وجود

... loading ...

وجود

وزیر اعلیٰ اور آئی جی میں فاصلے برقرار انتظامی بحران کا خدشہ

جمعه 14 اپریل 2017 وزیر اعلیٰ اور آئی جی میں فاصلے برقرار انتظامی بحران کا خدشہ

امن و امان کی ساری ذمہ داری آئی جی کے کاندھوں پر،اے ڈی خواجہ اور صوبائی حکام میں خلیج حائل،آئی جی کو سندھ کابینہ کے آئندہ اجلاسوں میں نہ بلانے کا فیصلہ

حکومت سندھ نے جس طرح غلام حیدر جمالی کو سر آنکھوں پر بٹھایا اور اتنے غلط کام کرائے کہ اس کی مثال ملنا مشکل ہے ۔ اسی غلام حیدر جمالی سے کراچی پولیس چیف غلام قادر تھیبو کے ساتھ مل کر ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کو گرفتار کرنے یا ان کو میر مرتضیٰ بھٹو کی طرح مبینہ طور پر پولیس مقابلے میں مارنے کے لیے سندھ ہائی کورٹ کا گھیراؤ کیا تھا اور عدالتی تقدس کو پامال کرتے ہوئے پولیس کے دستے ہائی کورٹ کی راہداری کے ساتھ کھڑے کر دیے، جس کی وجہ سے سندھ ہائی کورٹ کو بلآخر نوٹس لینا پڑا اور آج تک اس کارروائی کے لیے جانے والے پولیس افسران عدالت کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ غلام حیدر جمالی ایک مرتبہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے پاؤں پڑ گئے تو دیگر پولیس افسران نے ان کو ٹوکا کہ وردی کا تو خیال کریں جس پر غلام حیدر جمالی نے برجستہ کہا کہ میری وردی مجھے نیاز مندی سے نہیں روک سکتی ۔اسی غلام حیدر جمالی نے پولیس میں بھرتیاں کیں تو کانسٹیبل کی بھرتی کے لیے پانچ لاکھ روپے مقرر کر دیے اور جب آفتاب پٹھان نے تحقیقات کی تو پہلے ان کو لالچ دی، پھر دھمکیاں دیں اور آخر میں ان کی خدمات وفاق کے حوالے کیں ،جہاں سے ان کو بلوچستان بھیج دیا گیا۔ پھر اے ڈی خواجہ، ثناءاللہ عباسی اور سلطان خواجہ نے سپریم کورٹ کے حکم پر جو تحقیقات کی اس میں ایک ایک اسکینڈل دل دہلا دینے والا ہے ۔سپریم کورٹ نے رپورٹ پڑھ کر سر پکڑ لیا اور بلآخر یہ حکم دیا کہ ان کو ہٹا دیا جائے، ورنہ سپریم کورٹ ان کو دھکے دے کر ہٹا دے گی ۔اس وقت تک آصف زرداری، فریال تالپور، انور مجید، قائم علی شاہ، مراد علی شاہ کے لیے غلام حیدر جمالی ٹھیک تھے کیونکہ انہوں نے انور مجید کے کہنے پر شوگر ملزمالکان کو اٹھالیا اور ان کو زبردستی محصورکیا کہ وہ اپنی شوگر ملز انور مجید کو فروخت کر دیں ،پھر گنے کے کاشت کاروں کو پولیس کے ذریعہ مجبور کیا گیا کہ وہ اپنا گنا کم قیمت پر انور مجید کو فروخت کریں۔ غلام حیدر جمالی تو پی پی پی کی قیادت کے لیے سونے کے انڈے دینے والی مرغی تھی۔ سپریم کورٹ نے غلام حیدر جمالی سے جان چھڑائی تو اے ڈی خواجہ آئی جی سندھ پولیس مقرر ہوئے، پہلے قائم علی شاہ پھر مراد علی شاہ سے ان کا پالا پڑا مگر دونوں بے بس مجبور اور بے اختیار وزرائے اعلیٰ کی کرسی پر براجمان رہے۔ اصل طاقت آصف زرداری، فریال تالپور اور انور مجید رہے۔ اور بدقسمتی سے آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ ان تینوں غیر سرکاری افراد (جس کے لیے آصف زرداری اپنی حکومت کے دور میں نان اسٹیٹ ایکٹر کا محاورہ استعمال کرتے تھے) سے ان کی نہ بن سکی اور ان تینوں کے ساتھ انکی متعدد بار ملاقاتوں کے باوجود معاملات نرم نہ ہوسکے ۔ تینوں کا حکم ہوتا کہ وہ جیسے چاہیں وہ ایسا کریں، قانونی اور غیر قانونی بات کو بھول جائیں۔ آئی جی سندھ نے دو ٹوک مو¿قف اختیارکیا تھا کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے وہ قانون سے ہٹ کر کوئی کام نہیں کریں گے، پولیس کی بھرتیاں میرٹ پر ہوں گی۔ بھرتیوں والی سلیکشن کمیٹی میں فوج کا افسر اور سی پی ایل سی کا نمائندہ شامل ہوگا ،کسی کی بھی لسٹ پر بھرتیاں نہیں ہوں گی۔ انور مجید اور نثار مورائی کے گھروں سے ملنے والا اسلحہ واپس نہیں کیا جائے گا۔ ذوالفقار مرزا یا کسی دوسرے کے خلاف کوئی غیر قانونی اقدام نہیں اٹھایا جائے گا۔ گنے کے کاشت کارروں یا شوگر ملز مالکان کے خلاف پولیس کوئی دباؤ نہیں ڈالے گی۔ وہ انور مجید کے دفتر کا چکر نہیں کاٹیں گے، خراب شہرت رکھنے والے پولیس افسران کی حوصلہ افزائی نہیں کریں گے اور مالی بے قاعدگیوں میں ملوث پولیس افسران کے ریفرنس نیب کو بھی ارسال کریں گے اور ان کے خلاف نیب ، ایف آئی اے کی تحقیقات میں مدد بھی دیں گے۔ ان باتوں نے ان تینوں کو مشتعل کر دیا مگر آئی جی سندھ پولیس کو ان کی ناراضگی کی قطعی کوئی پرواہ نہیں تھی۔پھر کیا تھا،ایک مرتبہ ان کو جبری چھٹی پربھیج دیا گیا ،تو معاملہ سندھ ہائی کورٹ میں چلا گیا ،ہائی کورٹ نے حکم امتناعی جاری کیا پھر چار ماہ تک معاملہ ٹھنڈا رہا ۔اب ایک مرتبہ پھر آئی جی سندھ پولیس کو ہٹانے کے لیے وزیراعلیٰ سندھ نے وفاقی حکومت کو لیٹر لکھ دیا مگر وفاقی حکومت نے کوئی تحریری جواب نہیں دیا اور ایک مرتبہ پھر سندھ ہائی کورٹ نے حکم امتناعی جاری کر دیا ۔پھرسندھ کابینہ سے منظوری طلب کی گئی،اس معاملے پر حکومت سندھ نے بدنیتی پر مبنی سندھ کابینہ کے اجلاس کاایجنڈا دو مرتبہ جاری کیا ، ایک مرتبہ تو کسی ایجنڈےکا ذکر نہ تھا، پھر چار گھنٹے بعد دوسرا ایجنڈا جاری کیا جس میں پانی ،بجلی کے مسائل اور مردم شماری شامل تھے۔ یہی ایجنڈا جب اگلے روز سندھ ہائی کورٹ نے طلب کیا تو حکومت کے پسینے چھوٹ گئے ،اب آئی جی سندھ پولیس کے ساتھ وزیراعلیٰ کی بات چیت بند ہے، جس کے باعث انتظامی بحران شدت کی طرف بڑھ رہا ہے ۔ امن امان کی ذمہ داری اب آئی جی سندھ پولیس خوداپنے تئیں نبھا رہے ہیں اور حکام سے اب صرف خط و کتابت کی حد تک رابطہ ہے۔ سندھ کابینہ کے 5 اپریل کے اجلاس میں آئی جی کو نہیںبلایا گیا تھا، اب سندھ کابینہ کے آئندہ اجلاسوں میں آئی جی کو نہ بلانے کا فیصلہ کیا گیاہے مگر پریشانی کی بات یہ ہے کہ ایپکس کمیٹی میں آئی جی مستقل رکن ہیں ،اس اجلاس سے ان کو روکنا حکومت سندھ کے بس کی بات نہیں ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ آئندہ ایپکس کمیٹی کا اجلاس کب ہوتا ہے۔


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟ وجود جمعه 31 جولائی 2026
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر