... loading ...

امن و امان کی ساری ذمہ داری آئی جی کے کاندھوں پر،اے ڈی خواجہ اور صوبائی حکام میں خلیج حائل،آئی جی کو سندھ کابینہ کے آئندہ اجلاسوں میں نہ بلانے کا فیصلہ
حکومت سندھ نے جس طرح غلام حیدر جمالی کو سر آنکھوں پر بٹھایا اور اتنے غلط کام کرائے کہ اس کی مثال ملنا مشکل ہے ۔ اسی غلام حیدر جمالی سے کراچی پولیس چیف غلام قادر تھیبو کے ساتھ مل کر ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کو گرفتار کرنے یا ان کو میر مرتضیٰ بھٹو کی طرح مبینہ طور پر پولیس مقابلے میں مارنے کے لیے سندھ ہائی کورٹ کا گھیراؤ کیا تھا اور عدالتی تقدس کو پامال کرتے ہوئے پولیس کے دستے ہائی کورٹ کی راہداری کے ساتھ کھڑے کر دیے، جس کی وجہ سے سندھ ہائی کورٹ کو بلآخر نوٹس لینا پڑا اور آج تک اس کارروائی کے لیے جانے والے پولیس افسران عدالت کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ غلام حیدر جمالی ایک مرتبہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے پاؤں پڑ گئے تو دیگر پولیس افسران نے ان کو ٹوکا کہ وردی کا تو خیال کریں جس پر غلام حیدر جمالی نے برجستہ کہا کہ میری وردی مجھے نیاز مندی سے نہیں روک سکتی ۔اسی غلام حیدر جمالی نے پولیس میں بھرتیاں کیں تو کانسٹیبل کی بھرتی کے لیے پانچ لاکھ روپے مقرر کر دیے اور جب آفتاب پٹھان نے تحقیقات کی تو پہلے ان کو لالچ دی، پھر دھمکیاں دیں اور آخر میں ان کی خدمات وفاق کے حوالے کیں ،جہاں سے ان کو بلوچستان بھیج دیا گیا۔ پھر اے ڈی خواجہ، ثناءاللہ عباسی اور سلطان خواجہ نے سپریم کورٹ کے حکم پر جو تحقیقات کی اس میں ایک ایک اسکینڈل دل دہلا دینے والا ہے ۔سپریم کورٹ نے رپورٹ پڑھ کر سر پکڑ لیا اور بلآخر یہ حکم دیا کہ ان کو ہٹا دیا جائے، ورنہ سپریم کورٹ ان کو دھکے دے کر ہٹا دے گی ۔اس وقت تک آصف زرداری، فریال تالپور، انور مجید، قائم علی شاہ، مراد علی شاہ کے لیے غلام حیدر جمالی ٹھیک تھے کیونکہ انہوں نے انور مجید کے کہنے پر شوگر ملزمالکان کو اٹھالیا اور ان کو زبردستی محصورکیا کہ وہ اپنی شوگر ملز انور مجید کو فروخت کر دیں ،پھر گنے کے کاشت کاروں کو پولیس کے ذریعہ مجبور کیا گیا کہ وہ اپنا گنا کم قیمت پر انور مجید کو فروخت کریں۔ غلام حیدر جمالی تو پی پی پی کی قیادت کے لیے سونے کے انڈے دینے والی مرغی تھی۔ سپریم کورٹ نے غلام حیدر جمالی سے جان چھڑائی تو اے ڈی خواجہ آئی جی سندھ پولیس مقرر ہوئے، پہلے قائم علی شاہ پھر مراد علی شاہ سے ان کا پالا پڑا مگر دونوں بے بس مجبور اور بے اختیار وزرائے اعلیٰ کی کرسی پر براجمان رہے۔ اصل طاقت آصف زرداری، فریال تالپور اور انور مجید رہے۔ اور بدقسمتی سے آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ ان تینوں غیر سرکاری افراد (جس کے لیے آصف زرداری اپنی حکومت کے دور میں نان اسٹیٹ ایکٹر کا محاورہ استعمال کرتے تھے) سے ان کی نہ بن سکی اور ان تینوں کے ساتھ انکی متعدد بار ملاقاتوں کے باوجود معاملات نرم نہ ہوسکے ۔ تینوں کا حکم ہوتا کہ وہ جیسے چاہیں وہ ایسا کریں، قانونی اور غیر قانونی بات کو بھول جائیں۔ آئی جی سندھ نے دو ٹوک مو¿قف اختیارکیا تھا کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے وہ قانون سے ہٹ کر کوئی کام نہیں کریں گے، پولیس کی بھرتیاں میرٹ پر ہوں گی۔ بھرتیوں والی سلیکشن کمیٹی میں فوج کا افسر اور سی پی ایل سی کا نمائندہ شامل ہوگا ،کسی کی بھی لسٹ پر بھرتیاں نہیں ہوں گی۔ انور مجید اور نثار مورائی کے گھروں سے ملنے والا اسلحہ واپس نہیں کیا جائے گا۔ ذوالفقار مرزا یا کسی دوسرے کے خلاف کوئی غیر قانونی اقدام نہیں اٹھایا جائے گا۔ گنے کے کاشت کارروں یا شوگر ملز مالکان کے خلاف پولیس کوئی دباؤ نہیں ڈالے گی۔ وہ انور مجید کے دفتر کا چکر نہیں کاٹیں گے، خراب شہرت رکھنے والے پولیس افسران کی حوصلہ افزائی نہیں کریں گے اور مالی بے قاعدگیوں میں ملوث پولیس افسران کے ریفرنس نیب کو بھی ارسال کریں گے اور ان کے خلاف نیب ، ایف آئی اے کی تحقیقات میں مدد بھی دیں گے۔ ان باتوں نے ان تینوں کو مشتعل کر دیا مگر آئی جی سندھ پولیس کو ان کی ناراضگی کی قطعی کوئی پرواہ نہیں تھی۔پھر کیا تھا،ایک مرتبہ ان کو جبری چھٹی پربھیج دیا گیا ،تو معاملہ سندھ ہائی کورٹ میں چلا گیا ،ہائی کورٹ نے حکم امتناعی جاری کیا پھر چار ماہ تک معاملہ ٹھنڈا رہا ۔اب ایک مرتبہ پھر آئی جی سندھ پولیس کو ہٹانے کے لیے وزیراعلیٰ سندھ نے وفاقی حکومت کو لیٹر لکھ دیا مگر وفاقی حکومت نے کوئی تحریری جواب نہیں دیا اور ایک مرتبہ پھر سندھ ہائی کورٹ نے حکم امتناعی جاری کر دیا ۔پھرسندھ کابینہ سے منظوری طلب کی گئی،اس معاملے پر حکومت سندھ نے بدنیتی پر مبنی سندھ کابینہ کے اجلاس کاایجنڈا دو مرتبہ جاری کیا ، ایک مرتبہ تو کسی ایجنڈےکا ذکر نہ تھا، پھر چار گھنٹے بعد دوسرا ایجنڈا جاری کیا جس میں پانی ،بجلی کے مسائل اور مردم شماری شامل تھے۔ یہی ایجنڈا جب اگلے روز سندھ ہائی کورٹ نے طلب کیا تو حکومت کے پسینے چھوٹ گئے ،اب آئی جی سندھ پولیس کے ساتھ وزیراعلیٰ کی بات چیت بند ہے، جس کے باعث انتظامی بحران شدت کی طرف بڑھ رہا ہے ۔ امن امان کی ذمہ داری اب آئی جی سندھ پولیس خوداپنے تئیں نبھا رہے ہیں اور حکام سے اب صرف خط و کتابت کی حد تک رابطہ ہے۔ سندھ کابینہ کے 5 اپریل کے اجلاس میں آئی جی کو نہیںبلایا گیا تھا، اب سندھ کابینہ کے آئندہ اجلاسوں میں آئی جی کو نہ بلانے کا فیصلہ کیا گیاہے مگر پریشانی کی بات یہ ہے کہ ایپکس کمیٹی میں آئی جی مستقل رکن ہیں ،اس اجلاس سے ان کو روکنا حکومت سندھ کے بس کی بات نہیں ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ آئندہ ایپکس کمیٹی کا اجلاس کب ہوتا ہے۔
گلگت بلتستان میں 22 امیدوار میدان میں تھے،پوری جمع تفریق کے بعد 15 نشستوں پر جیتے ہیں،ہمیں دو نشستیں دے کر ہماری 13 نشستیں کسی اور کو دیں گے تو ہم اس کو نہیں مانتے، بیرسٹر گوہر بجٹ سیشن میں شریک ہوں نہ ہوں عوام کو ریلیف ملنا چاہیے، کشمیر پر ہمارا واضح مؤقف ہے، مسائل کو افہام و ...
28ویں ترمیم کا شوشہ چھوڑ کر سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کے لیے کام کر رہی ہیں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے، عوامی مسائل بدستور حل طلب ہیں، پریس کانفرنس امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی حکومتوں کو مکمل بااختیار بنایا جائے اور آئندہ و...
خیبرپختونخواہ میں 40 کے قریب ناراض تحریک انصاف ارکان کا بڑا فارورڈ بلاک تشکیل پانے کا دعویٰ کردیا گیا بانی کی رہائی کیلئے قرآن پر حلف نہیں لیا جاتا، صوبائی بجٹ پاس نہیں ہونے دینگے، ایم پی اے ٰ کی نجی ٹی وی سے گفتگو خیبر پختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات ا...
طائر شہر میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، شہری جبری نقل مکانی پر مجبور ہو گئے شرکیہ میں حملے کیے، کئی افراد زخمی ہو گئے،اسرائیلی فوج کی انخلا کی وارننگ جاری اسرائیل نے ہٹ دھرمی برقرار رکھتے ہوئے لبنان پر وحشیانہ حملے تیز کر دیٔے، مزید 8 لبنانی شہری شہید ہو گئے۔لبنانی می...
تحریک انصاف اس وقت 70 فیصد حلقوں پر لیڈ کررہی ہے،8 فروری کا ری پلے شروع ہو چکا، آخری محاذ بھی عمران خان کے نام ہوگا، گلگت بلتستان الیکشن پر شفیع جان کا دعویٰ غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری، پی پی 3، آزاد امیدوار ایک نشست پر کامیاب ،نون لیگ ،اسلامی تحریک پاکستان...
حکومتی وفد اور پیپلزپارٹی میں بجٹ سے ہنگامی اجلاس ، ڈیڈ لاک ختم کرنیکیلئے دونوں اطراف سے کوشش جاری ،پیپلزپارٹی کو صوبوں سے اضافی سبسڈیز اور ترقیاتی بجٹ سے متعلق تحفظات ہیں کے فور منصوبہ، ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز نہ ملنا، سکھر کراچی موٹر ویز کا منصوبہ ڈیڈ لاک کی وجوہات ہیں،حکومت ...
گلگت، بلتستان کے عوام نے بھاری اکثریت کے ساتھ میڈنٹ دلوایا تو جیالا وزیراعلیٰ آنے کے بعد عوام کو زمین کا مالک بنادیں گے، پہلے مرحلے میں 28 ہزار مربع میل کا مالک بنوائیں گے پی ٹی آئی والے کے پی میں کام نہیں کرتے، وہ کہتے ہیں ہمیں قیدی نمبر 420 کو چھڑوانا ہے، پنجاب والے گلگت بلت...
یکم جولائی سے اسٹیشنری آئٹمز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہونے سے کاپیاں، رجسٹر، قلم، پینسل سمیت تعلیمی سامان مہنگا ہونے کا امکان،آئی ایم ایف کی اسٹیشنری پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کی منظوری سیلز ٹیکس بڑھنے سے تعلیمی اور دفتری اخراجات میں اضافے کا خدشہ،حکومت بجٹ کا ٹیکس استثنا محدود کر...
ملک بھرمیں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ، کراچی کے شہری مہنگا ترین آٹا خریدنے پر مجبورہیں حیدرآباد 2600 ،پشاور 2750 ، اسلام آباد 2733، راولپنڈی میں 2707روپے تک پہنچ گئی ملک میں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے اور 20کلو آٹے کے تھیلے کی زیادہ سے زیادہ قیمت 2800 روپے تک پہنچ...
اسٹریٹجک ذخائر کو مضبوط بنایا جائے اور عوام کو مناسب قیمت پر آٹے کی فراہمی یقینی بنائی جائے،وزیراعلیٰ سندھ اس سال گندم خریداری کا ہدف 10لاکھ میٹرک ٹن تھا مگر محکمہ خوراک ایک لاکھ ٹن بھی نہیں خرید سکا، اجلاس میںبریفنگ وزیراعلی سندھ نے گندم کی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی کو...
سیلاب، خشک سالی اور گلیشیٔرز کا تیزی سے پگھلنا موسمیاتی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں پاکستان ماحول کے تحفظ کیلئے عالمی برادری کے ساتھ کھڑا ہے،عالمی یومِ ماحولیات پر پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان م...
جو لوگ اپنے ذاتی حلقے ہار گئے، وہ گلگت بلتستان میں ووٹ مانگنے وہاں پہنچ چکے ہیں، موجودہ حکمرانوں کی کی کارکردگی صرف یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو روکو تاکہ یہ الیکشن نہ جیت سکیں، بیرسٹر گوہر گلگت بلتستان کے انتخابی دنگل میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے ، عوام اب ان کے کسی بھی دھوکے...