وجود

... loading ...

وجود

امریکا اور کمبوڈیا میں قرضوں کا تنازع

جمعرات 06 اپریل 2017 امریکا اور کمبوڈیا میں قرضوں کا تنازع


امریکا کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کمبوڈیا کو دھمکی دی ہے کہ اگر اس نے ویت نام کی جنگ کے دوران امریکا سے حاصل کئے گئے قرض کی رقم سود سمیت واپس نہیں کی تو اس کو اس کے نتائج بھگتنا پڑیں گے۔دوسری جانب کمبوڈیا کی حکومت کا موقف یہ ہے کہ ویت نام کی جنگ کے دوران امریکا نے کمبوڈیا کی معیشت کو بری طرح تباہ کیااور کمبوڈیا کو لاکھوں پناہ گزینوں کو پناہ دینے پر مجبور کیا جس کی وجہ سے کمبوڈیا کی معیشت پر منفی اثرات پڑے اس لیے امریکا کا اخلاقی فرض ہے کہ اس نے کمبوڈیا کو جو نقصان پہنچایاہے اس کی تلافی کے لیے جنگ کے دورکے اس کے تمام قرض سود سمیت معاف کردے۔
ویت نام کی جنگ کے دوران امریکا نے ویت نام سے آنے والے پناہ گزینوں کی رہائش خوراک اور لباس کا انتظام کرنے کے لیے کمبوڈیا کو لاکھوں ڈالر دیے تھے ۔ویت نام سے یہ پناہ گزین امریکی بمبار B-52 طیاروں کی اندھادھند بمباری کی وجہ سے اپنے گاؤں تباہ وبرباد ہوجانے کی وجہ سے بے گھر ہونے کے سبب پناہ لینے کمبوڈیا پہنچ رہے تھے ۔اس وقت اور اس کے بعد امریکا کی کسی حکومت نے کمبوڈیا پر اس رقم کی واپسی کے لیے کوئی دباؤ نہیں ڈالا ، جبکہ کمبوڈیا کی حکومت کا شروع ہی سے یہ موقف رہاہے کہ امریکا نے اسے جنگ کے دوران جو امداد دی ہے وہ خود امریکا کے پیدا کردہ مسائل حل کرنے پر خرچ کی گئی اس لیے امریکا کا اخلاقی فرض ہے کہ وہ نہ صرف قرض کی وہ رقم سود سمیت معاف کرے بلکہ اس کی وجہ سے کمبوڈیا کی معیشت کو پہنچنے والے ناقابل تلافی نقصان کے ازالے کے لیے ہرجانہ بھی ادا کرے ، امریکا میں اب تک آنے والی کسی بھی حکومت نے اگرچہ کمبوڈیا کی حکومت کا یہ موقف کبھی تسلیم نہیں کیا لیکن قرض کی واپسی کے لیے کبھی زیادہ دباؤ بھی نہیں ڈالا ,اس طرح وقت گزرتا چلا گیا لیکن اب ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت تمام اخلاقی تقاضوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کمبوڈیا کی حکومت پر قرض کی واپسی کے لیے دباؤ بڑھارہی اور اب بات دباؤ سے آگے بڑھ کر دھمکیوں تک پہنچ گئی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ حکومت نے کمبوڈیا کو پیغام دیا ہے کہ قرض قرض ہوتاہے اس میں کوئی اخلاقی ذمہ داری نہیں ہوتی ،یہ کمبوڈیاکی حکومت کی اخلاقی اور قانونی ذمہ داری ہے کہ وہ امریکا کا قرض واپس کرنے کا انتظام کرے۔کمبوڈیا کے موجودہ وزیر اعظم ہون سین کو امریکا کے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بڑا مداح تصور کیاجاتاہے ، انھوںنے گزشتہ فروری میں ڈونلڈ ٹرمپ کو خط لکھاتھا کہ یہ کیسے ہوسکتاہے کہ تم نے ہمارے ملک پر حملہ کیا ،ہمارے بھرے پرے گاؤں کے گاؤں تباہ وبرباد کردیئے، ان پر کھڑی فصلیں تمہاری اندھادھند بمباری کی نذر ہوگئیں جس کی وجہ سے ہم قحط جیسی صورت حال سے دوچار ہوگئے اور پھر جب ہم نے اس صورت حال سے بچنے اور کمبوڈیا کے عوام کو خوراک کی فراہمی کے لیے تم سے چاول، گندم اور تیل وغیرہ حاصل کیا تو اب تم اس کو قرض شمار کرکے ہم سے وہ رقم سود سمیت طلب کررہے ہو ،یہ کہاں کا انصاف ہے ؟لیکن اس کے جواب میں امریکی انتظامیہ نے یہی جواب دیاہے کہ قرض قرض ہوتاہے خواہ وہ کسی بھی مقصد کے لیے لیاجائے۔
1965 سے1973 کے دوران امریکا ویت نام کے ساتھ جنگ لڑتارہا، اس دوران امریکا نے ویت نام میں امریکا کے ساتھ لڑائی میں مصروف کھیمر روج کی سپلائی لائن کاٹنے اور ان کو محصو ر کرکے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کے لیے کمبوڈیا کے شمالی علاقے میں کم وبیش 5لاکھ ٹن بم برسائے ،1969 میں رچرڈ نکسن کے دور میں امریکی فوج نے ویت نام سے اپنی فوجیں بحفاظت نکالنے کے لیے وقت حاصل کرنے کی غرض سے کمبوڈیا کی حکومت سے برسرپیکار کھیمر روج کی پیش قدمی روکنے کے لیے جنوبی ویت نام میں بے تحاشہ بمباری کی جس کی وجہ سے کمبوڈیا میں چاول کاشت کرنے والے کاشت کاروں کو اپنے کھیتوں پر کھڑی فصلیں چھوڑ کر جان بچاکر بھاگنے پر مجبور ہونا پڑا تھا جس کی وجہ سے کمبوڈیا میں خوراک کی شدید قلت پیدا ہوگئی تھی ۔ اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے امریکا نے جو کمبوڈیا کی کمیونسٹ مخالف لون نول حکومت کو سپورٹ کررہاتھا، اس وقت کی حکومت کو امریکا سے چاول ، گندم ،تیل اور دیگر اجناس کی خریداری کے لیے 274 ملین ڈالرکی امداد فراہم کی تھی۔یہ امداد ”امن کے لیے خوراک “ نامی منصوبے کے تحت کمبوڈیا کو دی گئی تھی۔
1990 میں جب کمبوڈیا جنگ کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے بعد کسی حد تک کھڑا ہونے کے قابل ہوا تو امریکا نے اس دور میں دی گئی امداد کی رقم کی واپسی کامطالبہ شروع کردیا ،اس وقت تک قرض کی یہ رقم بڑھتے بڑھتے506 ملین ڈالر تک پہنچ چکی تھی ،نوم پنہہ میں امریکی سفارتخانے کے ایک ترجمان جے رامن کا کہناہے کہ ہم ایسے ملکوں کا قرض معاف نہیں کرسکتے جو قرض ادا کرنے کی صلاحیت اور سکت رکھتے ہیں لیکن قرض واپس نہیں کرنا چاہتے۔
کمبوڈیا کاکہناہے کہ امریکا کی جانب سے کمبوڈیا کی اس وقت کی حکومت کو دیاجانے والا قرضہ ہی غیر قانونی تھا کیونکہ ا س وقت کے شہزادہ نوردم سہانوک کی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کرنے والی حکومت غیر قانونی تھی ،اور ایک غیر قانونی طورپر قائم ہونے والی حکومت کو امریکا کی جانب سے قرض کی فراہمی کاکوئی جواز ہی نہیں تھا لہٰذا اب امریکا کو اس غیر قانونی حکومت کو دیے گئے قرض کی واپسی کاکوئی جواز نہیں بنتا۔
امریکا کمبوڈیا کی حکومت کایہ موقف بھی تسلیم کرنے کوتیار نہیں کہ وہ امریکی قرض واپس کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا کیونکہ کمبوڈیا نے گزشتہ برسوں کے دوران تیزی سے ترقی کی ہے اور گزشتہ سال کی رپورٹ کے مطابق اب اس کاشمار دنیا کے متوسط آمدنی والے ممالک میں ہونے لگاہے، اور اس کی سالانہ ملکی پیداوار 19ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کاکہناہے کہ امریکی قرض واپس کرنے سے انکار کی وجہ سے کمبوڈیا کی قرض حاصل کرنے کی حیثیت متاثر ہورہی ہے کیونکہ کسی ایسے ملک کو جو دوسروں کا قرض واپس کرنے سے انکاری ہو آسان شرائط پر قرض کی فراہمی ممکن نہیں رہتی۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ اس مسئلے کاکیاحل تلاش کرتی ہے اور کمبوڈیا کو اس حوالے سے کوئی ریلیف دینے پرتیار ہوتی ہے یا نہیں ؟
جولیا ویلس


متعلقہ خبریں


امریکا کی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی،قریب آنے والے جہازوں کو تباہ کرنے کی دھمکی وجود - منگل 14 اپریل 2026

آبنائے ہرمز سے گزرنے والے اُن جہازوں کو نہیں روکا جائے گا جو ایرانی بندرگاہوں کے بجائے دیگر ممالک کی جانب جا رہے ہوں، ٹرمپ کا 158 جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ ناکہ بندی کے دوران مزاحمت ایران کیلئے دانشمندانہ اقدام ثابت نہیں ہوگا، فضائی حدود ہماری مکمل گرفت میں ہے، ٹرمپ ایران کو مکمل ...

امریکا کی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی،قریب آنے والے جہازوں کو تباہ کرنے کی دھمکی

عمران خان کی ہدایت، تحریک انصاف کا19 اپریل کو جلسہ عام کا اعلان، کارکنان کو ملک بھر میں متحرک کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 14 اپریل 2026

مردان ریلوے گراؤنڈ میں سہ پہر 3 بجے جلسہ ہوگا، مخالفین خصوصاً ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ٹاؤٹس جلسے کو ناکام بنانے کیلئے منفی پروپیگنڈا کر رہے ہیں،وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا قوم آج بھی عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے، دنیا کو دکھائیں گے بانی جیل میں ہونے کے باوجود بڑی سیاسی سرگرمی کر سکتے ہیں،...

عمران خان کی ہدایت، تحریک انصاف کا19 اپریل کو جلسہ عام کا اعلان، کارکنان کو ملک بھر میں متحرک کرنے کا فیصلہ

عدالت کا سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم وجود - منگل 14 اپریل 2026

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی عدم حاضری پر ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کردیے ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات کے کیس کی سماعتسینئر سول جج عباس شاہ نے کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے وزیر اعلی کے پی کے سہیل آفریدی کے خلاف ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات اور ساکھ متاثر کرنے کے...

عدالت کا سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

پاکستان امریکا ایران مذاکرات میں مثبت پیشرفت کیلئے پُرامید وجود - منگل 14 اپریل 2026

دونوں فریقین کے درمیان اٹکے ہوئے معاملات حل کروانے کی کوششیں کررہے ہیں، شہباز شریف وزیراعظم کا کابینہ اراکین سے خطاب، فیلڈ مارشل اور نائب وزیراعظم کو شاندار خراج تحسین پیش کیا وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ تاریخ گواہ ہے جنگ کروانے اور امن قائم کرنے میں کئی سال لگتے ہیں، پا...

پاکستان امریکا ایران مذاکرات میں مثبت پیشرفت کیلئے پُرامید

امریکا، ایران میں معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری وجود - منگل 14 اپریل 2026

واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی حل کیلئے رابطے جاری ہیں، امریکی عہدیدار مستقبل میں امریکی اور ایرانی وفود کی ملاقات کا امکان تاحال غیر واضح ہے، بیان امریکا اور ایران کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری ہیں۔ایک امریکی عہدیدار کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیا...

امریکا، ایران میں معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی، ایران کو ٹول دینے والے جہازوں کو گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی، ٹرمپ وجود - پیر 13 اپریل 2026

ایران کے ساتھ ملاقات اچھی رہی ، جوہری معاملے کے علاوہ اکثر نکات پر اتفاق ہوا،امریکی بحریہ آبنائے ہرمز سے آنے جانیوالے بحری جہازوں کو روکنے کا عمل فوری شروع کر دے گی یہ عالمی بھتا خوری ہے امریکا کبھی بھتا نہیں دے گاجو کوئی غیر قانونی ٹول دے گا اسے محفوظ بحری راستا نہیں ملے گا، ای...

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی، ایران کو ٹول دینے والے جہازوں کو گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی، ٹرمپ

پاکستان کی کامیاب سفارت کاری پر بھارت میں صف ماتم وجود - پیر 13 اپریل 2026

اسلام آباد میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات بھارت پر بجلی بن کرگرے ہیں بھارت کی سفارتی ناکامی پر کانگریس نے نام نہاد وشوا گرو مودی کو آڑے ہاتھوں لے لیا پاکستان میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات بھارت پر بجلی بن کرگرے ہیں۔ مودی کو ہرطرف سے تنقید کا سامنا ہے۔خلیجی جنگ کے تناظر...

پاکستان کی کامیاب سفارت کاری پر بھارت میں صف ماتم

ترک صدر کی اسرائیل پر حملے کی دھمکی ،نیتن یاہو آج کا ہٹلر ہے،طیب اردگان وجود - پیر 13 اپریل 2026

مذاکرات ناکام ہوئے توہم اسرائیل میں ایسے ہی گھُس سکتے ہیں جیسے لیبیا اور کاراباخ میں داخل ہوئے تھے، اسرائیل نے سیزفائر کے دن بھی سیکڑوں لبنانی قتل کیے اسرائیل کو اس کی جگہ دکھائیں گے، فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دینے کا اسرائیلی فیصلہ اور ہٹلر کی یہودی مخالف پالیسیوں میں کوئی فر...

ترک صدر کی اسرائیل پر حملے کی دھمکی ،نیتن یاہو آج کا ہٹلر ہے،طیب اردگان

اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل وجود - اتوار 12 اپریل 2026

اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل،فریقین محتاط،پرامید،کاغزات کا تبادلہ ،ٹیکنیکی گفتگو آج مذاکرات کے پہلے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں ہوئیں، دوسرے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان براہِ ر...

اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل

امارات کو رقم کی واپسی، سعودی عرب، قطر کی پاکستان کو 5 ارب ڈالر کی مالی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ وجود - اتوار 12 اپریل 2026

سعودی وزیر خزانہ کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات، مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی وجہ سے بڑھتے ہوئے بیرونی دباؤ اور اخراجات کے پیش نظر پاکستان کو مالی مدد کا یقین دلایا پاکستان کی سعودی عرب سے مزید مالی امداد کی درخواست ، نقد ڈپازٹس میں اضافہ اور تیل کی سہولت کی مدت میں توسیع شا...

امارات کو رقم کی واپسی، سعودی عرب، قطر کی پاکستان کو 5 ارب ڈالر کی مالی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ

عمران خان جمہوری تاریخ کی بدترین سیاسی انتقامی کارروائی کا نشانہ ہے، سہیل آفریدی وجود - اتوار 12 اپریل 2026

علاقائی کشیدگی میں کمی کیلئے سفارتی کوششیں مثبت پیشرفت ہیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اسلام آباد مذاکرات پائیدار امن علاقائی استحکام کیلئے تعمیری کردار ہے، اجلاس سے خطاب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے حالیہ سفارتی کوششوں کو علاقائی کشیدگی میں کمی، پائیدار امن اور ع...

عمران خان جمہوری تاریخ کی بدترین سیاسی انتقامی کارروائی کا نشانہ ہے، سہیل آفریدی

اسرائیل کی ایران جنگ کے دوران غزہ پر بمباری ،107فلسطینی شہید، 342 زخمی وجود - اتوار 12 اپریل 2026

اسرائیل نے گزشتہ 40دنوں میں سے 36دن غزہ پر بمباری کی،عرب میڈیا 23ہزار 400امدادی ٹرکوں میں سے 4ہزار 999ٹرکوں کو داخلے کی اجازت ایران جنگ کے دوران اسرائیل نے گزشتہ 40 دنوں میں سے 36 دن غزہ پر بمباری کی۔عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 107 فلسطینی شہید او...

اسرائیل کی ایران جنگ کے دوران غزہ پر بمباری ،107فلسطینی شہید، 342 زخمی

مضامین
اسلام آباد مذاکرات ، خطہ پھر بے یقینی کے سائے میں وجود منگل 14 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات ، خطہ پھر بے یقینی کے سائے میں

اسلام آباد مذاکرات:اسرائیل دودھ میں مکھی کی طرح باہر وجود منگل 14 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات:اسرائیل دودھ میں مکھی کی طرح باہر

اسلام آباد مذاکرات بے نتیجہ، جنگ بندی اور مستقبل غیر یقینی وجود منگل 14 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات بے نتیجہ، جنگ بندی اور مستقبل غیر یقینی

بھارت کی جارحانہ حکمت عملی وجود منگل 14 اپریل 2026
بھارت کی جارحانہ حکمت عملی

مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کی تعیناتی وجود پیر 13 اپریل 2026
مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کی تعیناتی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر