... loading ...

آصف زرداری نے وفاق پر اے ڈی خواجہ کے ذریعے آئندہ انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگایاجبکہ خو د انہوں نے دھاندلی کی بساط بچھا لی ہے،ذرائع ‘ دادو کے سابق تحصیل ناظم سید ظفر علی شاہ ، ارباب خاندان، جتوئی خاندان، شیرازی خاندان اور پگارا خاندان کے لیے دھرتی تنگ کر دی گئی
آصف علی زرداری نے پچھلے ہفتے ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے اس وقت سب کو حیران کردیا جب ان سے پوچھا گیا کہ آئی جی سندھ پولیس اچھے آدمی ہیں، ان کا آخر کیوں تبادلہ کرنے کی حکومت سندھ اور پی پی نے ضد پکڑلی ہے؟ تو آصف زرداری کا جواب تھا کہ دوسرے افسر بھی اچھے ہیں، اصل میں وفاقی حکومت نے آئی جی کو نہ ہٹا کر قبل از انتخابات دھاندلی کی منصوبہ بندی کرلی ہے۔ ان کی اس مضحکہ خیز بات پر نہ صرف دنیا ہنس پڑی بلکہ پارٹی اور حکومت سندھ کے سنجیدہ افراد نے بھی اس کا مذاق اڑا یا کیونکہ آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ پر یہ الزام مزاحیہ ہی تصور کیا جارہا ہے کہ وہ وفاقی حکومت کی ہدایت پر سندھ میں قبل از انتخابات دھاندلی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ ایسا کہنا تو دور کی بات ہے ایسا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ،کیونکہ ان کے ٹریک ریکارڈکے مطابق انہوں نے کبھی ایسا کوئی کام نہیں کیا جس سے ان کا دامن داغدار ہوا ہو۔ وہ اپنے کیریئر میں کئی اتار چڑھائو دیکھ چکے ہیں لیکن کبھی بھی ایسا کام نہیں کیا جس سے ان کے کردار پرانگلی اٹھتی ہو۔ یہاں یہ بات ضرور ہے کہ اگر آصف زرداری نے دھاندلی کی منصوبہ بندی کرلی ہے تو پھر یہ حقیقت ہے کہ اے ڈی خواجہ اس کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں، وہ قطعی طور پر حکومت سندھ کے ہاتھوں میں کھلونا نہیں بنیں گے اور یہ بات آصف زرداری بخوبی جانتے ہیں۔ اب تو ہر ایک کو یہ بات معلوم ہے کہ اے ڈی خواجہ کو انور مجید پسند نہیں کرتے اور وہی آصف زرداری کے کان بھرتے ہیں، تب آئی جی کے خلاف محاذ بنایا گیا ہے ۔اگر آصف زرداری آج بھی کسی ایک پولیس اہلکار کو بلا کر پوچھیں کہ اے ڈی خواجہ اور سردار عبدالمجید دستی میں کیا فرق ہے؟ توان کو ایک عام اہلکار بھی بتا دے گاکہ کون بہتر ہے ۔
ذرائع تو یہ خبر دے رہے ہیں کہ اصل میں تو آصف زرداری اور ان کے رفقا نے دھاندلی کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے اور الزام لگا کر اسکے پیچھے چھپنا چاہ رہے ہیں۔ناقدین بتاتے ہیں کہ 2013 ء کے عام انتخابات میں سندھ کے انتخابات کو کسی بھی طرح صاف شفاف قرار نہیں دیا جاسکتا بلکہ یہ انجینئرڈ تھے، جس میں مبینہ طور پر ریٹرننگ افسران اور الیکشن کمیشن کے عملے کو بریف کیس فراہم کیے گئے تھے۔ اور اب 2018 ء کے عام انتخابات میں بھی وہی حکمت عملی تیار کی گئی ہے اور ابھی سے پارٹی میں ان افراد کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو نوٹوں سے بھرے بریفک کیس فراہم کرسکے گا، اس سے الیکشن کمیشن اور ریٹرننگ افسران کو خاموش کرایا جائے گا۔ دوسری جانب صوبہ بھر میں 80 فیصد سیاسی رہنمائوں کو پیپلز پارٹی میں شامل کرایا گیا ہے، جام صادق علی کے خاندان کے جام مدد علی، اور جام صادق کے پرنسپل سیکریٹری امتیاز شیخ کو جب پیپلز پارٹی میں شامل کرایا گیا تو پھر باقی کچھ نہیں رہ جاتا۔ اب ترقی پسند اور ایم آر ڈی کے ہیرو شہید فاضل راہو کے فرزند اسماعیل راہو کو پی پی میں شامل کیا جا رہا ہے۔ پچھلے دنوں ضلع بدین کے علی بخش شاہ عرف پپو شاہ کو پی پی میں شامل کرلیا گیا۔ صوبہ کے ہر ضلع میں اہم سیاسی خاندانوں کو پہلے سیاسی طریقے سے دعوت دی جاتی ہے کہ وہ آکر پی پی میں شامل ہو جائیں اگر وہ نہ مانیںتو پھر ان کو پولیس کے ذریعہ کہلوایا جاتا ہے اور اگر پھر بھی نہ مانے تو پھر مقدمات کی بھرمار کر دی جاتی ہے۔ ضلع دادو کے ایک غیر معروف سیاسی رہنما اور سابق تحصیل ناظم سید ظفر علی شاہ کو پی پی میں صرف اس وجہ سے شامل کرنے کے لیے ان کو نظر بند کر دیا گیا کہ وہ لیاقت جتوئی کے عوامی اتحاد کے جنرل سیکریٹری تھے۔ اس طرح ارباب خاندان، جتوئی خاندان، شیرازی خاندان اور پگارا خاندان کے لیے دھرتی تنگ کر دی گئی ہے کہ وہ یا تو پی پی میں شامل ہو جائیں یا پھر مقدمات کے لیے تیار ہو جائیں ،لیکن ان خاندانوں نے پی پی میں شمولیت سے قطعی انکار کر دیا ہے۔ ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ ریونیو افسران سے کہا گیا ہے کہ وہ زمینوں کے کھاتوں میں ہیرپھیر شروع کر دیں تاکہ مخالفین کو اپنی زمینوں کی فکر لاحق ہو جائے اور وہ جھک کر پی پی میں شامل ہو جائیں۔ محکمہ آبپاشی کو واضح حکم دیا گیا ہے کہ وہ پی پی میں شامل نہ ہونے والے افراد کی زرعی زمینوں کا پانی بند کر دیں، یہ صورتحال جب پیدا ہوگی تو عوام سڑکوں پر آئیں گے اور پھر پولیس کو استعمال کیا جائے گا کہ وہ امن و امان کی بحالی کے لیے اقدامات کرے۔ اور اس سب کے بعد آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ آنکھیں بند کرکے حکومت سندھ اور پی پی کی قیادت کے سامنے ہاں میں ہاں ملائیں گے؟ جب ایسا نا ممکن نظر آیا تو آصف زرداری نے بے تکا اور بھونڈا الزام عاید کر دیا کہ اے ڈی خواجہ کو اس لیے برقرار رکھا گیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) عام انتخابات سے قبل دھاندلیاں شروع کر دے۔واقفان حال کہتے ہیں کہ آصف زرداری کی اس بات پر سندھ کا ایک بھی باشندہ اعتبار کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ 2013ء کی طرح 2018 ء میں بھی پی پی نے دھاندلیوں کی منصوبہ بندی شروع کر دی ہے اور اس مقصد کے لیے پولیس کو استعمال کرنا ہے، مگر آئی جی سندھ پولیس نے نچلی سطح تک پولیس اہلکاروں کو واضح پیغام دے دیا ہے کہ وہ غیر جانبدار رہیں اور کسی کے خلاف انتقامی کارروائی نہ کریں۔ اس بات نے پی پی کی قیادت کو مشتعل کر دیا ہے ایک اور بات جو پی پی کی قیادت کو پتہ ہے کہ عام انتخابات سے قبل اہم گرفتاریاں ہوں گی اور اس سے بچنے کے لیے پی پی قیادت تابعدار، فرماں بردار آئی جی پولیس لانا چاہتی ہے جس کی راہ میں عدالتیں اور وفاقی حکومت رکاوٹ ہیں اسی بات نے آصف زرداری کو حواس باختہ کر دیا ہے۔
حکومت کی جانب سے بجٹ کے حوالے سے آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کی کوششیں ، دونوں فریقین میںمذاکرات کا جاری ، ممکنہ خسارے کے ازالے کیلئے متبادل ریونیو اقدامات پر مشاورت حکومت کا فنانس بل میں شامل مختلف ٹیکس رعایتوں کی مکمل تفصیلات جاری کرنے سے گریز، تنخواہ دار طبقے کو دیے گئے ٹیکس ر...
میری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے بات ہوگئی ہے،صوبائی حکومت صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپر پاس کرے گی، آئین کا آرٹیکل 125 اجازت دیتا ہے، آپ 3 ماہ کا بجٹ پیپر پیش کرسکتے ہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک حتمی بجٹ پیش نہیں ہوگا،30 جون تک بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو خیبر پختونخوا...
ملزمہ سادہ کوکین 20ہزار فی گرام جبکہ گولڈن اسٹف40ہزار فی گرام فروخت کرتی تھی مقدمے میں نامزد پانچ ملزمان مفرور قرار ،پولیس نے گرفتاری کیلئے کارروائیاں تیز کر دی کراچی میں منشیات فروشی کے مبینہ بڑے نیٹ ورک کی مرکزی ملزمہ انمول عرف پنکی اور دیگر کے خلاف منشیات کے مقدمے کا عبوری...
منشیات کی ترسیل کے لیے انڈوں کے خول استعمال کیے جاتے تھے،ملزم شاہ فہد سہراب گوٹھ سے مختلف رائیڈرز کے ذریعے مختلف علاقوں میں سپلائی کیا جاتا تھا کراچی سائوتھ زون پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے منشیات سپلائی کرنے والے ایک اور مبینہ منظم نیٹ ورک کا سراغ لگانے کا دعوی کیا ہے۔ گرفتار...
رواں سال ڈبل ڈیکر اور جدید الیکٹرک بسوں کی بڑی تعداد کراچی پہنچ جائے گی،شرجیل میمن نئی ڈبل ڈیکر اور ماحول دوست ای وی بسیں مرحلہ وار مختلف روٹس پر چلائی جائیں گی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی کے شہریوں کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کا ا...
ایک شخص کی وجہ سے ملکی تناؤ ہے تو اسے باہر نکالیں، مجھے کہا جاتا ہے آپ تو عمران خان کیخلاف تھے، مخالف جیل میں ہاتھ پاؤں بندھا پڑا ہو تو اس کیخلاف بات نہیں کرتے،سربراہ جے یو آئی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈروں کی تقریروں کو بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے، ہم نے کشمیریوں کی ماؤں بہنوں کی...
81ہزار ٹن خریداری ہدف سے کم، مقامی مارکیٹ اور پاسکو سے مزید گندم خریدنے کا فیصلہ ہاریوں کو مقررہ امدادی قیمت کی ادائیگی ہر صورت یقینی بنائی جائے،اجلاس میں تفصیلی جائزہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلی ہاؤس میں محکمہ خوراک اور محکمہ زراعت کا مشترکہ اجلاس ...
عوام بخوبی جانتے ہیں کہ کس نے اسے بوری بند لاشوں کے تحفے دیے،سینئر صوبائی وزیر کراچی ملک کا معاشی حب اور سندھ کا دارالخلافہ ہے، خالد مقبول کے بیان پر سخت ردعمل سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا خالد مقبول صدیقی کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کراچی کے عوام بخوبی جانتے ہیں ...
تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...
پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...
حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...
امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...