کاروبار کیلئے تیار ، ٹرمپ کا دعویٰ امریکہ نے آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے نیا عالمی اتحاد بنانے کی کوششیں تیز کر دیں۔غیرملکی میڈیارپورٹ ک...

امریکا آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے نیا عالمی اتحاد بنانے کیلئے سرگرم

ملک ریاض،علی ریاض کے انٹرپول سے ریڈ وارنٹ جاری وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

بحریہ ٹاؤن کراچی منی لانڈرنگ کیس میںدونوں ملزمان کوواپس لانے کیلئے امارات کی حکومت سے رابطہ کر لیا، جلد گرفتار کر کے پاکستان لاکرمقدمات کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے، چیئرمین نیب ریڈ وارنٹ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں کرپشن کے مقدمات پر جاری ہوئے، 900 ارب سے زائد کے مقدمات کی تحقیقات م...

ملک ریاض،علی ریاض کے انٹرپول سے ریڈ وارنٹ جاری

امریکی فوج کا ایران کیخلاف مختصر، طاقتورحملوں کا منصوبہ تیار وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

ممکنہ حملوں میں ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، امریکا ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے اور زیادہ لچک دکھانے پر زور دے گا، سینٹرل کمانڈ ٹرمپ نے ایران کی پیشکش مسترد کردی، امریکا کے خدشات دور کیے جائیں اس وقت تک ایران پر بحری ناکہ بندی برقرار رکھی جائے گی،...

امریکی فوج کا ایران کیخلاف مختصر، طاقتورحملوں کا منصوبہ تیار

پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال فائرنگ،پاک فوج کا بھرپورجواب وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

چمن سیکٹر میں بلا اشتعال جارحیت پرافغان طالبان کی متعدد چوکیاں،گاڑیوں کو درستگی سے نشانہ بنا کر تباہ پاک فوج کی موثر کارروائیوں نے افغان طالبان اور دہشتگردوںکو پسپائی پر مجبور کر دیا ہے،سکیورٹی ذرائع پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت کا پاک فوج نے بھرپور جوا...

پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال فائرنگ،پاک فوج کا بھرپورجواب

امن مشن جاری، معاشی چیلنجز پر قابو پانے کا عزم( وزیراعظم) وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

کابینہ اجلاس سے خطاب میں کفایت شعاری اقدامات جاری رکھنے کا اعلان مسائل پہاڑ بن کر سامنے کھڑے ہیں لیکن مشکل وقت سے سرخرو ہوکر نکلیں گے وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی اور قیام امن کیلئے متواتر کوششیں کیں جو ہنوز جاری ہیں، جنگ کی وجہ سے...

امن مشن جاری، معاشی چیلنجز پر قابو پانے کا عزم( وزیراعظم)

سندھ پولیس پروفیشنل فورس ،بد نامی برداشت نہیں کرینگے ،جاوید عالم اوڈھو وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

جو اہلکار مجرمانہ سرگرمی میں ملوث ہوا اسے B کمپنی کا مکین بنایا جائے گا، آئی جی سندھ اسٹریٹ کرائم اور آرگنائز کرائم پر زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں کی جا رہی ہیں (کرائم رپورٹر؍ اسد رضا) جو اہلکار و افسران ڈیپارٹمنٹ کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں ان تمام عناصر کے خلاف ...

سندھ پولیس پروفیشنل فورس ،بد نامی برداشت نہیں کرینگے ،جاوید عالم اوڈھو

مضامین
آؤ ! اپنے اندر جھانکیں! وجود هفته 02 مئی 2026
آؤ ! اپنے اندر جھانکیں!

بھارت میں مذہبی آزادی ناپید وجود هفته 02 مئی 2026
بھارت میں مذہبی آزادی ناپید

گمشدہ مسافر وجود جمعه 01 مئی 2026
گمشدہ مسافر

دنیا کا نظام پلٹ رہا ہے ! وجود جمعه 01 مئی 2026
دنیا کا نظام پلٹ رہا ہے !

سوگ وجود جمعه 01 مئی 2026
سوگ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر