وجود

... loading ...

وجود

مملکتِ شام میں شام ِغم طویل تر۔۔۔ اہل شام اندرونی و بیرونی حملوں میں سینڈوچ بن گئے

هفته 08 اپریل 2017 مملکتِ شام میں شام ِغم طویل تر۔۔۔ اہل شام اندرونی و بیرونی حملوں میں سینڈوچ بن گئے


٭امریکا کا شامی فوجی اڈے پر کروز میزائلوں سے حملہ ،اسی اڈے سے شامی حکومت نے شہریوں پر کیمیائی حملے کیے،کیمیائی حملہ انسانیت کی توہین ہے،اسد سے متعلق پالیسی بدل دی،ڈونلڈ ٹرمپ٭چین ،برطانیہ،ترکی،جاپان ،سعودی عرب ودیگرکئی ممالک کا خیر مقدم، روس نے جارحیت قراردے دیا ،امریکا و روس کی فضائیہ کے درمیان شام کی حدود میں ایک دوسرے کو نشانہ نہ بنانے کا معاہدہ معطل

امریکا نے شام میں مزاحمت کاروں کے زیرِ اثر علاقوں پرشامی فوج کی جانب سے مشتبہ کیمیائی حملے کے جواب میں فضائی اڈے پر میزائل حملے کیے ہیں جبکہ روس کا کہنا ہے کہ یہ صاف ظاہر ہے کہ امریکی حملوں کی تیاری پہلے ہی سے کی گئی تھی۔امریکی محکمہ دفاع کا کہنا ہے کہ مشرقی بحیرہ روم میں بحری بیڑے سے 59 ٹام ہاک کروز میزائلوں سے شام کے ایک فضائی اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔مقامی حکام اور عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ الشعیرات فوجی اڈہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے جبکہ شامی فوج کے مطابق امریکی حملوں میں 6 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔یہ پہلا موقع ہے کہ امریکا نے اس سیکورٹی فورس کو نشانہ بنایا ہے جس کو شامی صدر بشار الاسد خود کمانڈ کرتے ہیں۔شامی حکومت کی جانب سے کیمیائی حملوں کے خلاف امریکی کارروائی کا کئی ملکوں نے خیر مقدم کیا جس میں ترکی،چین ،جاپان،سعودی عرب ،جرمنی ، اٹلی، پولینڈ، آسٹریلیا،برطانیہ و دیگر شامل ہیں۔
ان حملوں کے بعد بشار الاسد کے حامی روس وایران نے امریکا کی اس کارروائی کی شدید مذمت کی اور اسے بلاجواز نہتے شہریوںپر طاقت کاا ستعمال قرار دیاہے ، روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے ترجمان دیمیتری پیسکوف نے ان حملوں کو ‘ایک خود مختار ملک کے خلاف جارحیت’ قرار دیا ہے۔روس کے دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ ’یہ صاف ظاہر ہے کہ امریکی میزائل حملوں کی تیاری پہلے ہی سے کی گئی تھی۔ کسی بھی ماہر کے لیے یہ واضح ہے کہ واشنگٹن نے حملوں کا فیصلہ ادلب کے حملے سے پہلے کیا تھا اور ادلب کا واقعہ بہانے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔‘ برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق روسی دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ روس امریکا کے ساتھ شام میں فضائی تحفظ کے معاہدے کو معطل کر رہا ہے۔یاد رہے کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان کیا گیا تھا تاکہ دونوں ملکوں کی فضائیہ شام کی حدود میں ایک دوسرے کو نشانہ نہ بنائیں۔
امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے ہی اس شامی فضائی بیس پر حملے کا حکم دیا تھا جہاں سے منگل کو شامی فضائیہ نے مزاحمت کاروں کے علاقے میں کیمیائی حملے کیے تھے۔ امریکی صدر نے اس موقع پر ‘تمام مہذب ممالک’ سے شام میں تنازعے کو ختم کرنے میں مدد کرنے کی بھی اپیل کی ہے۔اطلاعات کے مطابق ادلب کے علاقے خان شیخون میں مبینہ زہریلی گیس کے حملے میں اب تک 27 بچوں سمیت کم سے کم 85 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
شامی حزب اختلاف کے گروہ سیریئن نیشنل کولیشن نے امریکا کی جانب سے کروز میزائل حملوں کا خیر مقدم کیا ہے۔اتحاد کے ترجمان احمد رمضان نے خبر رساں اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہم مزید حملوں کی امید کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ یہ محض ایک آغاز ہے۔’امریکا اور اس کے مغربی اتحادیوں نے شام پر فضائی حملے کے دوران کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کا الزام عائد کیا ہے، شام کی حکومت نے جس کی تردید کی ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ جس ایئر بیس کو نشانہ بنایا گیا اس کا براہ راست تعلق خوفناک کیمیائی ہتھیاروں کے حملے سے ہی تھا۔ترجمان کا کہنا تھا: ‘ہم نے بڑے اعتماد سے اس بات کا جائزہ لیا کہ اس ہفتے کے اوائل میں کیمیائی حملہ اسد حکومت کی کمان میں اسی مقام سے فضائیہ کی مدد سے کیا گیا تھا۔’ادھر شام کے ایک سرکاری ٹی وی پر اس بارے میں ایک بیان جاری کیا گیا کہ ‘امریکی جارح’ نے شام کے ایک فوجی اڈے پر کئی ایک میزائلوں سے حملہ کیا ہے تاہم اس کے علاوہ کوئی تفصیل جاری نہیں کی گئی۔اس سے قبل امریکی وزیرِ خارجہ ریکس ٹیلرسن نے کہا تھا کہ شام کے مستقبل میں بشار الاسد کی کوئی جگہ نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ شام میں منگل کو مشتبہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال ایک سنگین معاملہ ہے اور اس کے لیے سنجیدہ جواب کی ضرورت ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی شام میں شامی فضائیہ کی جانب سے ہونے والے کیمیائی حملے میں درجنوں عام شہریوں کی ہلاکت کی مذمت کی ہے۔انھوں نے کہا: ‘یہ انسانیت کی توہین ہے۔ جب آپ معصوم بچوں کا قتل کرتے ہیں، چھوٹے معصوم بچوں کا، اس سے تمام حدود کی پامالی ہوتی ہے۔’ڈونلڈ ٹرمپ نے اس موقع پر روس کا ذکر نہیں کیا جس کا موقف ہے کہ شامی مزاحمت کاروں کے پاس جو کیمیائی ہتھیار ہیں شاید انھیں استعمال کیا گیا ہوگا۔جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا اب شام کے حوالے سے امریکی پالیسی میں تبدیلی آئیگی تو اس کے جواب میں انھوں نے کہا: ‘میں آپ کو بتاؤں گا، یہ پہلے ہی ہوچکا ہے، شام اور بشارالاسد کے متعلق میرا رویہ کافی حد تک بدل گیا ہے۔
اس سے پہلے اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیئلی نے شامی حکومت کی حمایت کرنے پر روس پر نکتہ چینی کی تھی۔شام پر سکیورٹی کونسل کے اجلاس کے دوران انھوں نے کہا: ‘روس دمشق میں اپنے اتحادی سے توجہ ہٹانے کے لیے بار بار وہی جھوٹا بیانیہ استعمال کرتا ہے۔’انھوں نے امریکا کی جانب سے ممکنہ یکطرفہ کارروائی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہا: ‘جب اقوام متحدہ متاثر کن کارروائی کرنے کے اپنے فرائض میں مسلسل ناکام ہوتا ہے، تو پھر زندگی میں ایسے اوقات بھی آتے ہیں جب ہمیں خود ہی کارروائی پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے بھی کہا ہے کہ روس کو چاہیے کہ وہ بشار الاسد کے تئیں اپنی مستقل حمایت پر اچھی طرح سے غور و فکر کرے۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جن دوا خانوں میں ان متاثرین کا علاج چل رہا تھا ان پر بھی شامی فضائیہ نے بعد میں بمباری کی،واضح رہے کہ مسٹر ٹیلرسن اگلے ہفتے ہی ماسکو کا دورہ کرنے والے ہیں جن کا کہنا تھا کہ ‘ہمارے ذہن میں اس بارے میں کوئی بھی شک نہیں ہے کہ شام میں بشار الاسد کی حکومت ہی اس خوفناک حملے کی ذمہ دار ہے۔’شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت اس بات کی تردید کرتی ہے کہ اس نے کیمیائی حملہ کیا ہے۔برطانیہ میں انسانی حقوق کی تنظیم سئیرین آبزرویٹری فارہیومن رائٹس کے مطابق ادلب کے علاقے خان شیخون میں زہریلی گیس کے حملے میں 20 بچوں سمیت 85 افراد ہلاک ہوئے۔منگل کو ہونے والے اس حملے کے متاثرین کی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ کراہ رہے ہیں اور ان کے منہ سے جھاگ نکل رہی ہے۔
ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ شام کے شمال مغربی شہر ادلب میں خان الشیخون کے مقام پر گذشتہ منگل کے روز ہونے والے کیمیائی حملے کے بعد وہ اسد رجیم کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کا خیر مقدم کریں گے۔ترکی اسکے خلاف فوجی کارروائی کاحامی ہے اور اگر ضرورت پڑی تو اس میں مدد بھی فراہم کرے گا۔ اسدحکومت کے ہاتھوں شہریوں کے وحشیانہ قتل عام کے بعد خاموش رہنے کا کوئی جواز نہیں۔ترک صدر کا کہنا تھا کہ اگر ایسی کارروائی باغیوں کی جانب سے کی جاتی توہم اس کی بھی شدید مذمت کرتے اوراسد حکومت نہتے شہریوں پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی قصور وار ہے تو اسے اس کی سزا ضرور ملنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے صدر پوتن سے بھی خان شیخون واقعے پر بات کی ہے مگر اس مجرمانہ واردات کے پیچھے بشارالاسد کا ہاتھ ہے۔ اگر بشارالاسد بھی اس واقعے سے لاعلم ہیں توہم یہ ہم سب کے لیے المناک ہے۔ترک صدر کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ کن گھڑی ہے اور ہمیں خان الشیخون واقعے کی تہہ تک پہنچ کر اس کے مرتکب جنگی مجرموں کو سزا دینی ہوگی۔
یاد رہے کہ گزشتہ منگل کو شام کے شمال مغربی شہر ادلب میں مزاحمت کاروں کے گڑھ سمجھے جانے والے خان الشیخون علاقے میں مبینہ کیمیائی حملے میں کم سے کم 85 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوگئے تھے۔ مغربی ممالک اور ترکی نے اس حملے کی ذمہ داری بشارالاسد پر عاید کی ہے۔


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی! وجود بدھ 01 جولائی 2026
حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر